Apna Kashmir

Apna Kashmir Kashmir is a state its like havens at earth and also a big dispute between Pakistan ,India and China

02/05/2026

very beautiful view of Kashmir

"1857 کی جنگ آزادی اور پنجاب میں انگریزوں کے مخبر و انعام یافتہ خاندان"ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐ...
02/05/2026

"1857 کی جنگ آزادی اور پنجاب میں انگریزوں کے مخبر و انعام یافتہ خاندان"
ﻗﺎﺋﺪ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﭘﺮﻭﻓﯿﺴﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺗﺮﺍﺏ ﺍﻟﺤﺴﻦ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﯽ ﮈﮔﺮﯼ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﮬﮯ۔ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻋﻨﻮﺍﻥ ہے ...
"Punjab and the War of Independence 1857"
ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ ہﮯ . ﺟﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻦ ﺧﺎﻧﺪﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ، ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﮍﯼ ﺟﺎﮔﯿﺮﯾﮟ ﻣﺎﻝ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺎﺑﺎﺕ ﺳﮯ ﻧﻮﺍﺯﺍ اور ﺍﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭﻧﮯ ﻭﻇﺎﺋﻒ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﺌﮯ-

ﺍﺱ ﺗﮭﯿﺴﺲ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﻤﺎﻡ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻭﮦ ہیںﺟﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﮯ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﯽ ﻧﻮﺍﺯﺷﺎﺕ ﺳﮯ ﻓﯿﻀﯿﺎﺏ ﮬﻮﺋﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮﺩﺍﺭ ﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺁﻗﺎ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ہر ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ-

Griffin punjab chifs Lahore ;1909
سے ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺩﮦ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﯿﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﺭﺿﺎ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﺳﯿﺪ ﻧﻮﺭ ﺷﺎﮦ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ 300 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺪ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ-

Proceeding of the Punjab Political department no 47, June 1858
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﮩﺎﺅﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﻧﮯ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﺎﻟﮧ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ 20 ﺁﺩﻣﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﻓﺮﺍﮬﻢ ﮐﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ 25 ﺁﺩﻣﯽ ﻟﯿﮑﺮﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺋﮯ-

ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﭘﺮ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﺭﮬﮯ- ﺍﻥ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﮐﯿﻠﯿﺌﮯ 1750 ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﻤﺘﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻍ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻥ 150 ﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ-

ﺟﻮ ﺣﻮﺍﻟﮧ ﻭﺯﯾﺮ ﺍﻋﻈﻢ ﮔﯿﻼﻧﯽ ﮐﺎ ﮬﮯ ﻭﮬﯽ ﺍﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻟﯿﮉﺭ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﻧﺜﺎﺭ ﻋﻠﯽ ﺧﺎﻥ ﮐﮯ ﺍﺟﺪﺍﺩ ﭼﻮﮬﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﺎ ﮬﮯ- ﺍﻥ ﮐﯽ ﻣﺨﺒﺮﯼ ﭘﺮ ﮐﺌﯽ ﻣﺠﺎﮬﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺷﯿﺮ ﺧﺎﻥ ﮐﻮ ﺭﯾﻮﻧﯿﻮ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﻠﺤﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﺑﻨﺪﻭﻗﯿﮟ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺍﻭﺭ 500 ﺭﻭﭘﮯ ﺧﻠﻌﺖ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ-

Gujranwala Guzts 1935-36 Govt of Punjab
ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﺎﻣﺪ ﻧﺎﺻﺮ ﭼﭩﮭﮧ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺧﺪﺍ ﺑﺨﺶ ﭼﭩﮭﮧ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻨﺮﻝ ﻧﮑﻠﺴﻦ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ-

ﻗﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﺧﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ ﺟﻮ ﺧﻮﺭﺷﯿﺪ ﻗﺼﻮﺭﯼ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ 100 ﺁﺩﻣﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﺘﯿﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮬﻮﺍ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ 2500 ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﮬﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﭘﻨﺸﻦ ﺩﯼ-

تحریک آزادی کے ایک روح رواں ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﮞ ﮐﮭﺮﻝ ﮐﯽ ﻣﻘﺒﻮﻟﯿﺖ ﺑﮍﮬﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺭ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻣﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺟﻠﺪ ﯾﺎ ﺑﺪﯾﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﯾﺎ ﮐﮭﺮﻝ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ 10 ﺟﻮﻥ 1857 ﺀ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﺎﻥ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ 69 ﮐﻮ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺷﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻤﺎ ﻧﮉﺭ ﮐﻮ ﻣﻊ ﺩﺱ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮﭖ ﮐﮯ ﺁﮔﮯ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺍﮌﺍﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺁﺧﺮ ﺟﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﻘﯿﮧ ﻧﮩﺘﮯ ﭘﻼﭨﻮﻥ ﮐﻮ ﺷﺒﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭨﻮﻟﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭﺗﮧ ﺗﯿﻎ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﺎﺭﮦ ﺳﻮ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺑﻠﻨﺪ ﮐﯿﺎ- ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﺎﺅﻧﯽ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﭘﻞ ﺷﻮﺍﻟﮧ ﭘﺮ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺑﮩﺎﺀ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺯﮐﺮﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﻧﮯ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﻧﮩﺘﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ- ﯾﮧ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﻭﺯﯾﺮ ﺧﺎﺭﺟﮧ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﻟﮑﮍ ﺩﺍﺩﺍ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍﻥ ﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ-

