PRP Mnsuam

PRP Mnsuam Directorate of Public Relations & Publications, Mnsuam.

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں نیشنل کوآرڈینیٹڈ ورائٹل ٹرائلز (NCVT) کا پانچواں اجلاس چیئرمین نیشنل سیڈ ڈیولپمن...
25/05/2026

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں نیشنل کوآرڈینیٹڈ ورائٹل ٹرائلز (NCVT) کا پانچواں اجلاس چیئرمین نیشنل سیڈ ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) پروفیسر ڈاکٹر آصف علی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی و صوبائی زرعی اداروں، تحقیقی مراکز، محکمہ پیسٹ وارننگ، محکمہ توسیع زراعت، بریڈر فورمز، پاکستان سیڈ ایسوسی ایشن، پاکستان ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن (PHHSA) اور نجی شعبے کے نمائندگان نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ڈائریکٹر فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (FSCRD) نے ملک بھر میں قائم NCVT کی آٹھ آزمائشی سائٹس کی گزشتہ ایک ماہ کی پیش رفت پر مبنی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ شرکاء کو مختلف مقامات پر فصل کی موجودہ صورتحال، پودوں کی بڑھوتری، انتظامی اقدامات اور ٹرائلز کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے ہدایت کی کہ تمام آزمائشی مقامات پر سائنسی معیار، شفافیت اور یکسانیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ نئی کپاس کی اقسام اور جدید لائنز کی کارکردگی کا درست اور قابل اعتماد جائزہ لیا جا سکے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ سرکاری اور نجی شعبے کی جانب سے پیش کردہ اقسام کی جانچ بین الاقوامی معیارات کے مطابق مکمل کی جائے۔اجلاس میں فائبر کوالٹی، بایوکیمیکل تجزیات، ڈیٹا ویلیڈیشن اور آئندہ کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کپاس کی زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کی حامل اقسام کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر کام جاری رکھیں گے۔
چیئرمین نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کپاس کے شعبے کی ترقی، نئی اقسام کی مؤثر جانچ اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔آخر میں قائم کپاس کے نمائشی پلاٹس کا ایک اعلی سطحی وفد نے دورہ کیا۔وفد میں سپیشل سیکرٹری زراعت سرفراز حسین مگسی،ڈاکٹر قمر شکیل ممبر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ و پالیسی ،ڈائریکٹر ایگریکلچر ایکسٹینشن،محکمہ پیسٹ وارننگ، کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور نجی شعبے کے نمائندگان شامل تھے۔اس دورے کے دوران وفد نے سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کی جانب سے پیش کی گئی جدید کپاس کی لائنز اور اقسام کا تفصیلی جائزہ لیا۔ماہرین نے مختلف جنیاتی مواد، فصل کی بڑھوتری، صحت، پھل برداری اور مجموعی کارکردگی کا مشاہدہ کیا۔وفد کو یونیورسٹی میں جاری تحقیقی سرگرمیوں اور کپاس کے شعبے کی ترقی کے لیے کی جانے والی کاوشوں کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔وفد نے زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے قائم کیے گئے نمائشی اور تحقیق کی پلاٹس کو شرارتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم سرکاری اور نجی اداروں کی جدید اقسام اور لائنز کی غیر جانبدارانہ جانچ اور موازنہ کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے یونیورسٹی کی اس کاوش کو قابل تحسین قرار دیا کہ وہ کپاس کی تحقیق نئی اقسام کی جانچ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ایسے مشترکہ اقدامات، تحقیق، توسیع زراعت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے اور ملک میں کپاس کی پیداوار بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے ۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ،ڈاکٹر فرقان احمد،شہزاد صابر،ڈاکٹر صغیر احمد سمیت دیگر سٹیک ہولڈر بھی موجود تھے۔

23/05/2026
محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن 2026 کی مناسبت سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس آغاز ہو...
21/05/2026

