Samra iftikhar Grahpic designer

Samra iftikhar Grahpic designer social media marketer copy writer voice over artist

16/03/2026

بچپن سے سنتے آئے کہ نجف کی مٹی میں اور ہماری مٹی میں بہت فرق ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے نجف بھی تو اسی زمین کا حصہ ہے۔
اپریل 2014 میں امیر المومنین کی ضریع مطاہر میں‌تھا ۔ صحن امیر میں پردا لگا ہوا تھا اور کام ہو رہا تھا۔ میں نے پردے سے اندر جھانکا تو ایک خدام کرسی پر کام کروا رہا تھا اور مزدور بڑی کرین سے نیچے سے مٹی نکال رہے تھے اس وقت تک کرین 120 فٹ نیچے چلی گئی تھی۔ میں نے جب مٹی دیکھی تو آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں کہ کمال ہے اتنی خوبصورت مٹی۔ میں نے خدام سے گذارش کی کہ میں ایک گلاس مٹی کا بھر لوں تبرک کے طور پر وہ مسکرایا اور کہا نعم ( ہا ں)
میں نے سبیل سے ڈسپازیبل گلاس لیا.
(گلاس لینے کےلئے بھی میں نے اجازت لی کہ مجھے ایک گلاس چاہیے)
اور فل کر کے قبر امیر پر لے گیا تھوڑی سی مٹی نکالی اور ضریع مطاہر سے مس کر کے دوبارہ اندر رکھ دی۔۔۔۔
آج وہ مٹی میرے گھر میں در نجف میں تبدیل ہو رہی ہے۔
اور یہ بات اب میری سمجھ میں آئی ہے کہ جس امیر کی قبر مطاہر کی مٹی ہم جیسی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس امیر المومنین کے بارے میں کہنا کہ ہم جیسے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!

15/03/2026
رضا مندی سے زناء اور ریپ کیس کا فیصلہ۔جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہاسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں رات تقریباً ...
10/03/2026

رضا مندی سے زناء اور ریپ کیس کا فیصلہ۔
جسٹس بابر ستار کا دبنگ فیصلہ

اسلام آباد کے نواحی علاقے میں ایک گھر میں رات تقریباً نو بجے بیس سالہ عینی جاگ رہی تھی۔ اس کے والدین اپنے چھوٹے بیمار بیٹے کو ہسپتال لے کر گئے ہوئے تھے جبکہ اس کے چھوٹے بہن بھائی گھر کے ایک کمرے میں سو رہے تھے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی۔ عینی نے پوچھا تو باہر سے آواز آئی کہ وہ ان کا ہمسایہ شہزاد ہے اور پانی چاہیے۔ عینی نے جیسے ہی دروازہ کھولا، شہزاد نے اسے اسلحے کے زور پر ایک کمرے میں لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی کی۔ جاتے ہوئے اس نے دھمکی دی کہ اگر اس واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ خوف اور بدنامی کے ڈر سے عینی خاموش رہی، مگر کچھ عرصے بعد وہ حاملہ ہو گئی۔

تقریباً آٹھ ماہ بعد جب اس کے والدین کو اس بات کا علم ہوا تو عینی نے انہیں ساری حقیقت بتا دی۔ ابتدا میں خاندان کی عزت بچانے کی امید میں عینی کے والدین نے جرگہ بھیجا تاکہ شہزاد اس سے شادی کر لے، مگر شہزاد نے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس کے بعد مجبور ہو کر عینی کے والدین نے اس کے خلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرا دیا۔ چند ہی دن بعد عینی نے ایک بچی کو جنم دیا۔ پولیس نے عینی کا طبی معائنہ کروایا، شہزاد کو گرفتار کیا اور بچی کی پیدائش کے بعد اس کا اور شہزاد کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کروایا۔ میڈیکل رپورٹ میں جسم پر واضح مزاحمت یا تشدد کے نشانات تو نہیں ملے، مگر ڈی این اے رپورٹ کے مطابق 99.99 فیصد امکان تھا کہ بچی کا باپ شہزاد ہی ہے۔

مقامی سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا جہاں مدعی فریق نے عینی سمیت آٹھ گواہ پیش کیے۔ ملزم نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس نے عینی کے ساتھ کوئی غلط کام نہیں کیا اور یہ بچی کسی اور کی ہے، جبکہ اس پر مقدمہ اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اسے بلیک میل کر کے شادی پر مجبور کیا جا سکے۔ مکمل ٹرائل کے بعد سیشن کورٹ نے شہزاد کو 14 سال قیدِ با مشقت اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے خلاف شہزاد نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی۔

