عبداللہ

عبداللہ ◥◣ ◢◤

04/06/2026

یقین جانیں کہ اللہ تبارک وتعالی کے پورے حق کے ساتھ ہونے والے کبھی بھی اور کسی بھی حالت میں اکیلے نہیں ہوتے بلکہ ہر وقت ہر جگہ پر

"اللہ تبارک وتعالی"

کی خاص الخاص مدد اترتی ہے۔ انکے سارے کام حددرجہ آسان ہوجاتے ہیں۔ انہیں پہنچنے والی تکالیف بھی انکے لئے حددرجہ خیر کا باعث بن جاتی ہیں۔۔۔

02/06/2026
02/06/2026

آسان ترجمۂ قرآن
مفسر: مفتی محمد تقی عثمانی

سورۃ نمبر 22 الحج
آیت نمبر 6

تفسیر:
5: مطلب یہ ہے کہ تمہاری اپنی تخلیق ہو یا زمین سے پودے اگانے کا معاملہ، ان ساری باتوں کی اصلی علت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کا وجود ایسا ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور باقی ساری چیزیں اسی کی قدرت سے وجود میں آتی ہیں۔ لہذا وہ مردوں کو زندہ کرنے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے

*سورۃ نمبر 22 الحج*
آیت نمبر 7

ترجمہ:
اور اس لیے کہ قیامت کی گھڑی آنے والی ہے، جس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اس لیے کہ اللہ ان سب لوگوں کو دوبارہ زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔ (6)

تفسیر:
6: انسان کی جس پیدائش کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، وہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی دلیل ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے مرنے کے بعد انہیں دوبارہ زندہ کرسکتا ہے، اور دوسری طرف اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ جن لوگوں کو دنیا میں پیدا کیا گیا ہے، ان کی پیدائش ہی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انہیں ایک اور زندگی دی جائے، کیونکہ اگر دوسری زندگی نہ ہو تو دنیا میں نیکی کرنے والے اور بدی کرنے والے، ظالم اور مظلوم سب برابر ہوجائیں گے، اور اللہ تعالیٰ ایسی ناانصافی کے لیے انسانوں کو پیدا نہیں کرسکتا کہ جو چاہے دوسروں پر ظلم کرتا رہے، یا گناہوں کا طومار لگا دے، اور اسے اپنے عمل کی کوئی سزا نہ ملے، اور اسی طرح دنیا میں کوئی شخص کتنی پاکباز زندگی گذارے، اس کو کوئی انعام نہ ملے، لہذا اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ جب انسانوں کو دنیا میں پیدا کیا ہے تو آخرت میں انہیں دوسری زندگی دے کر انہیں انعام یا سزا ضرور دے۔

*القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج*
آیت نمبر 8

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّجَادِلُ فِى اللّٰهِ بِغَيۡرِ عِلۡمٍ وَّلَا هُدًى وَّلَا كِتٰبٍ مُّنِيۡرٍ ۞

لفظی ترجمہ:
وَ : اور | مِنَ النَّاسِ : لوگوں میں سے | مَنْ : جو | يُّجَادِلُ : جھگڑتا ہے | فِي اللّٰهِ : اللہ (کے بارے) میں | بِغَيْرِ عِلْمٍ : بغیر کسی علم | وَّ : اور | لَا هُدًى: بغیر کسی دلیل | وَّلَا : اور بغیر کسی | كِتٰبٍ : کتاب | مُّنِيْرٍ : روشن

ترجمہ:
اور لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑے کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ہدایت، اور نہ کوئی روشنی دینے والی کتاب۔

*القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج*
آیت نمبر 9

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثَانِىَ عِطۡفِهٖ لِيُضِلَّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ ‌ؕ لَهٗ فِى الدُّنۡيَا خِزۡىٌ‌ وَّنُذِيۡقُهٗ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ ۞

لفظی ترجمہ:
ثَانِيَ عِطْفِهٖ : موڑے ہوئے اپنی گردن | لِيُضِلَّ : تاکہ گمراہ کرے | عَنْ : سے | سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ | لَهٗ : اس کے لیے | فِي الدُّنْيَا : دنیا میں | خِزْيٌ: رسوائی | وَّنُذِيْقُهٗ : اور ہم اسے چکھائیں گے | يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : روز قیامت | عَذَابَ : عذاب | الْحَرِيْقِ : جلتی آگ

ترجمہ:
وہ تکبر سے اپنا پہلو اکڑائے ہوئے ہیں، تاکہ دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے گمراہ کریں، ایسے ہی شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور قیامت کے دن ہم اسے جلتی ہوئی آگ کا مزہ چکھائیں گے۔

القرآن - سورۃ نمبر 22 الحج
آیت نمبر 10

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ بِمَا قَدَّمَتۡ يَدٰكَ وَاَنَّ اللّٰهَ لَـيۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِيۡدِ ۞

لفظی ترجمہ:
ذٰلِكَ بِمَا : یہ اس سبب جو | قَدَّمَتْ : آگے بھیجا | يَدٰكَ : تیرے ہاتھ | وَاَنَّ اللّٰهَ : اور یہ کہ اللہ | لَيْسَ : نہیں | بِظَلَّامٍ : ظلم کرنے والا | لِّلْعَبِيْدِ : اپنے بندوں پر

ترجمہ:
(کہ) یہ سب کچھ تیرے اس کرتوت کا بدلہ ہے جو تو نے اپنے ہاتھوں سے آگے بھیجا تھا، اور یہ بات طے ہے کہ اللہ بندوں پر ظلم ڈھانے والا نہیں ہے۔ ؏

02/06/2026

درس قرآن سورت نساء

02/06/2026

درس القرآن

01/06/2026

د بقا نه استحکام پیدا کیږی، د استحکام نه کامیابی، او د کامیابی نه عظمت پیدا کیږی

Address

Mardan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عبداللہ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share