Morning Post Swat

Morning Post Swat Local News stories in Global Perspective. Local News stories in Global Perspective

11/08/2026
کمشنر ملاکنڈ کپ 2026: سنسنی خیز مقابلے کے بعد بونیر نے باجوڑ کو شکست دے دی ، ایم پی اے فضل حکیم کا ایک کروڑ 50 لاکھ روپے...
10/08/2026

کمشنر ملاکنڈ کپ 2026: سنسنی خیز مقابلے کے بعد بونیر نے باجوڑ کو شکست دے دی ، ایم پی اے فضل حکیم کا ایک کروڑ 50 لاکھ روپے گرانٹ کا اعلان
سوات: کمشنر ملاکنڈ کپ 2026 کے سلسلے میں آج کھیلے جانے والے سنسنی خیز میچ میں بونیر کی ٹیم نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے باجوڑ کو شکست دے کر میچ اپنے نام کرلیا میچ کے مہمانِ خصوصی رکن صوبائی اسمبلی فضل حکیم نے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور کھیلوں کے فروغ کے لیے اپنے فنڈ سے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کیا۔
کمشنر ملاکنڈ کپ 2026 کے اس اہم میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے بہترین کھیل پیش کیا اور شائقین کو ایک دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ میچ کے اختتام پر بونیر کی ٹیم نے کامیابی حاصل کرکے ٹورنامنٹ میں جگہ بنا لی، جس پر کھلاڑیوں اور آفیشلز نے خوشی کا اظہار کیا۔
مہمانِ خصوصی ایم پی اے فضل حکیم نے کامیاب ٹیم بونیر کے کھلاڑیوں اور انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے لیے کھیلوں کا فروغ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات اور کھیلوں کے میدان فراہم کیے جائیں تاکہ سوات سمیت پورے ملاکنڈ ڈویژن کے ٹیلنٹ کو سامنے لایا جاسکے۔
فضل حکیم نے اس موقع پر اپنے ترقیاتی فنڈ سے ایک کروڑ 50 لاکھ روپے کی گرانٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ فٹبال اور کرکٹ گراؤنڈز پر جاری کام کو مزید تیز کیا جائے اور کھلاڑیوں کو کھیلوں کی بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ سوات میں کرکٹ، فٹبال اور دیگر کھیلوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، تاہم نوجوانوں کو اپنی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے مناسب گراؤنڈز، سہولیات اور مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کھیلوں کے میدانوں کی بہتری اور نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھا جائے گا۔
اس موقع پر موجود کھلاڑیوں اور کھیلوں سے وابستہ افراد نے ایم پی اے فضل حکیم کی جانب سے کھیلوں کے لیے گرانٹ کے اعلان اور گراؤنڈز کی تعمیر و بہتری کے حوالے سے جاری ہدایات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے مواقع ملیں گے بلکہ سوات اور ملاکنڈ ڈویژن سے قومی سطح کے بہترین کھلاڑی بھی سامنے آئیں گے۔
تقریب میں ٹیپ بال ایسوسی ایشن کے چیئرمین وحید سواتی، ریجنل سپورٹس ڈائریکٹر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (اے ڈی سی) سمیت کھیلوں سے وابستہ دیگر شخصیات اور کھلاڑی بھی موجود تھے۔ شرکاء نے کمشنر ملاکنڈ کپ 2026 کے انعقاد کو ملاکنڈ ڈویژن میں کھیلوں کے فروغ کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
کمشنر ملاکنڈ کپ کے اس مقابلے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر کھیلوں میں بھی نوجوانوں کا جوش و جذبہ قابلِ دید ہے۔ بونیر کی فائنل میں رسائی کے بعد ٹورنامنٹ کا فیصلہ کن مرحلہ مزید دلچسپ ہوگیا ہے، جبکہ شائقین کرکٹ اب فائنل مقابلے کے منتظر ہیں۔

10/08/2026

جہانزیب کالج واقعہ پختون فیڈریشن صدر حارث باچا کا بیان

10/08/2026

صبح بخیر

سوات: ڈی ایچ کیو اور ایم ٹی آئی ہسپتال کی بائی فورکیشن سے متعلق اہم اجلاس، وزیر صحت کا اگلے ہفتے سیدو شریف ہسپتال کے دور...
08/08/2026