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں حیاتیاتی تنوع کے عالمی دن 2026 کی مناسبت سے دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس آغاز ہو گیا۔ کانفرنس کا انعقاد محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان، پنجاب زرعی تحقیقی بورڈ، پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن اور یونیسکو چیئر آن لو کاربن اینڈ سسٹین ایبل ایگریکلچر اِن بایوسفئیر ریزروز کے اشتراک و تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ کانفرنس میں پاکستان سمیت 15 ممالک کے نامور سائنس دان، محققین، اساتذہ، طلبہ، پالیسی ساز اداروں کے نمائندے اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔ اس کانفرنس کے لیے 100 سے زائد تحقیقی خلاصہ جات موصول ہوئے، جن میں حیاتیاتی تنوع، موسمیاتی تبدیلی، جنگلی حیات کے تحفظ، پانی کے وسائل، مقامی علم، اور کم کاربن زراعت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔افتتاحی تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ حیاتیاتی تنوع صرف پودوں، جانوروں یا جنگلات کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری خوراک، زراعت، مٹی، پانی، جنگلی حیات، دیہی معیشت اور انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب سمیت پاکستان کے خشک اور نیم خشک علاقے پانی کی کمی، گرمی میں اضافہ، خشک سالی، زمین کی کم ہوتی ہوئی زرخیزی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے اب تحقیق، مقامی تجربات، ادارہ جاتی تعاون اور عملی پالیسیوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔مزید کہا کہ مستقبل کی زراعت صرف زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسی زراعت کی ضرورت ہے جو ماحول دوست ہو، پانی اور زمین کا بہتر استعمال کرے، کاربن کے اخراج کو کم کرے اور حیاتیاتی تنوع کو محفوظ بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مٹی، پانی، پودوں، حشرات، جنگلی حیات، جرگ منتقل کرنے والے جانداروں اور مقامی آبادیوں کے تعلق کو سمجھ کر منصوبہ بندی کی جائے تو خشک علاقوں کو زیادہ مضبوط، پیداواری اور موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان تحقیق، جدت، تربیت اور مختلف اداروں کے اشتراک سے خطے میں پائیدار زراعت، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔افتتاحی اجلاس میں جرمنی، چین، برطانیہ اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین نے اہم خطابات کیے۔ یونیورسٹی آف کیسل جرمنی کے پروفیسر ڈاکٹر اینڈریاس بروکرٹ نے پاکستان کے مقامی علم اور نباتاتی تنوع کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ژی جیانگ یونیورسٹی چین کے پروفیسر ڈاکٹر ژاؤ وینوو نے موسمیاتی تبدیلی، گرمی، خشک سالی اور پودوں و حشرات کے باہمی تعلق پر گفتگو کی۔ کارڈف یونیورسٹی ویلز، برطانیہ کے ڈاکٹر پابلو اوروزکو تر وینگل نے ایشیائی پرائمیٹ جانوروں کے تحفظ میں جینیاتی علوم کے استعمال پر اظہارِ خیال کیا۔ پاکستان میں یونیسکو کے نمائندہ مسٹر فواد پاشائیف نے اختتامی تبصرہ پیش کیا۔کانفرنس کے پہلے روز مختلف علمی نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں پاکستان میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، جنگلی حیات، پرندوں، ماحولیاتی نظام، موسمیاتی تبدیلی اور خشک علاقوں کی مضبوطی پر تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ مقررین نے جنگلات کے تحفظ، چولستان کے قدرتی وسائل، شہری پارکوں کی اہمیت، مٹی کے مفید جرثوموں، آلودگی، پرندوں کی شناخت، جنگلی حیات کے تحفظ، مویشیوں کے نظام، قدرتی حل، حیاتی توانائی اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زراعت جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔
کانفرنس کے دوسرے روز کم کاربن اور موسمیاتی موافق زراعت، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں خواتین اور مقامی آبادیوں کی شمولیت، مقامی علم، پائیدار پانی کے انتظام اور دیہی روزگار کے موضوعات پر خصوصی نشستیں منعقد ہوں گی۔ ان نشستوں میں مٹی کی صحت، کاربن کے اخراج میں کمی، پانی کے مؤثر استعمال، دریائے سندھ کے طاس کے مسائل، زیر زمین پانی کے تحفظ، سیلاب سے متاثرہ علاقوں، مقامی اداروں کے کردار اور روایتی خوراکی وسائل جیسے اہم پہلوؤں پر ماہرین اپنی آراء پیش کریں گے۔کانفرنس کے دوران ’’حیاتیاتی تنوع‘‘ کے عنوان سے پوسٹر مقابلہ بھی منعقد کیا جائے گا، جس میں ماہرین طلبہ اور نوجوان محققین کے تیار کردہ پوسٹرز کا جائزہ لیں گے۔ اختتامی تقریب میں کانفرنس کی سفارشات، آئندہ لائحہ عمل، اور کتاب کی رونمائی شامل ہوگی۔ڈین کلیہ سوشل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر عرفان بیگ کے مطابق یہ کانفرنس خشک علاقوں میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، مقامی روزگار کی بہتری، موسمیاتی تبدیلی کے مقابلے کی تیاری، مقامی علم کے فروغ اور سائنس و پالیسی کے مضبوط تعلق کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس کانفرنس سے حاصل ہونے والی سفارشات مستقبل میں پائیدار زراعت، پانی کے بہتر استعمال، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے مفید رہنمائی فراہم کریں گی۔

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے سیڈ انڈسٹری کے ماہرین اور طلبہ ...
21/05/2026

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان کے انسٹیٹیوٹ آف پلانٹ بریڈنگ اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے سیڈ انڈسٹری کے ماہرین اور طلبہ کے درمیان ایک معلوماتی اور تربیتی سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن میں طلبہ، اساتذہ اور سیڈ انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گرولے کراپس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ساجد حسین بابر نے ہائبرڈ مکئی کے بیج کی پیداوار کے موضوع پر خطاب کیا۔ انہوں نے پاکستان میں ہائبرڈ مکئی کے معیاری بیج کی پیداوار، جدید طریقہ کار اور تجارتی کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ بائر کراپ سائنس پاکستان کے مارکیٹ ڈویلپمنٹ لیڈ عامر اقبال نے جدید ٹیکنالوجی سے سے تیار کردہ نئی اقسام کی تجارتی ترویج اور کسانوں میں نئی اقسام کو متعارف کروانے کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔انہوں نے نئی اقسام کو کاشتکاروں تک پہنچانے میں تحقیق، اختراع اور نجی شعبے کے کردار کو اجاگر کیا۔بعد ازاں بائر کراپ سائنس پاکستان کے ریگولیٹری امور برائے بیج و جینیاتی خصوصیات کے سربراہ مرتضیٰ قدوسی نے ری جنریٹو ایگریکلچر کے موضوع پر طلباء اپنے تجربات کے بارے آگاہی فراہم کی۔مقررین نے طلبہ کے سوالات کے تفصیلی جوابات دیتے ہوئے پائیدار زراعت، جدید زرعی ٹیکنالوجی اور سیڈ انڈسٹری میں روزگار کے مواقع پر مفید معلومات فراہم کیں۔
پروگرام کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محمد حماد ندیم طاہر نے مہمان مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مستقبل میں بھی ایسے علمی و تربیتی پروگراموں کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا۔

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں مفید مکھیوں  کے عالمی دن کے موقع پر شعبہ اینٹومالوجی اور CABI کے اشتراک سے “چھٹی...
20/05/2026

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں مفید مکھیوں کے عالمی دن کے موقع پر شعبہ اینٹومالوجی اور CABI کے اشتراک سے “چھٹی بین الاقوامی کانفرنس برائے بی پولینیشن اینڈ کنزرویشن” کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، اساتذہ، محققین، طلبہ اور زرعی شعبے سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔کانفرنس کا مقصد مفید مکھیوں کے حیاتیاتی تنوع، پائیدار زراعت اور عالمی غذائی تحفظ میں اہم کردار کو اجاگر کرنا تھا۔
ڈاکٹر مرزا عبد القیوم نے کہا کہ شہد کی مکھیاں اور دیگر پولینیٹرز زرعی پیداوار، پھلوں اور سبزیوں کے معیار اور قدرتی ماحولیاتی نظام کے استحکام میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولینیٹرز کے تحفظ کے بغیر پائیدار زراعت اور غذائی تحفظ کا تصور ممکن نہیں۔ انہوں نے طلبہ اور نوجوان محققین پر زور دیا کہ وہ پولینیٹرز کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کے فروغ کے لیے تحقیقی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔اس موقع پر ڈاکٹر عامر رسول ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ اینڈ کوالٹی کنٹرول آف پیسٹیسائیڈز پنجاب نے کہا کہ شہد کی مکھیاں زرعی نظام اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسانوں میں محفوظ اور ذمہ دارانہ زرعی ادویات کے استعمال سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ مفید حشرات خصوصاً پولینیٹرز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ شہد کی مکھی ایک چھوٹا سا جاندار ضرور ہے لیکن اس کا کردار پوری دنیا کے غذائی نظام سے جڑا ہوا ہے۔پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے ان کا تحفظ نہایت اہم ہے۔اگر شہد کی مکھیاں محفوظ رہیں گی تو زرعی پیداوار ماحول اور معیشت بھی مزید مضبوط ہوگی۔ مذید کہا کہ پولینیٹرز اور پودوں کے تنوع کے درمیان گہرا تعلق موجود ہے۔شہد کی مکھیوں اور دیگر پولینیٹرز کا تحفظ ماحولیاتی توازن، فصلوں کی بہتر پیداوار اور پائیدار زراعت کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس سے حاصل ہونے والوں سفارشات اور تجاویز کو ڈیپارٹمنٹل ریسرچ کا حصہ بنایا جائے۔ کانفرنس کے دوران مفید مکھیوں کے، تحفظ اور پولینیٹرز کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے سائنسی سیشنز اور تحقیقی مباحثے منعقد کیے گئے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نامور سائنسدانوں نے بطور کلیدی مقرر شرکت کی اور اپنے تحقیقی تجربات و مشاہدات پیش کیے۔ بین الاقوامی مقررین میں امریکہ سے ڈاکٹر بیکی گریفن، آسٹریلیا سے ڈاکٹر کٹ پرینڈرگاسٹ، جرمنی سے ڈاکٹر مائیکل اور، برازیل سے ڈاکٹر مارسیا موٹا، ترکیہ سے ڈاکٹر ابراہیم چکمک، فلپائن سے ڈاکٹر کلیوفاس سروانسیا سمیت دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے متعدد محققین شامل تھے۔کانفرنس کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دلچسپی اور آگاہی کے لیے مختلف سرگرمیوں کا بھی انعقاد کیا گیا۔ پوسٹر مقابلہ اور کوئز مقابلہ منعقد ہوا جس میں طلبہ نے بھرپور حصہ لیا۔ مفید مکھیوں کی خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی فوٹوگرافی مقابلہ بھی منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 30 تصاویر موصول ہوئیں۔
مزید برآں، محفوظ شدہ مفید مکھیوں سے تیار کردہ تخلیقی ریزن کی چینز بھی نمائش کے لیے پیش کی گئیں، جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔ کانفرنس آرگنائزر ڈاکٹر مدثر علی کے مطابق کانفرنس کا مقصد پولینیٹرز کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور محققین، تعلیمی اداروں اور طلبہ کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے مفید مکھیوں اور دیگر حشرات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، پروفیسر ڈاکٹر حماد ندیم طاہر، پروفیسر ڈاکٹر جنید علی خان، پروفیسر ڈاکٹر ناصر ندیم، پروفیسر ڈاکٹر شفقت سعید، اور ڈاکٹر مزمل فاروق سمیت دیگر فیکلٹی بھی موجود تھی۔

مینگو سمال ٹری سسٹم کے حوالے سے موضع باغ و بہار خان پور رحیم یار خان فیلڈ ڈے کا انعقاد کیا گیا۔جس کا مقصد آم کے باغبان ح...
20/05/2026

