05/09/2026
حافظ نعیم الرحمن کا دھرنے جاری رکھنے، دس روز بعد پہیہ جام کی تاریخ دینے کا اعلان
مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کو ٹیکسوں پر استثنیٰ دیا جائے
حکمرانوں کا زوال شروع ہوگیا، انہیں عوامی مطالبات ماننا ہوں گے، امیر جماعت اسلامی پاکستان کا مینگورہ میں جلسہ عام سے خطاب
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر پٹرول لیوی میں کمی، ملاکنڈ ڈویژن کے لیے ٹیکس استثنیٰ اور دیگر عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔ پرسوں سے نشاط چوک میں دھرنا شروع کیا جائے گا اور دس روز بعد ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا جائے گا، حکومت پھر بھی نہیں مانی تو اسلام آباد کی جانب پیدل مارچ بھی کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر کے پی شمالی عنایت اللہ خان اور دیگر رہنماؤں نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔
پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کے لاہور، پشاور اور کراچی میں جاری دھرنے جمعہ کو بیسویں روز میں داخل ہوگئے ہیں۔ حیدرآباد، چترال اور اندرون سندھ اور جنوبی پنجاب کے کئی مقامات پر بھی احتجاج جاری ہے۔ دھرنوں کے انیسویں روز جمعہ کو امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر ملگ گیر ہڑتال ہوئی اور اسی روز حکومتی وفد نے منصورہ میں آکر امیر جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی۔ جماعت اسلامی اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز پیر کو ہوگا ، تاہم امیرجماعت اسلامی نے واضح کیا ہے کہ اس دوران دھرنے بھی جاری رہیں گے۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ٹال مٹول سے کام لیا اور قائم کردہ کمیٹیاں مؤثر کردار ادا نہ کر سکیں تو جماعت اسلامی “حکومت گراؤ، انقلاب لاؤ" مارچ شروع کرنے پر بھی غور کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جلد ایک بڑی کال دینے والے ہیں جس کا اعلان مناسب وقت پر کیا جائے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی جس کا مقابلہ پھر حکمران نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا ٹیکس استثنیٰ کا مطالبہ جائز ہے اور جب تک خطے میں حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آتے، ٹیکسوں میں ریلیف دیا جانا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی ہمیشہ عوام کی حقیقی ترجمان رہی ہے، بجلی کے بلوں میں کمی کے لیے بھی جماعت اسلامی نے مؤثر جدوجہد کی۔ انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ پٹرول کی لیوی کم نہیں کی جا سکتی، حالانکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام فوری ریلیف کے منتظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام نے طویل عرصے تک بدامنی اور مشکلات کا سامنا کیا، اس لیے ان پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی زمینوں پر قبضے کیے گئے لیکن مالکانہ حقوق نہیں دیے جا رہے جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ اور آئندہ شٹر ڈاؤن ہڑتال نہیں بلکہ پہیہ جام ہڑتال ہوگی جس میں پورے ملک کو جام کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اس تحریک میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی غیظ و غضب کو نظر انداز کرنا حکومت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بعض وزراء بیانات کے ذریعے عوام میں مایوسی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم عوام اب مزید تاخیری حربے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ۔۔۔