Zee Kay Studio

Zee Kay Studio اللہ اکبر

01/05/2026

اشرافیہ جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں اور ان کے حواریوں نے جس طرح اپنی خواہشات اور شاہانہ طرز زندگی اور طرز حکومت کے لئے اب تک عوام کو جس طرح نچوڑا ھے اور اس پر ہم عوام کی مسلسل خاموشی ہماری آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑیں گی کیونکہ ہم عوام اپنے حقوق کی خاطر آواز نہ اٹھا کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے کیا پیغام چھوڑ کر جائیں گے؟

*اپنے آپ کو پہچانو*
*اپنی طاقت کا احساس کرو*

*Abuman Writes*

01/05/2026

وزیراعظم پاکستان نے اپنی زبان کا پاس رکھتے ھوئے ایک بار پھر اپنے سینے پر پتھر رکھ کر قوم کی خاطر ایک اور مشکل فیصلہ کرتے ھوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ھوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی شاہ خرچیوں کا لگام نہیں دی۔
حکومت اگر کبھی عوام کو ریلیف دیتی بھی ھے تو اس کا سارا خرچہ ترقیاتی منصوبوں میں کٹوتی کرکے پورا کرتی ھے مگر کبھی اپنی شاہانہ انداز اور طرز حکومت پر سمجھوتہ نہیں کرتی ھے اور سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتی ھے۔

ہم عوام دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ ہمیں خلفائے راشدین جیسے حکمران عطا کرے مگر کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا ھے کہ خلفائے راشدین کے دور کا مسلمان اپنے کردار و گفتار میں کیسا تھا اور ہم کیسے ہیں؟

تھوڑا نہیں پورا سوچو

*Abuman Writes*

*Broadcast Message*میرے ایک نہایت ہی ہردلعزیز دوست نے اپنے محلے میں مسجد کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت شروع کی تھی مگر مہن...
22/01/2025

*Broadcast Message*

میرے ایک نہایت ہی ہردلعزیز دوست نے اپنے محلے میں مسجد کی تعمیر اپنی مدد آپ کے تحت شروع کی تھی مگر مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ھوئے دوست احباب سے زیر تعمیر مسجد کے لئے تعاون کی اپیل ھے۔

جو دوست احباب اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہئیں براہ کرم مجھ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا

19/05/2024

ایک شخص نے کسی بزرگ کے سامنے کسی کی چغلی کی تو انھوں نے فرمایا: تو نے تین زیادتیاں کی ہیں:
1- میرے اور میرے بھائی کے درمیان دوری پیدا کر دی ہے۔
2- میرے خالی دل کو (اس کے متعلق سوچنے میں) مشغول کر دیا ہے۔
3- میری نگاہ میں اپنے مقام و مرتبے کو مجروح کر دیا ہے۔
امام یحیٰ بن کثیرؒ فرماتے تھے کہ چغل خور ایک گھڑی میں اتنا فساد پھیلا دیتا ہے کہ جادوگر ایک مہینے میں اتنا فساد بپا نہیں کرتا!
(حلية الأولياء لأبي نُعيم، ٧٠/٣)
[ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

12/05/2024

یہ احساس کہ زندگی ایک عظیم نعمت ہے، ایمان کی پہلی سٹیج ہے۔ اپنے اردگرد موجود زندگی سنوارنے کی تڑپ شکر کہلاتی ہے، عملی شکر ایمان کی اگلی منزل ہے۔ ایمان کی یہی سٹیج مومن کی زندگی مشکل بنا دیتی ہے کیونکہ اس سٹیج پر لینے کی بجائے دینے، بانٹنے، قربانی اور احسان جیسی صفات پریکٹس ہونگی۔ شاکر کا رتبہ عظیم اس لیے ہے کہ ایمان کی اس سٹیج پر مومن اپنے خالق کی صفات کی پیروی شروع کرتا ہے۔۔۔
Copied