اپیل میں ملزم کے وکیل نے دلائل دیے کہ ایف آئی آر آٹھ ماہ کی تاخیر سے درج ہوئی، واقعے کا کوئی عینی گواہ موجود نہیں، اور میڈیکل رپورٹ میں جسم پر مزاحمت کے نشانات بھی نہیں ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زبردستی ہوئی ہوتی تو لڑکی شور مچاتی جس سے اس کے سوئے ہوئے بہن بھائی جاگ جاتے۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ جرگے کے ارکان یا والدین بطور گواہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بنچ نے اس اپیل کی سماعت کی اور جسٹس بابر ستار نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے نہ صرف پاکستانی قوانین بلکہ بھارت اور مغربی ممالک کی قانونی نظیروں کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اعتراضات کا جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایسے واقعات کی رپورٹ میں تاخیر عموماً معاشرتی شرم، خوف اور بدنامی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ایسے جرائم رپورٹ ہی نہیں ہوتے، اس لیے صرف تاخیر کو بنیاد بنا کر شک نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ جسم پر تشدد یا مزاحمت کے نشانات کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ واقعہ رضامندی سے ہوا، کیونکہ خوف اور صدمے کی حالت میں متاثرہ شخص مزاحمت کرنے کے قابل بھی نہیں رہتا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم نے نچلی عدالت میں رضامندی کا مؤقف اختیار ہی نہیں کیا بلکہ مکمل انکار کیا تھا، جبکہ ڈی این اے رپورٹ اس کے دعوے کے برعکس حقیقت کو ثابت کرتی ہے۔ سب سے اہم بات عدالت نے یہ قرار دی کہ زیادتی کے مقدمات میں اگر متاثرہ خاتون کی گواہی کو طبی یا سائنسی شواہد سے تقویت مل رہی ہو تو اضافی عینی گواہوں کی عدم موجودگی مقدمے کو کمزور نہیں بناتی۔

ان تمام نکات کی بنیاد پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے شہزاد کی اپیل مسترد کر دی۔ پاکستان میں ایسے مقدمات میں سزا کی شرح بہت کم سمجھی جاتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ آئندہ کے لیے ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور اس سے متاثرین کے لیے انصاف کے امکانات مضبوط ہونے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے

منقول
۔
۔

اہم عوامی پیغامدنیا اس وقت غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے۔ جنگ صرف وہاں نہیں ہوتی جہاں گولیاں چلتی ہیں، اس کے اثرات ایندھ...
08/03/2026

اہم عوامی پیغام

دنیا اس وقت غیر یقینی حالات سے گزر رہی ہے۔ جنگ صرف وہاں نہیں ہوتی جہاں گولیاں چلتی ہیں، اس کے اثرات ایندھن، خوراک اور روزمرہ زندگی پر پوری دنیا میں پڑتے ہیں۔

ایندھن کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور آنے والے دنوں میں مہنگائی اور رسد کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ ایسے وقت میں گھبراہٹ نہیں بلکہ دانشمندانہ تیاری ضروری ہے۔

ہر گھر کو چاہیے کہ کم از کم دو سے تین ماہ کا بنیادی راشن اپنے پاس محفوظ رکھے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرے۔ اس وقت اصل ترجیح گھر کی ضروریات، خوراک اور صحت ہونی چاہیے۔

گھر میں رکھنے والی بنیادی اشیاء

اناج:
آٹا، چاول، دلیہ یا اوٹس

دالیں:
دال مسور، دال مونگ، دال چنا، سفید چنے، لوبیا

دیگر ضروریات:
گھی یا کوکنگ آئل، چینی یا گڑ، نمک، چائے، مصالحہ جات، خشک دودھ

اضافی خوراک:
کھجوریں، بسکٹ، مونگ پھلی یا تھوڑا خشک میوہ

ڈبہ بند اشیاء:
ٹماٹر پیسٹ، ڈبہ بند سبزیاں، ڈبہ بند مچھلی یا چکن

ضروری ادویات:
بخار اور درد کی دوا، کھانسی کا شربت، معدے کی دوا، الرجی کی دوا، ORS، اینٹی سیپٹک محلول، پٹیاں اور گاز، تھرمامیٹر، اور اپنی روزانہ استعمال ہونے والی ادویات۔

گھر میں ضروری سامان:
ٹارچ اور اضافی سیل، ریچارج ایبل لائٹس، پاور بینک، موم بتیاں اور ماچس، پانی ذخیرہ کرنے کے ڈبے، چھوٹا گیس سلنڈر یا اسٹوو۔

