Islamic Knwoledge1122

Islamic Knwoledge1122 aslamoalekum ap ko iss page par islamic stories aur other videos milti rahin ge.

20/07/2026

تیس سال قبل پشاور کے علاقے نوتھیا سے گم ہونے والا بلال اپنے خاندان کو مل گیا۔
ماں باپ اور بہن بھائی بلال کو گلے لگ کر زار و قطار روتے رہیں ۔
بلال کیسے گم ہوا ؟کہاں رہا؟ ماں باپ پر کیا گزری؟ مکمل تفصیلات کے لئے یوٹیوب پر مکمل ویڈیو دیکھیں
https://youtube.com/?si=YmhMx--6WhkIbI8q

الحمدللہ! ولی اللہ بھائی بلال کو لے کر پشاور پہنچ چکے ہیں۔بس کچھ ہی دیر بعد وہ لمحہ آنے والا ہے جس کا بلال کے خاندان نے ...
19/07/2026

الحمدللہ! ولی اللہ بھائی بلال کو لے کر پشاور پہنچ چکے ہیں۔

بس کچھ ہی دیر بعد وہ لمحہ آنے والا ہے جس کا بلال کے خاندان نے 30 سال تک انتظار کیا۔

30 سال پہلے بلال اپنے گھر سے کالے کپڑے پہن کر نکلا تھا۔ نہ اسے معلوم تھا کہ یہ سفر اتنا طویل ہو جائے گا، نہ اس کے گھر والوں نے کبھی سوچا تھا کہ ملاقات کے لیے تین دہائیاں گزر جائیں گی۔

قدرت کی عجیب شان دیکھیے کہ آج، 30 سال بعد جب بلال اپنے گھر واپس لوٹ رہا ہے، تو اس نے پھر کالے ہی کپڑے پہن رکھے ہیں۔ گویا وقت کا ایک پورا دائرہ مکمل ہو رہا ہے۔

کچھ ہی دیر میں ایک ماں کی دعائیں، ایک خاندان کی برسوں کی بے قراری، اور تین دہائیوں کی جدائی خوشیوں کے آنسوؤں میں بدلنے والی ہے۔

آپ سب سے گزارش ہے کہ بلال اور اس کے خاندان کے لیے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس ملاقات کو ان کے لیے ہمیشہ کی خوشیوں کا ذریعہ بنائے، اور ہر بچھڑے ہوئے انسان کو اپنے پیاروں سے ملنے کی نعمت عطا فرمائے۔

آمین۔ 🤲

12/07/2026

الحمدللہ ولی اللہ بھائی کی محنت رنگ لے آئی اسامہ اپنے خاندان کو مل گیا
بائیس سال بعد نانی ماں خالہ اور بہنوں نے گلے لگایا

ان شاءاللہ مکمل ویڈیو بہت جلد آئےگی

05/07/2026

کچھ چھوٹی چھوٹی نیکیاں خدا کو بہت پسند آ جاتی ہیں

اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔🙏🙏🙏 گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ...
04/07/2026

اس نوجوان کا نام ممتاز ہے اور والد کا نام عبد الستار ہے۔🙏🙏🙏 گھر میں پیار سے ببلو بولتے تھے۔
سال 2011 کی بات ممتاز سات آٹھ سال کی عمر میں گھر سے دوستوں کے ساتھ کھیلنے نکلا تھا۔ دوست آگے نکل گئے ممتاز پیچھے رہ گیا۔ جاتے جاتے ممتاز بھٹک گیا۔ رات ہوئی کسی نے لاوارث پاکر اپنے گھر میں رکھا اور ایک ہفتے تک اپنے پاس رکھا۔ پھر اس نے ممتاز کو پولیس کے حوالے کیا پولیس نے شیلٹر میں جمع کردیا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ ہمارا گھر سکھر میں تھا۔ گھر کے آس پاس سورج مکھی کی فصل بہت زیادہ ہوتی تھی۔ سکھر کے شیلٹر سے ممتاز کو کراچی بھیج دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن ممتاز کی آنکھیں گھر والوں کے ایک جھلک دیکھنے کے لئے ترس رہی ہیں۔ ایک فیکٹری میں کام کرتا ہےباور وہیں سوتا ہے۔نا عید منانا ہے نا کسی شادی بیاہ پر کوئی بلاتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
ممتاز کو اپنی والدہ کا نام آمنہ یاد ہے،بھائیوں کے نام الطاف اور زین یاد ہیں۔ اور بہن جو سب سے بڑی تھی کا نام مریم تھا۔ گھر میں سندھی زبان بولتے تھے۔
والد صاحب آٹے کی مل پر بھی کبھی کبھی لیجاتا تھا۔ یہ یاد نہیں ہے کہ مل میں کام کرتا تھا یا صرف گھمانے لیجاتا تھا۔
ممتاز کا کہنا ہے کہ اتنا یاد ہے کہ کسی موقع پر سب محلے والے گھروں سے کھانا لیکر مسجد آتے تھے نماز پڑھ کر سب ملکر کھانا کھاتے تھے۔ مسجد کا نام قائد ذہن میں آرہا ہے شاید کوئی اور نام ہو۔ (قائد سے ملتا جلتا کوئی نام ہو تو وہاں ضرور کوئی لنک مل سکتی ہے)۔ گھر کے پاس ایک جگہ گندا پانی جمع تھا جسمیں لوگ کچرا پھینکتے تھے۔
ممتاز اپنوں کو یاد کرکے بہت دکھی ہوتا ہے اور تنہائی میں روکر اپنا غم ہلکان کرتا ہے۔
ممتاز کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر شئیر کریں۔آپکا ایک شئیر ایک انسان کی ویران دنیا سنوار سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

4 july 2026

اس بہن کی فریاد سنیںانکا اپنا لکھا خط:"السلام علیکم ورحمتہ اللہ محترم! امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگےمیں نے آپکی وال ...
04/07/2026

