06/02/2026
کبھی مسجد، کبھی منبر، کبھی بازاروں میں
عشقِ حیدرؑ میں ہمیں مار دیا جاتا ہے
کبھی سجدے میں جھکے سر کو نشانہ بنایا
کبھی محراب کے سائے میں لہو بہا دیا
کبھی اذان کی آواز سے کانپ اٹھے شہر
کبھی خطبے کے ہی لمحے میں قیامت آ گئی
کبھی ماں نے درِ مسجد پہ بیٹے ڈھونڈے
کبھی بچوں نے جنازوں میں باپ پہچانے
کبھی تسبیح کے دانے بھی گواہ بن بیٹھے
کہ یہاں نامِ علیؑ جرم بنا دیا جاتا ہے
یہاں قاتل بھی آزاد، عدالت بھی خاموش
اور مقتول کی پہچان ہی اس کا قصور
سوال اٹھے تو زبانوں پہ تالے ڈال دیے
سچ بولے تو ہی ہمیں مار دیا جاتا ہے
یہ کیسا وطن ہے جہاں عبادت بھی خطرہ
جہاں سجدہ بھی حفاظت مانگتا ہے رب سے
جہاں مسجد ہو یا امام بارگاہ
ہر در پہ ہی جنازہ رکھ دیا جاتا ہے
ہم نے مانگا نہ کبھی تخت نہ تاجِ دنیا
ہم نے چاہا تو فقط عدلِ علیؑ کا پرچم
مگر اس چاہ کی قیمت میں ہمارے بچوں کو
درسگاہوں سے اٹھا کر جلا دیا جاتا ہے
سانحۂ اسلام آباد کوئی پہلا نہیں
یہ تو زخموں کی وہ زنجیر ہے جو ٹوٹی نہیں
کبھی کوئٹہ، کبھی کراچی، کبھی پاراچنار
نام بدلے، مگر خوں کی یہ کہانی وہی
اے خدا! یہ عشقِ علیؑ کا کیسا امتحان ہے
کہ وفا کی سند خون سے لکھوائی جاتی ہے
ہم نے تاریخ میں بھی سر کٹائے تھے مگر
آج بھی نسل در نسل سزا پائی جاتی ہے
مگر سن لو!
ہم نہ کل رکے تھے، نہ آج رکیں گے
یہ لہو چراغ بنے گا، یہ چراغ جلتے رہیں گے
علیؑ کا نام مٹے گا نہیں دنیا سے کبھی
چاہے ہر دور میں ہمیں مار دیا جائے
کبھی مسجد، کبھی منبر، کبھی بازاروں میں
عشقِ حیدرؑ میں ہمیں مار دیا جاتا ہے😭