28/08/2026
"آدھی رات کو بینڈ باجے کے ساتھ بیٹی کو سسرال سے واپس لانے والا باپ... ایک ایسی رخصتی جس نے سب کو رلا دیا!" 💔
باپ کو آدھی رات کے وقت خبر ملی کہ اس کی بیٹی کو اس کے شوہر نے 'پھر' م-ارا ہے۔ یہ لفظ 'پھر' باپ کے دل میں خنجر کی طرح لگا۔ شادی کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا، مگر بیٹی کے جسم پر کبھی نیلے نشان ہوتے، تو کبھی ہونٹ پر ز-خم۔
ماں ہر بار روتی بیٹی کو سینے سے لگا کر سمجھاتی: "مرد غصے میں ہاتھ اٹھا دیتے ہیں، خاموش رہا کرو، گھر بس جائے گا۔" اور باپ یہ سوچ کر خاموش رہتا کہ بیٹی کا گھر بسانے کے لیے شاید کچھ درد دفن کرنے پڑتے ہیں۔ مگر اس رات جب فون آیا کہ "بیٹی کی حالت ٹھیک نہیں، اسے پھر م-ارا ہے..." تو باپ کی برداشت جواب دے گئی۔
اس نے بیٹی کی بچپن کی مسکراتی ہوئی تصویر دیکھی اور دھیمی آواز میں بولا: "میں نے تجھے اس لیے نہیں پالا تھا کہ کوئی تجھے روز توڑے... اور میں خاموش دیکھتا رہوں۔"
باپ رات کے اندھیرے میں اٹھا، راستے سے ایک بینڈ والے کو جگایا اور سیدھا داماد کے گھر پہنچ گیا۔ رات کے سناٹے میں دروازہ کھلا تو سسرال والے حیران رہ گئے۔ اوپر کی کھڑکی سے سہمی ہوئی بیٹی نے باپ کو دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
داماد نے غصے سے کہا: "یہ میری بیوی ہے، آپ اسے ایسے نہیں لے جا سکتے!"
باپ نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: "بیوی ہے... تمہاری ملکیت نہیں۔"
پھر اس نے بینڈ والوں کو اشارہ کیا: "بجاؤ!" 🎺
رات کی خاموشی بینڈ کی آواز سے گونج اٹھی، پورا محلہ باہر نکل آیا۔ باپ نے بیٹی کا ہاتھ تھاما اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا: "میں تجھے اس گھر سے آزاد کرانے آیا ہوں جہاں تیرے آنسوؤں کو شادی کی قیمت سمجھ لیا گیا تھا۔ آج میں تجھے لینے آیا ہوں... بارات لے کر نہیں۔"
بیٹی روتے ہوئے باپ کے سینے سے لگ گئی اور بولی: "ابو... آپ اتنی دیر سے کیوں آئے؟"
باپ کے آنسو بہہ نکلے: "بیٹا... مجھے معاف کر دینا۔ میں سمجھتا رہا گھر بچانا ضروری ہے... آج سمجھ آیا کہ گھر نہیں، بیٹی بچانا ضروری ہے۔"
وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے چل پڑا اور بینڈ بجتا رہا۔ اس رات ایک باپ اپنی بیٹی کو سسرال سے نہیں، ظ-لم سے واپس لے جا رہا تھا۔ یہ شاید دنیا کی سب سے خوبصورت رخصتی تھی... کیونکہ دلہن کے ہاتھوں پر مہندی نہیں تھی، مگر دل میں پہلی بار آزادی کی خوشبو تھی۔ 🕊️
کبھی کبھی باپ بیٹی کا گھر نہیں توڑتا... وہ اسے ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے!