Ahmed Hussain Awan official

Directions

Ahmed Hussain Awan official Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ahmed Hussain Awan official, Digital creator, Model Town.

راقم ۔احمدحسین اعوان فرسودہ نظام معاشرت سے قرانی نظام معاشرت تکوَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ - قرآن کا فرام...
11/10/2026

راقم ۔احمدحسین اعوان
فرسودہ نظام معاشرت سے قرانی نظام معاشرت تک

وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ - قرآن کا فراموش شدہ معاشرتی ایجنڈا

یہ آج سے دو ہفتے قبل کی بات ہے، شہرِ قائد کراچی کے علاقے احسن آباد میں ایک المناک واقعہ پیش آیا۔ ڈاکٹر عمر اور ان کا پورا خاندان اپنے گھر میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وہ کچھ عرصے سے سخت معاشی مشکلات کا شکار تھے اور خود ڈاکٹر عمر کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھے۔ پے در پے معاشی حادثات نے ان کا جینا دوبھر کر رکھا تھا۔

اس واقعے کی تحقیقات تو جاری ہیں، مگر اس نے ہمارے معاشرے کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کے قریبی ترین رشتہ داروں، سگے بھائی اور بیٹی کے نانا نے بھی ان سے رابطہ ختم کر رکھا تھا۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ انہیں ڈاکٹر عمر کے حالات کی خبر نہ ہو، مگر اس بے حسی نے ہمارا اصل معاشرتی مزاج واضح کر دیا ہے۔

بالخصوص اس رویے کی مثال اور بالعموم ہمارے معاشرے کی مجموعی صورتحال نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔

معیشت اور معاشرت: چولی دامن کا ساتھ

کسی بھی علاقے میں دو چیزیں بڑی بنیادی ہوتی ہیں، ایک معیشت اور دوسری معاشرت، اور ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ معاشرت، معاشرے کا وہ رویہ ہے جو افرادِ معاشرہ اپناتے ہیں۔

معاشرت بنیادی طور پر پانچ حروف کا مجموعہ ہے:
م سے محبت
ع سے عاطفت
ا سے احساس
ش سے شعور
ر سے رہن سہن
ت سے تعلقات

تعلقات کا اصل ڈھانچہ ہی وہ ہے جس میں احساسات، جذبات، اقدار، محبت اور معاملات جڑے رہتے ہیں۔ مگر آج کے اس فرسودہ معاشرے میں جہاں افراط و تفریط نے اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں، مذہب سے لے کر سیاست اور سماج سے لے کر اخلاقیات تک ہر چیز بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

معاشرہ فرد سے اٹھنے والی وہ عمارت ہے جو تنہا رہ ہی نہیں سکتی، کیونکہ اسی سے معاملات، تعلقات اور رہن سہن ہر آن جڑے رہتے ہیں۔ پھر اسی سے قوموں کے مثبت و منفی کردار اثر انداز ہوتے ہیں اور اسی سے عروج و زوال کا تصور بھی بنتا ہے۔

امتِ مسلمہ جو کہ مثبت کردار اور مثبت معاشرت کی مسلمہ علامت سمجھی جاتی تھی اور موجدِ اخلاقِ حسنہ بھی تھی، اس کے مزاج سے معاشرتِ احسن ختم ہوئی اور مختلف رویوں کی وجہ سے زوال اس کا مقدر بنا۔

*ہم دوبارہ جاہلیت کی طرف؟*

ہماری مذہبی کتب بھری پڑی ہیں کہ ہمارے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی آمد سے پہلے عرب معاشرتی طور پر ڈیفالٹ کر چکا تھا۔ ظلم، ناانصافی، کرپشن اور بد اخلاقی عام تھی، اس لیے پیغامِ ہدایت اترا اور معاشرے میں انقلاب آیا۔

