09/08/2026
سیکرٹری صحت فیاض علی شاہ کا چارسدہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کا دورہ
ڈاکٹر نے شکایات کے انبار لگا دئے
یہاں نہ سی ٹی سکین ہے
نہ یہاں ایم آر آئی ہے
حتی کے ہمارے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کو لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں پشاور ریفر کردیں
یہاں ہم سب ہیلتھ افسران ہیں آپ صوبے کے سربراہ ہیں
آپ کو اگر ابھی دل کا دورہ پڑا تو ہم آپ کو پشاور ریفر کریں گے
ہم یہاں آپ کا علاج نہیں کرسکتے تو عام شہری کا علاج کیسے کرینگے؟
ہر بار لوگ آتے ہیں وعدے کرتے ہیں کام نہیں ہوتے
میں یہاں ڈینٹل سرجن ہوں
سیکرٹری ہیلتھ: تمہارے پاس کرسی ہے؟
سرجن: ٹوٹی پھوٹی کرسیاں ہیں
سیکرٹری: اس کی مرمت کیلئے آپ کے پاس ڈیڑھ کروڑ کا فنڈ ہے وہ اسی لئے ہے کہ چھوٹے کام آپ خود کریں اب آپ کی کرسی ٹوٹی ہے اور اس کو رپورٹ نہیں کیا تو پھر آپ کی غلطی ہے یہ مسئلہ بڑے لیول کا ہے نہیں
سرجن: سر یہ سی ٹی سکین، انجیو گرافی کا مسئلہ کیسے حل ہوگا؟ ہر بار یہ وعدے ہوتے ہیں سر ہمیں ڈیڈ لائن دیں کہ ایک ماہ دو ماہ یا تین ماہ میں یہ ہو جائے یہ انسانیت کا تقاضہ ہے
میں نے بطور ڈاکٹر سوال کیا مجھے سسپینڈ کردیا جائیگا ٹرانسفر کردیا جائیگا یہاں سوال کرنے والوں کیساتھ یہی ہوتا ہے
یہاں ایم ایس اور دیگر افسران موجود ہیں یہ ایمرجنسی ہے یہاں سہولت سب کا حق ہے
ایکسیڈنٹ ہوجائے سر پھٹ جائے دل کا دورہ پڑ جائے یہ ایک بار ہی ہوتا ہے یہاں اس کی سہولت ہونی چاہئے
مریض کے لواحقین: یہاں ٹی ٹی ایجکشن نہیں ملتا سر، میرے دو بھائی اندر پڑے ہیں سی ٹی سکین نہیں ہورہا ٹی ٹی انجکشن باہر سے دو لے کر آیا ہوں یہ میرا ہسپتال ہے میرے دو بھائی اندر پڑے ہوئے ہیں
عملہ: ڈیمانڈ نہیں آئی ورنہ دے دیتے
لواحقین: ہمیں کہا گیا باہر سے لائو یہاں سہولت نہیں دی جارہی ڈاکٹرز بھی نہیں ہوتے میں نے پہلے بھی ویڈیو کی تھی مجھے نامعلوم نمبر سے کال آئی کہ ویڈیو کیوں کی ہے؟