مینگو سمال ٹری سسٹم کے حوالے سے موضع باغ و بہار خان پور رحیم یار خان فیلڈ ڈے کا انعقاد کیا گیا۔جس کا مقصد آم کے باغبان حضرات تک آم کے سمال ٹری سسٹم کی افادیت و اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔اس پروگرام میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) عبدالغفار گریوال،مینگو گروورز اور یونیورسٹی کے شعبہ ہارٹیکلچر فیکلٹی نے شرکت کی۔اس موقع پر عبدالغفار گریوال نے آم کی سندھڑی ورائٹی سے سمال ٹری سسٹم کے تحت پیداواری ٹیکنالوجی پر روشنی ڈالی۔جس میں انہوں نے پھل کی برداشت آم کی کاشت کے بعد آم کی کانٹ چھانٹ کی مدد سے اسی سال آم کی پیداوار حاصل کرنے کے طریقہ کے بارے میں بتایا۔عبدالغفار گریوال نے یہ بھی بتایا کہ زرعی یونیورسٹی ملتان سے 2019 میں شروع ہونے والی اس مینگو سمال ٹری سسٹم کی تحریک کو عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے اور اسی وجہ سے اس باغ میں کامیابی کے ساتھ مینگو سمال ٹری سسٹم کے ایک بلاک میں مینگو کی پیداوار حاصل کر لی گئی ہے۔شرکاء نے سیٹھ اکبر مینگو فارم کا دورہ بھی کیا۔

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں شعبۂ مٹی و ماحولیاتی سائنسز کے زیر اہتمام “الیکٹرانک فضلہ مینجمنٹ” کے موضوع پر ...
19/05/2026

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں شعبۂ مٹی و ماحولیاتی سائنسز کے زیر اہتمام “الیکٹرانک فضلہ مینجمنٹ” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ عالمی بینک کے ویسٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ پروفیسر طاہر عمران قریشی اس سیمینار کے مہمانِ خصوصی تھے۔ سیمینار میں طلبہ، اساتذہ اور دیگر متعلقہ افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پروفیسر طاہر عمران قریشی نے الیکٹرانک فضلے کی اقسام، اس کے مؤثر انتظام کے لیے دنیا بھر میں استعمال ہونے والی جدید تکنیکوں، اور الیکٹرانک فضلے کی ری سائیکلنگ اور دوبارہ استعمال کے جدید طریقوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سیکنڈ میں ایک ٹرک کے برابر الیکٹرانک فضلہ سمندر میں پھینکا جا رہا ہے، جس کے باعث موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی نظام شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ سوال و جواب کے سیشن کے دوران الیکٹرانک فضلے کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی ملتان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اختر عباس نے پنجاب حکومت کی جانب سے فضلہ مینجمنٹ سے متعلق اقدامات، قوانین، اور الیکٹرانک فضلے کو جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی کے تدارک کے حوالے سے بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔ شعبۂ مٹی و ماحولیاتی سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر وزیر احمد نے حاضرین پر زور دیا کہ وہ اسکولوں اور گھریلو سطح پر الیکٹرانک فضلے کے مؤثر انتظام کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں۔ انہوں نے سیمینار کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر محمد عارف (سیمینار فوکل پرسن) اور ڈاکٹر آیتا عمر کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں شعبہ موسمیاتی تبدیلی، گرین یوتھ موومنٹ کلب (GYMC) اور یونیسکو چیئر کے اشتراک سے ...
17/05/2026