09/05/2024

*کسی کیلئے ڈسٹ بن نہ بنیں*

معروف عرب مفکر ڈاکٹر علی طنطاوی مرحوم لکھتے ہیں ایک دن میں ٹیکسی میں ائیرپورٹ جا رہا تھا، ہم سڑک پر اپنی لائن پر جا رہے تھے کہ اچانک کار پارکنگ سے ایک شخص انتہائی سرعت کے ساتھ گاڑی لیکر روڑ پر چڑھا قریب تھا کہ ان کی گاڑی ہماری ٹیکسی سے ٹکرائے لیکن ٹیکسی ڈرائیور نے لمحوں میں بریک لگائی اور ہم کسی بڑے حادثے سے بچ گئے، ہم ابھی سنبھلے نہیں تھے کہ خلاف توقع وہ گاڑی والا الٹا ہم پر چیخنے چلانے لگ گیا اور ٹیکسی ڈرائیور کو خوب کوسا، ٹیکسی ڈرائیور نے اپنا غصہ روک کر اس سے معذرت کرلی اور مسکرا کر چل دیا
مجھے ٹیکسی ڈرائیور کے اس عمل پر حیرت ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ غلطی اس کی تھی اور غلطی بھی ایسی کہ کسی بڑے حادثے سے دو چار ہو سکتے تھے پھر آپ نے ان سے معافی کیوں مانگی؟
ٹیکسی ڈرائیور کا جواب میرے لیے ایک سبق تھا وہ کہنے لگے کہ کچھ لوگ کچرے سے بھرے ٹرک کی طرح ہوتے ہیں، وہ گندگی اور کچرا لاد کر گھوم رہے ہوتے ہیں، وہ غصہ، مایوسی، ناکامی اور طرح طرح کے داخلی مسائل سے بھرے پڑے ہوتے ہیں، انہیں اپنے اندر جمع اس کچرے کو خالی کرنا ہوتا ہے، وہ جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں، جہاں جگہ ملی یہ اپنے اندر جمع سب گندگی کو انڈیل دیتے ہیں لہذا ہم ان کے لئے ڈسٹ بِن اور کچرا دان کیوں بنیں؟
اس قبیل کے کسی فرد سے زندگی میں کبھی واسطہ پڑ جائے تو ان کے منہ نہ لگیں بلکہ مسکرا کر گزر جائیں اور اللہ تعالی سے ان کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔“

05/05/2024

جیسے پانی کے جمنے, ابلنے اور بھاپ بن کے ہوامیں شامل ہونے کے لیے مخصوص دورانیے تک الگ الگ درجہ حرارت کی فراہمی شرط ہے, ایسے ہی اللہ کا انکار, اقرار اسکی شناخت, قربت, دوستی, محبت اور نوکری ایسی الگ الگ سٹیجز ہیں جن میں سے ہر منزل تک پہنچنے کی شرط کسی مخصوص ذہنی کیفیت کا ایک مخصوص عرصے تک تسلسل سے قائم رہنا ہے۔
اقرار کی سٹیج تک پہنچانے کے لیے تو عبادات کا تسلسل ہی کافی ہے لیکن اس سے اگلی ہر سٹیج تک جانے کے لیے بڑی قربانیوں کا تسلسل درکار ہوگا۔
دوستی کے لیے اپنی مرضی کھونی ہوگی اور محبت کے لیے انا، جبکہ اللہ کی نوکری کی سٹیج سے پہلے وہ شخصیت ہی قربان کرنی ہوگی جسے ساری زندگی پال پوس کر جوان کیا۔۔۔
Copied