مگر افسوس، آج 1400 سال گزرنے کے بعد پیغامِ حق پہنچنے کے باوجود ہم وہی مزاج اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ انا، نفرت، تعصب اور غیرت کی بے وقت اور لاحاصل لڑائیوں نے ہر چیز کو پاش پاش کر دیا ہے۔ ہم دوبارہ اسی معاشرتی گراوٹ میں مبتلا ہو گئے ہیں۔

جس معاشرے میں میں رہتا ہوں اس کا حال تو یہ ہے کہ چھوٹے اپنے آپ کو جنریشن زی اور ترقی یافتہ ہونے کے زعم میں بڑوں کے ساتھ چلنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اور بڑوں کا حال یہ ہے کہ ان کے مزاج میں بڑوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے، جو کہ اولاد کی طرح ہوتے ہیں، وہ بھی محفوظ نہیں۔ چھوٹوں سے بات چیت، مشورہ کرنا اور ان سے شفقت و پیار کرنا بھی وہ اپنی کسرِ شان سمجھتے ہیں۔

ایسے حالات میں اگر کوئی کہے کہ نظام ڈیفالٹ کر چکا ہے تو اسے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ نظام نہیں، بلکہ یہ معاشرہ ڈیفالٹ اور کلپس کر چکا ہے، چونکہ معاشرے کا نظام دیگر تمام نظاموں کی اصل ہے اور اس کا قصور وار بطورِ فرد ہر شخص ہے۔

قرآن کا 10 نکاتی معاشرتی ایجنڈا

قرآن مجید، جو کہ اللہ رب العزت کی طرف سے ہدایت اور رہنمائی کے لیے بھیجی گئی عظیم کتاب ہے، جس میں ہر خشک و تر کا علم اور رہنمائی ہے۔ جب میں نے اس کتاب کا ایک نئے انداز سے مطالعہ کیا تو بہت سی ایسی چیزیں جو معاشرے کے حوالے سے تھیں، اللہ رب العزت نے بڑے واضح اور بسیط طریقے سے بیان فرمائی ہیں۔

قرآن مجید بنیادی طور پر 10 نکاتی ایجنڈا دیتا ہے جو فرد سے شروع ہوتا ہے اور پھر خاندان، محلے، علاقے اور پھر پورے معاشرے کی معاشرتی مزاج کی ترجمانی کرتا ہے۔ جوں جوں تعلقات بڑھتے ہیں، معاملات میں اضافہ ہوتا ہے اور ذمہ داریاں وسعت اختیار کرتی ہیں تو رہنمائی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔

اللہ فرماتا ہے:
*وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ*
(المائدہ: 2)
ترجمہ: اور نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔

اور پھر سورۃ النساء میں فرد سے معاشرے تک کا سفر بیان کیا:

*اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ... (النساء: 34)
مرد عورتوں کے ذمہ دار اور منتظم ہیں...

*وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا... (النساء: 35)
اور اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان مخالفت کا اندیشہ ہو تو ایک منصف مرد کے خاندان سے اور ایک منصف عورت کے خاندان سے مقرر کر لو...

*وَاعۡبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّبِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡیَتٰمٰی وَالۡمَسٰکِیۡنِ وَالۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَالۡجَارِ الۡجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِیۡلِ... (النساء: 36)
اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ، رشتہ داروں، یتیموں، محتاجوں، قریبی ہمسائے، اجنبی ہمسائے، ہم مجلس، مسافر اور اپنے غلاموں سے بھلائی کرو۔

قرآن *الرِّجَالُ* سے آغاز کرتا ہے کیونکہ فرد معاشرے کا اہم جز ہے۔ اس کی قوامیت واضح کی، پھر اس کا دوسرا فریق جو معاشرہ بنانے میں معاون ہے یعنی زوجہ، اس کی تربیت اور باہمی معاملات کو واضح کیا۔ پھر اختلاف کی صورت میں صلح کی راہ دکھائی، کیونکہ یہ دونوں فریقین معاشرے کی اصل ہیں۔ اگر ان کے تعلقات بہتر نہ ہوں تو معاشرہ درست چل ہی نہیں سکتا۔