اس بہن کی فریاد سنیں
انکا اپنا لکھا خط:
"السلام علیکم ورحمتہ اللہ محترم!
امید ہے آپ خیریت و عافیت سے ہونگے
میں نے آپکی وال دیکھی ایف بی پر مجھے آپکی مدد کی ضرورت ہے
میں بچپن میں کھو گئی تھی تقریبا 4 یا 5 سال کی ہونگی اپنے گھر والوں کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں آئی تھی وہاں سے باہر چیز کے لئے باہر نکلی تو میں گھر بھول گئی ایسے چلتے چلتے پھر کسی روڈ پر رکی تو وہاں ہوٹل تھا ایک شخص تھا وہ مجھے گھر لے گیا وہ کچھ پوچھ بھی رہا تھا شاید میں اسکی زبان نہیں جانتی تھی اسلئے کچھ نہیں بولا مجھے اپنا نام گھر والوں کے نام کچھ بھی یاد نہیں ہے بس یہ واقعہ یاد ہے
خیر پھر کچھ دن اس شخص نے مجھے اپنے گھر رکھا اس دن کی پک بھی بنوائی تاکہ ماں باپ کو ڈھونڈا جاسکے لیکن نہیں ملے کراچی نارتھ ناظم آباد یونین کونسل کے ذریعے میں ایک فیملی کے زیر نگہداشت میں آئی اب 21 سال کی ہوں انہوں نے ہی تعلیم و تربیت کی ابھی تک میرے گھر والوں کا کچھ پتہ نہیں چلا آپکی وال دیکھی آپ نے کتنے لوگوں کو انکے گھر والوں سے ملوایا مجھے اللہ سے امید ہے آپ کے ذریعہ وسیلہ بنے ان شاء اللہ تعالٰی میں بھی حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح ایک دن اپنے گھر والوں سے ضرور ملوں گی بس آپکی مدد کی ضرورت ہے
لیکن جیسے آپ پبلک میں انٹرویو لیتے ہیں میں یہ سب نہیں کرسکتی میں پبلک میں ایکسپوز نہیں ہونا چاہتی امید ہے آپ میری بات سمجھیں گے ۔
مجھے یاد ہے کہ میرے 3 بھائی تھے 2 بہت بڑے تھے ایک کی شادی ہوچکی تھی اور یہی انکو بجلی کا کام بھی آتا تھا اور ایک پانی کا ٹینکر چلاتے تھے اور ایک مجھ سے ایک سال بڑا ہوگا یا دو سال میری جیسی شکل کا تھا اور 3 ہی بہنیں تھی ایک شادی شدہ تھی اور دو ہم عمر تھی شاید جڑواں ایک کا رنگ کافی گورا تھا اور ایک سانولی گھر میں سب سے چھوٹی تھی
گھر سے تھوڑا دور شہر لگتا تھا جہاں سپیوں کی فیکٹری تھی ایک بار بہنوں کے ساتھ گئی تھی
اور گھر کے برابر میں قبرستان تھا اور اسی کے سامنے مسجد یا مدرسہ تھا قبرستان ایسا تھا کہ ہم دیوار سے جھانک لیا کرتے تھے گھر میں توری کی بیل تھی
اب مجھے یہ کنفیوژن ہے کہ جسکو میں بہن بھائی سمجھ رہی ہوں شاید رشتہ دار ہوں جوائنڈ فیملی سسٹم ہو ۔
امی کا چہرہ گول تھا جیسا میرا ہے والد کا لمبا قد تھا سفید داڑھی تھی ناک بھی لمبی تھی دبلے پتلے تھے ایک بار یاد ہے مجھے بخار ہوا تو والد صاحب ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے انجیکشن لگایا تھا تو روئی تھی والد صاحب نے کہا چیونٹی کاٹ کر چلی گئی وہ کندھوں پر بٹھا کر جھلاتے تھے جب شیو کرتے تھے تو ایک بار میں نے بھی انکی نقل کی تھی اور
ایک بار بہنیں پردہ ڈال کر نماز پڑھ رہی تھی میں نے بھی وہی کیا گھر کی گیلری تھی اس جگہ شاید کھیل رہے تھے ہم اور ایک بار دوسری گلی میں چلی گئی تھی تو بڑے بھائی جو بجلی کا کام جانتے تھے وہ لے کر آئے اور ڈانٹا بھی تھا گھر ہمارا فرش پکا مکان تھا گھر میں ٹینک بھی بنا تھا شاید باہر گھر کی دہلیز پر ہم نے سپیاں بھی لگائی تھی۔
جنکو بہن بھائی اور والد کہہ رہی ہوں شاید وہ کوئی اور ہوں۔
*کھونے کا دن*
اس دن ہم اپنے گھر سے اپنے ماموں کے گھر آئے تھے یا شاید کوئی رشتہ دار مجھے لگتا ہے کہ ماموں کی ٹانگ ٹوٹی تھی انکو دیکھنے آئے تھے ہم کسی بس میں سوار ہو کر آئے تھے جیسے کراچی میں w11 ہوتی ہے ویسی گھر پکا تھا گھر کے سامنے دوکان تھی پہلے ہم بچے ساتھ مل کر چیز لینے گئے اسکے بعد میں نے امی سے ضد کی کہ مجھے دوبارہ چیز لینی ہے انہوں نے منع بھی کیا لیکن میں نے ضد کی پھر انہوں نے سکہ دیا میں باہر گئی ننگے پیر کیونکہ سامنے دوکان تھی اور یہ ذہن میں رکھا تھا کہ گھر کے دو دروازے ہیں براؤن یا مہرون یہی کلر تھا پھر میں چیز لے کر مڑی تو مجھے ہر گھر کے دو دروازے دکھے اور وہ بھی ایک ہی کلر کے جو گھر دیکھتی دو دروازے اور ایک جیسے کلر پھر چلتے چلتے کافی دور ہوگئی اندھیرا ہونے لگ گیا تھا پہلے دن تھا اور ایک جگہ ڈھال سے جیسے پہاڑی سے نیچے اترے ایسی جگہ تھی اور شاید کوئی ندی کی طرف کوئی علاقہ تھا میں بس دیکھا لیکن وہاں گئی نہیں سیدھی سیدھی چلتے چلتے شہر کی طرف آگئی جہاں ہوٹل اور ٹریفک تھا وہاں سامنے ایک پٹھان لڑکا میرے پاس کچھ بولتا ہوا کچھ پوچھ رہا تھا میں نے شاید جواب دیا پھر وہ اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا انہوں نے ایک ہفتہ رکھا تصویر بنائی اور بہت ڈھونڈا ان کے گھر کبوتر تھے جو پٹھان لڑکا تھا ایک بار انکے گھر سے بھی نکلی تھی تو بیچ میں چورنگی تھی اور چار راستے تھے پھر وہ پٹھان انکل مجھے لینے اگئے کیونکہ زیادہ دور نہیں تھا اور انکا گھر میں روڈ پر تھا بڑے بڑے گھر تھے پھر کچھ دن بعد یا موجودہ والد مجھے لینے اگئے اور جب میں باہر کمرے سے نکلی تھی میرے پاس وہی فراک تھی جس دن کھوئی تھی وہ کپڑے پہنے تھے انہوں نے باندھ کر دی تھی ان کے گھر سے پیلے رنگ کا سوٹ پہن کر نکلی تھی (پٹھان کے گھر سے) باہر انکا لان بنا تھا وہاں میرے موجودہ والد کسی پیپر پر سائن کر رہے تھے پھر انکے ساتھ میں گھر آگئی
والسلام علیکم"
یہ تصویر 19-8-2008 کو گمشدگی کے روز بنائی گئی تھی۔

