Apna Pakistan

Apna Pakistan Apna Pakistan got you the latest news to have an eye on Pakistan's Affair.

رپورٹس کے مطابق 13 کلومیٹر طویل مری روڈ کا صرف 3 سے 4 کلومیٹر کا حصہ خالی تھاتحریک انصاف کا راولپنڈی جلسہ تگڑا پاور شو ت...
27/11/2022

رپورٹس کے مطابق 13 کلومیٹر طویل مری روڈ کا صرف 3 سے 4 کلومیٹر کا حصہ خالی تھا
تحریک انصاف کا راولپنڈی جلسہ تگڑا پاور شو تھا، عوام کی بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کی، پی ٹی آئی کے اس پاور شو کو کسی صورت ناکام نہیں کہا جا سکتا: سینئر صحافی کا دعویٰ

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 26 نومبر 2022ء ) سینئر صحافی نے تحریک انصاف کے راولپنڈی جلسے کو کامیاب قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا نیوز سے وابستہ اینکر اور سینئر صحافی مسعود رضا نے تحریک انصاف کے راولپنڈی جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق 13 کلومیٹر طویل مری روڈ کا صرف 3 سے 4 کلومیٹر کا حصہ خالی تھا، تحریک انصاف کا راولپنڈی جلسہ تگڑا پاور شو تھا، عوام کی بڑی تعداد نے جلسے میں شرکت کی، پی ٹی آئی کے اس پاور شو کو کسی صورت ناکام نہیں کہا جا سکتا۔
تاہم دوسری جانب وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور چئیرمین پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے راولپنڈی جلسہ کو ناکام قرار دے دیا۔ وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کے جلسے میں صرف 15 سے 16 ہزار لوگ شریک تھے۔
(جاری ہے)

جبکہ واضح رہے کہ چئیرمین تحریک انصاف نے راولپنڈی جلسے میں اپنے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ فیصلہ کیا ہے اب اس کرپٹ نظام کا حصہ نہیں رہیں گے، اپنے تمام وزرائے اعلٰی سے بات کر لی ہے، اب پارلیمانی پارٹی سے ملاقات کروں گا، فیصلہ کیا ہے تمام اسمبلیوں سے نکل جائیں۔

ملک میں کسی قسم کا انتشار پیدا نہ کرنا چاہتے، معاشی حالات پہلے ہی بُرے ہیں توڑ پھوڑشروع ہو گئی تو حالات مزید خراب ہوجائیں گے، ہم ملک میں تباہی مچانے کے بجائے کرپٹ نظام سے باہر نکلیں گے، اسلام آباد نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز اور زرداری کو ملک کے دیوالیہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کے اربوں ڈالرز باہر پڑیں ہیں، اصل عوام کا ہے کو مسلسل دلدل میں دھنستی جا رہی ہے، ملک کے معیشت تباہ حال ہے، انڈسٹری بند ہو رہی ہے، کسان کا برا حال ہے، ملک کے فیصلے کرنے والوں کو بتا رہا ہوں کہ ملک ڈوب رہا ہے، جب ملک کی معیشت گرتی ہے تو قومی سلامتی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، الیکشن جب بھی ہوں جیتنا ہم نے ہی ہے، آج یہاں الیکشن کیلئے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا حل الیکشن ہی ہیں، ملک بچانے کیلئے الیکشن چاہتا ہوں۔
عمران خان نے راولپنڈی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے نکلا تو سفر کرنے سے منع کیا گیا، نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھیں، کوئی بھی ڈر کر،چھپ کر،بھاگ کر موت سے نہیں بچ سکتا۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اتنی دیر انتظارکروانے پر معذرت خواہ ہوں، ابھی بھی کئی لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں، لاہور سے روانہ ہونے لگاتو دو باتیں کہی گئیں، لاہور سے نکلا تو سفر کرنے سے منع کیاگیا، کہا گیا کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے، میں نے موت کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے، فائرنگ سے گرا تو اوپر سے اور گولیاں گزریں، کنٹینر پر 12لوگوں کو گولیاں لگیں، فیصل جاوید اور احمد چٹھہ کو گولیاں لگیں۔
پی ٹی آئی چئیرمین نے وزیر آباد حملے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ گولی چلانے والے کو پکڑنے پر معظم کوقتل کیا گیا، معظم کو نیچے والے ملزم کی نہیں گولی اور شوٹرکی طرف سےماری گئی، ان کا پلان تھا نیچے گولی چلانے والے کو اسی وقت ختم کر دیں گے، مجھے ایجنسیز کے اندرسے خبریں آئی تھی، یہ پہلےمیرے خلاف مذہب کے حوالے سے پروپیگنڈا کریں گے، پھریہ کہیں گے کسی مذہبی جنونی نے قتل کردیا، مجھے ان کے پلان کا پہلے ہی پتا تھا۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ اپنے آپ کو موت کے خوف سے آزاد کریں، 26سالہ سیاست میں مجھے ذلیل کرنے کیلئے انہوں نے کوئی موقع نہیں چھوڑا، عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی آپ کو ذلیل نہیں کرسکتا، کبھی اتنے لوگ کسی وزیراعظم کیلئے نہیں نکلے جتنے میرے لئے نکلے، صرف آزاد لوگ بڑے کام کرتے ہیں، آزاد قوم اوپر جاتی ہے، مجھے موت کی فکر نہیں تھی مگر میری ٹانگ نے میری مشکلات بڑھا دیں، آج قوم اہم موڑپر کھڑی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، ہمارے ملک میں کبھی بھی قانون کی حکمرانی نہیں آئی، پاکستان میں ہمیشہ طاقت کے بل بوتے پر فیصلے ہوتے رہے، مدینہ کی ریاست میں عدل وانصاف اور قانون کی حکمرانی تھی، غریب ملکوں میں صرف چھوٹا چور جیل جاتا ہے۔ صرف آزاد انسان ہی بڑے کام کرتے ہیں، غلام صرف اچھی غلامی کرتے ہیں ان کی پرواز نہیں ہوتی، مجھے موت کی فکر نہیں تھی، میں اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں آپ آج فیصلہ کن موڑ پر کھڑے ہیں، آج قوم کے پاس دوراستے ہے، ایک طرف نعمت، عظمت، دوسری طرف تباہی، غلامی، ذلت کا راستہ ہے، مولانا رومیؒ نے کہا تھا جب اللہ نے تمہیں پر دیئے تو کیوں چیونٹیوں کی طرح رینگ رہے ہو، پاکستانیوں چیونٹیوں کی طرح رینگنا ہمارا مستقبل نہیں، پہلے چور کہا گیا اگلے دن بند کمروں میں این آر او دے دیا جاتا ہے، اگرہم نے اس ظلم، ناانصافی کو تسلیم کر لیا تو بھیڑ، بکریوں میں کوئی فرق نہیں، انسانوں کے معاشرے میں انصاف ہوتا ہے، پاکستان اگرایک عظیم ملک نہیں بنا توکبھی قانون کی حکمرانی نہیں آئی، پاکستان میں طاقت کی حکمرانی اورجنگل کا قانون ہے، وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جس میں انصاف نہ ہو، اللہ کا حکم ہے میرے نبی کے راستے پرچلو، اللہ نے یہ حکم انسانوں کی بہتری کے لیے دیا۔
مدینہ کی ریاست میں پہلے عدل اور انصاف قائم کیا گیا، مدینہ کی بنیاد ہی عدل اور انصاف تھی۔ تحریک انصاف کے چئیرمین نے کہا کہ 3 مجرموں نے سازش کرکےمجھےقتل کرنے کی کوشش کی، غریب ممالک میں انصاف نہیں ہے، زرداری، نوازشریف جیسے ڈاکو پیسہ باہر لے جاتے ہیں پکڑے نہیں جاتے، یورپ، برطانیہ میں انصاف کی وجہ سے خوشحالی ہے، پاکستانی اسی لیے یورپ، برطانیہ جاتے ہیں، غریب ممالک کے صدر، وزیراعظم پیسہ چوری کر کے باہرلیجاتے ہیں، پاکستان میں امیراورغریب کا فرق بڑھتا جارہا ہے، اس کی وجہ وسائل کی کمی نہیں قانون کی حکمرانی نہیں، ملک میں مارشل لا قانون توڑ کر لگایا جاتا تھا، ان دوخاندانوں نے ملک کے اداروں کو کبھی مضبوط نہیں ہونے دیا، انہوں نے اقتدارمیں آ کر اداروں کو کمزورکیا۔
عمران خان نے کہا کہ ہماری حکومت میں کرپشن نہیں ہو رہی تھی، سازش کے تحت ہٹایا گیا، بار بار سنتے ہیں سائفر ایک ڈرامہ تھا، کہتے ہیں سائفر تو ایک فیک بیانیہ ہے، جو لوگ سائفر کو جعلی بیانیہ کہہ رہے ہیں وہی سازش کا حصہ تھے، ڈونلڈ لو نے اسد مجید کو کہا اگر عمران کو نہ ہٹایا تو ملک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، کیا یہ سائفرکے اندرنہیں تھا جو نیشنل سیکیورٹی کونسل میں آیا؟ نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ڈی مارش کرو، یہ سارا سچ ہے، سائفر کا انکار کرنا عمران خان نہیں ملک کی توہین ہے، بھی سنا ہے ایک چھوٹا سا وزیرکسی کوایسے دھمکی دے؟۔
پی ٹی آئی چئیرمین نے کہا کہ ساڑھے تین سالوں میں ایک جگہ فیل ہوا ہوں طاقتوروں کوقانون کے نیچے نہیں لاسکا، میں نے بڑی کوشش کی نیب میرے نیچے نہیں، اسٹیبلشمنٹ کے نیچے تھی، نیب والے کہتے تھے کیس سارے تیار تھے لیکن حکم نہیں آرہا، وہ ان چوروں کوجیلوں میں ڈالنے کے بجائے ان سے میٹنگیں کر رہے تھے، ہرمیٹنگ میں کہا تھا بڑے ڈاکوؤں کا احتساب ہونا چاہیے، مجھے میسج آتا تھا اکانومی پر توجہ دیں، احتساب کو بھول جائیں۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے جن کے پاس طاقت تھی وہ کرپشن کوبرا نہیں سمجھتے تھے۔ آپ نے دیکھ لیا ان کو کرپشن بری نہیں لگتی تھی تو سارے چوروں کو اوپر بٹھا دیا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے 2018ء میں اقتدارسنبھالا تو 20 ارب ڈالر کا تاریخی خسارہ تھا، دوست ممالک سے پیسے مانگتے ہوئے مجھے سب سے زیادہ شرم آئی، ان چوروں نے 10 سالہ اقتدار کے دوران قرضوں میں 4 گنا اضافہ کیا، ہمارے دورمیں کورونا آگیا لیکن ہم نے معیشت کو سنبھالا، کورونا کے دوران اپوزیشن نے مجھے لاک ڈاؤن کرنے کا کہا، میں نے کہا چھابڑی والا، دہاڑی دارمزدورطبقے کا کیا بنے گا؟ لاک ڈاؤن کے دوران ہم نے معیشت کو بچایا، دنیا نے ہمارے احساس پروگرام کو سراہا، ہمارے دور میں ریکارڈ ایکسپورٹ ہو رہی تھی، 17 سال بعد پہلی دفعہ انڈسٹریز ترقی کر رہی تھی، ہمارے دورمیں گروتھ ریٹ چھ فیصد پرترقی کررہی تھی، ہم نے توملک کو اٹھادیا تھا، ہمارے دورمیں کسانوں کو پہلی دفعہ پوری قیمت ملی، ہمارے دورمیں ملک ترقی کررہا تھا، ہماری حکومت نے غریب خاندانوں کو 10 لاکھ مفت علاج کی سہولت دی۔
ہماری حکومت میں 50 سال بعد ڈیم بننا شروع ہوئے، موسمیاتی تبدیلی پر واحد ہماری جماعت جس نے یہ کام کیا، 7 ماہ میں جو کچھ ہوا عوام کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، 7 ماہ پہلے پاکستان کی معیشت 17 سال بعد تیزی سے معیشت ترقی کر رہی تھی، ہمارے دورمیں ریکارڈ 32 ارب ڈالرکی ایکسپورٹ تھی، ہمارے دور میں 6 ہزار 1500 ارب ٹیکس اکٹھا کیا گیا، ہمارے دورمیں مہنگائی 14 فیصد اور آج 45 فیصد مہنگائی ہے، سات ماہ میں مہنگائی کے 50 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں، پٹرول، آٹا، گھی، بجلی، دالوں کی 100 فیصد قیمتیں بڑھ چکی ہیں، ہمارے دور میں ڈالر 178 اور آج ڈالر 240 ہے، جو ان چوروں کو لیکر آئے انہوں نے ملک کے ساتھ کیا کیا، ہمارے دورمیں زراعت ترقی اور آج چاول، گنے، کپاس کی کم پیداوارہوئی ہے، آج پاکستان کے قرضوں کا رسک 100 فیصد سے بھی زائد ہوچکا ہے، ہمارے دورمیں قرضوں کا رسک صرف 5 فیصد تھا، سروے کے مطابق 88 فیصد سرمایہ کاروں کے مطابق حکومت کی سمت درست نہیں، ہمارا لوٹا اپوزیشن لیڈربن گیا، اسمبلی بھی ختم ہو گئی، ایف آئی اے میں اپنے لوگ بٹھا کر کیسزمعاف کرا لیے،

حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے فاشسٹ ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں، عمران خاناعظم سواتی ٹویٹ کرتا ہے اور دوبارہ گرفتار ہو جاتا ہے‘...
27/11/2022

حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے فاشسٹ ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں، عمران خان
اعظم سواتی ٹویٹ کرتا ہے اور دوبارہ گرفتار ہو جاتا ہے‘ اس ریاستی فاشزم کے خلاف سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔ چیئرمین پی ٹی آئی کا پارٹی سینیٹر کی گرفتاری پر ردعمل

اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 27 نومبر 2022ء ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے فاشسٹ ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے سینیٹر اعظم سواتی کی دوبارہ گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹر اعظم سواتی کو حراست میں تشدد اور بلیک میل کرنے کی ویڈیو ان کی بیوی کو بھیجنے کی تکلیف کو کوئی کیسے نہیں سمجھ سکتا؟ نا انصافی پر اعظم سواتی کا غصہ اور مایوسی جائز ہے، حیران ہوں ہم کتنی تیزی سے فاشسٹ ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اعظم سواتی کی حمایت میں سینیٹرز کی اپیلوں کے 15 دن سے زیادہ گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ کے دروازے ان کے لیے بند رہے، وہ ٹوئٹ کرتا ہے اور دوبارہ گرفتار ہو جاتا ہے، اس ریاستی فاشزم کے خلاف سب کو آواز اٹھانی ہوگی۔
(جاری ہے)

واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی کو ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا، ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے گرفتاری کی تصدیق کردی، پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کی 3 رکنی ٹیم نے اعظم سواتی کے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا، جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی رہنماء کو گرفتار کرلیا گیا اور ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بھی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔
ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی کو پی ٹی آئی جلسے میں ان کی تقریر پر گرفتار کیا گیا ہے، جب کہ ان پر اداروں کے خلاف متنازع ٹوئٹس کرنے پر نیا مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے اور ایف آئی اے نے بھی اعظم سواتی کے متنازع بیان پرنیا مقدمہ درج کرنے کر تصدیق کردی ہے، نیا مقدمہ سائبر کرائم ونگ میں ایف آئی اے کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں تضحیک اور پیکا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔

ہمیں بالکل درست وقت کس طرح پتہ چلتا ہے؟رچرڈ فِشر کہتے ہیں کہ یہ سوال جتنا سادہ نظر آتا ہے یہ اُس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے...
27/11/2022

ہمیں بالکل درست وقت کس طرح پتہ چلتا ہے؟

رچرڈ فِشر کہتے ہیں کہ یہ سوال جتنا سادہ نظر آتا ہے یہ اُس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

میں لندن میں ایک لیبارٹری کے اندر انتباہی نشان دیکھ رہا ہوں۔ انتباہی نشان کہتا ہے کہ ’ماسر (maser) کو مت چُھوئیے،‘ (ماسر مائیکرو ویو رینج میں مربوط مونوکرومیٹک برقی تابکاری کو بڑھانے یا پیدا کرنے کے لیے پرجوش جوہریوں کے ذریعہ تابکاری کے محرک اخراج کو استعمال کرنے والا آلہ ہوتا ہے۔)

یہ پہیوں پر کھڑے ایک سٹیل کے حفاظتی باکس میں نصب ہے اور ایک لمبے بلیک باکس سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔

پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک بہت ہی اہم باکس ہے، اور یہاں اس انتباہی نشان کے لگانے کی ایک وجہ ہے۔ یہ خطرناک نہیں ہے، لیکن اگر میں آلہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کروں گا تو یہ وقت میں خلل ڈال سکتا ہے۔

یہ ان چند آلات میں سے ایک ہے جو جنوب مغربی لندن میں نیشنل فزیکل لیبارٹری (این پی ایل) میں رکھے گئے ہیں، جو اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں کہ دنیا کو سیکنڈوں، منٹوں اور گھنٹوں کا درست مشترکہ احساس ہے اور اس کا حساب کتاب رکھا جاتا ہے۔

انھیں ’ہائیڈروجن ماسرز‘ کہا جاتا ہے، اور یہ انتہائی اہم ایٹمی گھڑیاں ہیں۔ تقریباً ایسے ہی 400 دیگر آلات کے ساتھ، جو پوری دنیا میں مختلف مقامات پر رکھے گئے ہیں، وہ دنیا کو نینو سیکنڈ تک کا وقت بتانے میں مدد دیتی ہیں۔

ان گھڑیوں کے بغیر اور ان کے آس پاس کے لوگ، ٹیکنالوجی اور طریقہ کار کے بغیر، جدید دنیا آہستہ آہستہ افراتفری کا شکار ہوجائے گی۔

سیٹلائٹ نیویگیشن سے لے کر موبائل فونز تک بہت سی صنعتوں اور ٹیکنالوجیز کے لیے جن پر ہم انحصار کرتے ہیں۔،

تو پھر ہم سب سے پہلے ’ٹائم کیپنگ‘ (وقت کے تعین کا حساب کتاب رکھنا) کے اس مشترکہ نظام تک کیسے پہنچے، یہ کیسے درست رہتا ہے، اور مستقبل میں یہ کیسے تیار ہو سکتا ہے؟

ان کے جوابات کی تلاش کرنے کے لیے ہمیں گھڑی کے ظاہری حصے سے آگے دیکھنا ہے اور یہ سمجھنا ہے کہ اصل میں وقت ہے کیا۔ تھوڑا گہرائی میں جائیں تو آپ کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ وقت کے ظاہر ہونے سے کہیں زیادہ پہلے یہ انسانی تصور کی ایک تعمیر کا نام ہے (یعنی انسانی ذہن کی ایک اختراح ہے۔)
یہ ہمیشہ ایسا نہیں تھا کہ دنیا میں سب ایک ہی وقت رکھیں۔ صدیاں پہلے ایسا یہ ناممکن تھا، اور وقت کی تعریف مقامی طور پر صرف قریبی گھڑی سے کی جا سکتی تھی۔ کسی ایک جگہ دوپہر کا وقت تھا، لیکن ذرا فاصلے پر 11 بج رہے ہوتے تھے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے 1800 کی دہائی میں، امریکہ میں سینکڑوں مختلف وقت کے معیارات کام کر رہے تھے، جن کا تعین شہروں اور مقامی ریل روڈ مینیجروں نے رکھا ہوا تھا۔

اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ پوری زمین تو چھوڑ دیں، کسی ایک ملک میں بھی ہر گھڑی کو ہم آہنگ کرنے کا کوئی قابل عمل طریقہ نہیں تھا۔ زیادہ تر انسانی تاریخ کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ایک میعاری وقت تھا یا نہیں: لوگوں نے ضرورت کے وقت کام کیا، دور سفر نہیں کیا، اور اگر وہ وقت جاننا چاہتے ہیں، تو قریبی گھڑیال، ٹاؤن کلاک، یا چرچ کی گھنٹیاں، یا نماز کے لیے اذان سُن کر وقت معلوم کر سکتے ہیں۔

تاہم جیسے جیسے صنعتی دور کا آغاز ہوا اور یہ فروغ پاتا گیا، یہ واضح ہو گیا کہ وقت کے اس بے جوڑ تصور کی یہ حالت جاری نہیں رہ سکتی۔ کچھ معاملات میں تو پرانا تصور مہلک تھا۔ مثال کے طور پر 1800 کی دہائی کے وسط میں نیو انگلینڈ میں دو ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے 14 افراد ہلاک ہو گئے کیونکہ ایک کنڈکٹر ’ناقص اور ادھار کی گھڑی‘ استعمال کر رہا تھا، جس پر اس کے ساتھی نے غلط وقت مقرر کر رکھا تھا۔