05/05/2024

توبہ اور اللہ سے بندے کے تعلُق پر خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمُودات سُنتے ہُوئے ایک جلیلُ القدر صحابیؓ نے تعجب کا اظہار کیا کہ چور اور زانی کو کیونکر بخش دیا جائے گا،
ہمیشہ نرمی سے بات کرنے والے رحمتُ اللعالمینؐ نسبتاً اونچی آواز اور پُرجوش انداز اختیار کرتے ہوئے گویا ہوئے،
"تُو نہ بھی چاہے تب بھی وہ بخشا جائے گا"
ایسے ہی ایک بار ایک صحابیؓ کو کسی سنگین کبیرہ گُناہ کا مرتکب ہونے پر سزا ملی تو ایک دوسرے صحابیؓ نے اُنکے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جنسے تضحیک کا احساس ہوتا تھا،
رحمه للعالمین صلی الله علیه وسلم نے صحابیؓ کے وہ الفاظ سُنے تو چہرہ غم سے سُرخ ہو گیا، بولے، اُس نے جو گُناہ کیا ہے اُسکی سزا پا رہا ہے، تُم جو اسکی تضحیک کرتے ہو تمہیں کیا معلُوم یہ شخص اللہ اور اُسکے رسُول صلی الله علیه وسلم کِس قدر محبوب ہے۔
یہ تو تھا نبی صل اللہ علیہ وسلم کا نظریہ، ہماری حالت یہ ہے کہ اپنے سے مُختلف سیاسی نظریات والے کلمہ گو بھی یا تو ہمیں جہنمی معلوم پڑتے ہیں یا منافق۔۔۔
Copied

30/04/2024

یہ بات کہ آپ اور میں خود قرآن نہیں سمجھ سکتے
یہاں کے کچھ لوگوں نے جو دین کا بزنس کرنے میں یقین رکھتے تھے
برہمنوں سے لے کر مسلمانوں میں پھیلا دیا۔

قرآن کریم کی تلاوت کا ثواب ایک اضافی فائدہ ہے. قرآن نے نزول کا مقصد لوگوں کو دنیا میں زندگی جینے کے طریقے بتانا ہے
کہ آپ کا اللہ، رسول، فرشتوں، آسمانی کتابوں، قیامت کے بارے میں عقیدہ کیا ہو.
قیامت کے دن امتحان کن باتوں کا ہوگا. کون سی باتیں کیسے معاف ہو سکتی ہیں
کون سی معاف نہیں ہو نگی
ان کا تدارک کر کے دنیا سے جانا ہوگا
ایک ایک لمحے کے بارے میں ہدایات قرآن میں لکھی ہوئی ہیں
قیامت کے روز یہ عذر نہیں مانا جائے گا کہ فلاں عالم یا مولوی صاحب نے یہ بتایا تھا
آپ کو خود قرآن سمجھنا ہے
یہ بات کہ آپ اور میں خود قرآن نہیں سمجھ سکتے
یہاں کے کچھ لوگوں نے جو دین کا بزنس کرنے میں یقین رکھتے تھے
برہمنوں سے لے کر مسلمانوں میں پھیلا دیا
اسی کا مداوا کرنے کے لیے شاہ ولی اللہ اور ان کا پورا خانوادہ لوگوں کو ترجمہ قرآن پڑھاتا رہا.
اللہ خود کہتا ہے کہ جو کوئی قرآن سے زندگی گزارنے کے طریقے سیکھنا چاہتا ہے تو ہم نے قرآن اس کے لیے آسان کر دیا ہے.
روزانہ توجہ سے ترجمہ کے ساتھ تین آیات پڑھ کر ان پر دن بھر غور کرتے رہیں کہ میں نے اپنے آپ کو ان کے مطابق کیسے کرنا ہے.
زندگی کی کامیابی کی یہی ضمانت ہے مثلاً زمین جو ہمیں غلہ دینے کے لیے اللہ نے بچھائی ہے
غلہ ہر کسی کی ضرورت ہے
اس لئے زمین سے غلہ اور خوراک حاصل کرنا آسان ہے
تیل بھی اسی زمین سے نکلتا ہے
اس کی ضرورت خوراک کی طرح نہیں ہے اس لیے اس پر مشقت اٹھتی ہے
قرآن کی جس ہدایت کی ضرورت ہر کسی کو ہے اس کا حصول آسان ہے
مشقت اجتہاد سے متعلق ہے
جیسے ڈاکٹر کا نسخہ زبانی یاد کرنے سے صحت نہیں ہوتی
اور ڈرائیونگ گائیڈ پڑھنے سے کوئی ڈرائیور نہیں ہو جاتا
اسی طرح صرف قرآن کی تلاوت سے زندگی نہیں بدلتی
اس کے لیے اس پر عمل کرنا ضروری ہے
اور عمل کرنے کے لیے اسے سمجھنا ضروری ہے اور
سمجھنے کے لیے اسے پڑھنے کا حکم ہے.
اس پر ثواب
یہ اللہ کا دائرہ کار ہے
جہاں حدیث میں ثواب کی بات ہے وہاں یہ بھی ہے کہ
ایک بندہ تلاوت کرتا ہے اور
قرآن اس پر لعنت بھیجتا ہے.
قرآن کی لعنت سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ
اسے سمجھیں اور اس پر عمل کریں.۔۔
Copied

