25/05/2026
ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں نیشنل کوآرڈینیٹڈ ورائٹل ٹرائلز (NCVT) کا پانچواں اجلاس چیئرمین نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) پروفیسر ڈاکٹر آصف علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی زرعی اداروں، تحقیقی مراکز، محکمہ پیسٹ وارننگ، محکمہ توسیع زراعت، بریڈر فورمز، پاکستان سیڈ ایسوسی ایشن، پاکستان ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن (PHHSA) اور نجی شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (FSCRD) نے ملک بھر میں قائم NCVT کی آٹھ آزمائشی سائٹس کی گزشتہ ایک ماہ کی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ شرکاء کو مختلف مقامات پر فصل کی موجودہ صورتحال، پودوں کی بڑھوتری، انتظامی اقدامات اور ٹرائلز کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے ہدایت کی کہ تمام آزمائشی مقامات پر سائنسی معیار، شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ نئی کپاس کی اقسام اور جدید لائنز کی کارکردگی کا درست اور قابل اعتماد جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اور نجی شعبے کی جانب سے پیش کردہ اقسام کی جانچ بین الاقوامی معیارات کے مطابق مکمل کی جائے۔اجلاس میں فائبر کوالٹی، بایوکیمیکل تجزیات، ڈیٹا ویلیڈیشن اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کپاس کی زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی حامل اقسام کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔
چیئرمین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کپاس کے شعبے کی ترقی، نئی اقسام کی مؤثر جانچ اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔آخر میں قائم کپاس کے نمائشی پلاٹس کا ایک اعلی سطحی وفد نے دورہ کیا۔وفد میں سپیشل سیکرٹری زراعت سرفراز حسین مگسی،ڈاکٹر قمر شکیل ممبر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ و پالیسی ،ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن،محکمہ پیسٹ وارننگ، کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور نجی شعبے کے نمائندگان شامل تھے۔اس دورے کے دوران وفد نے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کی جانب سے پیش کی گئی جدید کپاس کی لائنز اور اقسام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ماہرین نے مختلف جنیاتی مواد، فصل کی بڑھوتری، صحت، پھل برداری اور مجموعی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔وفد کو یونیورسٹی میں جاری تحقیقی سرگرمیوں اور کپاس کے شعبے کی ترقی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔وفد نے زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے قائم کیے گئے نمائشی اور تحقیق کی پلاٹس کو شرارتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم سرکاری اور نجی اداروں کی جدید اقسام اور لائنز کی غیر جانبدارانہ جانچ اور موازنہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے یونیورسٹی کی اس کاوش کو قابل تحسین قرار دیا کہ وہ کپاس کی تحقیق نئی اقسام کی جانچ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے مشترکہ اقدامات، تحقیق، توسیع زراعت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے اور ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،ڈاکٹر فرقان احمد،شہزاد صابر،ڈاکٹر صغیر احمد سمیت دیگر سٹیک ہولڈر بھی موجود تھے۔