ﮐﭽﮫ ﺑﺎﻏﯽ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭ ﺷﯿﺮ ﺷﺎﮦ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﮐﯿﺎ- ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺩﯼ ﮐﭽﮫ ﮈﻭﺏ ﮐﺮ ﺟﺎﻥ ﺑﺤﻖ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺑﭻ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﮯ ۔ ﭘﺎﺭ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﯿﺪ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﻗﺘﺎﻝ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺠﺎﺩﮦ ﻧﺸﯿﻦ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﺁﻑ ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ- ﺟﻼﻝ ﭘﻮﺭ ﭘﯿﺮﻭﺍﻟﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺍﯾﻢ ﺍﯾﻦ ﺍﮮ ﺩﯾﻮﺍﻥ ﻋﺎﺷﻖ ﻋﻠﯽ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﺍﻧﮩﯽ ﮐﯽ ﺁﻝ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﻟﯽ ﺷﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮕﺎﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﺴﮯ ﭘﯿﺮ ﻣﮩﺮ ﭼﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﯾﺪﻭﮞ ﺍﻭﺭﻟﻨﮕﺮﯾﺎﻝ، ﮨﺮﺍﺝ، ﺳﺮﮔﺎﻧﮧ ﺗﺮﮔﮍ ﺳﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﻤﺮﺍﮦ ﮔﮭﯿﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻦ ﭼﻦ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ-

ﻣﮩﺮ ﺷﺎﮦ ﺁﻑ ﺣﻮﯾﻠﯽ ﮐﻮﺭﻧﮕﺎ ﺳﯿﺪ ﻓﺨﺮﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﭘﮍﺩﺍﺩﺍ ﮐﺎ ﺳﮕﺎ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﺎ ۔ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻗﺘﻞ ﻋﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻓﯽ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﺷﮩﯿﺪ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﺲ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺍﻭﺭﺍﯾﮏ ﻣﺮﺑﻊ ﺍﺭﺍﺿﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ-ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻣﺤﻤﻮﺩ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﻮ 1857 ﺀ ﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﭽﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﮯ ﻋﻮﺽ ﻣﺒﻠﻎ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯ ﻧﻘﺪ ﺟﺎﮔﯿﺮﺳﺎﻻﻧﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﻣﺒﻠﻎ ﺍﯾﮏ ﮨﺰﺍﺭ ﺳﺎﺕ ﺳﻮﺍﺳﯽ ﺭﻭﭘﮯ ﺁﭨﮫ ﭼﺎﮨﺎﺕ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﻻﻧﮧ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﻮﺭﻭﭘﮯ ﺗﮭﯽ ﺑﻄﻮﺭ ﻣﻌﺎﻓﯽ ﺩﻭﺍﻡ ﻋﻄﺎﮨﻮﺋﯽ ﻣﺰﯾﺪ ﯾﮧ ﮐﮧ 1860 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﺋﺴﺮﺍﺋﮯ ﮨﻨﺪ ﻧﮯ ﺑﯿﮕﯽ ﻭﺍﻻ ﺑﺎﻍ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺨﺪﻭﻡ ﺷﺎﮦ ﻋﻠﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﭼﻨﺎﺏ ﮐﮯ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﻣﺠﺎﮨﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﺳﯿﻊ ﺟﺎﮔﯿﺮ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ-

ﯾﮧ ﮨﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻣﻠﮏ ﭼﻼﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ
ﮐﻞ ﮐﮯ ﻣﺨﺒﺮ ﺁﺝ ﮐﮯ قابض سیاستدان

09/02/2026

Kashmir Territory

.‏دو منٹ نکال کر ضرور پڑھیںکہا جاتا ہے کہ کمال اتاترک نے ترکی کی تاریخ کا ایک ایسا رخ بدلا جس پر آج تک بحث ہوتی ہے۔1924ء...
09/02/2026

.‏دو منٹ نکال کر ضرور پڑھیں
کہا جاتا ہے کہ کمال اتاترک نے ترکی کی تاریخ کا ایک ایسا رخ بدلا جس پر آج تک بحث ہوتی ہے۔
1924ء میں خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کیا گیا، اور چند ہی برس بعد 1926ء میں اسلامی شریعت کو مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا۔
قوانین میں مغربی طرز اپنایا گیا،
یہاں تک کہ وراثت میں مرد و عورت کو برابر قرار دیا گیا۔
حج اور عمرہ کی ادائیگی پر پابندیاں لگیں، اسکولوں سے عربی زبان ہٹا دی گئی، اور مساجد میں اذان تک ترک زبان میں دی جانے لگی۔
حجاب پر قدغنیں لگائی گئیں، اسلامی تہوار—عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ—سرکاری سطح پر ختم کر دیے گئے، اور جمعہ کے بجائے اتوار کو ہفتہ وار تعطیل قرار دیا گیا۔
ترکی زبان سے عربی رسم الخط ختم کر کے لاطینی حروف نافذ کیے گئے، اور سرکاری حلف میں اللہ کے نام کے بجائے “عزت” اور “شرف” کا حوالہ شامل کیا گیا۔
یہ بھی روایت ہے کہ جن علما اور فقہا نے اس راستے کی مخالفت کی، ان میں سے سینکڑوں کو سزائیں دی گئیں۔
اپنے نام سے “مصطفیٰ” ہٹا دیا گیا، اور وصیت کی گئی کہ وفات کے بعد اسلامی طریقے سے نمازِ جنازہ ادا نہ کی جائے۔
1923ء میں ترک پارلیمنٹ کے سامنے ایک بیان بھی منسوب کیا جاتا ہے کہ:
“ہم بیسویں صدی اور صنعت کے دور میں داخل ہو چکے ہیں، ہم ایسے کتاب کے ساتھ نہیں چل سکتے جو انجیر اور زیتون کی بات کرے۔”
(اشارہ قرآنِ کریم کی طرف سمجھا جاتا ہے)
پھر کہا جاتا ہے کہ اسے ایک موذی بیماری لاحق ہوئی، اور بعد ازاں قدرت کے فیصلے نے اُسے آ لیا۔ روایت کے مطابق، اس بیماری کا علاج کچھ عرصہ بعد دریافت ہوا—اور وہ بھی انجیر کے درخت کی چھال سے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُم بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ﴾
“تو ہم نے ان سے بھی زیادہ طاقتور لوگوں کو ہلاک کر دیا، اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی۔”
صدق اللہ العظیم
کاپی پیسٹ

ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا ...
18/09/2025

ایک صاحب فرماتے ہیں😅😅😅
مقامی بینک کے معلومات نمبر پر فون کیا تو پہلے ہمارا شکریہ ادا کیا گیا اور اس کے بعد عندیہ دیا گیا کہ آپ کی کال ریکارڈ کی جائے گی۔ پھر کہا گیا اردو کے لئے ایک دبائیے، ہم نے تامل نہ کیا، فوراً ایک صاحبزادے گویا ہوئے*
*This is Kamran, how can I help you ?*

*ہم نے ان سے کہا ،"میاں صاحبزادے ! ہم نے تو اردو کے لئے ایک دبائیے پر عمل کیا ہے اس کے باوجود یہ انگریزی ؟
فرمانے لگے "جی بولیے ؟"
ہم نے کہا،" بولتے تو جانور بھی ہیں انسان تو کہتا ہے"
جواباً ارشاد ہوا ,"جی کہیے،"
ہم نے کہا ،" ہم کہہ دیتے ہیں مگر آپ کو اخلاقاً کہنا چاہئے تھا " فرمائیے! “
اب وہ پریشان ہوگئے کہنے لگے, “ سوری، فرمائیے کیا کمپلین ہے؟“
*ہم نے کہا ,"ایک تو یہ کہ سوری نہیں معذرت سننا چاہیں گے اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے، دوسری بات یہ کہ کمپلین نہیں شکایت اس لیے کہ اردو کے لئے ایک دبایا ہے،"
اب تو سچ مچ پریشان ہوگئے اور کہا," سر میں سمجھ گیا آپ شکایت بتائیں"
ہم نے کہا," سر نہیں، جناب, اس لیے کہ ایک نمبر کا یہی تقاضا ہے"
شکایت سننے کے بعد کہا، "جی ہم نے آپ کی شکایت نوٹ کرلی ہے اسے کنسرن ڈپارٹمنٹ کو فارورڈ کردیتے ہیں،"
ہم نے کہا، " کیا...؟" تو واقعتاً بوکھلا گئے،
ہم نے کہا," شکایت نوٹ نہیں بلکہ درج کرنی ہے اور متعلقہ شعبہ تک پہنچانی ہے اس لیے کہ ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
کہنے لگے," جناب میں سیٹ سے اٹھ کر کھڑے کھڑے بات کر رہا ہوں آپ نے اردو کے لئے ایک نہیں ہمارا گلا دبایا ہے."
ہم نے کہا، “ ابھی کہاں دبایا ہے، آپ سیٹ سے کیوں اٹھے, آپ کو نشست سے اٹھنا چاہئے تھا، پتہ نہیں ہے آپ کو ہم نے اردو کے لئے ایک دبایا ہے"
کہنے لگے “ اب میں رو دوں گا!*“
ہم نے کہا ,"ستم ظریفی یہ ہے کہ آپ کی گفتگو اور ستھرا لہجہ بتا رہا ہے کہ آپ کا تعلق اردو گفتار گھرانے سے ہے مگر کیا افتاد پڑی ہے آپ پر کہ منہ ٹیڑھا کرکے اپنا مذاق بنوا رہے ہیں ۔!!
کہنے لگے," میرے باپ کی بھی توبہ....!!
😅😅😅
#منقول
_______________________________

