Muhammad Akmal

Muhammad Akmal Business Promotions,Market Review,Talent Base Interview, Trending Stories.

کمینٹ میں اپنی رائے بتائیں
27/06/2026

کمینٹ میں اپنی رائے بتائیں

🖤 لاہور کے بابا عمران — مولا حسینؑ کی محبت کا زندہ ثبوت 🖤کچھ لوگ محبت کا اظہار الفاظ سے کرتے ہیں۔کچھ لوگ محبت کا اظہار ا...
26/06/2026

🖤 لاہور کے بابا عمران — مولا حسینؑ کی محبت کا زندہ ثبوت 🖤

کچھ لوگ محبت کا اظہار الفاظ سے کرتے ہیں۔
کچھ لوگ محبت کا اظہار اعمال سے کرتے ہیں۔
اور کچھ لوگ — جیسے لاہور کے بابا عمران — محبت کا اظہار اپنی پوری زندگی سے کرتے ہیں۔

دس دن — ایک عہد — ایک جذبہ

محرم الحرام کی پہلی تاریخ سے لے کر دسویں تاریخ — یوم عاشور — تک، بابا عمران اپنا رکشہ مفت چلاتے ہیں۔

نہ کوئی کرایہ۔
نہ کوئی شرط۔
نہ کوئی توقع۔

بس ایک نیت — مولا حسین علیہ السلام کی رضا۔

جو بھی رکشے میں بیٹھنا چاہے، بیٹھ جائے۔ جہاں جانا ہو، چلے جائے۔ بابا عمران کے رکشے کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے — امیر ہو یا غریب، جوان ہو یا بوڑھا۔

یہ صرف رکشہ نہیں — یہ عشق کی سواری ہے

آج کے دور میں جہاں انسان ایک گلاس پانی بھی حساب لگا کر دیتا ہے، وہاں بابا عمران پورے دس دن اپنا وقت، اپنی محنت، اپنا رکشہ — سب کچھ مولا حسینؑ کے نام پر لٹا دیتے ہیں۔

حدیث ہے کہ مولا حسینؑ کے راستے میں پانی کا ایک گلاس پلانا بھی عظیم ثواب ہے۔
بابا عمران نے سوچا — تو پھر پورا رکشہ کیوں نہ پیش کر دوں؟

یہی تو ہے کربلا کا سبق — خود کو مٹا دو، دوسروں کو سنوار دو۔

لاہور کی گلیوں میں کربلا کی خوشبو

جب بابا عمران کا رکشہ لاہور کی گلیوں سے گزرتا ہے تو لوگ رک کر دیکھتے ہیں۔ کوئی حیران ہوتا ہے، کوئی آنکھیں نم کر لیتا ہے، کوئی دل میں سوچتا ہے — کاش میں بھی ایسا کر سکتا۔

یہ بابا کسی بڑے گھر سے نہیں آتے۔
یہ کوئی امیر آدمی نہیں ہیں۔
یہ ایک عام رکشہ چلانے والے ہیں — لیکن ان کا دل لاکھوں امیروں سے بڑا ہے۔

آج کے دور کا اصل ہیرو

ہم ہیروز ڈھونڈتے ہیں فلموں میں، ٹی وی پر، بڑے بڑے ناموں میں۔
لیکن اصل ہیرو تو لاہور کی گلیوں میں رکشہ چلا رہا ہے۔

بابا عمران — آپ کو سلام۔
آپ نے ثابت کر دیا کہ مولا حسینؑ کی محبت کے لیے بڑا گھر نہیں، بڑا دل چاہیے۔*

لبیک یا حسینؑ ❤️🖤

اس پوسٹ کو شیئر کریں — تاکہ بابا عمران کا یہ جذبہ پوری دنیا تک پہنچے۔

پاکستان کا خاموش ہتھیار — جس نے بھارت کے رافیل کو مٹی چٹا دی🇵🇰🇵🇰🇵🇰کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب بھی کوئی بڑا غیر ملکی سرب...
25/06/2026

پاکستان کا خاموش ہتھیار — جس نے بھارت کے رافیل کو مٹی چٹا دی
🇵🇰🇵🇰🇵🇰
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جب بھی کوئی بڑا غیر ملکی سربراہ پاکستان آتا ہے — آسمان میں اچانک جے ایف 17 تھنڈر کیوں نمودار ہو جاتا ہے؟

یہ محض رسمی استقبال نہیں — یہ پاکستان کی سب سے ذہین اور خاموش مارکیٹنگ اسٹریٹجی ہے۔

پاکستان نے ائیر شوز اور بروشروں کی جگہ ایک نیا فارمولا اپنایا ہے — غیر ملکی مہمان کو پہلے گاہک بناؤ، پھر خریدار۔

➤ 2019 میں محمد بن سلمان پاکستانی حدود میں داخل ہوئے تو جے ایف 17 نے ہوا میں سلامی دی
➤ اماراتی صدر کے استقبال میں جے ایف 17 حفاظتی حصار کا حصہ بنا
➤ آذربائیجان اور انڈونیشیا کے صدور کو جے ایف 17 بلاک تھری نے سلامی دی — اور دونوں ممالک نے بعد میں ڈیل کی
➤ حال ہی میں ایرانی صدر پزشکیان کے استقبال میں دو ایف 16، دو جے ایف 17 اور دو میراج شامل تھے

