06/10/2021
امام حسن ع و امام حسین ع کا گجرات(انڈیا) میں اک غیر مسلم کو زندہ کرنا
مفتی سید۔محمد عباس جو مجتہد ہندوستان تھے کتب صحن چمن میں ارشاد فرمایا ایک قریہ میں جو جو قریب احمد آباد گجرات کے ہے ایک زرگر کی زن کافرہ نہایت جمیلہ و حسینہ رہتی تھی اسکا شوہر بھی قوم ہنود سے تھا اور وہ کسی دو قریہ کا رہنے والا تھا ایک دفعہ اپنے شوہر کے ساتھ کہیں جارہی تھی راہ میں ایک افغان نے اسے دیکھ لیا دیکھتے ہی عاشق و فریفتہ ہو گیا کچھ دنوں کے بعد جب عشق میں بیتاب ہوا تو ایک روز اس عورت کے پاس پیام بھیجا اور اپنے عشق کا اظہار کیا یہ سن کر وہ عورت گھیرائی اور اپنے والدین سے ساری کفیت بیان کرکے کہا اب یہاں رہنے کا موقع نہیں شوہر کے ساتھ جاتی ہوں اسکے ساتھ اسکے مکان میں رہوں گیا الغرض والدین سے رخصت ہو کر وہ اپنے شوہر کے گھر چلی گئ اس بدبخت افغان کو خبر ملی کہ وہ عورت اپنے شوہر کے گھر چلی گئ ہے اپنے اک رفیق کے ساتھ وہ بھی اس کے تعاقب میں روانہ ہوا وہ میاں بیوی اثنائے رام میں ایک باغ میں بیٹھے تھے عورت نے دیکھا وہ ہی افغان اک دوسرے شخص کو ساتھ لیے چلا آرہا ہے دیکھتے ہی خائف ہوئی اور شوہر سے کہنے لگی اس سفاک سے نجات کی امید نہیں بہتر ہے تم کہیں چھپ جاؤ وہ بے چارا درختوں کی آڑ میں جاکر پوشیدہ ہو گیا جب افغان اس باغ میں پہنچا تو دیکھا وہ عورت تنہا بیٹھی ہوئی ہے پوچھنے لگا تیرا شوہر کدھر ہے اس نے کہا میرا شوہر میرے ساتھ نہیں آیا وہ فاسق اور اسکا رفیق بھی بولا کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے تیرا شوہر تیرے ساتھ تھا سچ بتا کہاں کدھر ہے جب حد سے زیادہ مبالغہ کیا اس وقت مضطر ہو کر وہ عورت کہنے لگی ہرگز نہ بتاؤں گی مجھ کو تم سے خوف آتا ہے اس نے کہا کچھ خوف نہ کر کسی طرح کی اذیت نہ دوں گا عورت نے کہا کسی کو ضامن دو تاکہ اطمینان حاصل ہو ان دونوں نے کہا تو جسے کہے اسے ضامن دوں اس نے کہا یہ مہینہ محرم کا ہے تم مسلمانوں میں عزاداری ہر جگہ برپا ہے ہر شخص حسن ع اور حسین ع کا ماتم کرتا ہے اگر تمہارا دل صاف ہے تو تم حسن ع و حسین ع کی ضامن دو ان بد بختوں نے کہا اچھا انہیں کو ضامن دیتے ہیں کسی طرح کا دغا نہ کریں گئے کوئی اذیت نہ پہنچائیں گئے اس وقت عورت نے بلاتامل اپنے۔شوہر کا نشان بتا دیا سنتے ہی دونوں مکار اس طرف گئے اور اسکو پکڑ کر لائے اور اس عورت کے سامنے قتل کیا اس کے بعد دونوں سفاک اس عورت کو ساتھ لے کے اپنے قریہ کی طرف روانہ ہوئے بیچاری مصیبت کی ماری زار قطار روتی ہر طرف پھر پھر کے دیکھتی جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی اے مصیبت ذدوں کے مددگار اے بے کسوں کے ضامن اے حسن ع حسین ع آپ کہاں ہیں جلد۔میری فریاد کو پہنچیے آپ پر خوب ظاہر ہے ان ظالموں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا شوہر کو قتل کیا اور اب یہ میری آبروریزی کی فکر میں لگئے ہوئے ہیں میں نے آپ کی ضمانت پر اعتماد کیا ہے اب آپ ان بے دینوں کے پنجوں سے نجات دیجیے الغرض دونوں ستم گار ہنستے ہنستے اور کلمات طعن کہتے جاتے تھے کہ تو نے تو اپنے ضامن کو بہت پکارا ہے مگر وہ ابھی تک نہ آئے ناگاہ دو سفید پوش جن کے نور سے وہ دشت وادی ایمن ہو گیا نمودار ہوئے اور انکو گھیر کر پھر اسی باغ کی طرف لے چلے جہاں اسکے شوہر کو قتل کیا تھا اثناء راہ میں ایک درخت عظیم الشان برگد کا ملا وہاں پر ٹھہر کر ان نقاپ پوشوں نے اس عورت سے پوچھا تجھ پر کیا مصیبت پڑی ہے جو اس طرح روتی اور فریاد کرتی ہے اس نے کل حقیقت بیان کی اس افغان نے اسکے شوہر کے قتل سے انکار کیا ناگاہ درخت کے دروریشے بڑھے افغان اور اسکے رفیق کی گردنوں میں مثل ریسمان لپٹ کر بلند ہو گئے اور یہ دونوں ظالم اس میں لٹک کر مرگئے بروایت دیگر ان سواروں نے درخت کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ ان ستم گاروں کو پکڑ لے فورا ریشے درخت سے بڑھے اور ان کی گردنوں میں لپٹ گئے اور بعض کا بیان ہے دونوں ہوا پر معلق ہو کے مر گئے اور انکی لاشوں میں بدبو نہ تھی تاکہ لوگ دیکھیں اور عبرت پزیر ہوں اسکے بعد سواروں نے عورت سے کہا تیرے شوہر کی لاش کہاں ہے اس نے بتایا جب وہ سوار اسکی لاش پر پہنچے ایک نے سر کو تن سے ملا کر کچھ کلمات ایسے کہے جو سمجھ میں نہیں آتے تھے یکایک اس کی لاش کو جنبش ہوئی اور وہ خاک جھاڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور تعجب سے ادھر ادھر دیکھنے لگا تعجب کرتا تھا میں مردہ تھا زندہ کیسے ہو گیا کبھی آنکھیں کہ میں خواب میں ہوں یا جاگتا ہوں کبھی زوجہ کو حیران ہوکر دیکھتا کہ یہ کیا ماجرا ہے جب حواس کچھ درست ہوئے وہ مرد اور عورت دونوں دست ادب جوڑ کر ان بزرگوں سے عرض کرنے لگئے آپ کون ہیں جو ہماری مدد کو پہنچے اور ایسے وقت بے کسی میں کام آئے سواروں نے فرمایا ہم تیرے ضامن حسن ع و حسین ع ہیں یہ سنتے ہی دونوں مرد اور عورتیں دولت ایمان سے کامیاب ہوئے اس کے بعد عرض کی میرے قریہ میں کل کفار رہتے ہیں اگر اجازت ہو تو میں عزیزواقرباء کو بھی لے آؤں تاکہ وہ آپکی زیارت اور دولت ایمان سے شرف یاب ہوں آپ ع نے اجازت دی یہ دونوں زن و بیوی اپنے قریہ میں گئے کفیت بیان کی فورا لوگ اس مقام پر حاضر ہوئے اور اسلام سے مشرف ہوئے اس کے بعد حضرات نظروں سے غائب ہو گئے جب اس فرنگی کو جو اس قریہ کا حاکم تھا یہ خبر پہنچی اس نے دونوں مرد و عورت کو محکمہ فوجداری میں بلوا کر ماجرا سنا مرد نے کہا میں کچھ نہیں جانتا جو واقعہ گزرا ہے عورت جانتی ہے عورت نے وہ ساری کفیت بیان کی جو گزری ہے نصرانی چونکہ کافر تھا کہنے لگا یہ سب جھوٹ ہے معلوم ہوتا ہے تم ہی دونوں نے ان کو مارکو درخت پر لٹکایا ہے اور اپنی مخلصی کی خاطر یہ باتیں بنائی ہیں جنہیں عقل تسلیم نہیں کرتی آخرکار اس حاکم نے ان دونوں میاں بیوی کو قیدخانے میں بھیج دیا اور ان لاشوں کو درخت سے اتروا کر اپنی کچہری میں رکھوا دیا اور اس پر نگران مقرر کیے اسی روز مقدمہ ملتوی رہا شب کو لاشیں غائب ہو گئیں صبح کو جو تلاش کیا دیکھا اسی طرح درخت میں لٹکی ہوئی ہے حاکم کو جب یہ حال معلوم ہوا کہنے لگا بیشک پہرے کے سپاہی بھی ساتھ مل گئے ہیں چونکہ یہ بھی مسلمان ہیں پاس اسلام سے انہوں نے یہ حرکت کی اور آپس میں مل کر یہ قرار دیا نہیں تو کیونکر یہ ہو سکتا ہے کہ میت خود بخود جا کر درخت پر لٹک جائے غرض اس حاکم نے پھر لاشوں کو منگوایا اب محکمہ میں رکھوایا اور خود بیچ میں کرسی پر بیٹھا اور اردگرد چند سپاہیوں کو کھڑا کیا چند ساعت شب کی گزری تھی پھر دونوں نور خدا یعنی امام حسن ع و امام حسین ع گھوڑوں پر سوار نقاب چہروں پر ڈالے ہاتھوں میں نیزے لیے ظاہر ہوئے اور محکمہ کے اندر جا کے نوک نیزہ سے اشارہ کیا دونوں لاشیں بلند ہوئیں اور اسی درخت میں جاکر لٹک گئیں اور دونوں آفتاب امامت تھوڑی دور جاکے نظروں سے غائب ہو گئے اس وقت اس فرنگی نے کہا بیشک یہ کام اس مرد(شوہر) کا نہیں ہے اسکو ایسے شخصوں نے مارا جنکا تدراک ہم نہیں کر سکتے صبح کو لوگوں نے جاکر دیکھا لاشیں اسی طرح درخت پر لٹک رہی ہیں ان لوگوں نے امتحان کی راہ سے چاہا ان ریشوں کو جس میں یہ دونوں لٹکتے تھے پکڑ لیں فورا لاشیں بلند ہو گئیں جب لوگ ہٹ گئے پھر وہ مردے نیچے آتے رہے لکھا ہے اس معجزہ کو گجرات میں شاعروں نے نظم کیا ہے اور فقراء شہروں کی گلیوں میں کوچوں میں پڑھا کرتے تھے
کتاب.بحورالغمہ
جلد ٢ صفحہ.٩٧٠