یہ وقت فضول خرچی، نمود و نمائش اور عیاشی کا نہیں بلکہ سادگی، بچت اور منصوبہ بندی کا ہے۔
عقل مند قومیں مشکل وقت آنے سے پہلے تیاری کرتی ہیں۔





شیخوپورہ!!!افسوسناک واقعہ رونما ۔۔۔۔۔مریدکے میں گھریلو تنازعہ خوفناک انجام تک پہنچ گیا جہاں سسرالیوں کے مبینہ تشدد اور ز...
08/03/2026

شیخوپورہ!!!
افسوسناک واقعہ رونما ۔۔۔۔۔
مریدکے میں گھریلو تنازعہ خوفناک انجام تک پہنچ گیا جہاں سسرالیوں کے مبینہ تشدد اور زہریلی گولیاں کھلائے جانے کے واقعے میں چار بچوں کی ماں جاں بحق ہو گئی ایف آئی آر کے مطابق 31 سالہ شائستہ کو اس کے بچوں سمیت مبینہ طور پر زہر دیا گیا جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ماں اور ایک بیٹی کی حالت بگڑنے پر لاہور ریفر کر دیا گیا تاہم شائستہ دوران علاج دم توڑ گئی جبکہ دو بچوں کی حالت بدستور تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور دو بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے جاں بحق خاتون کے بچوں میں پانچ سالہ ہانیہ، دو سالہ عثمان، سات سالہ حذیفہ اور چار سالہ ابوحریرہ شامل ہیں۔
رپورٹ دستگیر جٹ نمائندہ رائل نیوز شیخوپورہ

آج یہ تصویر دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے یہ شخص جو سر پر دستار سجائے اور انگلیوں سے 'وِکٹری' کا نشان بنا رہا ہے، ایک...
08/03/2026

آج یہ تصویر دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے یہ شخص جو سر پر دستار سجائے اور انگلیوں سے 'وِکٹری' کا نشان بنا رہا ہے، ایک 17 سالہ معصوم بچی جو کہ اس کی بہو تھی اس کو بے رحمی سے جان سے مار دیا گیا

یہ شخص پشاور کے عدالتی نظام کو وکٹری دیکھا رہا ہے کہ پیسے کے سامنے کیا اوقات ۔

آج اس کی رہائی پر جس طرح کا جشن منایا جا رہا ہے، وہ ہمارے نظامِ انصاف اور اخلاقیات پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ایک معصوم لڑکی کو درندگی کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔

اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کے باہر آنے پر ہمارا میڈیا اور معاشرے کا

ایک مخصوص طبقہ جس طرح استقبال کر رہا ہے، وہ ایک خطرناک رجحان ہے۔

وہ کیمرے جو مظلوم کی آواز بننے کے لیے ہونے چاہیے تھے، آج ایک ملزم کے استقبال میں کیوں بچھے ہوئے ہیں؟

کیا سنسنی خیزی اب انسانی جان سے زیادہ قیمتی ہو گئی ہے؟

کیا ہمارا قانون صرف غریب کے لیے ہے؟ جب ایک سنگین جرم کا ملزم فاتحانہ انداز میں باہر آتا ہے، تو مظلوم کے خاندان پر کیا گزرتی ہوگی؟

جو لوگ ایسے افراد کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ ظلم جب ایک گھر میں داخل ہوتا ہے تو پھر کسی کی دہلیز محفوظ نہیں رہتی۔

افسوس! ہماری اخلاقیات صرف ظاہری عبادات تک رہ گئی ہیں، جبکہ عملی طور پر ہم انصاف کے قتل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

جب ہم ایک ایسے شخص کو فخر کرنے کا موقع دیتے ہیں جس پر معصوم کا خون ہو، تو ہم خود اپنے ہاتھوں سے انسانیت کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔

"خاموش رہنا بھی ظلم کی حمایت کے مترادف ہے۔"

پلیز سہیل آفریدی ایکشن لیں کیونکہ آپ تو کہتے ہیں کہ انصاف سب کو ملنا چاہیئے اب آپ کے نیچے ہی پیسہ جیت رہا ہے