ملتان۔محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں شعبہ موسمیاتی تبدیلی، گرین یوتھ موومنٹ کلب (GYMC) اور یونیسکو چیئر کے اشتراک سے “ورلڈ مائیگریٹری برڈز ڈے” کے حوالے سے جامع آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام میں اساتذہ، طلبہ، ماہرین ماحولیات، وائلڈ لائف افسران اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا مقصد مہاجر پرندوں کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔اس موقع پر ڈاکٹر مقرب علی نے کہا کہ مہاجر پرندے قدرتی ماحولیاتی نظام کا اہم حصہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کمیونٹی، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں پر زور دیا کہ وہ پرندوں کے قدرتی مسکن کے تحفظ، درختوں کی افزائش اور ماحول دوست طرزِ زندگی کو فروغ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے حیاتیاتی تنوع محفوظ بنایا جا سکے۔تقریب میں طلبہ نے مہاجر پرندوں کے تحفظ اور برڈ بائیوڈائیورسٹی کو بہتر بنانے کے حوالے سے مختلف پوسٹرز اور ماڈلز پیش کیے جنہیں شرکاء نے بے حد سراہا۔ ان پوسٹرز اور ماڈلز میں پرندوں کے محفوظ مسکن، آبی ذخائر کے تحفظ، درختوں کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو اجاگر کیا گیا۔اس موقع پر “ورلڈ پلانٹ ہیلتھ ڈے” کے حوالے سے پلانٹ فار لائف سوسائٹی کی جانب سے یونیورسٹی کیمپس میں شجرکاری مہم بھی چلائی گئی جس میں مختلف اقسام کے پودے لگائے گئے تاکہ ماحول کو سرسبز بنایا جا سکے اور پرندوں کے لیے بہتر قدرتی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
تقریب میں ڈاکٹر محمد ندیم، پروفیسر ڈاکٹر عرفان بیگ اور دیگر مقررین نے مہاجر پرندوں کی ماحولیاتی اہمیت، ان کے عالمی سفر، اور موسمیاتی تبدیلی و رہائشی ماحول کی تباہی سے درپیش خطرات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشن کے زیر اہتمام ماؤں کے عالمی دن کی مناسبت سےیونیورسٹی ...
12/05/2026

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشن کے زیر اہتمام ماؤں کے عالمی دن کی مناسبت سےیونیورسٹی خواتین کی جانب سے کیک کٹنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر سمعیہ عمبرین نے کہا کہ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت، دعا اور قربانی انسان کی کامیابی، خوشیوں اور سکون کی بنیاد ہوتی ہے۔ماں، ماں ہوتی ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔مزید کہا کہ دنیا میں ہر رشتہ وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے مگر ماں کی محبت ہمیشہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ بےلوس، بے مثال اور لازوال رہتی ہے۔ڈاکٹر آکاش فاطمہ نے کہا کہ ایک ماں راتوں کو جاگتی ہے اپنی خواہشات قربان کرتی ہے مگر اولاد کے چہرے پر خوشی دیکھ کر سب دکھ بھول جاتی ہے۔مزید کہا کہ قدرتی طور پر انسان سب سے پہلے ماں کی محبت شفقت اور تحفظ کو محسوس کرتا ہے۔اس موقع پر ڈاکٹر عمار مطلوب نے کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایک اچھی ماں ہی ایک اچھا انسان بہترین شہری اور عظیم قوم کی بنیاد رکھتی ہے۔ماں اپنے بچوں کی پیدائش سے لے کر ان کی دینی و دنیاوی تربیت تک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ڈاکٹر جاوید بن عالم اور ڈاکٹر انم بخاری نے کہا کہ ماں دنیا کی وہ عظیم ہستی ہے جس کی شان کو الفاظ میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ماں اپنی پوری زندگی اولاد کی خوشیوں کامیابی اور سکون کے لیے وقف کر دیتی ہے۔اپنی خواہشات کو قربان کر کے بچوں کے خواب پورے کرنا ان کی تکلیف میں بے چین ہونا اور ان کی کامیابی پر دل سے خوش ہونا ماں ہی کا وصف ہے۔اس موقع پر یونیورسٹی سٹاف فیکلٹی کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Muhammad Nawaz Sharif University of Agriculture Multan had the honour of hosting His Excellency Mr. Arno Holger Kirchhof...
11/05/2026

Muhammad Nawaz Sharif University of Agriculture Multan had the honour of hosting His Excellency Mr. Arno Holger Kirchhof, Deputy Head of Mission, Embassy of the Federal Republic of Germany in Pakistan, during his recent visit to the university.
His Excellency was warmly received by the worthy Vice Chancellor, followed by a productive meeting attended by the Deans, Directors, faculty members, students, distinguished German alumni of MNSUAM who have completed their PhD and postdoctoral studies from Germany, as well as Principal Investigators currently engaged in collaborative research projects with German universities and German funding agencies.
The visit marked an important step towards strengthening academic cooperation between Pakistan and Germany, particularly in the areas of higher education, student and faculty exchange, research collaboration, and institutional linkages. MNSUAM remains committed to fostering international partnerships for academic excellence, innovation, and global engagement.

