20/07/2026
شاہ رخ خان کی ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی جس میں وہ کہتا ہے، “پہلے پیسے کماؤ، فلسفہ بعد میں جھاڑنا۔” فیس بک پر کئی لوگوں نے اس پر طنز کیا، میمز بنائیں، اور اس جملے کو مذاق کا نشانہ بنایا۔ شاید اس لیے کہ ہمیں سچ برداشت نہیں ہوتا، خاص طور پر وہ سچ جو ہمارے اندر کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دے۔
ہم ایک ایسی سوسائٹی میں رہتے ہیں جہاں فلسفہ جھاڑنا، اونچی باتیں کرنا، اور معاشی مسائل پر لمبے لیکچر دینا فیشن ہے مگر خود پیسے کمانے کی سنجیدہ کوشش کو “لالچ” کہا جاتا ہے۔ جیب میں کچھ نہ ہو، مگر باتیں ایسی جیسے دنیا فتح کر لی ہو۔ ایسے ماحول میں پیسے کی بات کرنا معیوب لگتا ہے، اور محنت سے کمانے پر تو یقین ہی نہیں کرتے۔
مگر سچ یہ ہے، پیسہ ہونا عزت کی پہلی سیڑھی ہے۔ پیسہ نہ ہو تو خواب بھی ادھورے رہ جاتے ہیں، نیتیں بھی مشکوک لگنے لگتی ہیں، اور صلاحیتوں پر بھی شک ہونے لگتا ہے۔ اگر معاشی آزادی نہ ہو، تو فلاسفی صرف بھوک چھپانے کا ہنر بن جاتی ہے۔
شاہ رخ خان نے کوئی غیر معمولی بات نہیں کی اس نے وہی کہا جو ہر سمجھدار شخص جانتا ہے، یعنی کہ پہلے خود کو سنوارو، اپنے پیروں پر کھڑے ہو جاؤ، پھر دنیا کو سبق سکھانا۔
مانا کہ پیسہ سب کچھ نہیں، لیکن جب کچھ نہیں ہوتا، تو سب کچھ پیسہ ہی ہوتا ہے۔
جاوید_تیموری بشکریہ
゚viralシ