20/09/2026
لاہور ہائی کورٹ، ملتان بینچ نے قرار دیا کہ پنجاب پارٹیشن آف امووایبل پراپرٹی ایکٹ 2012 کے تحت مشترکہ جائیداد کی نیلامی محض سب سے زیادہ بولی آنے کی بنیاد پر درست قرار نہیں دی جا سکتی۔ جب جائیداد قابلِ تقسیم نہ ہو تو قانون کے مطابق پہلے اندرونی نیلامی (Section 10) اور اس کے ناکام ہونے کی قانونی بنیاد کے بعد ہی اوپن نیلامی (Section 11) کی طرف جایا جا سکتا ہے۔
اہم اصول:
ریزرو پرائس کا باقاعدہ اور وجوہات پر مبنی تعین ضروری ہے۔
تمام شریک مالکان کو اندرونی نیلامی میں مؤثر شرکت کا موقع دینا لازم ہے۔
اندرونی نیلامی کے ناکام ہونے کی واضح قانونی بنیاد کے بغیر اوپن نیلامی نہیں ہو سکتی۔
اوپن نیلامی سے قبل کورٹ آکشنیر کی تقرری، آکشن پلان کی تیاری، منظوری اور اشاعت ضروری ہے۔
یہ شرائط محض رسمی یا قابلِ نظرانداز کارروائیاں نہیں بلکہ لازمی قانونی تقاضے ہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ 20 فیصد ارنسٹ منی فوراً اور باقی رقم سات دن کے اندر جمع کرانا بھی Section 11 کے تحت اہم قانونی تقاضہ ہے، اور نیلامی کی تصدیق سے پہلے اس کی تکمیل ریکارڈ سے ثابت ہونی چاہیے۔
اس مقدمے میں پہلے 50 لاکھ روپے کی پیشکش موجود تھی، جبکہ بعد کی نیلامی صرف 36.50 لاکھ روپے میں ہوئی۔ عدالت کے مطابق یہ فرق بذاتِ خود فراڈ یا ملی بھگت ثابت نہیں کرتا، تاہم اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جا سکتا اور جائیداد کی قدر متعین کرتے وقت اس سمیت متعلقہ مواد کو دیکھنا ضروری ہے۔
نتیجہ: عدالت نے نیلامی کو مکمل طور پر باطل قرار دینے کے بجائے مقدمہ Executing Court کو واپس بھیج دیا۔ پہلے یہ طے ہوگا کہ نیلامی خریدار نے دوسرے شریک مالکان کے کتنے حصص قانونی طور پر حاصل کیے، پھر درخواست گزار کے باقی حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کا تعین ہوگا۔ خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی متعین شدہ قیمت ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا؛ ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں صرف اس کے حصے کی نئی نیلامی قانون کے مطابق ہوگی۔
Citation: Ghulam Muhammad v. Muzammil Hussain & others, Civil Revision No.09 of 2023, Lahore High Court, Multan Bench, judgment dated 08.09.2026.