Inside The Past

Inside The Past Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Inside The Past, Digital creator, Mirpur.

jammu Kashmir gilgit biltistan is dotted with a large number of heritage sites that include not only palaces and gardens but also Buddhist ruins, mosques as well as Hindu Temples. Inside The Past
صرف جموں کشمیر گلگت بلتستان میں رہنے والوں اس سے محبت کرنے والوں اور تینوں خطوں کو یکجا, آزاد, خودمختار دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں کیلئے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہم اپنی سیاسی و علاقائی صورتحال و معام

لات کو زیر بحث لا سکیں اور اُن کے حل کے بارے میں گفته شنید کر سکیں، اس کے علاوہ ہم اپنے علاقوں کی معلومات و تاریخ بھی بیان کر سکیں ہماری زیادہ تر آبادی اپنی تاریخ سے ناواقفیت رکھتے ہیں

وقار پسوال نے جو کہا۔۔۔ سچ کہا۔۔۔ پھر غلط کیا ہے؟؟؟؟کسی بھی کامیڈین کا بنیادی کام لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا ہوتا...
06/08/2026

وقار پسوال نے جو کہا۔۔۔ سچ کہا۔۔۔ پھر غلط کیا ہے؟؟؟؟

کسی بھی کامیڈین کا بنیادی کام لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنا ہوتا ہے۔ پونچھ کے وقار پسوال نے بھی ہمیشہ یہی کیا ہے۔ اپنی مختصر مگر دلچسپ مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے وہ بالخصوص آرپار پونچھ کے لوگوں کو محظوظ کرتا رہا ہے۔ حالیہ دنوں اس نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر اپنے دکھ اور درد کا اظہار بھی کیا، جس کے بعد پروگرام ،گورکھ دھندہ، کے میزبان ابرار قریشی نے اسے گفتگو کے لیے مدعو کیا۔
اس گفتگو میں وقار نے غم، مشکلات اور تلخیوں کے بجائے مقبوضہ جموں و کشمیر میں موجود ترقیاتی سہولیات اور عوامی فلاح کے مختلف پہلوؤں کا ذکر کیا۔ اس نے آنگن واڑی اسکیم، ویٹرنری سہولیات، رعایتی نرخوں پر راشن، ٹرانسپورٹ، طلبہ، بیواؤں اور معذور افراد کے لیے حکومتی امداد جیسی سہولتوں کا ذکر کیا، اور حقیقت یہ ہے کہ ان معلومات میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے اختلاف کیا جا سکے۔

اصل حیرت اس بات پر ہوئی کہ آزاد کشمیر کے بہت سے لوگ، بالخصوص سوشل میڈیا صارفین، ان معلومات سے پہلی مرتبہ آگاہ ہوئے۔ ان کے تبصروں سے زیادہ ان کی لاعلمی نمایاں ہوئی، نہ کہ وقار پسوال کی گفتگو میں کوئی غلطی۔
البتہ ایک سوال ضرور تھا جسے وقار نے احتیاط سے ٹال دیا، اور وہ تھا کشمیر کی آزادی اور خودمختاری کا سوال۔ لیکن اس پر بھی اسے موردِ الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ جس ماحول میں وہ رہتا ہے، وہاں اس موضوع پر کھل کر اظہارِ خیال کرنا آسان نہیں۔ یہ مجبوری ہر صاحبِ شعور سمجھ سکتا ہے۔

اگر وقار نے غلط کچھ نہیں کہا تو پھر مسئلہ کیا ہے؟
میری رائے میں اصل مسئلہ گفتگو کے موضوع کے انتخاب میں تھا۔
میں خود وادی کشمیر کا رہنے والا ہوں اور چھبیس برس قبل پاکستان آیا۔ اس وقت ماسٹرز کا طالب علم تھا۔ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جن سہولتوں کا ذکر وقار نے کیا، ان میں سے بیشتر آج سے کئی دہائیاں پہلے بھی موجود تھیں۔ البتہ نریندر مودی کے دور میں متعدد نئی اسکیمیں متعارف ہوئیں، جن سے کشمیری عوام بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ چونکہ کشمیر بھارت کے لیے سیاسی اور انتظامی لحاظ سے ایک اہم خطہ ہے، یوں کہیں تو لاڑلا بچہ ہے ، اس لیے وہاں ترقیاتی منصوبوں پر وسائل بھی زیادہ خرچ کیے جاتے ہیں۔ اس کا مقصد کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں کو تحریک آزادی سے دور رکھنا ہے ۔