لیکن اس طیارے نے صرف مہمانوں کو متاثر نہیں کیا — اس نے میدانِ جنگ میں بھارت کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔

مئی 2025 — آپریشن بنیان المرصوص — بھارت نے اربوں ڈالر کے فرانسیسی رافیل اور روسی سخوئی لے کر پاکستان پر چڑھائی کی — یہ سوچ کر کہ پاکستان کیا کرے گا۔

لیکن جب جے ایف 17 تھنڈر بلاک تھری نے جواب دیا — تو بھارت کے وہ مہنگے ترین طیارے جو کبھی اپنی ناقابلِ شکست ہونے کا دعویٰ کرتے تھے — زمین پر آ گئے۔

رافیل گرا — سخوئی گرا — اور ساری دنیا نے دیکھا کہ ایک "سستا" طیارہ کس طرح ارب پتی دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

یہی وہ لمحہ تھا جب جے ایف 17 صرف پاکستان کا فخر نہیں رہا — یہ پوری دنیا کی دفاعی صنعت کا سب سے بڑا سوالیہ نشان بن گیا۔

اور نتیجہ سامنے ہے — آج جے ایف 17 بلاک تھری 4.5 جنریشن کا سب سے کم قیمت اور سب سے مؤثر جنگ آزمودہ لڑاکا طیارہ بن چکا ہے۔ جس ملک کا دفاعی بجٹ محدود ہو لیکن معیار پر سمجھوتہ منظور نہ ہو — اس کی پہلی اور آخری پسند یہی ہے۔

اگلا خریدار کون؟ شاید ایران — کیونکہ جے ایف 17 کا جلوہ ایک بار دیکھ لو، نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہتا۔

آپ کے خیال میں اگلی ڈیل کس ملک کے ساتھ ہوگی؟ کمنٹ میں بتائیں 👇

🔥 اسرائیل پاکستان سے ڈرتا ہے — اور یہ ثابت ہو گیا!جب پوری دنیا تماشا دیکھ رہی تھی، پاکستان میدان میں اترا۔ امریکہ اور ای...
25/06/2026

🔥 اسرائیل پاکستان سے ڈرتا ہے — اور یہ ثابت ہو گیا!
جب پوری دنیا تماشا دیکھ رہی تھی، پاکستان میدان میں اترا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان سو دن سے زیادہ جنگ چلتی رہی، لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، تیل کی قیمتیں آسمان چھونے لگیں — اور پھر پاکستان نے وہ کر دکھایا جو بڑی بڑی طاقتیں نہ کر سکیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچے۔ قطر کے ساتھ مل کر پاکستان نے امریکہ اور ایران کو ایک میز پر بٹھایا۔ اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی مذاکرات ہوئیں۔ آخرکار ساٹھ دن کا روڈ میپ طے پایا — اور دنیا نے پاکستان کو سلام کیا۔
لیکن اسرائیل سے یہ ہضم نہ ہوا۔
اسرائیل نے بار بار لبنان میں حملے جاری رکھے — صرف اس لیے کہ یہ مذاکرات ناکام ہوں۔ جب پاکستان کے وزیر دفاع نے اسرائیل کو "انسانیت کے لیے لعنت" کہا تو اسرائیل تلملا اٹھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے فوری بیان جاری کیا کہ یہ "ناقابلِ برداشت" ہے۔
ناقابلِ برداشت؟ وہ قوم جو بچوں پر بم گراتی ہے، اسے سچ ناقابلِ برداشت لگتا ہے؟
پاکستان نے معذرت نہیں مانگی۔ جھکنے سے انکار کیا۔ وزیر دفاع کا بیان ضرور ہٹایا گیا — لیکن پاکستان کا موقف نہیں بدلا۔
اور پاکستان کا پیغام صاف تھا:
ہم امن کے لیے آئے ہیں — لیکن دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ نہ اسرائیل کے، نہ کسی اور کے۔
یہ وہی اسرائیل ہے جو اقوام متحدہ کی درجنوں قراردادیں روند چکا ہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو سیز فائر کا اعلان کرتا ہے اور اگلے لمحے بمباری شروع کر دیتا ہے۔ یہ وہی اسرائیل ہے جو امریکہ کی ڈھال کے پیچھے چھپ کر دنیا کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔
لیکن آج پوری دنیا جانتی ہے — جب امریکہ اور ایران امن معاہدے پر دستخط کر رہے تھے، پاکستان کا پرچم سوئٹزرلینڈ کی سرزمین پر لہرا رہا تھا۔
اسرائیل روکنا چاہتا تھا — پاکستان نے رکنے سے انکار کر دیا۔
یہی ہے اصل پاکستان — نہ جھکنے والا، نہ بکنے والا!

15/05/2026

14/05/2026

ماہانہ لاکھوں کمائیں لیکن حقیقت جان کر

Address

Multan

Telephone

+923401734210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhammad Akmal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share