ہاتھ میں نیزا لئے گھوڑا دوڑاتا یہ شخص نواب عطا محمد خان ہے۔ جو 80 سال کی عمر تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہا ۔ دیکھنے میں ایک سف...
08/09/2025

ہاتھ میں نیزا لئے گھوڑا دوڑاتا یہ شخص نواب عطا محمد خان ہے۔ جو 80 سال کی عمر تک گھوڑے کی پیٹھ پر رہا ۔ دیکھنے میں ایک سفاک نواب لگتا تھا مگر عملاً ایسا نہیں تھا۔ ساری زندگی گھڑ دوڑ ، نیزہ بازی اور مشرقی روایات کے بہت بڑے فداکار رہے۔ ایچی سن اور آکسفورڈ کے زمانہ طالب علمی میں کلاس کی حد تک کوٹ پتلون پہنا اس کے علاوہ پوری زندگی شلوار قمیض اور پگ کے سوا کچھ نہ پہنا۔ خودجدی پشتی نواب ہی نہ تھے بلکہ نواب آف کالا باغ کے داماد بھی تھے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی۔ کنیڈا،ساؤتھ افریقہ اور بھارت میں گھڑ سواری کے عالمی مقابلوں میں شرکت کے لئے گئے تو اسی وضع قطع میں گئے۔

آکسفورڈ سے گریجویشن میں گولڈ میڈلسٹ ہوگئے تو کانووکیشن میں اسی وضع قطع کے ساتھ پہنچ گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے ڈریس کوڈ کا اصول پیش کرکے لباس بدلنے کا کہا تو انکار کردیا۔ منیجمنٹ نے کہا

"اگر یہی پہنے رکھنا ہے تو پھر ڈائس پر آکر ملکہ معظمہ سے گولڈ میڈل نہیں لینے دیا جائے گا"

جواب دیا

"تو نہ دیں گولڈ میڈل مگر لباس تو یہی رہے گا"

تقریب کے دوران میڈلز لینے والے طلبہ میں ان کا نام بھی پکارا گیا تو یہ اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور ملکہ کو مخاطب کرکے کہا

"میں یہاں پنڈال میں موجود ہوں، لیکن منیجمنٹ کہتی ہے کہ اپنے قومی لباس میں ڈائس پر مت آنا"

ملکہ ایلزبتھ نے جواب دیا

"اگر یونیورسٹی کا اصول یہی ہے تو پھر میں پنڈال میں آکر آپ کو گولڈ میڈل دے دیتی ہوں"

اور یوں طالب علم عطامحمد خان کو گولڈ میڈل دینے ملکہ اس کی سیٹ پر آئیں۔
جب سے ہم نے اپنی روایات چھوڑ دیں ہم مسلسل تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ ذہنی غلام لوگ پچھلے سال اکیاسی برس کی عمر میں انتقال کر جانے والے نواب عطا محمد خان مرحوم سے ہی کچھ سیکھ لیں۔اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت کرے اور درجات بلند کرے آمین۔

03/09/2025

ایک اردو کی ﺍﺳﺘﺎﻧﯽ ﺟﯽ ﮐﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻨﮕﯿﺘﺮ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺑﯽ ﺧﻂ جو کسی "فن پارے" سے کم نہی...

میرے پیارے تاج الدین،
سلامِ محبت،

تمہارا املا کی غلطیوں سے بھرپور مراسلہ ملا،
جسے تم بدقسمتی سے "محبت نامہ" کہتے ہو۔
یقین کرو، کوئی مسرت نہیں ہوئی۔

یہ خط بھی تمہارے پچھلے خطوط کی طرح بےترتیب اور بےڈھنگا ہی تھا...
اگر خود صحیح نہیں لکھ سکتے تو کسی سے لکھوا لیا کرو۔

خط سے آدھی ملاقات ہوتی ہے اور تم سے یہ آدھی ملاقات بھی اس قدر دردناک ہوتی ہے کہ بس...!

