11/09/2026
#مروٹ
مروٹ–فورٹ عباس روڈ کی پولیوں کے ناقص تعمیراتی کام، غیر معیاری میٹریل اور مبینہ کرپشن کے خلاف ہم نے پہلے بھی بھرپور آواز اٹھائی تھی۔ الحمدللہ ہماری اور دیگر دوستوں کی مسلسل سوشل میڈیا آواز رنگ لائی اور ہمارے حلقہ PP-242 کے ایم پی اے کاشف نوید پنسوتا صاحب نے دو روز قبل ڈپٹی کمشنر کے ساتھ میٹنگ میں اس اہم عوامی مسئلے کو مضبوطی سے اٹھایا، جس کے بعد پولیوں کی دوبارہ تعمیر شروع ہوئی۔ اس آواز کو اٹھانے میں کردار ادا کرنے والے تمام دوست بھی شکریے کے مستحق ہیں۔
کاشف نوید پنسوتا صاحب اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے اور عملی پیش رفت کروانے پر شاباش اور مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر پہلی مرتبہ ہی ایک پاؤ، آدھا کلو، ایک کلو، دو چار کلو، ایک من یا دو من زیادہ معیاری سریا لگا دیا جاتا اور کرپشن نہ کی جاتی تو آج دوبارہ تعمیر کی نوبت ہی نہ آتی۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں بعض ترقیاتی منصوبے عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی کرپشن سے جڑ جاتے ہیں، یعنی کسی منصوبے کا نام آئے تو سب سے پہلے کرپشن کی بات سامنے آتی ہے۔ ماضی میں مبینہ ناقص تعمیر اور کرپشن کے باعث پولیاں آئے روز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہیں، حادثات ہوتے رہے اور قیمتی انسانی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کرپشن کو صرف اوپر سے نہیں بلکہ جڑ سے ختم کیا جائے۔
لیکن دوسری طرف ذیل کی تصاویر کو غور سے دیکھا جا سکتا ہے کہ جال تو بنایا گیا ہے، مگر استعمال ہونے والا سریا انتہائی باریک دکھائی دے رہا ہے۔ مروٹ–فورٹ عباس روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بہت زیادہ ہے، اس لیے تعمیر بھی اسی حساب سے مضبوط اور معیاری ہونی چاہیے۔
دو دن زیادہ لگ جائیں، مگر کام ایسا ہونا چاہیے جو دہائیوں تک قائم رہے۔ ہمارے بزرگوں کے دور میں بنائی گئی کئی پولیاں آج بھی مضبوطی سے قائم ہیں، بعض تو پچاس سال سے بھی زیادہ عرصے سے چل رہی ہیں۔ ایسی صورت میں سوال یہ ہے کہ نئی بنائی گئی پولیاں چند ماہ بھی کیوں نہیں چل سکیں؟
اگر نئی تعمیر بھی ناقص ہوئی تو اس سے بہتر تھا کہ پرانے دور کی وہی مضبوط پولیاں قائم رہتیں۔ لہٰذا متعلقہ محکمہ اور انتظامیہ سے گزارش ہے کہ سریے سمیت تمام میٹریل کا معیار فوری چیک کیا جائے، کرپشن کی جڑ ختم کی جائے اور اس بار کام مکمل میرٹ، مضبوطی اور پائیداری کے ساتھ کروایا جائے، تاکہ دوبارہ عوامی پیسہ ضائع نہ ہو اور قیمتی انسانی جانیں محفوظ رہیں۔
اگر اس بار بھی ناقص میٹریل یا معیار پر سمجھوتہ ہوا تو عوامی مفاد میں دوبارہ آواز اٹھانا اور تنقید کرنا ہمارا حق بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
خوش رہیں خوشیاں بانٹیں
ہم سب کا پاکستان زندہ باد پاک فوج زندہ باد
ابو حمزہ ساجد علی
جنرل سیکرٹری پنجاب
انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ پاکستان