24/04/2024

اللہ کی صحبت۔۔
بندگی اللہ کے سامنے ٹوٹل سرینڈر اور سبمیشن کو کہتے ہیں۔ نماز اِس سرینڈر کی تربیت ہے اور نماز کی رُوح کو اپنے ذاتی، سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات سمیت زندگی کے ہر گوشے میں قائم کرنا ٹوٹل سرینڈر ہے۔
دوسرے الفاظ میں ایک نماز سے دوسری نماز کے وقفے کے درمیان بھی حالتِ نماز کا قیام بندگی ہے۔
یعنی اپنے سماجی، معاشی، انفرادی، سیاسی اور ذاتی معاملات میں اللہ کے سامنے نماز جیسی حاضری کا احساس وہ ٹوٹل سرینڈر ہے جِس کا مجھ سے مطالبہ ہے۔
اللہ کے مقصد کو جاننے کی تڑپ کو نیک جُستجو تو کہا جا سکتا ہے یہ جُستجُو انفرادی طور پر میرے لیے فائدہ مند بھی ہوگی لیکن اللہ کی جتنی معرفت میرے دور کی تقدیر نے طے کر دی ہے وہ مجھ سے کیے گئے مُطالبے کو پُورا کرنے سے ہی حاصل ہوگی۔
یعنی میرا حقیقی مقصد اللہ کا مجھ سے کیا گیا سادہ سا مُطالبہ پُورا کرنا ہونا چاہیے جو نماز پڑھنے سے شُروع ہوگا اور نماز کے قیام پر ختم ہوگا۔
یہ طے ہے کہ نماز پڑھے بغیر یہ قائم نہیں ہوتی،
جیسے فوجی جب تک فوج میں رہتا ہے اُسکی تربیتی مشقیں جاری رہتی ہیں ایسے ہی بندگی کے مستقل قیام کے لیے نماز لازمی ٹریننگ ہے جو ہر ایسے مسلمان کو بھی جاری رکھنی چاہیے جو سمجھتا ہے کہ وہ دین کی روح حاصل کر چکا، کیونکہ اللہ سے رابطے کا تسلسُل ہر امکانی غلطی سے روک دے گا۔
تبھی تو اسلام کا دعوٰی ہے کہ نماز برائی سے روک دے گی۔
اللہ کی مستقل صحبت میں رہتا کوئی بندہ جانتے بُوجھتے برائی کی طرف راغب ہو بھی کیسے سکتا یے۔
میں نماز کو اللہ کی صحبت ہی سمجھتا ہوں۔ چلتے پھرتے، سواری پر مسجد میں دفتر میں گھر پر، دوستوں اور دشمنوں کے درمیان اہتمام کے ساتھ اللہ کی صحبت اختیار کیا کیجیے، یہ کیا ہی خوب صحبت ہے۔۔۔
Copied

Address

Multan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zee Kay Studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share