اور ہاں... یہ جو تم نے میری شان میں قصیدہ لکھا ہے،
یہ دراصل قصیدہ نہیں بلکہ ایک فلمی گانا ہے،
اور شاید تمہارے علم میں نہیں کہ فلم میں یہ گانا ہیرو اپنی ماں کے لیے گاتا ہے۔

اور ہاں، سنو...! پان کم کھایا کرو۔
خط میں جگہ جگہ پان کے دھبے صاف نظر آتے ہیں۔
اگر پان نہیں چھوڑ سکتے تو کم از کم خط لکھتے وقت تو ہاتھ دھو کر بیٹھا کرو۔

اور یہ جو تم نے ملاقات کی خواہش کا اظہار انتہائی احمقانہ انداز میں کیا ہے،
یوں لگتا ہے جیسے کوئی یتیم بچہ اپنی ظالم سوتیلی ماں سے ٹافی کی فرمائش کر رہا ہو،
اس یقین کے ساتھ کہ وہ اسے کبھی نہیں نہیں دے گی۔

ایک بات تم سے اور کہنی تھی کہ کم از کم اپنا نام تو صحیح لکھا کرو۔
یہ "تاجو" کیا ہوتا ہے...
ایسا لگتا ہے جیسے کسی قصائی یا دودھ والے کا نام ہو۔

مخفف لکھنا ہی ہے تو صرف "تاج" لکھ دو۔
آئندہ خط احتیاط سے لکھنا، اُس میں کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے۔

آخر میں تم نے جو شعر لکھا ہے،
وہ تو اب رکشہ والوں نے لکھنا بھی چھوڑ دیا ہے۔

"اوہ میرے خدا...!"
مجھے ڈر ہے کہ تم سے عشق کا یہ سلسلہ کہیں میری اردو بھی خراب نہ کر دے۔
بس یہی کہنا تھا۔

فقط،
تمہاری سوزنِ الفت
منقول📚

گدھے کا گوشت کھلانے کی خبر چلانے کے پیچھے کیا ھے..؟؟؟ مصنف لکھتا ہے کہ چند سال پہلے کی بات ھے میں دوبئی میں ہنگری (یورپ)...
02/09/2025

گدھے کا گوشت کھلانے کی خبر چلانے کے پیچھے کیا ھے..؟؟؟ مصنف لکھتا ہے کہ چند سال پہلے کی بات ھے میں دوبئی میں ہنگری (یورپ) کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا ، وہاں میرے ساتھ ہنگری کا ایک انجنئیر میرا کولیگ تھا ، اُس کے ساتھ میری کافی گپ شپ تھی ،
ایک دن ھم لوگ پیکٹ والی لسی پی رھے تھے ، جسے وہاں مقامی زبان میں لبن بولتے ہیں ،
میں نے اسے بتایا کہ یہ لسی ھم گھر میں بناتے ھیں ، وہ بڑا حیران ھوا، بولا کیسے ،
میں نے اسے کہا کہ ھم لوگ دھی سے لسی اور مکھن نکالتے ہیں ، وہ اور بھی حیران ہو گیا ، کہنے لگا یہ کیسے ممکن ھے ، میں نے بولا ھم گائے کا دودھ نکال کر اسکا دھی بناتے ہیں ۔

پھر صبح مشین میں ڈال کر مکھن اور لسی الگ الگ کر لیتے ہیں ، یہ ہاتھ سے بھی بنا سکتے ہیں ،
وہ اتنا حیران ہوا جیسے میں کسی تیسری دنیا کی بات کر رھا ھوں کہنے لگا یہ باتیں میری دادی سنایا کرتی تھیں ۔

کہنے لگا میری بات لکھ لو تم لوگ بھی کچھ سالوں تک آرگینک یعنی قدرتی چیزوں سے محروم ھونے والے ھو ، میں بولا وہ کیسے ،
اس نے بتایا کہ ھنگری میں بھی ایسے ھوا کرتا تھا ، پھر ساری معیشت ی ہودیوں کے ہاتھ میں آ گئی ،

انتظامی معاملات بھی
ی ہودیوں کے ہاتھ میں آ گئے ،

انہوں نے کوالٹی اور صحت کے حوالے سے میڈیا پر اشتہاری مہم چلائی اور جتنی بھی آرگینک (قدرتی) چیزیں تھیں ان کو صحت کے حوالے سے نقصان دہ قرار دے دیا.... جیسے کھلا دودھ ، کھلی روٹی ، گوشت ، ہوٹل ، فروٹ ، وغیرہ وغیرہ ۔

پھر کیا ھوا ؟ برانڈ متعارف ھو گئے ، جو انٹرنیشنل لیول کے میعار کے مطابق تھے ۔
گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیاں مارکیٹ میں آ گئیں ، ان کا گوشت ڈبوں میں اچھی اور خوبصورت پیکنگ کے ساتھ ملنے لگا.

اور جو عام بیچنے والے تھے ان پر اداروں کے چھاپے پڑنے شروع ھو گئے.

میڈیا پر انہیں بدنام کیا جانے لگا ، نتیجہ کیا نکلا ، گوشت کا کام کرنے والے چھوٹے کاروباری لوگوں کو روزگار سے ہاتھ دھونا پڑا اور جو تھوڑے سرمایہ دار تھے ، گوشت سپلائی کرنے والی کمپنیوں نے انکو اپنی فرنچائزز دے دیں ، اب وہ کمپنیوں کا گوشت فروخت کرنے لگے.

عام قصائی گوشت والا جانور لے کر ذبح کر کے گوشت صاف کر کے بیچتا ، بڑی بےایمانی کرتا تو ، گوشت کو پانی لگا لیتا ، اور کمپنیاں کیا کرتیں ، وہ کسی کو نہیں پتہ، پورا جانور مشین میں ڈالتے ، اس کا قیمہ قیمہ کرتے گوبر اور آنتوں سمیت !! پھر اس میں کیمیکل ڈال کر صاف کرتے ، اس کو طویل عرصہ تک محفوظ کرنے کے لیے مزید کیمیکل ڈالتے ، پھر اسکے مختلف سائز کے پیس بنا کر پیک کر کے مارکیٹ میں ڈال دیتے
اور
لوگ برانڈ کے نام پر خریدتے ، باھر رہنے والوں کو گوشت کمپنیوں کا اچھی طرح سے اندازہ ہو گا !!

اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کیلئے مقامی قصائیوں کو بدنام کرنا ضروری تھا ۔

اس کیلئے گدھے کے گوشت کا ڈرامہ رچایا گیا........
یہ ڈرامہ میڈیا نے کسی کے کہنے پر کھیلا ۔۔۔۔ تاکہ لوگ بڑا گوشت نہ کھائیں اور مرغی کی طرف واپس آئیں ۔۔۔۔ کیا اب ملک میں گدھے ختم ھو گئے ہیں ؟
نہیں !!! بلکہ سیلز ٹارگٹ حاصل ھو رھے ہیں ۔۔۔۔
بھینسوں کو شہروں سے کیوں نکالا گیا؟
تاکہ خالص ، تازہ اور سستے دودھ کی جگہ ڈبہ والا دودھ فروخت کیا جا سکے ۔۔۔۔
جب
مطلوبہ ٹاگٹ پورے نہیں ھوئے تو کھلے دودھ کے پیچھے پڑ گئے ۔۔۔۔
اسی طرح مقامی گوالوں کے ساتھ بھی کیا ؛ پہلے تو میڈیا پر مہم چلا کر ان کو مارکیٹ میں بدنام کیا پھر ان کو اپنی فرنچائز دے دیں اور اپنا ھی دودھ بیچنا شروع کر دیا ۔

اب مجھے یہ بتائیں کہ جو دودھ عام اور چھوٹے فارمز سے آتا ھے یعنی مقامی گوالوں کا کھلا دودھ
مقامی گوالا
اس کیلئے کسی قسم کا کیمیکل نا تو جانور کو کھلاتا ھے اور نہ دودھ میں ڈالتا ھے ، زیادہ سے زیادہ کیا کرے گا ، پانی ڈال لے گا زیادہ ڈالے گا تو وہ بھی لوگوں کو پتہ چل جائے گا ،،،

اور جو نیسلے، ملک پیک اور دوسرے ٹیٹرا پیک والے ہیں وہ دودھ کو لمبے عرصہ محفوظ رکھنے کے لیے کیا کیا کیمیکل ڈالتے ہیں اور فارموں میں جانوروں کو ناجانے کیا کچھ کھلاتے ہیں ،،

یہودیوں کا دودھ صحیح ھے یا کسان والا مقامی کھلا دودھ ؟؟

دبئی میں دودھ کی ایکسپائری ڈیٹ جتنی زیادہ ہو گی اتنا زیادہ کیمیکل ھوگا اور اتنی قیمت کم ھو گی ۔

ایک ھی کمپنی کا دودھ اگر ٹیٹرا پیک میں خریدیں گے تو تین درھم فی لیٹر قیمت ھے ،
اسی کمپنی کی بوتل فریش والی خریدیں گے تو چھ درہم لیٹر اور آج کل آرگینک دودھ بھی مارکیٹ میں آ گیا ھے جو چودہ درھم فی لیٹر ھے ۔

مجھے یہ بتائیں ، کہ کھلا دودھ نکال کر چودہ درھم کا بک رہا ھے تو کیا ضرورت ھے ، پیکنگ کر کے تین درھم کا بیچنے کی ،، ؟؟

لوگ اب آرگینک کے پیچھے بھاگتے ہیں اور ہم بدقسمت برانڈ کے پیچھے پڑ گئے ہیں ،

اب پاکستان میں بھی بڑے بڑے ڈیری فارم بن رھے ہیں ، اور ھر دوسرے روز حکومت دودھ والوں پر چھاپے مار رھی ھوتی ھے اور میڈیا پر دکھا رھی ھوتی ھے کہ دودھ میں یہ ملایا، وہ ملایا ،، اسٹرنگ آپریشن کیے جا رھے ھوتے ھیں ،،

او بھائی ، اگر کاروائی کرنی ھے تو میڈیا پر شور مچانے کی کیا ضرورت ھے؟ کیوں لوگوں کا اعتبار اٹھانے کیلئے ذھن تبدیل کر رھے ھیں ۔

اب آپ کے ذھن میں یہ سوال لازمی آئے گا کہ دنیا کی ھر تباھی کو یہودیوں سے کیوں جوڑا جاتا ھے؟؟؟ ؟

تو میرے بھائیو آپ نے صرف یہ کرنا ھے کہ دنیا کے سب بڑے برانڈڈ پیک فوڈ کمپنیوں کے مالک کی لسٹ نکال لیں اور بہت آسانی سے ان کے نام کی پروفائل واٹس ایپ ، انسٹاگرام ، فیس بک پر چیک کر لیں یا پھر ان ناموں کو گوگل پر سرچ کر لیں تو ان کی پروفائل پر آپ کو ان کا مذھب یہودی ھی ملے گا. دنیا کے ذیادہ تر کاروبار کے مالک یہی یہودی ھی ہیں کاروبار کے ساتھ ساتھ یہ لوگ انٹرنیشنل میڈیا کو بھی کنٹرول میں کئے ھوئے ہیں اور جب چاھیں عوام میں پروپیگنڈا پھیلا دیتے ھیں ۔

بہرحال اس تحریر کا مقصد یہ ھے کہ ھم اپنی قدرتی خوراک کو اپنائیں اور شارٹ کٹ سے بنی ھوئی ھر اس خوراک سے خود بھی بچیں اور خاص طور پر اپنی اولاد کو ان سے بچائیں مثلاً پیپسی ، کوک جیسی ڈرنک ، پیک جوسز ، پیک چپس ، مختلف اسنیکس ، برگر ، پیزا کیوں کہ ان میں بھی پیک فروزن چکن اور پیک لوازمات استعمال کئیے جاتے ہیں ۔
یاد رھے کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ممالک جہاں کرونا اموات سب سے زیادہ ھوئی ھیں وہاں کی زیادہ تر آبادی کی خوراک یہی برگر ، پیزا اور پیک فوڈز پر مشتمل ھوتی ھے

لہذا فیصلہ ھم نے خود کرنا ھے ۔
شکریہ
اس قیمتی تحریر کو امت اور انسانیت کی فلاح کیلئے زیادہ سے زیادہ شئیر کریں ۔
جزاک اللہ

01/09/2025

داتا علی ہجویری ، غوث پاک و مزار والے بابے سیلاب سے کیوں نہیں بچاتے ؟

1941ء خانہ کعبہ میں جب مُوسلا دھار بارشوں کی وجہ سے سیلاب آگیا اور مطاف و حجر اسود بھی سیلاب کی زد میں آیا ہوا تھا۔ کیا اللہ پاک خانہ کعبہ کی حفاظت پر قادر نہیں تھا ؟معاذاللہ ۔

خانہ کعبہ میں بت رکھے گئے ،ان کی پوجا کی گئی کیا اللہ پاک اپنے گھر کو بتوں و شرک سے پاک کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ؟معاذاللہ

غزوہ احد میں تمام نبیوں ،فرشتوں ،ولیوں کے سردار،اللہ کے محبوب مبارک کو زخم آیا ،آپ کا دانت مبارک متاثر ہوا کیا اللہ پاک اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بچانے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ؟

طائف کے سفر پر وہاں کے لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر برسائے ،آپ کا خون مبارک نکل آیا ،حالانکہ پتھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ پڑھتے ہیں ،پتھروں کا کلمہ پڑھنا حدیث سے ثابت ہے ۔کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ کی عطا سے خود کو محفوظ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے ؟

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر عین حالت نماز میں قاتلانہ حملہ ہوا جس کے سبب آپ شہید ہوگیے ۔کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اللہ پاک کی عطا سے خود کو بچانے کی طاقت رکھتے تھے یا نہیں ؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ حملہ ہوا اور زہر آلود تلوار سے ہوا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی حفاظت کیوں نہ کر سکے ؟معاذاللہ

میدان کربلا میں جناب عالیشان امام حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اور آپ اپنے رفقاء سمیت شہید ہوئے ،ان کا مقام و مرتبہ تمام اولیاء و کئی صحابہ سے بلند تر ہے ۔کیا یہ خود کو بچانے و اپنے ساتھیوں کو ظلم سے محفوظ رکھنے میں ناکام ہوئے ؟معاذاللہ ۔

بنی اسرائیل نے کئی انبیاء کرام کو شہید کیا جو قرآن سے ثابت ہے۔یہ خود کو کیوں نہیں بچاسکے ؟معاذاللہ

جناب یوسف علیہ السلام کو کنویں میں ڈالا گیا ؟
جناب یوسف علیہ السلام کو جیل میں ڈالا گیا تو ان کی روحانی طاقت کام کیوں نہ آئی ؟معاذاللہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا لیکن یہاں آگ اللہ کے حکم سے صرف ٹھنڈی نہیں ہوئی بلکہ سلامتی والی بھی بن گئی کہ اگر صرف ٹھنڈی ہوتی تو ٹھنڈک جناب ابراہیم علیہ السلام کو نقصان پہنچاتی ۔