مؤثر طریقے سے کام کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی معیشتوں کو درست وقت کے بہتر مشترکہ احساس کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ کارخانے، افرادی قوت کو ایک ہی گھنٹے میں کام دے سکیں، ٹرینیں روانہ ہو سکیں اور ایک طے شدہ وقت پر پہنچ سکیں، اور بینکر مالیاتی لین دین کے وقت کا مناسب تعین کرسکیں یا ’ٹائم سٹیمپ‘ کر سکیں۔ جیسا کہ مؤرخ لیوس ممفورڈ نے ایک بار کہا تھا کہ بھاپ کا انجن نہیں بلکہ یہ گھڑی تھی، جو صنعتی انقلاب کی سب سے اہم مشین تھی۔

بھاپ کے انجنوں سے کارخانے اور ٹرانسپورٹ تو چل سکتی ہیں، لیکن وہ لوگوں اور ان کی سرگرمیوں کو ہم آہنگ نہیں کر سکتے۔

تھوڑی دیر کے لیے، اس نئے مشترکہ وقت کا اہم ثالث لندن میں گرین وچ مین ٹائم یعنی جی ایم ٹی تھا۔ وہاں رکھی جدید مکینیکل گھڑیوں نے ’حقیقی‘ وقت دکھایا اور بتایا۔

سنہ 1833 میں، وقت کا تعین کرنے والوں یعنی ’ٹائم کیپرز‘ نے لندن میں رائل گرین وچ آبزرویٹری کی عمارت کے مستول میں ایک گیند شامل کی۔ اور طے یہ ہوا تھا کہ یہ ہر روز 13:00 پر گرا کرے گی تاکہ تاجر، فیکٹریاں اور بینک اپنی چلتی ہوئی گھڑیوں کو ایک میعاری وقت کے مطابق درست کر سکیں۔

کچھ سال بعد ’جی ایم ٹی‘ کو ٹیلیگرام کے ذریعے ملک بھر میں ’ریلوے وقت‘ کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ پورے برطانیہ کے ٹرین نیٹ ورک کو ایک ہی وقت کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔ سنہ 1880 کی دہائی میں گرین وچ ٹائم سگنل کو آبدوز کیبل کے ذریعے بحر اوقیانوس کے پار امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر کیمبرج میں ہارورڈ یونیورسٹی تک بھیجا گیا۔ اور واشنگٹن ڈی سی میں بین الاقوامی میریڈیئن کانفرنس میں، 25 سے زیادہ ممالک نے فیصلہ کیا کہ ’جی ایم ٹی‘ کو بین الاقوامی وقت کا معیار تسلیم کیا جانا چاہیے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے جب سے 26 نومبر کو اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی میں اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس حوالے سے چ...
27/11/2022

پاکستان تحریکِ انصاف نے جب سے 26 نومبر کو اسلام آباد کی بجائے راولپنڈی میں اجتماع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس حوالے سے چہ مگوئیاں ہو رہی تھیں کہ عمران خان آخر اس اجتماع میں اگلا لائحہ عمل کیا دیں گے۔

عمران خان کی جانب سے حقیقی آزادی مارچ کے آغاز سے ایسا لگ رہا تھا کہ اب وہ اور ان کی جماعت بالآخر اسلام آباد پہنچ کر پڑاؤ ڈال لیں گے اور پھر الیکشن کی تاریخ کے مطالبہ پورا ہونے تک وہیں ڈھیرے ڈالے رہیں گے۔ اس کی ایک خاص وجہ تو سنہ 2014 میں تحریک انصاف کا نواز شریف حکومت کے خلاف 126 دن کا ڈی چوک میں دھرنا تھا۔

اپنے ’حقیقی آزادی مارچ‘ کے آغاز سے قبل عمران خان نے ملک بھر میں جلسے کیے اور اس عرصے میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اکثریت سے کامیابی بھی سمیٹی۔ عمران خان نے ان نتائج پر اپنے آپ کو ملک کا مقبول ترین سیاسی رہنما قرار دیتے ہوئے حکومت سے جلد انتخابات کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔
مگر راولپنڈی پہنچ کر عمران خان نے جو کہا وہ شاید بہت سارے سیاسی ماہرین کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہ اور بات ہے کہ اس عرصے میں خود تحریک انصاف نے بھی متعدد سمجھوتے کیے۔

پہلے تو تحریک انصاف اپنے اسلام آباد داخل ہونے کے اعلان سے پیچھے ہٹی، اس کے بعد سابق حکمراں جماعت کو فیض آباد کا مقام بھی حاصل نہ ہو سکا اور ان کے اس اجتماع کو کڑی شرائط کے ساتھ راولپنڈی کے سکستھ روڈ کی طرف دھکیل دیا گیا۔

راولپنڈی پہنچ کر عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’ہم نے فیصلہ کیا ہے اور ساری اسمبلیوں سے نکلنے لگے ہیں۔‘

لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ہم بجائے اپنے ملک میں توڑ پھوڑ کریں، بجائے اپنے ملک میں تباہی کے، اس سے بہتر ہے کہ ہم اس کرپٹ نظام سے باہر نکلیں اور اس سسٹم کا حصہ نہ بنیں، جدھر یہ چور بیٹھ کر ہر روز اپنے اربوں روپے کے کیسز معاف کروا رہے ہیں۔

عمران خان نے شرکا کو بتایا کہ وہ اب اسلام آباد کا رخ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ ’جب لاکھوں لوگ اسلام آباد جائیں گے تو کوئی نہیں روک سکتا لیکن فیصلہ کررہا ہوں کہ اسلام آباد نہیں جانا کیونکہ مجھے پتا ہے اس سے تباہی مچے گی‘۔

SRINAGAR – In another bid to show solidarity and support, Kashmiris have put up posters carrying pictures of top Pakista...
27/11/2022

SRINAGAR – In another bid to show solidarity and support, Kashmiris have put up posters carrying pictures of top Pakistani civil-military leadership in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir (IIOJK).

The development comes days after Pakistan’s Prime Minister Shehbaz Sharif named General Asim Munir as the new Army Chief, ending days of uncertainty that engulfed the South Asian country.

Following the change in command, the people of Kashmir extend greetings with posters carrying pictures of Prime Minister Shehbaz Sharif, Army Chief General Asim Munir, and the Joint Chiefs of Staff Committee (CJCSC) General Sahir Shamshad Mirza in parts of the occupied territory.

The posters and banners have been displayed by Hurriyet leaders and Sada-e-Mazloom Jammu and Kashmir.

The Hurriyat leader hailed political and military leadership and Pakistani people for their consistent support to the Kashmiris’ for their right to self-determination.

Kashmiri people recurrently express love for Pakistan as they are facing threat to their existence due to the inhumane policies of the Modi-led Indian government.

ISLAMABAD – Pakistani journalist Arshad Sharif was shot dead in Kenya last month after he reached there from Dubai as he...
27/11/2022

ISLAMABAD – Pakistani journalist Arshad Sharif was shot dead in Kenya last month after he reached there from Dubai as he left Pakistan in August over alleged threats to his life.

The Kenyan police have termed the incident as a case of “mistaken identity” during a search for a car involved in kidnapping of a child.

The Pakistani government has since been claiming that it was targeted killing as it has launched a high-level investigation into the murder.

As the incident has left the Sharif’s family shocked, a daughter of the slain journalist has penned a heartfelt letter for his father.

A video has been shared on Arshad Sharif’s YouTube channel wherein she read the letter in a touching voice.

The letter made the people emotional as they expressed grief over the death of the journalist and prayed for the departed soul.

The price of a single tola of 24-karat gold in Pakistan is Rs160,000 on Sunday.The price of 10 grams of 24k gold was rec...
27/11/2022

The price of a single tola of 24-karat gold in Pakistan is Rs160,000 on Sunday.

The price of 10 grams of 24k gold was recorded at Rs 137,180. Likewise,10 grams of 22k gold were being traded for Rs 125,650 while a single tola of 22-karat gold was being sold at Rs 145,400.

Important note: The gold rate in Pakistan is fluctuating according to the international market so the price is never been fixed. The below rates are provided by local gold markets and Sarafa Markets of different cities.

Lahore PKR 160,000
Karachi PKR 160,000
Islamabad PKR 160,000
Peshawar PKR 160,000
Quetta PKR 160,000
Sialkot PKR 160,000
Attock PKR 160,000
Gujranwala PKR 160,000
Jehlum PKR 160,000
Multan PKR 160,000
Bahawalpur PKR 160,000
Gujrat PKR 160,000
Nawabshah PKR 160,000
Chakwal PKR 160,000
Hyderabad PKR 160,000
Nowshehra PKR 160,000
Sargodha PKR 160,000
Faisalabad PKR 160,000
Mirpur PKR 160,000

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apna Pakistan:

Share