17/04/2021
میرپورخاص میں وزیر اعظم کی جانب سے ماہ صیام میں یوٹیلیٹی اسٹوروں پر اشیا خوردنوش پر دی جانے والی سبسڈی یوٹیلیٹی اسٹوروں اہلکاروں اور انچارج کی کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا سالوں سال سے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر تعینات انچارچ عملہ سامان کی خریدوفروخت شہر کی دوکانوں ۔بریانی فروشوں ۔اور روزانہ فروخت ہونے والے کھانے پینے کی اشیاء سمیت مٹھاہی کی دوکانوں پر کرتے آرہے تھے اس بار شہریوں کی بڑی تعداد سبسڈی سے فاہدہ اٹھانے جب شہر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر پہنچی تو یوٹیلیٹی انچارج اور عملہ پریشان دیکھاہی دیا کیونکہ ان کی جانب سے سالوں سے اشیاہ کی خفیہ طریقوں سے فروخت متاثر ہونا شروع ہوہی جبکہ شہر بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر خریدو فروخت کے لیے کوہی کیش بک یا ریکارڈ رکھا نیہں جاتا جو سامان فراہم کیا جاتا ہے وہ فروخت کندہ لوگوں کے لیے الگ کردیا جاتا ہے اور عوام کو جو اشیاہ وہاں میسر ہوتی ہے وہ ناکافی ہوتی ہے جبکہ زراہع کے مطابق شہر بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں پر وافر مقدار میں سامان فراہم کیا جارہا ہے وفاقی حکومت کو چاھیے کہ فوری پر یوٹیلیٹی انچارچ اور عملے کی تعیناتی دوسری جگہوں پر کی جاہیں اور اشیاہ کی خریدو وفروخت کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے احکامات دیے جاہیں اور تمام یوٹیلیٹی اسٹوروں پر سی سی ٹی کیمرے نصب کیے جاہیں تاکہ غریب افراد کو سستی اشیاہ مل سکے اور عملے کی چور بازاری کو پکڑا جاسکے ۔یوٹیلٹی افسران سے لے کر نچلی سطع پر کرپشن عروج پر ہے اور یوٹیلیٹی اسٹوروں کی خریدو فروخت بھی سابقہ ادوار سے زیادہ بڑھ چکی ہے اگر وفاقی حکومت ڈنڈا چلاہے اور احساس کفالت کی طرز پر راشن کارڈ کا اجراء کیا جاہے تو ہر مڈل کلاس طبقہ یوٹیلیٹی اسٹوروں سے سامان نہ طرف خریدے گا بلکہ شہر کے زخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو بھی لگام دی جاسکے گی اور ریکارڈ بھی مراتب رہے گا اس حوالے سے وفاقی حکومت فوری اقدامات کرے