اولیاء کے دشمنو!
یہ سب اللہ عزوجل کی تدبیر و تقدیر و حکمتیں ہیں ۔کہیں تو انبیاء کے سردار زخمی ہوئے ،کہیں کسی نبی علیہ السلام کو جیل میں ڈالا گیا
کہیں انبیاء شہید ہوئے ؟کہیں صحابہ خلفائے راشدین شہید ہوئے تو کہیں امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے رفقاء سمیت اپنے رب کی رضا پر راضی رہتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئے ۔
اللہ پاک جب چاہتا ہے تو اپنی مخلوق کی مدد کے لئے اپنی ہی مخلوق میں سے کسی کو مقرر فرما کر طاقت سے نواز کر اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے ،غزوہ بدر میں چند سو کی ہزار سے زائد کے مقابلے میں مدد نازل نازل فرماتا ہے اور جب چاہتا ہے تو آزمائش میں ڈالتا ہے اور بہت کچھ تکالیف ہماری کرتوت کے سبب ہمارے سامنے ظاہر فرماتا ہے ۔

لہذا ان باتوں کا تم جواب دو تو شاید وہی ہمارا جواب ہوگا کہ علی ہجویری داتا صاحب لاہور کو کیوں نہیں بچا سکے ۔

26/08/2025

شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ
غازی علم الدین شہیدؒ کی ملاقات کے لئے دو بار میانوالی جیل تشریف لے گئے ،
ایک بار شہادت سے پہلے اور دوسری بار جب قبر کشائی ہوئی اور شہید کے جسدِ اطہر کو لاہور میانی صاحب منتقل کیا گیا ،

حضرت خواجہ غلام فخر الدین سیالویؒ آنکھوں دیکھا حال بیان فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ غازی صاحب کی کوشش تھی کہ سلاخوں کے پار دست بوسی میں پہل کریں

مگر حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے سبقت فرمائی اور غازی صاحب کو اس عظیم اعزاز پر مبارک بھی دی ،
فرمایا کہ ارادہ میرا بھی یہی تھا مگر یہ سعادتِ عظمیٰ آپ کا مقدر تھی کہ آپ نے گستاخ راجپال کو جہنم رسید کیا ۔۔۔

یہ ملاقات جمعۃ المبارک کے دن ہو رہی تھی ،

دورانِ گفتگو حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے استفسار فرمایا کہ غازی صاحب !
اس کارنامے سے پہلے کے احوال اور بعد کے احوال میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟

غازی صاحب نے جواباً فرمایا کہ حضور میں نے تین فرق محسوس کئے ہیں،

نمبر ایک
یہ کہ مجھے جیل کی کوٹھڑی میں دن کی روشنی میں جاگتی آنکھوں کے ساتھ روزانہ رسولِ کریم رؤف و رحیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت عطا ہوتی ہے

نمبر دو
یہ کہ پہلے میں ایک کم پڑھا لکھا مزدور آدمی تھا مگر اب جیل میں مجھے الحمد سے والناس تک ازبر عطا ہو گیا ہے

نمبر تین
یہ کہ پرسوں اتوار کے دن جو میری پھانسی کا اعلان کیا گیا ہے یہ ناممکن ہے
کیونکہ مجھے میرے آقا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوشخبری عطا فرمائی ہے کہ علم الدین !
ہم خمیس (جمعرات) کو تمہارا استقبال کریں گے ،

یہ کہتے ہوئے غازی صاحب کا چہرہ مزید دمک اٹھا اور ایک شگفتہ سی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔۔۔

اور پھر ایسا ہی ہوا کہ انگریز نے ملک گیر بھرپور احتجاج کے باعث اتوار والی پھانسی کو ملتوی کیا اور جمعرات کو غیر اعلانیہ عملدرآمد کیا گیا اور میانوالی جیل کے احاطے میں امانۃً تدفین ہوئی ۔۔۔

حضرت خواجہ فخر الدین سیالویؒ نے مزید فرمایا کہ جب قبر کشائی کے موقع پر ہم حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ کے ہمراہ دوبارہ زیارت کے لئے پہنچے تو انگریز ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی قبر کشائی ہو رہی تھی
اور ڈاکٹروں نے نہ جانے کیا سوچ کر اپنے چہروں پر ماسک چڑھا رکھے تھے

مگر بہت جلد انہوں نے ماسک اتارنے شروع کر دیئے ۔۔

ایک عجیب سی خوشبو تھی کہ امڈی آ رہی تھی ۔۔۔
مٹی کو ہاتھوں میں لے لے کر سونگھ رہے تھے اور ششدر و حیران تھے کہ یہ نہ گلاب ہے نہ چنبیلی ، نہ مشک ہے نہ عنبر ، یہ نہ جانے کس جہان کی خوشبو ہے ؟

اور پھر شہید کا چہرہ تھا کہ حیاتِ نو حیاتِ جاوداں کا مظہر، تر و تازہ اور منور۔
سبحان اللہ

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی محبت میں اپنا تن من دھن قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یا رب العالمین
بشکریہ:- حق فرید فاؤنڈیشن


Address

Azad Kashmir
Mirpur

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apna Kashmir:

Share