04/09/2024
بڑی مہربانی
"اس بچے کا نام عمران صاحب ہے اور میری خواہش ہے چاہت ہے کہ میں اس بچے کے لیے خصوصی وقت نکالوں اس کے ساتھ بہت ساری باتیں کروں اس سے بہت سارے سوال پوچھوں اس کے خیالات جانوں میں جاننا چاہتا ہوں یہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا سوچتا ہے کیا خواب ہیں اس کی زندگی کے میں چاہتا ہوں میں اس کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنواؤں اور اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاؤں ایسا سب کچھ کرنا اور ان تمام یادوں کو سمیٹنا میرے لیے میری زندگی کی خوبصورت یادوں میں سے ایک ہوگا اور بہت جلد میں اپنی اس چاہت کو پورا کر لوں گا انشاءاللہ یقینا اپ کے ذہن میں یہ سوال ایا ہوگا کہ میرے دل میں یہ چاہت اس عمران صاحب کے لیے کیوں پیدا ہوئی اس سب کے پیچھے دو الفاظ ہیں "بڑی مہربانی " میں اپنی بات کی طرف انے سے پہلے عمران صاحب کے بارے میں مزید وضاحت سے پہلے میں ایک چیز یہاں کہنا چاہوں گا کہ انسان ہمیشہ طلبگار ہوتا ہے کہ اس کی محنت کوشش کاوش بے شک وہ چھوٹی سی بھی ہو اسے تسلیم کیا جائے اسے سراہا جائے اور یہ وہ جادو ہے جس کو اس کی اہمیت کا پتہ چل جائے وہ اس کے جادو سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے بات کچھ یوں ہے کہ میں ملتان کی طرف سفر کر رہا تھا کہ راستے میں ایک عمران صاحب جس کی تصویر اپ نے دیکھ لی نے مجھے اشارہ کیا ساتھ جانے کے لیے میں سمجھ گیا میں نے موٹرسائیکل روکی عمران کو ساتھ بٹھایا اور اسے پوچھا کہ اپ نے کہاں جانا ہے اس نے اپنی منزل مجھے بتائی سمجھ لیں الف اس کی منزل کا نام لیکن وہ جس دکان پہ کام کرتا ہے اس کا مقام ب تھا تو میں نے اس سے کہا کہ اپ کی منزل تو اگے ہے اپ نے اس جگہ پر جسے میں نے فرضی طور پر الف کا نام دیا کیوں اترنا ہے تو وہ کہنے لگا کہ میں ایک ہیئر ڈریسر کے پاس کام کرتا ہوں اور یہاں میرے استاد کا گھر ہے میں نے اس سے دکان کی چابی لے کر جانا ہے یعنی الف مقام سے چابی لے کر ب مقام پر جانا ہے تو میں نے اس سے کہا کہ ایسا کریں کہ میں باہر رک جاؤں گا اپ چابی لے کر ا جانا اور میں اپ کو اپ کی منزل پر چھوڑ دوں گا تو کہنے لگا ٹھیک ہے میں نے وہاں جا کے موٹر سائیکل روکی اگر بہت زیادہ بھی انتظار ہو تو شاید دو منٹ بھی نہیں ہوں گے وہ چابی لے کر ایا ہم روانہ ہوئے اور تھوڑا اگے جو شاید ایک کلومیٹر تھا وہاں پہنچ کر اس نے مجھے کہا کہ مجھے اتار دیں میں نے جب اسے اتارا یہاں تک تو سب کچھ بہت معمول کے مطابق تھا لیکن اترنے کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور پھر مسکرایا اس کی انکھیں بھی مسکرائیں اس کا مکمل چہرہ بھی حقیقی مسکراہٹ اس کا چہرہ نہیں اس کا دل مسکرایا تھا اور مجھے کہا "بڑی مہربانی" اس کے یہ الفاظ سن کر میں نے موٹر سائیکل جو کہ اس وقت تک سٹارٹ تھا بند کر دیا اس قدر خوبصورتی کے ساتھ مسکراتے چہرے کے ساتھ شکریہ کیا اس کے ان الفاظ کی مجھے بے حد خوشی ہوئی اس سے پوچھا سکول گئے ہو کوئی دو یا تین کلاس پڑھی ہیں تو اس کے جواب نے مجھے حیران کر دیا کہنے لگا کبھی سکول گیا ہی نہیں جی ہاں عمران کبھی سکول نہیں گیا لیکن یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتا ہے جو شاید سکولوں کالجوں اور حتی کہ کچھ یونیورسٹی کے پڑھنے والے لوگ بھی شاید نہ جانتے ہوں کہ اگر کسی سے کچھ مدد لی جائے تو پھر اسے "بڑی مہربانی" بھی کہا جاتا ہے لیکن عمران صاحب یہ بات بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں بے شک وہ زندگی میں کبھی ایک دن بھی سکول نہیں گئے ان کے شکریہ ادا کرنے کا انداز "بڑی مہربانی" میرے دل میں گھر کر گیا "
فیصل جاوید