25/05/2026
متحدہ قومی موومنٹ (MQM) کے دورِ عروج میں کراچی میں دہشت گردی، لسانی فسادات، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری اپنے عروج پر تھی۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے لے کر 2013 تک MQM کا کراچی کے سیاسی اور انتظامی امور پر مکمل قبضہ رہا، جس کے دوران شہر نے تاریخ کا بدترین تشدد دیکھا۔MQM کے دور میں کراچی میں ہونے والی دہشت گردی اور بدامنی کے اہم سلسلے درج ذیل ہیں:
لسانی اور سیاسی فسادات
• ملٹنٹ ونگ کا قیام: MQM نے شہر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط ملٹنٹ ونگ قائم کیا۔
• لسانی فسادات: مہاجر اور پشتون/سندھی آبادیوں کے درمیان خونی لسانی فسادات کروائے گئے۔
• سیاسی ٹارگٹ کلنگ: سیاسی مخالفین، خصوصاً جماعتِ اسلامی، ANP اور PPP کے کارکنان کو نشانہ بنایا گیا۔
• آپس کی جنگ: MQM (الطاف) اور مخالف دھڑے MQM (حقیقی) کے درمیان خونی تصادم میں سینکڑوں کارکن مارے گئے۔
بھتہ خوری اور پرچی مافیا
• زور زبردستی: شہر کے تاجروں، فیکٹری مالکان اور دکانداروں سے زبردستی بھتہ وصول کیا جاتا تھا۔
• فطرہ اور کھالیں: عیدالاضحیٰ پر قربانی کی کھالیں اور رمضان میں فطرہ جبراً جمع کرنا عام تھا۔
• انکار پر سزا: بھتہ نہ دینے والوں کی دکانیں جلا دی جاتیں یا انہیں قتل کر دیا جاتا تھا۔
نو گو ایریاز اور شٹر ڈاؤن ہڑتالیں
• سیکٹر کمانڈرز کا راج: کراچی کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کیا گیا تھا جہاں MQM کے سیکٹر کمانڈرز کی حکمرانی چلتی تھی۔
• نو گو ایریاز: عزیز آباد (نائن زیرو) سمیت کئی علاقے عام شہریوں اور پولیس کے لیے نو گو ایریاز بن چکے تھے۔
• زبردستی کی ہڑتالیں: الطاف حسین کی ایک ٹیلیفون کال پر پورا کراچی چند منٹوں میں بند ہو جاتا تھا اور نافرمانی پر گاڑیاں جلا دی جاتی تھیں۔
بلدیہ ٹاؤن سانحہ (2012)
• بدترین دہشت گردی: کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں پیش آیا جہاں مبینہ طور پر بھتہ نہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگا دی گئی۔
• جانی نقصان: اس سانحے میں 260 سے زائد بے گناہ مزدور زندہ جل کر جاں بحق ہوئے۔
حکومت اور فوج کے آپریشنز
اس دہشت گردی کو روکنے کے لیے ریاست نے دو بڑے اقدامات کیے:
• آپریشن کلین اپ (1992): پاکستان آرمی اور رینجرز نے MQM کے ملٹنٹ ونگ کے خلاف پہلا بڑا آپریشن شروع کیا۔
• کراچی آپریشن (2013): نواز شریف کے دور میں رینجرز نے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا جس نے MQM کے مبینہ عسکری نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔
2016 میں الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقریر کے بعد MQM لندن اور MQM پاکستان الگ ہو گئیں، جس کے بعد شہر میں خوف اور بدامنی کے اس دور میں نمایاں کمی آئی۔