06/08/2026
وقار پسوال نے جو کہا۔۔۔ سچ کہا۔۔۔ پھر غلط کیا ہے؟؟؟؟
کسی بھی کامیڈین کا بنیادی کام لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا ہوتا ہے۔ پونچھ کے وقار پسوال نے بھی ہمیشہ یہی کیا ہے۔ اپنی مختصر مگر دلچسپ مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے وہ بالخصوص آرپار پونچھ کے لوگوں کو محظوظ کرتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں اس نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنے دکھ اور درد کا اظہار بھی کیا، جس کے بعد پروگرام ،گورکھ دھندہ، کے میزبان ابرار قریشی نے اسے گفتگو کے لیے مدعو کیا۔
اس گفتگو میں وقار نے غم، مشکلات اور تلخیوں کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود ترقیاتی سہولیات اور عوامی فلاح کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا۔ اس نے آنگن واڑی اسکیم، ویٹرنری سہولیات، رعایتی نرخوں پر راشن، ٹرانسپورٹ، طلبہ، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے حکومتی امداد جیسی سہولتوں کا ذکر کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ ان معلومات میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے اختلاف کیا جا سکے۔
اصل حیرت اس بات پر ہوئی کہ آزاد کشمیر کے بہت سے لوگ، بالخصوص سوشل میڈیا صارفین، ان معلومات سے پہلی مرتبہ آگاہ ہوئے۔ ان کے تبصروں سے زیادہ ان کی لاعلمی نمایاں ہوئی، نہ کہ وقار پسوال کی گفتگو میں کوئی غلطی۔
البتہ ایک سوال ضرور تھا جسے وقار نے احتیاط سے ٹال دیا، اور وہ تھا کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کا سوال۔ لیکن اس پر بھی اسے موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ جس ماحول میں وہ رہتا ہے، وہاں اس موضوع پر کھل کر اظہارِ خیال کرنا آسان نہیں۔ یہ مجبوری ہر صاحبِ شعور سمجھ سکتا ہے۔
اگر وقار نے غلط کچھ نہیں کہا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
میری رائے میں اصل مسئلہ گفتگو کے موضوع کے انتخاب میں تھا۔
میں خود وادی کشمیر کا رہنے والا ہوں اور چھبیس برس قبل پاکستان آیا۔ اس وقت ماسٹرز کا طالب علم تھا۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جن سہولتوں کا ذکر وقار نے کیا، ان میں سے بیشتر آج سے کئی دہائیاں پہلے بھی موجود تھیں۔ البتہ نریندر مودی کے دور میں متعدد نئی اسکیمیں متعارف ہوئیں، جن سے کشمیری عوام بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ چونکہ کشمیر بھارت کے لیے سیاسی اور انتظامی لحاظ سے ایک اہم خطہ ہے، یوں کہیں تو لاڑلا بچہ ہے ، اس لیے وہاں ترقیاتی منصوبوں پر وسائل بھی زیادہ خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کو تحریک آزادی سے دور رکھنا ہے ۔
لیکن مقبوضہ کشمیر کا آزاد کشمیر سے براہِ راست موازنہ کرنا درست نہیں۔ سرینگر اور جموں 1947ء سے پہلے بھی ریاست کے مرکزی شہر تھے۔ ان کی تعمیر و ترقی کا آزاد کشمیر کے شہروں سے تقابل حقیقت پسندانہ نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ میزبان نے انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور بنیادی شہری مسائل پر سوالات کیوں نہیں کیے؟
کیوں نہ پوچھا گیا کہ ہزاروں کشمیری جیلوں میں کیوں ہیں؟ حریت رہنما برسوں سے پابندِ سلاسل کیوں ہیں؟ گمنام قبروں کا معاملہ کیا ہے؟ معمولی شبہے پر نوجوانوں کے گھروں کو دھماکوں سے کیوں اڑایا جاتا ہے؟ آصفہ بانو جیسے افسوسناک واقعات، ڈوڈہ کے اقبال حسین کی ہلاکت، سرنکوٹ کے المناک سانحے، جموں ڈویژن میں ہندو کمیونٹی کو اسلحہ کی تربیت دینے کے منصوبے، یا 5 اگست 2019ء کے اقدامات اور ریاستی حیثیت کے خاتمے پر سوال کیوں نہ اٹھایا گیا؟
اگر یہ سوالات بھی گفتگو کا حصہ بنتے تو شاید وقار پسوال بھی ان پر کسی نہ کسی انداز میں اظہارِ خیال کرتا۔
اب چند سوال وقار بھائی سے بھی ہیں۔
وقار بھائی! باقی سب چھوڑیں، صرف آج کا دن دیکھ لیجیے۔
سری نگر، جموں، لداخ اور نئی دہلی میں کیا ہوا؟ کیوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے احتجاج کیا؟ کیوں "جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے" کے نعرے گونجے؟ کیوں محبوبہ مفتی اور دیگر رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا؟ کیوں غلام نبی آزاد، انجینئر رشید اور دوسرے رہنما پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سراپا احتجاج نظر آئے؟
کیوں جموں کے غلام نبی آزاد ( نبہ آزاد) پارلیمنٹ میں گرجا برسا، کیوں فیاض میں قمیض پھاڑ کر اور رشید انجینئر سیاہ ڈریس پہن کر پارلیمنٹ پہنچا ۔
کیوں لداخ اور جموں میں مظاہرے ہوئے؟ کیوں لال چوک کو خار دار تاروں اور سکیورٹی حصار میں بدل دیا گیا؟
کیوں آج لال چوک آہنی تاروں میں جھگڑا رہا ، کیوں التجا نے زخم کھائے ، کیوں پی ڈی پی اور نیشنلی رہنماوں کے گھروں میں نظر بند کیا گیا ۔
یہ سب تو وہ جماعتیں اور رہنما ہیں جنہیں اکثر بھارت نواز قرار دیا جاتا ہے۔ پھر آخر انہیں احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ان سوالات کے جواب بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنی ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کشمیری عوام کو ماضی میں بھی متعدد سرکاری سہولتیں حاصل تھیں، اور آج بھی ہیں۔ وقار پسوال نے جو کہا، وہ اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ صرف سہولتوں کا ذکر کرکے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص ۔شناخت ۔۔۔جس کیلئے کشمیریوں نے لاکھوں قربانیاں دیں اور دے رہے ہیں ، بھلا اس کو کوئی کشمیر کیسے بھول سکتا ہے
وقار بھائی، آپ مسکراتے رہیں، لوگوں کو ہنساتے رہیں۔ محبتیں ہمیشہ قائم رہیں ...