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ، تحقیقی اور ٹیکسٹائل شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ اداروں کے اشتراک سے کپاس ک...
08/05/2026

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان میں ، تحقیقی اور ٹیکسٹائل شعبوں سے تعلق رکھنے والے متعلقہ اداروں کے اشتراک سے کپاس کلسٹر فارمنگ کے لیے ڈیجیٹل فصل نگرانی اور مشاورتی خدمات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں چولستان سے کرنل ایم افتخار کی قیادت میں ایک وفد نے شرکت کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کپاس کی پیداوار میں فصل کے مختلف مراحل کے مطابق سفارشات کے لیے ڈیجیٹل ڈیٹا ریکارڈنگ نظام کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات All Pakistan Textile Mills Association کے تعاون سے قائم کیے جانے والے کپاس کلسٹر فارمز کو مزید مضبوط بنائیں گے، جبکہ محکمہ زراعت توسیع اور زرعی یونیورسٹی ملتان مشاورتی اور تکنیکی معاونت کا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اجلاس کے دوران لینڈ انفارمیشن اینڈ مینجمنٹ سسٹم کی ٹیم سے ڈاکٹر سعدیہ نے محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان اور کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان کی کپاس کلسٹر ٹیموں کو ایک جامع عملی مظاہرہ پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آن لائن ڈیش بورڈ نظام کے ذریعے زمین کے رقبوں کی ڈیجیٹل نشاندہی، کسانوں کی رجسٹریشن، اور بوائی سے لے کر برداشت تک مٹی، پانی اور فصل کے مختلف مراحل سے متعلق معلومات محفوظ کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہ نظام فیلڈ ٹیموں اور کسانوں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری، بہتر ریکارڈ کیپنگ، اور ڈیٹا پر مبنی تجزیاتی رپورٹس کی تیاری میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان رپورٹس کے ذریعے مشاورتی خدمات کی مضبوطیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کی جا سکے گی، جس سے آئندہ کپاس کے سیزن کے لیے منصوبہ بندی اور حکمت عملی کو مزید بہتر بنایا جا سکے گا۔پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے اس موقع پر کہا کہ منتخب کپاس کلسٹر علاقوں میں محکمہ زراعت توسیع کے فیلڈ عملے اور وزیراعلیٰ انٹرن شپ پروگرام کے تحت خدمات انجام دینے والے انٹرنیز کے لیے خصوصی تربیتی نشست جلد منعقد کی جائے گی۔ انہوں نے All Pakistan Textile Mills Association پر بھی زور دیا کہ کپاس کلسٹر فارمرز کے لیے جامع معاونتی پیکیج کو جلد حتمی شکل دی جائے۔
اجلاس میں ڈاکٹر اقبال بندیشہ، ڈاکٹر صغیر احمد (تارا گروپ)، ڈاکٹر محمد جمیل، ڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ملتان، ڈاکٹر عرفان احمد بیگ، ڈین فیکلٹی برائے سماجی علوم و انسانیات، زرعی یونیورسٹی ملتان، سید حسن رضا (نیلم سیڈز)، ڈاکٹر جاوید (APTMA)، ڈاکٹر ماریہ فاطمہ گروپ، ڈاکٹر مقرب علی، ڈاکٹر محمود عالم، ڈاکٹر نعیم اقبال، ڈاکٹر محمد اشتیاق سمیت جامعات، صنعت اور زرعی شعبے سے تعلق رکھنے والی دیگر ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

Address

Old Shujaabad Road, Multan. Punjab
Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PRP Mnsuam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to PRP Mnsuam:

Share

Category