پھر اللہ نے فرد سے خاندان اور خاندان سے معاشرے تک کے سفر میں شرک کی نفی کے بعد والدین، قرابت دار، یتیم، مسکین، ہمسائے، مسافر حتیٰ کہ غلام تک سے حسنِ اخلاق اور بھلائی کا حکم دیا۔ یہ سب معاشرے کے اہم افراد ہیں۔

حرفِ آخر

قرآن ہمیں یہی پیغام دیتا ہے۔ قرآن معاشرے کی بہتری کے لیے ہر قدم اٹھاتا ہے، بار بار انسانوں اور مومنین کو مخاطب کرتا ہے، چونکہ معاشرے کی بہتری مقاصدِ نبوت میں سے ایک مقصد ہے۔

میں اس بات کو بار بار اس لیے دہرا رہا ہوں کہ یاد رہے، قوموں کے عروج و زوال کا اسی سے گہرا تعلق ہے۔ اگر آج اس معاشرے میں محبت کی صدا بلند ہو جائے، نفرتوں کا خاتمہ ہو جائے تو اس فرسودہ نظامِ معاشرت سے قرآنی نظامِ معاشرت تک کا سفر آسانی سے طے ہو سکتا ہے۔

10/10/2026

جب آپ حق پر ہونے کے باوجود فوری ردعمل نہیں دیتے تو قدرت اپنا ردعمل خود ظاہر کرتی ہے اور ایسا انتظام کر دیتی ہے کہ مقصد کے راستے میں آنے والی رکاوٹ دور ہوجاتی ہے۔اور مقصد میں مدد کرنے والی راھیں کھل جاتی ہیں۔
حصول سیرت از قلم احمد

07/10/2026
28/09/2026

Allama Iqbal ki financial fikr by
# H.Ahmad Hussain Awan official
ul Quran international
university Lahore

Double the fragrance, double the value! Get 2 Premium Perfumes + 2 Mini Perfumes FREE Tester  for just Rs. 3,999. Limite...
29/08/2026

Double the fragrance, double the value! Get 2 Premium Perfumes + 2 Mini Perfumes FREE Tester for just Rs. 3,999. Limited time offer—order now!
📞 Order Now: 03135369154

 #از قلم احمد #
15/07/2026

#از قلم احمد #

جیسا کہ آج کل مفتی صاحب کے فتوے کے بعد کرپٹو کرنسی پے بحث ہورہی ہے ۔راقم کو آج ڈاکٹر حسین محی الدین قادری صاحب کی کتاب ک...
13/07/2026

جیسا کہ آج کل مفتی صاحب کے فتوے کے بعد کرپٹو کرنسی پے بحث ہورہی ہے ۔راقم کو آج ڈاکٹر حسین محی الدین قادری صاحب کی کتاب کرپٹوکرنسی (علمی و شرعی محاکمہ) مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔یاد رکھیے اس کتاب میں ڈاکٹر حسین محی الدین قادری صاحب نے محاکمہ بیان کیا ہے اور تقابلی جائزہ لیا ہے اور دونوں اطراف کے علماء کی رائے بیان کی ہے۔ اور ماحصل دیا ۔اور یہ بھی تحریر کیا ہے کہ ابھی بحث جاری ہے ۔اور جو علماء جائز قرار دیتے ہیں وہ بھی اس کے نتیجے اور اثر کو دیکھتے ہیں ۔لحاظہ تمام احباب سے گزارش ہے کہ پہلے اس کتاب کا مطالعہ کریں ۔اس لیے بغیر تحقیق کے کسی بھی علمی شخصیت کی تصویر دیکھ کر رد نہ کریں ۔یاد رہے مفتی صاحب کا اسلامک بینکنگ کے حوالے سے بہت کام ہے۔اور ڈاکٹر حسین محی الدین قادری صاحب نے کرپٹوکرنسی کے حوالے سے ان کے نام لے کر ان کی رائے کا ذکر کیا ہے ۔
علم میں ارتقاء فطری عمل ہے ۔

Address

Model Town

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ahmed Hussain Awan official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share