10/06/2026
معروف صحافی و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ لا لا اسرافیل خان پشتون روایت کی بھینٹ چڑھ گئے
آج سے کچھ سال غالباً تین سال پہلے انہوں نے کورٹ میرج کی جو پشتون روایت سے ہٹ کر بلکہ معیوب سمجھا جانے والا عمل ہے لیکن قانون کی حیثیت سے یہ ایک درست عمل ہے اور اسلام بھی پسند و نا پسند کے بارے میں پورا پورا حق دیتا ہے اسی لیے اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
کورٹ میرج کے بعد ان کو پشتون روایت کا سامنا تھا چونکہ آپ ایک قبائلی پشتون قبیلے ایسوٹ سے تعلق رکھتے تھے
انہیں کچھ ماہ کیلئے اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا اسی دوران آپ نے اپنی جانب سے کئی بار لڑکی کے والدین کو راضی نامے کیلئے کوششیں جاری رکھیں اور اپنے قبائلی رہنماؤں کو جرگے کیلئے کہا گیا ، بالآخر دونوں اطراف سے قبائلی رہنماؤں نے جرگہ طے کیا جس میں انہیں تقریباً چالیس لاکھ روپے دینے کیلئے کہا گیا ان کی اقساط بنائیں گئیں آپ نے پہلی قسط تقریباً پانچ لاکھ روپے دیے جبکہ باقی کیلئے انہیں وقت دیا گیا تھا اقساط کیلئے مسلسل محنت کر رہے تھے اور اپنے قبائلی جرگے کے فیصلے کو بطور پشتون پورا کرنے کی کوشش میں تھے۔
جرگے میں پشتون روایات و اقدار پہ سختی سے عمل پیرا ہونا پرانا قبائلی سسٹم ہے یہ صدیوں سے چلتا ہوا آرہا ہے اس سے ہٹ کر چلنے والے کو اپنے قبیلے میں وہ عزت و وقار نہیں ملتا جو ایک عام آدمی کا ہوتا ہے لہذا لالا اسرافیل نے اپنے قبیلے میں اپنے رہنماؤں کے فیصلے کی روشنی میں ان کی ہر خواہش پوری کی اس کے باوجود بھی مخالف پارٹی نے
6.6.2026
کو رات کے تقریباً 10:30 بجے رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تین افراد نے اسے اس وقت مارا جب ان کے والد محترم لالا مشتاق خان ہسپتال میں تھے اور لالا اسرافیل خان اپنی دکان کو بند کر کے گھر جانے کی تیاری میں تھے
مخالفین نے جرگے کی روایت کو توڑتے ہوئے رات کی تاریخی میں چھ گولیوں سے ان کو اور ان کے بھائی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ان کے بھائی حادثاتی طور پہ بچ گئے جبکہ چھ گولیاں لالا اسرافیل کو لگیں
زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے لالا اسرافیل خان جان کی بازی ہار گئے
سات تاریخ کی شام ساڑھے چھ بجے نوجوان صحافی کو سپرد خاک کیا گیا
لالا مشتاق پٹھان نے متعلقہ تھانے کے عملے کی موجودگی میں ایف آئی آر میں تین ملزمان کا نام نامزد کروایا ہے اور ارباب اقتدار و ڈی آئی جی لورالائی رینج جنید احمد شیخ صاحب سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے
جنید احمد شیخ نے لالا اسرافیل خان کی فیملی کو جلد از جلد انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے
تحریر و ترتیب
Umer Khan