سوات: ڈی ایچ کیو اور ایم ٹی آئی ہسپتال کی بائی فورکیشن سے متعلق اہم اجلاس، وزیر صحت کا اگلے ہفتے سیدو شریف ہسپتال کے دورے کا اعلان

سوات (حارث خان سے): خیبرپختونخوا حکومت کے نوٹیفکیشن کے مطابق 7 اگست کو ڈی ایچ کیو اور ایم ٹی آئی ہسپتال کی بائی فورکیشن سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام، منتخب نمائندوں اور ہسپتال انتظامیہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمان، سیکرٹری ہیلتھ فیاض علی شاہ، ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین اختر خان چیئرمین بورڈ آف گورنر، ڈاکٹر امان اللہ، ممبر بورڈ آف گورنرز بیرسٹر عدنان، ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال سوات ڈاکٹر محمد سلیم خان، ڈی ایم ایس ڈاکٹر محمد خان اور صدر انصاف پیرامیڈیکس فورم محمد طارق خان سمیت دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں ڈی ایچ کیو اور ایم ٹی آئی ہسپتال کی علیحدگی (بائی فورکیشن)، انتظامی امور اور دونوں اداروں کو مؤثر انداز میں چلانے سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔اس موقع پر صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ دونوں ہسپتالوں کو بہترین اور مؤثر انداز میں چلایا جائے تاکہ عوام کو علاج معالجے کی سہولیات کے حصول میں آسانی ہو اور انہیں معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔صوبائی وزیر صحت نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ہفتے سیدو شریف ہسپتال کا دورہ کریں گے، جہاں ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے مختلف پروپوزلز اور تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور ہسپتال کے انتظامی امور میں بہتری کے لیے مؤثر تجاویز اور منصوبہ بندی تیار کی جائے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ڈی ایچ کیو اور ایم ٹی آئی ہسپتال کے انتظامی معاملات کو بہتر بنا کر عوام کو علاج معالجے کی سہولیات مزید مؤثر اور آسان انداز میں فراہم کی جائیں گی۔ دریں اثناء سیکرٹری ہیلتھ فیاض علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت خلیق رحمان نے کبل دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بروقت طبی امداد اور علاج کی سہولیات فراہم کرنے پر ایم ایس سیدو شریف ہسپتال ڈاکٹر محمد سلیم خان اور انچارج کیجولٹی محمد طارق خان کی انتظامی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے مشکل صورتحال میں زخمیوں کو فوری طبی امداد کی فراہمی اور ہسپتال میں مؤثر انتظامات پر ہسپتال انتظامیہ کی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

شہید صحافی موسیٰ خانخیل خان کور — تھانہ پلئی کی تاریخی روایت سے سوات میں امن کی جدوجہد تک ایک تاریخی خاندان کی داستان، ع...
08/08/2026

شہید صحافی موسیٰ خانخیل خان کور — تھانہ پلئی کی تاریخی روایت سے سوات میں امن کی جدوجہد تک
ایک تاریخی خاندان کی داستان، عوامی مسائل کی آواز اور سوات کے امن کے لیے جان قربان کرنے والے صحافی کی یاد
کچھ خاندان اپنی تاریخ حکمرانی سے بناتے ہیں، کچھ اپنی دولت سے، مگر کچھ خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی اصل پہچان عوامی خدمت، حق گوئی اور لوگوں کے لیے قربانی بن جاتی ہے۔ خانخیل خان کور خاندان کی تاریخ بھی ایسی ہی روایات سے جڑی ہوئی ہے، جس میں تھانہ پلئی سے ہجرت، سوات میں آبادکاری، عوامی خدمت اور بعد ازاں صحافت کے ذریعے لوگوں کی آواز بننے کا سلسلہ نمایاں نظر آتا ہے۔
اسی خاندان سے تعلق رکھنے والے **شہید صحافی موسیٰ خانخیل (خان کور)** نے اپنی زندگی صحافت کے ذریعے عوامی مسائل اجاگر کرنے، مظلوموں کی آواز بلند کرنے اور سوات میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے میں گزاری۔
تھانہ پلئی سے جڑی خاندانی تاریخ
خاندانی روایات کے مطابق شہید صحافی موسیٰ خانخیل (خان کور) کا تعلق امیر اللہ خان رستم خان کوز کور کے خاندان سے تھا، جو ماضی میں تھانہ پلئی کے حکمران رہے تھے۔
موسیٰ خانخیل کے دادا **صدیق خان آف تھانہ پلئی** کے حکمران تھے، جنہوں نے بعد ازاں تھانہ پلئی سے ہجرت کرکے سوات میں سکونت اختیار کی۔ اس ہجرت کے بعد خاندان نے سوات میں اپنی نئی زندگی کا آغاز کیا اور وقت کے ساتھ یہاں کے معاشرے کا اہم حصہ بن گیا۔
روایات کے مطابق صدیق خان کے والد **امیر اللہ خان** بھی تھانہ پلئی کے حکمران رہے تھے۔
اس دور کے حوالے سے خاندانی روایات میں بتایا جاتا ہے کہ تھانہ پلئی کی جائیداد مختلف حصوں میں تقسیم تھی۔ **پورا پلئی گاؤں امیر اللہ خان، ( رستم خان کوز کور ) کے حصے میں تھا، جبکہ بازدرہ، شیر خانئی اور زوڑمنڈی دیگر تین بھائیوں کے حصے میں شامل تھے۔**
یوں پورے تھانہ میں ( خان کور) کا چوتھا حصہ جائیداد میں شمار ہوتا تھا۔
یہ تاریخی پس منظر اس خاندان کی قدامت اور تھانہ پلئی کے علاقے میں اس کے تاریخی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس خاندان کی شناخت صرف حکمرانی یا جائیداد تک محدود نہیں رہی بلکہ عوامی خدمت اور معاشرے میں مثبت کردار اس خاندان کی نمایاں پہچان بنتا گیا۔
# # موسیٰ خانخیل — عوام کی آواز
شہید صحافی موسیٰ خانخیل نے اپنے خاندانی پس منظر سے ملنے والی سماجی وابستگی کو صحافت کے میدان میں ایک نئی شکل دی۔
انہوں نے **جیو نیوز اور دی نیوز کے رپورٹر** کی حیثیت سے سوات میں طویل عرصے تک صحافتی خدمات انجام دیں اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
موسیٰ خانخیل کی صحافت کا محور صرف خبریں نشر کرنا نہیں تھا بلکہ وہ عوامی مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے اور ان کے حل کی کوشش کو اپنی صحافتی ذمہ داری سمجھتے تھے۔
سوات کے دور دراز علاقوں سے لے کر شہری علاقوں تک لوگوں کے مسائل، بنیادی سہولیات کی کمی، انتظامی مشکلات اور عوامی شکایات کو انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے اجاگر کیا۔
ان کی رپورٹس کئی مرتبہ ایسے مسائل کو سامنے لائیں جن پر بعد میں متعلقہ اداروں کو کارروائی کرنا پڑی۔
# # دہشت گردی کے دور میں بھی قلم نہ رکا
جب سوات میں دہشت گردی اور بدامنی کا ایک انتہائی مشکل دور شروع ہوا تو بہت سے لوگ خوف کے باعث خاموش ہوگئے، لیکن موسیٰ خانخیل نے اپنی صحافتی ذمہ داری ترک نہیں کی۔
انہوں نے خطرناک حالات میں بھی رپورٹنگ جاری رکھی اور سوات میں جاری بدامنی، دہشت گردی اور عوامی مشکلات کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
وہ جانتے تھے کہ ایسے حالات میں صحافت آسان کام نہیں، لیکن انہوں نے خوف کے بجائے اپنی ذمہ داری کو ترجیح دی۔
موسیٰ خانخیل نے دہشت گردی کے خلاف عوام کے جذبات اور امن کی خواہش کو اپنی رپورٹنگ کے ذریعے اجاگر کیا اور سوات میں امن کے قیام کے لیے صحافتی سطح پر بھرپور کردار ادا کیا۔