اپنی بہن سمجھ کردنیا بھر میں اس پوسٹ کو عام کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

4 july 2026

اس نوجوان کا نام ساجد ہے اور والد کا نام شفاعت یاد ہے۔ساجد سال 1998 میں شام کے وقت گھر سے نکلا تھا دور کہیں نکل گیا تھا۔...
30/06/2026

اس نوجوان کا نام ساجد ہے اور والد کا نام شفاعت یاد ہے۔
ساجد سال 1998 میں شام کے وقت گھر سے نکلا تھا دور کہیں نکل گیا تھا۔ پولیس کو لاوارث ملا تھا۔ ایک شیلٹر میں جمع ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن کبھی ماں باپ کا چہرہ نصیب نہیں ہوا۔
ساجد کو والدہ کا نام یاد نہیں ہے صرف اپنے بڑے بھائی خالد کا نام یاد ہے۔
والد شفاعت پولیس میں تھے۔ چار بہنیں تھیں انکے نام یاد نہیں ہیں۔
بھائی خالد بڑا ہے دوسرے بھائی کا نام نہیں معلوم ۔
ساجد کا کہنا ہے کہ انکی رہائش کراچی میں ہی تھی۔ کراچی کے علاقے کھارادر،جماعت خانے کے آس پاس کا کوئی علاقہ تھا شاید۔
بچپن میں دعا ہوٹل کے قریب کراون سینیما کے قریب کھیلنے جاتا تھا۔
ایک طرف سال 2002 کی تصویر ہے اور دوسری طرف حالیہ تصویر ہے۔
کراچی کے تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ ساجد کو اسکے خاندان سے ملانے کے لئے ہماری مدد کریں۔
ماں باپ بہن بھائیوں پر کیا گززر رہی ہوگی اسکا اندازہ آپکو بخوبی ہوگا۔
آپکا ایک شئیر ساجد کو لاوارثی تنہائی اور کسمپرسی کی زندگی سے نکال سکتا ہے
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829

30 june 2026

19/06/2026
16/05/2026

ڈہرکی میں گھر سے ناراض بزرگ ماں جی نے انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی کے باعث ان کی جان بچا لی گئی۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں خاتون کا بیٹا اپنی والدہ کے قدموں میں بیٹھ کر معافیاں مانگتا رہا اور اپنی ماں کو واپس گھر لے جانے کی منتیں کرتا دکھائی دیا۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ والدین خصوصاً ماں باپ کی عزت، محبت اور خدمت ہر اولاد کی ذمہ داری ہے، جبکہ گھریلو تنازعات کو برداشت، گفتگو اور صبر سے حل کیا جانا چاہیے۔



#ڈہرکی

#انسانیت

https://youtu.be/hHLWYKThg4oیہ نہیں دیکھی توکچھ نہیں دیکھا۔۔۔پاکستانی ہونے کا ثبوت دو۔۔۔۔پاکستان زندہ باد
14/12/2025

https://youtu.be/hHLWYKThg4o
یہ نہیں دیکھی توکچھ نہیں دیکھا۔۔۔
پاکستانی ہونے کا ثبوت دو۔۔۔۔پاکستان زندہ باد

Address

Mianwali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Knwoledge1122 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share