PTM Media

PTM Media Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from PTM Media, News & Media Website, Mir Ali.

مظلوموں کا پکا آواز ☆ کرپشن کا باغی☆ سامراج سے منکر ☆ ڈاکوں کا ڈاکٹر ☆ پختون خواہ کا خبریال۔☆
آزاد مزاج☆
❤️Love❤️
❤️PTM❤️
❤️BTM❤️
Manzor Pashten
Maharng Baloch

22/05/2026

شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں یوفون نیٹ ورک گزشتہ کئی دنوں سے مکمل طور پر بند ہے، جس کی وجہ سے مقامی آبادی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ نیٹ ورک کی بندش کے باعث مسافر بھائی اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے میں سخت پریشانی کا شکار ہیں.

19/05/2026

سپین وام میں فوج کی بربریت نامنظور۔
دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کے بجائے عام عوام کے گھروں پر گولہ باری اور بمباری کی جا رہی ھے۔
بے گناہ شہریوں، بچوں اور خواتین کو خوف و ہراس میں مبتلا @کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

بھائی، ماضی میں درجنوں فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی دیرپا اور پائیدار ...
13/01/2026

بھائی، ماضی میں درجنوں فوجی آپریشن کیے جا چکے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی دیرپا اور پائیدار نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ایسے میں موجودہ حالات کے تناظر میں دوبارہ فوجی آپریشن کرنا، جبکہ نہ صوبائی حکومت ایک پیج پر ہے اور نہ ہی قبائلی عوام اس پر متفق ہیں، ایک سنجیدہ سوال کو جنم دیتا ہے کہ آخر یہ مشورہ کسی نے کس بنیاد پر دیا ہے؟

ہم اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں، مگر افسوس کہ قبائلی اضلاع کے بارے میں فیصلے آج بھی اسی فرسودہ طرزِ فکر کے تحت کیے جاتے ہیں۔ چند نام نہاد قبائلی مشران کو پشاور بلا کر مشاورت کا تاثر دیا جاتا ہے، جو درحقیقت محض ایک رسمی کارروائی ہوتی ہے، کیونکہ فیصلے پہلے ہی طے ہو چکے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن افراد کو بلایا جاتا ہے، اکثر کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قبائلی عوام کی حقیقی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ بلکہ سارے جاہل اور سرکاری مراعات یافتہ ہوتے ہیں۔

اگر واقعی نیت قبائلی اضلاع میں قیام امن، ترقی اور استحکام لانے کی ہے تو اس کا واحد اور پائیدار راستہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام کو ان کا چھینا گیا احساسِ ملکیت، اعتماد اور شراکت واپس دیا جائے۔ جب ریاست اپنے قبائلی شہریوں کو برابر کا حصہ دار سمجھے گی، ان کی رائے کو حقیقی معنوں میں اہمیت دے گی اور انہیں اپنے فیصلوں کا شریک بنائے گی، تو نہ کسی آپریشن کی ضرورت پڑے گی اور نہ ہی طاقت کے استعمال کی، یہی طرزِ عمل نہ صرف قبائلی عوام کے لیے باعثِ اطمینان ہوگا بلکہ اسی میں پاکستان کا مفاد، استحکام اور سلامتی بھی مضمر ہے۔
دا ننگیالو اتن PTM Updates

اج ايک بار پھر میرعلی بازار کو فوج کی جانب سے محاصرے میں لے لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کا کاروبار مکمل طور پر مفلوج...
13/01/2026

اج ايک بار پھر میرعلی بازار کو فوج کی جانب سے محاصرے میں لے لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں عوام کا کاروبار مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے . ہفتے میں دو دن کرفیو کے بعد ایسی کارروائیاں اس خطے کے لوگوں پر ایک مسلسل عذاب بن چکی ہیں . یہ اقدامات امن قائم کرنے کے بجائے میرعلی کی سرزمین پر خوف ، بے چینی اور بداعتمادی کو جنم دے رہے ہیں . حالات اس قدر سنگین ہیں کہ کئی خاندان گھروں میں محصور ہو کر صرف اپنی جان کی حفاظت کے لیے اللہ سے فریاد کر رہے ہیں جبکہ بے شمار مجبور لوگ ننگے پاؤں ، سر پر چھت کے بغیر ، اپنے بچوں کو بچانے کے لیے قریبی دیہات کی طرف ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں تاکہ اس عذاب سے بچ جائے ۔ ہم اربابِ اختیار سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ خدا کے لیے اس مظلوم عوام پر رحم کریں انہیں بھی کچھ دیر سکون سے جینے دیں ، تاکہ وہ بھی سکھ کا سانس لے سکیں اور زندگی کا مطلب سمجھ سکیں ۔ جس طرح پنجاب کے عوام پاکستانی ہیں اور ان کی زندگی ، زندگی کہلاتی ہے اسی طرح میرعلی کے لوگ بھی پاکستانی ہیں اور وہ بھی امن ، عزت اور باوقار زندگی کا پورا حق رکھتے ہیں تو لہذا اس کو بھی وہ حق دیا جائے جو پنجاب کے لوگوں کو حاصل ہے ۔
#نوٹ یہ کیسا انصاف ہے کہ پنجاب میں صبح ہوتے ہی بچے سکول جانے کی تیاری کر رہے ہیں ، بستے سجا رہے ہیں ، یونیفارم استری ہو رہی ہیں جبکہ میرعلی کے بچے اپنی جان بچانے کے لیے ننگے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہیں ۔ وہاں بچوں کا سب سے بڑا مسئلہ ہوم ورک ہے اور یہاں ہمارے بچوں کا واحد سوال یہ ہے کہ آج زندہ رہیں گے یا نہیں اور سر کی حفاظت کیسے ممکن بنائیں