لیکن مقبوضہ کشمیر کا آزاد کشمیر سے براہِ راست موازنہ کرنا درست نہیں۔ سرینگر اور جموں 1947ء سے پہلے بھی ریاست کے مرکزی شہر تھے۔ ان کی تعمیر و ترقی کا آزاد کشمیر کے شہروں سے تقابل حقیقت پسندانہ نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ میزبان نے انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور بنیادی شہری مسائل پر سوالات کیوں نہیں کیے؟
کیوں نہ پوچھا گیا کہ ہزاروں کشمیری جیلوں میں کیوں ہیں؟ حریت رہنما برسوں سے پابندِ سلاسل کیوں ہیں؟ گمنام قبروں کا معاملہ کیا ہے؟ معمولی شبہے پر نوجوانوں کے گھروں کو دھماکوں سے کیوں اڑایا جاتا ہے؟ آصفہ بانو جیسے افسوسناک واقعات، ڈوڈہ کے اقبال حسین کی ہلاکت، سرنکوٹ کے المناک سانحے، جموں ڈویژن میں ہندو کمیونٹی کو اسلحہ کی تربیت دینے کے منصوبے، یا 5 اگست 2019ء کے اقدامات اور ریاستی حیثیت کے خاتمے پر سوال کیوں نہ اٹھایا گیا؟
اگر یہ سوالات بھی گفتگو کا حصہ بنتے تو شاید وقار پسوال بھی ان پر کسی نہ کسی انداز میں اظہارِ خیال کرتا۔

اب چند سوال وقار بھائی سے بھی ہیں۔
وقار بھائی! باقی سب چھوڑیں، صرف آج کا دن دیکھ لیجیے۔
سری نگر، جموں، لداخ اور نئی دہلی میں کیا ہوا؟ کیوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، کانگریس اور دیگر جماعتوں نے احتجاج کیا؟ کیوں "جس کشمیر کو خون سے سینچا، وہ کشمیر ہمارا ہے" کے نعرے گونجے؟ کیوں محبوبہ مفتی اور دیگر رہنماؤں نے سخت احتجاج کیا؟ کیوں غلام نبی آزاد، انجینئر رشید اور دوسرے رہنما پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سراپا احتجاج نظر آئے؟
کیوں جموں کے غلام نبی آزاد ( نبہ آزاد) پارلیمنٹ میں گرجا برسا، کیوں فیاض میں قمیض پھاڑ کر اور رشید انجینئر سیاہ ڈریس پہن کر پارلیمنٹ پہنچا ۔
کیوں لداخ اور جموں میں مظاہرے ہوئے؟ کیوں لال چوک کو خار دار تاروں اور سکیورٹی حصار میں بدل دیا گیا؟
کیوں آج لال چوک آہنی تاروں میں جھگڑا رہا ، کیوں التجا نے زخم کھائے ، کیوں پی ڈی پی اور نیشنلی رہنماوں کے گھروں میں نظر بند کیا گیا ۔
یہ سب تو وہ جماعتیں اور رہنما ہیں جنہیں اکثر بھارت نواز قرار دیا جاتا ہے۔ پھر آخر انہیں احتجاج کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

ان سوالات کے جواب بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنی ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ کشمیری عوام کو ماضی میں بھی متعدد سرکاری سہولتیں حاصل تھیں، اور آج بھی ہیں۔ وقار پسوال نے جو کہا، وہ اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ صرف سہولتوں کا ذکر کرکے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق کے سوالات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بالخصوص ۔شناخت ۔۔۔جس کیلئے کشمیریوں نے لاکھوں قربانیاں دیں اور دے رہے ہیں ، بھلا اس کو کوئی کشمیر کیسے بھول سکتا ہے
وقار بھائی، آپ مسکراتے رہیں، لوگوں کو ہنساتے رہیں۔ محبتیں ہمیشہ قائم رہیں ...

31/07/2026

اپنوں کے لئیے گولی دوسروں کے لئے امن و شانتی، عون علی کی حقیقت پر مبنی لاجواب ویڈیو جس میں پاکستانی میڈیا کی منافقت کو بھی مزاحیہ انداز میں دکھایا گیا ہے
Discover Pakistan Pakistan Tehreek-e-Insaf

مہاراجہ ہری سنگھ بھاگا نہیں۔ بلکہ وہ جموں کے راج محل میں اپنے گاڈز کو یہ کہہ کر سو گیا۔ کہ اگر کل تک صبح تک بھارتی فوج م...
30/07/2026

مہاراجہ ہری سنگھ بھاگا نہیں۔ بلکہ وہ جموں کے راج محل میں اپنے گاڈز کو یہ کہہ کر سو گیا۔ کہ اگر کل تک صبح تک بھارتی فوج مدد کو نہ آئی۔ قبائلی بربریت اور مار مار نہ روکی گئی تو مجھے جگائے بغیر گولی مار دینا۔
مگر کوئی تو بھاگا تھا۔۔۔۔۔
وہ غدار ریاست ، جو اپنی جوان بیوی کو "ظالم مہاراجہ" کے راج محل کے قریب چھوڑ کر اپنی بیوی کا برقہ پہن کر رات ڈر کر کو بھاگا۔ حالانکہ اسے کوئی نقصان کا اندیشہ نہ تھا۔ کیونکہ اسی مہاراجہ کے خلاف برسوں سے شیخ عبداللہ اسی سری نگر میں ایجی ٹیشن کر رہا تھا۔ کشمیر چھوڑ دو تحریک چلا رہا تھا.:ابراہیم خان نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا۔ پہلے پوری برادری کے ساتھ مہاراجہ سے وفاداری کا حلف دیا۔ انگلینڈ اعلی تعلیم کے لئے وظیفہ حاصل کیا۔ پھر اس پر مہاراجہ کی نوکری کی۔ پراسیکیوٹر جنرل میرپور تعینات ہوا۔ پھر 1946 میں پونچھ سے الیکشن لڑا اور پراجھا سبھا کا ممبر منتخب ہوا۔ اور پھر اسی ریاست سے 1947 میں غداری کی۔
قیوم خان بھی مہاراجہ ہری سنگھ کی انجینئرنگ کور میں کلرک بھارتی ہوا۔ پھر کرپشن پہ نکالے جانے پہ مہاراجہ کے خلاف ہو گیا۔ اور ریاست سے غداری کا مرتکب ہوا۔۔
مہاراجہ ہری سنگھ کو اپنی ریاست سے اس قدر پیار تھا کہ اس نے وصیت کی کہ میری لاش جلا کر اسکی راکھ ریاست جموں و کشمیر کے پہاڑوں پہ پھینک دینا۔ تاکہ میری آتما میں جموں و کشمیر سما جائے۔
قیوم خان مہاراجہ کی فوج میں چوری کرتے پکڑا گیا تھا۔
ابراہیم اپنی جوان بیوی کو سری نگر چھوڑ کر اس کا برقہ کا پہن کر بھاگا۔ اور رئیس الغدار مادرچود غلام عباس نے تو عذاب کشمیر میں دفن ہونا مناسب نہ سمجھا۔

30/07/2026

راولاکوٹ ہزاروں مظاہرین، جب کہ آزاد کشمیر و پاکستان کے حکمرانوں کے مطابق تعداد صرف پندرہ سو ہے

29/07/2026

اس وقت مجاہدین کشمیر ایکشن کمیٹی کے اندرموجود ہے جن کے پاس ہتھیار بھی ہے، رانا ثنا اللہ
کہتے ہیں ۔۔ وہاں (راولاکوٹ) پر وہی لوگ ہیں ، کبھی ہم نے جن لوگوں کو ٹریننگ دی تھی وہ ہمارے گلے پڑے ہوئے ہیں ، ان تنظیموں کے لوگ بھی وہاں موجود ہیں

28/07/2026

آزاد کشمیر۔۔ نہتے اور پر امن مظاہرین پر بلا اشتعال فائرنگ

28/07/2026

آزاد کشمیر کے لوگوں کو ہندوستان کی طرح دشمن سمجھتے ہیں اور ان سے کوئ مزاکرات نہی ہوں گے
وزیر دفاع خواجہ آصف