# # امن کے لیے ایک صحافی کی جدوجہد
موسیٰ خانخیل کی صحافت کا ایک اہم پہلو سوات میں قیام امن کے لیے ان کی کوششیں تھیں۔
انہوں نے بدامنی کے دور میں عام شہریوں کی مشکلات، خوف اور بے بسی کو اپنی رپورٹنگ کا حصہ بنایا۔ ان کی کوشش تھی کہ سوات کے عوام کی آواز قومی سطح پر پہنچے اور دنیا کو معلوم ہو کہ یہاں کے لوگ دہشت گردی نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں۔
وہ سوات کے ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیے۔
ان کے لیے صحافت محض روزگار نہیں بلکہ ایک ذمہ داری تھی، اور اسی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہیں کی۔
# # شہادت — صحافت کی ایک بڑی قربانی
موسیٰ خانخیل بالآخر نامعلوم افراد کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔
ان کی شہادت نے نہ صرف صحافتی برادری بلکہ پورے سوات کو سوگوار کردیا۔ ایک ایسا صحافی جو برسوں تک عوامی مسائل کی آواز بنا رہا، دہشت گردی کے خلاف رپورٹنگ کرتا رہا اور سوات کے امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا، خود دہشت گردی اور تشدد کا نشانہ بن گیا۔
موسیٰ خانخیل کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ سوات میں امن کی بحالی کے سفر میں عام شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی بڑی قربانیاں دی ہیں۔
# # ایک نام، ایک روایت
شہید موسیٰ خانخیل کی زندگی کو اگر ان کے خاندانی پس منظر کے ساتھ دیکھا جائے تو ایک دلچسپ تسلسل سامنے آتا ہے۔
تھانہ پلئی سے سوات ہجرت کرنے والے خاندان کی ایک نسل نے یہاں آباد ہوکر سماجی تعلقات قائم کیے، بعد کی نسلوں نے عوامی خدمت کو آگے بڑھایا، اور موسیٰ خانخیل نے اسی عوامی وابستگی کو صحافت کے ذریعے نئی شکل دی۔
انہوں نے لوگوں کی مشکلات کو اپنی آواز بنایا اور قلم کو عوامی خدمت کا ذریعہ بنایا۔
**یہی وجہ ہے کہ موسیٰ خانخیل کی داستان صرف ایک شہید صحافی کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسی خاندانی روایت کا تسلسل بھی ہے جس میں عوام سے تعلق، خدمت اور قربانی نمایاں ہے۔**
آج بھی جب سوات میں امن کی بات ہوتی ہے تو ان صحافیوں اور دیگر افراد کی قربانیاں یاد آتی ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی اپنے فرائض انجام دیے۔
موسیٰ خانخیل ان ہی لوگوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔
ان کا قلم خاموش ہوگیا، مگر ان کی آواز آج بھی سوات کے ان لوگوں کی آواز میں سنائی دیتی ہے جو امن، انصاف اور اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
# # # **شہید صحافی موسیٰ خانخیل — ایک ایسا نام جو سوات کی صحافتی تاریخ اور امن کی جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔**
اللہ تعالیٰ شہید صحافی موسیٰ خانخیل کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی صحافتی و عوامی خدمات کو صدقۂ جاریہ بنائے۔ آمین

08/08/2026

ضلع سوات میں بدامنی کیخلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے، مینگورہ کے نشاط چوک میں امن کے حق میں اولسی پاسون ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا، جس میں شہریوں نے علاقے میں بدامنی کے خلاف شدید تشویش کا اظہار کیا۔
احتجاج کے دوران مظاہرین نے حکومت اور مسلح گروہوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ سوات میں بدامنی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

08/08/2026

نشاط چوک امن جلسہ سے سابق میئر سوات شاہید علی خان کا پیغام

07/08/2026

نشاط چوک احتجاج

نشاط چوک احتجاج
07/08/2026

نشاط چوک احتجاج

Address

Near Makanbagh Chowk Mingora, Swat
Mingora
19130

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Morning Post Swat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Morning Post Swat:

Shortcuts

Share