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کا وہ کمرہ آج صرف ایک زخمی بچے کا کمرہ نہیں تھا، بلکہ وہ پورے خطے کے دکھ، خوف اور سچائی کا عکس ب...
28/12/2025

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کا وہ کمرہ آج صرف ایک زخمی بچے کا کمرہ نہیں تھا، بلکہ وہ پورے خطے کے دکھ، خوف اور سچائی کا عکس بن چکا تھا۔ چیئرمین محسن داوڑ جب شمالی وزیرستان، میرعلی حسوخیل سے تعلق رکھنے والے زخمی بچے محمد سید شاہ کی عیادت کے لیے وہاں پہنچے تو یہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ ایک تلخ حقیقت کا سامنا تھا جو برسوں سے ہمارے علاقوں پر مسلط کی جا رہی ہے۔
یہ بچہ، جس کی عمر بمشکل دس بارہ سال ہوگی، کل ایک مصنوعی جنگ کے دوران زخمی ہوا۔ اس کے جسم پر زخم تھے، آنکھوں میں درد تھا، مگر زبان پر وہ بات تھی جو بڑے بڑے تجزیہ کار اور طاقتور ادارے کہنے سے گھبراتے ہیں۔ محمد سید شاہ نے چیئرمین محسن داوڑ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“پچھلے سال آپ نے ہمیں عالمی جنگ کے بارے میں متنبہ کیا تھا، جسے ہم آج عملاً اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔”
ایک معصوم بچے کی زبان سے ادا ہونے والا یہ جملہ صرف درد کا اظہار نہیں تھا، بلکہ یہ اس پورے نظام پر ایک سوالیہ نشان تھا جو جنگوں کو حکمتِ عملی اور سیکیورٹی کے نام پر جائز ٹھہراتا ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہئیں، جن کی آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، مگر بدقسمتی سے ان کے حصے میں بارود، خوف اور لاشیں آتی ہیں۔
محسن داوڑ کی یہ عیادت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی قیادت وہی ہوتی ہے جو صرف اسمبلی کے فلور پر تقریریں نہ کرے بلکہ زخمی دلوں، اجڑے گھروں اور ہسپتالوں کے بستروں تک پہنچے۔ وہ برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ اس خطے کو ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی جنگ کا میدان بنایا جا رہا ہے، اور آج وہی انتباہ ایک بچے کے زخموں میں سچ ثابت ہو رہا ہے۔
یہ جنگیں کسی قوم کی حفاظت نہیں کرتیں، یہ صرف نسلوں کو معذور بناتی ہیں۔ شمالی وزیرستان ہو یا خیبر، بلوچستان ہو یا سندھ—آگ جب لگتی ہے تو معصوموں کو ہی جلاتی ہے۔ ریاستی بیانیے بدل جاتے ہیں، حکمتِ عملیاں بدلتی رہتی ہیں، مگر جنازے ہمیشہ غریبوں کے نکلتے ہیں اور لاشیں ہمیشہ بے زبان بچوں کی اٹھتی ہیں۔
ہمیں خود سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ آخر کب تک ہمارے بچوں کو عالمی جنگوں کی بھینٹ چڑھایا جاتا رہے گا؟ کب تک ہمارے علاقے تجربہ گاہ بنے رہیں گے؟ اور کب تک سچ بولنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی رہے گی؟
محمد سید شاہ کا وہ ایک جملہ دراصل آنے والی نسل کی چیخ ہے—ایک ایسی چیخ جو ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ اگر آج ہم نے آواز نہ اٹھائی، اگر آج ہم نے امن، انصاف اور انسانی زندگی کے حق میں کھڑا ہونے کا فیصلہ نہ کیا، تو کل یہ زخم صرف ایک بچے کے نہیں ہوں گے، بلکہ پوری قوم کے ہوں گے۔
امن مانگنا جرم نہیں، جنگ سے انکار غداری نہیں، اور اپنے بچوں کے مستقبل کا سوال اٹھانا بغاوت نہیں۔
یہ تحریر انہی زخموں، انہی سچائیوں اور انہی معصوم آوازوں کے نام ہے جنہیں بار بار نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

27/12/2025
سوخیل میں کرفیو کے باعث بروقت علاج نہ ملنے سے ایک پھول جیسی بچی چل بسی۔
27/12/2025

سوخیل میں کرفیو کے باعث بروقت علاج نہ ملنے سے ایک پھول جیسی بچی چل بسی۔

27/12/2025

Dawar saib ❤️❤️❤️ ゚viralシfypシ゚viralシ

اس سخت سردی کے موسم میں حکومت سنٹرل کرم کے تین گاؤں گلیشنگ، سنگڑوبہ اور میدانی کو خالی کرا رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت ن...
27/12/2025

اس سخت سردی کے موسم میں حکومت سنٹرل کرم کے تین گاؤں گلیشنگ، سنگڑوبہ اور میدانی کو خالی کرا رہے ہیں اور دوسری طرف حکومت نے ان لوگوں کیلئے کوئی انتظامات نہیں کئے ہیں۔ لوگ کھلے آسمان کے تلے رہنے پر مجبور۔ حکومت انکے لئے بندوبست کریں، کب تک یہ ظالمانہ سلسلہ جاری رہے گا۔

Address

Mir Ali

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM Media posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share