27/07/2026
خدارا مجھے اپنوں سے بچاؤ۔۔۔۔ !!!! 20 سال سے بیرون ملک مقیم لاہور کی شازیہ کی حکومت سے درخواست ۔۔۔۔۔ اپنے سگے بھائی اور دیور جان و مال کے دشمن بن گئے ۔۔۔ مغلپورہ لاہور کی رہائشی شازیہ 20 برس قبل شوہر کے ہمراہ بیرون ملک گئیں ، انکی ایک بیٹی ہوئی ، بعد میں شوہر نے دوسری شادی کر لی اور شازیہ سے نہ صرف علیحدگی اختیار کر لی بلکہ خرچہ دینا بھی بند کردیا اس موقع پر شازیہ نے بچی کو پالنے کے لیے خود نوکری شروع کردی ، 20 ، 20 گھنٹے بھی کام کیا ۔ انہیں آمدن شروع ہوئی تو مستقبل کے لیے سوچتے ہوئے اپنا پیٹ کاٹ کر بچائے ہوئے پیسے لاہور میں اپنے بھائیوں اسلم پرویز رفیق اور بہنوئی عمران اکرم کو بھیجنا شروع کردیے کہ وہ اسکے نام پر کسی سوسائٹی میں پلاٹ خریدیں ، ان لوگوں نے حامی بھر لی مگر انکی نیت میں فتور تھا ، پلاٹ تو انہوں نے لیے مگر ایک بار جب شازیہ لاہور گئیں تو انکے پلاٹوں کی ملکیت کا ثبوت اور رسیدیں انہیں نہیں دی گئی ، ہر ماہ بھیجے ہوئے پیسے بھی ہڑپ کر لیے گئے اور بطور امانت رکھوایا گیا زیور بھی کھا گئے ۔۔ بہنوئی عمران اکرم ریلوے ملازم ہے اس نے یقین دلایا تھا کہ آپ کا ایک ایک روپیہ اور ایک ایک چیز آپ کو لوٹائیں گے لیکن بھائیوں اور بہنوئی نے ملکر شازیہ کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھا ، ایک بھائی اس بات پر دشمن بن گیا ہے کہ شازیہ نے اسکے بیٹے کو اپنے خرچے پر بیرون ملک کیوں نہیں بلوایا ، شازیہ ہر ماہ ان لوگوں کو پیسے بھیجتی تھی ، 15 سال تک بھیجی جانیوالی رقوم کی رسیدیں اور پلاٹ کے معاملات پر ہوئی گفتگو کی وائس شازیہ کے پاس موجود ہے ، شازیہ اپنی ماں کی خوراک اور دوا کا خرچہ بھی باقاعدگی سے بھیجتی رہی ، اب یہ حالات ہیں کہ شازیہ خود بیمار ہے اسکی 8سال کی ایک بیٹی ہے ۔ یہ چاہتی ہے کہ پاکستان واپس آئے اپنے پلاٹوں کا قبضہ اور والد کےمکان میں اپنا حصہ اسے ملے اور وہ اپنا علاج کروائے اور بیٹی کی تعلیم وتربیت پر توجہ دے لیکن بھائیوں اور بہنوئی نے د۔ھمکی دے رکھی ہے کہ اگر تم واپس آئی اور ہم سے پیسوں زیور یا پلاٹوں کا تقاضا کیا تو تمہیں مغلپورہ کے بدمعاش سپا کے ہاتھوں بیٹی سمیت ق۔ت۔ل کروا دیں گے ۔۔۔ شازیہ کے بھائی اسکی دوسری بہنوں اور والدہ سے بات بھی نہیں کرواتے ۔ مجبور شازیہ نے حکومت اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بیمار اور سخت مشکل میں ہے ، مریم نواز اسکی ماں بنے اور اسے اس کا حق دلوایا جائے ۔۔تاکہ وہ باقی زندگی سکون اور تحفظ کے احساس کے ساتھ لاہور میں گزار سکے ۔۔۔
اداروں سے درخواست ہے کہ اس مجبور خاتون کی ہر ممکن مدد کی جائے ۔