08/03/2026

‏جی یہ سچ ہے
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی بیٹی کا اک موبائل میسج ہی ان کی خودکشی کی وجہ بنا تھا
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان، مذہبی اسکالر اور سیاست دان تھے
وہ اپنی منفرد اندازِ گفتگو، مذہبی پروگراموں اور عوامی مقبولیت کی وجہ سے پاکستان میڈیا میں اک نمایاں مقام رکھتے تھے
انہوں نے مختلف ٹی وی چینلز پر مذہبی اور سماجی نوعیت کے پروگراموں کی میزبانی کی اور سیاست میں بھی فعال کردار ادا کیا
اپنی پیشہ ورانہ کامیابیوں کے باوجود عامر لیاقت کی ذاتی زندگی اکثر تنازعات کا شکار رہی
خصوصاً ان کی تیسری اہلیہ دانیہ شاہ کے ساتھ ازدواجی اختلافات نے میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی
11مئی 2022 کو ان کی کچھ نجی قابل اعتراض ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جنھیں دانیہ شاہ نے جاری کیا
اس واقعے نے عامر لیاقت کی نجی زندگی کو شرمندگی شدید تنقید اور عوامی بحث کا موضوع بنا دیا
ان ویڈیوز کے منظر عام پر آنے کے بعد عامر لیاقت شدید ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوگئے
اور آہستہ آہستہ عوامی زندگی سے دور ہوتے گئے
چند ہفتوں بعد، 9 جون 2022 کو ان کی اچانک وفات کی خبر نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا
ان کی موت کے حوالے سے
ناصر ادیب کا کہنا ہے کہ عامر لیاقت کو ان کی بیٹی کے موبائل پر آنے والے اک میسج نے مار دیا جس میں لکھا تھا


" ابا ہم منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے "

یہ جو روتی ہوئی بہن نظر آرہی ہے کل رات ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا کا ایمرجنسی وارڈ میں ان کو تھپڑ مارے گئے ہی...
08/03/2026

یہ جو روتی ہوئی بہن نظر آرہی ہے کل رات ڈاکٹر فیصل مسعود ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا کا ایمرجنسی وارڈ میں ان کو تھپڑ مارے گئے ہیں ۔

مسیحا کہلانے والے ڈاکٹرز اور سکیورٹی گارڈز کا مریضہ اور ان کے
ساتھ آئی خواتین سے انتہائی نازیبا سلوک ، بدتمیزی اور تشدد کیا گیا ۔

ایک لڑکی جو اپنی والدہ کو ایمرجنسی میں لے کر اس کے ساتھ گارڈ نے انتہائی بدتمیزی کی اور اطلاعات کے مطابق خواتین کو تھپڑ تک مارے گئے

کیا سرکاری ہسپتال صرف امیروں کے لیے ہیں؟
کیا ڈیوٹی پر موجود عملہ صرف دھکے دینے کے لیے رکھا گیا ہے؟
متعلقہ افسران اس کھلی بدمعاشی پر خاموش کیوں ہیں؟
امیر تو پرائیویٹ ہسپتال چلا جاتا ہے، لیکن غریب کہاں جائے؟
سرگودھا کے اس ہسپتال میں بدسلوکی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں لیکن اب حد ہو گئی ہے۔

مریم نواز سے گزارش ہے کہ اس واقعہ کا نوٹس لیں اور جو بھی ذمہ داران ہیں ان کو فارغ کریں بہت عوام لائن میں ڈگریاں لے کر کھڑی ہیں

اگر اس خاتون کی غلطی ہے تو وہ بھی سامنے آجائے گی سٹاف کی غلطی ہے وہ بھی جزاک اللہ

آواز اٹھائیں اور الحمد اللہ ڈارلا نامی بچی جس کی کل آواز اٹھائی تھی جس کو صرف 3000 ہزار روپے کی خاطر مرنے کے لیئے چھوڑ دیا

آپ کی وجہ سے اس پہ ایکشن ہوگیا ہے جناح میڈیکل سہیل ٹرسٹ کے خلاف کمیٹی قائم ہوگئی ہے اور عدالت نے نوٹس بھی لے لیا ہے
آپ کی آواز اٹھانے سے بہت کچھ ہوتا ہے پلیز ساتھ دیں


دیور اور بھابھی کے ناجائز تعلق کا درد ناک انجام۔۔!شاطِر بھابھی پہلے اپنے شوہر کو پھر دیور کو قتل کر دیتی ہے۔۔۔شوہر  کی م...
08/03/2026

دیور اور بھابھی کے ناجائز تعلق کا درد ناک انجام۔۔!

