WNN News Urdu

WNN News Urdu NEWS & Updates 24/7

اس ادارے جیسے آزاد کشمیر کے دیگر درجنوں تعلیمی اداروں میں بھی آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے گا؟؟
31/08/2026

اس ادارے جیسے آزاد کشمیر کے دیگر درجنوں تعلیمی اداروں میں بھی آن لائن کلاسز کا آغاز کیا جائے گا؟؟

راولاکوٹ : زلزلہ 2005 کے دو دہائیاں بعد بھی کئی تعلیمی ادارے بحال نہ ہو سکے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشانراولاکوٹ (محمد ...
31/08/2026

راولاکوٹ : زلزلہ 2005 کے دو دہائیاں بعد بھی کئی تعلیمی ادارے بحال نہ ہو سکے بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان
راولاکوٹ
(محمد خورشید بیگ )
8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلے کو گزرے دو دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں آج بھی متعدد تعلیمی ادارے مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے ہیں کئی سکولوں کی عمارتیں مخدوش حالت میں کھڑی ہیں جہاں طلباء و طالبات خطرات کے سائے میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ زلزلے سے متاثر ہونے والے متعدد تعلیمی اداروں کی تعمیر نو کا عمل مکمل نہ ہو سکا ہے جبکہ بعض مقامات پر پرانی اور خستہ حال عمارتوں میں تدریسی سرگرمیاں دوبارہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے والدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں کو محفوظ اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر آج بھی کئی بچے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں کے عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے دیگر حصوں میں تعلیمی اداروں کی عمارتیں محفوظ اور جدید سہولیات سے آراستہ ہیں تو کشمیر کے بچوں کو بوسیدہ عمارتوں میں تعلیم حاصل کرنے پر کیوں مجبور کیا جا رہا ہے ۔ ؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے بچوں کے لیے بہتر تعلیم، صحت اور بنیادی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں مختلف القابات دے کر خاموش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ اپنے جائز حقوق مانگنا، اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کا مطالبہ کرنا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کی آواز بلند کرنا کس طرح جرم یا غداری ہو سکتا ہے ۔؟ عوام کا کہنا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن آج کشمیر کے لوگ یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں کہ شہ رگ کہلانے والے خطے کے بچوں کو معیاری تعلیم، محفوظ سکول اور بنیادی سہولیات کب فراہم کی جائیں گی۔
والدین اور طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اگر نئی نسل کو محفوظ تعلیمی ماحول نہیں ملے گا تو ترقی کے خواب کیسے پورے ہوں گے ۔ ؟ یہ سوال صرف راولاکوٹ یا کسی ایک علاقے کا نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا سوال ہے، جس کا جواب متعلقہ حکام کو دینا ہوگا۔

31/08/2026

سلیکٹڈ وزیراعظم ! گھسے پٹے بیانات نہیں مسئلے کا حل درکار ہے :
تحریر : محمد خورشید بیگ
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ذمہ داران زمینی حقائق کا ادراک کریں اور جذباتی نعروں، الزام تراشیوں اور گھسے پٹے بیانات کے بجائے دانش مندی، سیاسی بصیرت اور عوامی مفاد کو ترجیح دیں۔ جب معاشرے میں بے چینی بڑھ جائے عوام اپنے بنیادی حقوق کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور اعتماد کا بحران پیدا ہو جائے تو طاقت اور سخت بیانات مسائل کو حل نہیں کرتے بلکہ فاصلے مزید بڑھا دیتے ہیں
جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے جیسے اقدامات سیاسی مسائل کا انتظامی حل تلاش کرنے کی کوشش تو ہو سکتے ہیں، مگر عوامی جذبات اور بنیادی مطالبات کو نظر انداز کر کے دیرپا امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے فیصلوں پر نظرثانی کرے نوٹیفکیشن واپس لے اور مذاکرات کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کرے
سب سے پہلے ضروری ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جائے۔ انٹرنیٹ سروس کی بحالی، گرفتار افراد کے معاملات کا انسانی ہمدردی اور قانون کے مطابق جائزہ، سنگین مقدمات کے حوالے سے شفافیت، اور عوامی زندگی کو معمول پر لانے کے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ مذاکرات ہمیشہ برابری، احترام اور اعتماد کے ماحول میں کامیاب ہوتے ہیں، دباؤ اور خوف کے ماحول میں نہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوامی سوالات کا جواب صرف پریس کانفرنسوں، الزامات اور بیانات سے نہیں دیا جا سکتا ہے عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا ان کے مسائل سننے ہوں گے اور عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ کسی بھی تحریک کو صرف طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش ماضی میں بھی مسائل کو مزید پیچیدہ کرتی رہی ہے۔
جھوٹے پراپیگنڈے، الزام تراشی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست کسی کے مفاد میں نہیں ہے جب گھر میں آگ لگی ہو تو ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ پانی ڈالا جائے یہ نہیں جلتی پر تیل چھڑکنے والا کام کر کہ ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا کر آگ کو مزید بھڑکایا جائے گھسے پٹے بیانات جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے سلیکٹڈ وزیراعظم سمیت تمام ذمہ دار اداروں پر لازم ہے کہ وہ اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں۔ عوام اور حکومت کے درمیان خلیج کم کریں مذاکرات کا راستہ کھولیں اور ایسا حل تلاش کریں جو خطے کے امن عوامی اعتماد اور مستقبل کے لیے بہتر ہو۔
تاریخ گواہ ہے کہ طاقت وقتی خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، لیکن پائیدار امن ہمیشہ انصاف، مکالمے اور اعتماد سے ہی قائم ہوتا ہے۔ آج ضرورت کسی فریق کو شکست دینے کی نہیں بلکہ ایک ایسا راستہ نکالنے کی ہے جس میں عوام کی آواز بھی سنی جائے اور ریاستی نظام کا وقار بھی برقرار رہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