28/07/2026

یا اللہ رحم افسوسناک صورتحال، میرپور آزاد کشمیر. ایک درجن لوگ ہلاک و زخمی

راولاکوٹ کے بعد میرپور۔۔۔۔۔ زاد کشمیر میں طاقت نہیں، دانش و بصیرت کی ضرورت ہے
28/07/2026

راولاکوٹ کے بعد میرپور۔۔۔۔۔ زاد کشمیر میں طاقت نہیں، دانش و بصیرت کی ضرورت ہے

22/07/2026

نوٹ یہ میرا موقف نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند دن پہلے ایک دوست سے بات ہو رہی تھی تو کہنے لگا کہ پورا آزادکشمیر راولاکوٹ میں جمع ہے۔ میں نے پوچھا آزادکشمیر کی آبادی کتنی ہے، کہنے لگا چالیس لاکھ کے لگ بھگ۔ میں نے پوچھا تمہیں راولاکوٹ میں چالیس لاکھ لوگ نظر آ رہے ہیں، چالیس لاکھ چھوڑو, یہ چالیس ہزار کا بھی نصف ہیں اور وہ بھی صرف پیک ٹائم میں۔ حقیقت یہ ہے کہ جتنے لوگ راولاکوٹ کے دھرنے میں بیٹھے ہیں اس سے پانچ گنا زیادہ تو 6 اور 7 جون کو صرف راولاکوٹ سے ہی راولپنڈی چلے گئے تھے۔ کئ گھروں کی شادیاں راولاکوٹ میں ہونی تھیں جو پنڈی اسلام آباد منتقل ہو گئیں۔ بیمار اور سکولوں والے یہاں سے نکل گئے۔ سینکڑوں فیملیز نے، جو کہ افورڈ کر سکتی تھیں، انکے شر سے تنگ آ کر اپنے بچوں کے ایڈمیشن تک پنڈی کروا دیے اور اگست میں کلاسیں شروع ہونگی۔ یہ عوام کی ایک اکثریت ہے جسے انگریزی میں silent majority کہتے ہیں۔ پھر یہ کہ ہم راولاکوٹ والوں کو لگتا ہے کہ نا صرف یہ دنیا بلکہ سورج، چاند، ستارے سب راولاکوٹ کے گرد ہی گھومتے ہیں۔ انھیں اندازہ بھی نہیں کہ باقی ضلعوں کی نوے فیصد عوام انکو، انکے انتشاری ایجنڈے کو اور اس افراتفری کو گھاس تک نہیں ڈالتی اور اسکا مظاہرہ ہر روز سیاسی جلوسوں میں بھرپور شرکت کر کے دکھا رہی ہے۔ مظفرآباد کے آج کے جلسے کی وڈیوز دیکھ لیں۔ کوٹلی کا جلسہ دیکھ لیں، دھیرکوٹ دیکھ لیں، بھمبر دیکھ لیں, عوام کی تعداد دیکھ کر آپکو اندازہ ہو جائے گا کہ کتنے لوگ کس طرف ہیں۔ اس سے یہ بھی واضح ہو جائے گا کہ راولاکوٹ میں بیٹھے دس پندرہ ہزار لوگوں نے پورے آزادکشمیر کو یرمغال بنا دیا ہے اور وہ بھی ایک ایسے نکتے پر کہ جس پر ایک پتہ بھی ٹوٹنا نہیں چاہیے تھا اور جسے حل کرنے کا ایک جمہوری راستہ موجود تھا لیکن انھوں نے انتشار اور تصادم کا راستہ اپنایا۔ ایک چھوٹا سا ٹولا سوشل میڈیا کے ذریعے اور چند 'صحافی نما کنکتروں' کی مدد سے ایک ایسا بیانیہ بنا چکا کہ جس کے ذریعے بتاتا جا رہا کہ پورا آزادکشمیر انکے ساتھ ہے۔ پورا آزادکشمیر تو دور، اگر لوگ خود کو تمہارے شر سے بچانے واسطے اختیار کی گئی خاموشی توڑ دیں تو یقین جانو تم صرف راولاکوٹ کی عوام کے بھی دس فیصد نہیں ہو۔
والسلام

Address

Mirpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Inside The Past posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share