04/05/2026
حضرت بلالؓ جب حضرت عمرؓ کے دروازے پر تشریف لائے تو وہ منظر بڑا عجیب تھا۔
جیسے ہی بلالؓ اندر داخل ہوئے، امیرالمومنین حضرت عمر فاروقؓ فوراً اپنی کرسی سے اٹھ گئے اور ادب میں ہاتھ باندھ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔
وہی عمرؓ جن کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے تھے، آج ایک سیاہ فام غلام کے سامنے یوں مؤدب کھڑے تھے۔
لوگ حیران رہ گئے اور کہنے لگے کہ آخر یہ کون آ رہا ہے جس کے لیے امیرالمومنین نے یہ خاص انداز اختیار کیا ہے؟
حضرت بلالؓ اندر آئے تو گھبرا گئے اور عرض کرنے لگے: “امیرالمومنین! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟”
حضرت عمرؓ نے فوراً ان کا بازو پکڑا اور اپنی جگہ پر بٹھانے کی کوشش کی۔
حضرت بلالؓ نے کہا: “میں تو ایک غلام ہوں، مجھے تو ان آداب کا بھی پتا نہیں۔ میں ایک غریب ماں کا بیٹا اور غلام باپ کی اولاد ہوں…”
حضرت عمرؓ نے جواب دیا: “بلال! تم پہلے غلام تھے، لیکن جب سے تم نے مصطفیٰ ﷺ کی غلامی اختیار کی ہے، تم ہمارے لیے عزت کا معیار بن گئے ہو۔ آج تم اس امت کے امام ہو۔”
پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: “مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب مکہ فتح ہوا تھا، بت ٹوٹ رہے تھے، بڑے بڑے سردار خاموش تھے، اور میرے نبی ﷺ نے فرمایا تھا: بلال کو بلاؤ!”
“پھر بلالؓ نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی۔ کچھ لوگوں نے اعتراض کیا کہ کسی اور کو موقع دیا جائے، مگر میرے نبی ﷺ نے فرمایا: خاموش رہو!”
“وہ بلال جو بدر میں ماریں کھا کر بھی اذان دیتا رہا، احد میں پتھر سہہ کر بھی اذان دیتا رہا، اور تپتے صحراؤں میں اذان کی صدا بلند کرتا رہا، آج وہ کعبہ کی چھت پر کھڑا ہوگا۔”
حضرت عمرؓ نے فرمایا: “آج اگر اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو میں دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں کہ اصل عزت کس کے پاس ہے۔”
اور پھر حکم دیا: “آج کعبہ کی چھت پر صرف بلالؓ چڑھیں گے۔”
حضرت ابو بکرؓ بھی نیچے رہے، حضرت عمرؓ بھی نیچے رہے، حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، طلحہؓ اور زبیرؓ سب نیچے کھڑے تھے۔
آج ایک حبشی غلام کعبہ کی چھت پر اذان دے گا اور دنیا دیکھے گی کہ عزت رنگ، نسل یا مال سے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی غلامی سے ملتی ہے۔
اللہ اکبر…
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