شاطِر بھابھی پہلے اپنے شوہر کو پھر دیور کو قتل کر دیتی ہے۔۔۔

شوہر کی میت گھر میں پڑی ہوتی اور یہ عورت غیر مردو کے ساتھ کمرے میں۔۔توبہ توبہ

رشتوں کی پامالی۔اب جیسے ہمارے معاشرے کا حصہ بن گیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لاہور کے علاقہ شاد باغ میں ،دیور اور بھابھی کے رشتے کو پامال کرنے کا اپنی نویت کا منفرد کیس سامنے آیا۔۔۔۔

لاہور شاد باغ میں، نادیہ نامی عورت۔جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ عورت اچھے کردار کی مالک نہیں تھی۔۔

نادیہ نامی عورت پہلے اپنے شوہر کو زہر دے کر قتل کرتی ہے۔۔۔پھر اپنے ہی چھوٹے دیور سے ناجائز تعلق بنا لیتی ہے۔۔۔

نادیہ اور اس کا دیور جس کا نام شکیل ہے ۔یہ 10 سال تک ناجائز تعلق میں رہتے ہیں۔۔۔پھر اچانک نادیہ اپنے دیور شکیل کو بے دردی سے قتل کر دیتی ہے۔۔۔

جب ملزمہ نادیہ کو گرفتار کیا جاتا ہے تو یہ احتراف جرم بھی کر لیتی ہے۔۔ اور بتاتی ہے کہ میں نے شکیل کو سر میں سریے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا ۔۔۔

احتراف جرم کے بعد بھی نادیہ صرف دو مہینے بعد رہا ہو جاتی ہے۔۔۔۔

یہ ساری کہانی کیا ہے۔شکیل اور نادیہ کا نجائز تعلق کیسے بنا۔۔
اس پر نادیہ کی نند کا تفصیلی انٹرویو۔۔بہت جلد آپ کی سکرین پر ہو گا۔۔۔

پیج کو فالو ✅کر لیں شکریہ

ایران نے پورے خطے میں میزائل برسائے بس پاکستان کو معاف کر دیا... لیکن حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایران نے بھلے میزائل نہیں بر...
07/03/2026

ایران نے پورے خطے میں میزائل برسائے بس پاکستان کو معاف کر دیا...
لیکن حکومت نے فیصلہ کیا کہ ایران نے بھلے میزائل نہیں برسائے
لیکن ہم نے اپنی قوم پر آج رات خود پیڑول کا میزائل مار دیا ہے ۔

رات کے اڑھائی بج رہے ہیں اور مجھے نیند نہیں آ رہی۔یہ ایک ا یرانی بچے کی تصویر ہے جو اپنے اسکول  پر بمباری میں شھید ہو گی...
06/03/2026

رات کے اڑھائی بج رہے ہیں اور مجھے نیند نہیں آ رہی۔
یہ ایک ا یرانی بچے کی تصویر ہے جو اپنے اسکول پر بمباری میں شھید ہو گیا۔
اس کی ماں نے اسے کس چاؤ سے نہلا، دُھلا کر تیار کیا ہو گا، بالوں میں کنگھی کی ہو گی، بدن پر پاؤڈر خوش بو چھڑکی ہو گی، اس کا اسکول بیگ تیار کیا ہوگا، کارٹون والی پانی کی بوتل دی ہو گی کہ اُس کے معصوم لختِ جگر کو پیاس لگے تو اپنے مُنے سے منھ سے دو گھونٹ پانی پی لے۔
اس بچے کو ابھی پڑھنا تھا، بڑا ہونا تھا۔
ماں نے اپنے لاڈلے کی یہ تصویر تب لی جب وہ اسکول جا رہا تھا۔
یہ معصوم فرشتہ اسکول سے واپس نہ آیا۔
میرا چھوٹا بیٹا بھی اس جیسا ہے۔ گولو مولو۔
مجھے تو اس وقت تک نیند نہیں آ رہی، اس کی ماں کو تو شائد عُمر بھر نیند نہ آئے۔
آدمی نے آدمی کو کتنا رُلایا ہے۔
اب وہ زمانہ آ گیا ہے جب مارنے والے کو معلوم نہیں کہ اس نے کیوں مارا اور مرنے والے کو علم نہیں کہ اسے کیوں مار دیا گیا۔
ہمارے اپنے گھروں کے بچے اس معصوم سے کتنے مِلتے جُلتے ہیں۔ وہ ایرانی ہیں، نہ پاکستانی اور نہ ہی عرب- پس اپنی ماؤں کے لاڈلے ہیں۔
ان میں سے کتنے ہی بچے اپنے گھروں کو نہ لوٹے۔
اللہ اللہ، اب کیا ہی کیا جا سکتا ہے۔ دل پر قابو ہے، نہ ہی آنسوؤں پر۔
بے بسی سی بے بسی ہے!!


Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Samra iftikhar Grahpic designer posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share