30/08/2026

آزاد کشمیر:انٹرنیٹ سروس کی بحالی مرحلہ وار کیے جانے کا امکان، ذرائع

آزاد کشمیر میں 86 روز بعد انٹرنیٹ سروس کی جزوی بحالی کا آغاز آج رات سے امکان

مظفرآباد، میرپور ڈویژن، باغ اور دھیرکوٹ میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کا فیصلہ، ذرائع

مذکورہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس آج رات 12 بجے کے بعد بحال کر دی جائے گی، ذرائع

آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ کی بندش کو 86 روز مکمل ہو گئے

86 روز بعد آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوگی، ذرائع

30/08/2026

راولاکوٹ : کسی میں اتنی جرات نہیں کہ ہمارے جیتے ہوئے پونچھ سے اداروں کو دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے- یہ بدمعاشی نہیں چلنے دیں گے - سردار عمر نذیر کشمیری

30/08/2026

راولاکوٹ : اشارہ کافی ہوتا ہے اگر حکمرانوں نے سنجیدگی نہ دکھائی تو ہم زیادہ لمبے عرصے تک یہاں نہیں بیٹھیں گے ۔ عمر نذیر ۔

راولاکوٹ : تحصیل اور ضلع کی عوامی ایکشن کمیٹیز سے مشاورت کے بعد کور ممبران ایک نئے لائحہ عمل کے ساتھ آگے بڑھیں گے ۔ عمر نذیر

راولاکوٹ : ذہنی و جسمانی طور پر سب تیار رہیں ہم نے آگے بڑھنا بے ۔ سردار عمر نذیر کشمیری کا اعلان

29/08/2026

بریکنگ نیوز
صدرمسلم لیگ ن شاہ غلام قادراوروزیراعظم بیرسٹر افتخار گیلانی کی بنی گالہ ملاقات بے نتیجہ ختم۔ پارٹی صدر نے حکومت سازی اور مشاورتی عمل میں شریک ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا ’’مرکزی قیادت کا غیر اصولی و غیر سیاسی فیصلہ تسلیم نہیں کیا، سیاست اور اختلاف عزت، وقار اور اصولوں کے لیے کیے ہیں،آپ سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں، وزارت عظمیٰ کی مبارک اور نیک خواہشات"۔ ذرائع

29/08/2026

فیصل راٹھور کے دور حکومت کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟؟
رائے کا اظہار بذریعہ کمینٹ کیجئے

29/08/2026

سردار ببرک کا راولاکوٹ کی صورتحال پر اظہار خیال

29/08/2026

راولاکوٹ :
سوشل میڈیا پر یہ واویلا کیا جا رہا ہے کہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے سڑکیں بند کر دی ہیں اور مسافروں کی سیکیورٹی چیکنگ کی جا رہی ہے تاہم موجودہ صورتحال کو محض سوشل میڈیا کے دعوؤں سے نہیں بلکہ زمینی حقائق کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ریاست جموں کشمیر کے باشندوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خطے میں باہر سے آنے والے افراد اور گاڑیوں کے حوالے سے حفاظتی اقدامات کریں خصوصاً ایسے حالات میں جب علاقے میں طویل عرصے سے کشیدگی پائی جا رہی ہو۔ ان کے مطابق چند پرائیویٹ گاڑی مالکان کی جانب سے بھاری کرایوں پر مسافروں کو لانے لے جانے کی شکایات کے باعث ان گاڑیوں کی آمدورفت کو محدود کیا گیا ہے، تاہم مریضوں، ان کے تیمارداروں اور خاندانوں کی آمدورفت پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے عوامی حلقوں کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سڑکوں اور گاڑیوں کی پابندی کا شور مچانے والے گذشتہ تین ماہ سے جاری انٹرنیٹ سروس کی بندش، راولاکوٹ شہر میں نافذ کرفیو، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں فورسز کی موجودگی اور شہریوں کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر خاموش کیوں ہیں ۔؟ شہریوں کا الزام ہے کہ آزاد پتن کے دوسری جانب پنجاب پولیس کی جانب سے کشمیری مسافروں اور گاڑیوں کو روک کر تلاشی لینے، انہیں مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور بھتہ وصول کرنے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ان حالات میں اگر مقامی سطح پر مسافروں کی نقل و حرکت کے حوالے سے کچھ احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں تو ان کے پس منظر اور وجوہات کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ مریضوں اور خاندانوں کی آمدورفت کو نہیں روکا جا رہا ہے جبکہ اعتراض صرف ان نجی گاڑیوں کے خلاف ہے جو مبینہ طور پر غیر معمولی کرایے وصول کرکے سواری لانے لے جانے کا کاروبار کر رہی ہیں۔
دوسری جانب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا کے بعض دانشور اور نام نہاد صحافی اگر واقعی شہری آزادیوں، انسانی حقوق اور عوامی مشکلات کے علمبردار ہیں تو پھر مبینہ ظلم و تشدد، انٹرنیٹ کی طویل بندش، کرفیو، گرفتاریوں اور شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال پر بھی یکساں آواز کیوں بلند نہیں کرتے ۔ ؟
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے ہر شخص کا حق ہے، تاہم کسی بھی معاملے پر رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل صورتحال اور اس کے پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے اقدامات پر تنقید ضرور کی جائے، لیکن اس کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور مبینہ زیادتیوں پر بھی سوال اٹھایا جائے، کیونکہ یک طرفہ بیانیہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید انتشار کا باعث بنتا ہے ۔ محمد خورشید بیگ راولاکوٹ

Address

Sector F1 Mirpure Azad Kashmir
Mirpur
00000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when WNN News Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to WNN News Urdu:

Share