09/09/2026
اسلام آباد کو نیا صوبہ بنانے سے اسلام آباد کو کیا فائدہ ہوگا؟
اسلام آباد کو صوبہ بنانے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اسلام آباد ایک وفاقی کالونی کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا۔ ابھی جو 138 صفحات کی "آئی سی ٹی گورننس ماڈل" رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی ہے اس کے مطابق یہ فائدے متوقع ہیں:
1. اپنا وزیر اعلیٰ اور اپنی اسمبلی
27 رکنی اپنی منتخب اسمبلی ہوگی (21 براہ راست منتخب، 5 خواتین، 1 اقلیت)۔ اپنا وزیر اعلیٰ / میئر ہوگا جسے یہ اسمبلی منتخب کرے گی۔ مطلب اسلام آباد کے فیصلے اسلام آباد میں ہی ہوں گے، وزارت داخلہ سے نہیں۔
2. مالی خود مختاری اور اپنا بجٹ
ابھی اسلام آباد کا اپنا این ایف سی شیئر نہیں۔ صوبہ بننے پر:
- وفاق سے براہ راست این ایف سی ایوارڈ سے حصہ ملے گا
- اپنا ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، اور لوکل ریونیو خود جمع اور خرچ کر سکے گا
- ترقیاتی فنڈز کے لیے سی ڈی اے یا وفاق کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا
3. سی ڈی اے، ایم سی آئی کا جھگڑا ختم
اس وقت اسلام آباد میں سی ڈی اے، ایم سی آئی، آئی سی ٹی انتظامیہ سب کا کام آپس میں الجھا ہوا ہے۔ نئے ماڈل میں سب اختیارات ایک ہی اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری گورنمنٹ کے پاس آ جائیں گے۔
4. بہتر سروسز
رپورٹ میں 6 نئے خود مختار ادارے بنانے کی تجویز ہے:
- ہیلتھ اتھارٹی، ایجوکیشن اتھارٹی، سوشل ویلفیئر، ٹورازم اینڈ کلچر، ماحولیات، اور ڈیجیٹل گورننس
ہر ادارے کا اپنا پروفیشنل سربراہ ہوگا، تو سکول، ہسپتال، صفائی، پانی کے مسائل تیزی سے حل ہوں گے۔
5. اسلام آباد والوں کی نمائندگی
صوبہ بننے سے اسلام آباد کے لوگوں کو صوبائی اسمبلی میں اپنی آواز ملے گی۔ اس وقت 24 لاکھ سے زیادہ آبادی والا شہر بغیر کسی صوبائی نمائندگی کے چل رہا ہے۔
6. سمارٹ سٹی اور روزگار
حکومت کے مطابق "ڈیسٹینیشن اسلام آباد" ویژن سے سیاحت، آئی ٹی، اور کلچرل انڈسٹری میں نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مختصراً، اسلام آباد کو فائدہ یہ ہوگا کہ وہ صرف دارالحکومت نہیں، بلکہ ایک خود مختار انتظامی یونٹ بن جائے گا جس کا اپنا بجٹ، اپنی قیادت، اور اپنے فیصلے ہوں گے۔: