07/02/2026
یہ وہ واقعہ ہے جو پہلے افواہ لگا، پھر خبر بنا، اور آخرکار پاکستان کی تاریخ کے خوفناک ترین سانحات میں شمار ہوا۔
عبدالوحید کوئی ان پڑھ یا خانقاہی پس منظر رکھنے والا شخص نہیں تھا۔ وہ پنجاب کے شہر ننکانہ صاحب کا رہائشی تھا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان سے گریڈ 19 کا افسر ریٹائر ہوا تھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے مختلف کاروبار آزمائے مگر ہر بار ناکامی ہوئی۔ تب اسے یہ بات سمجھ آ گئی کہ اس ملک میں اگر کسی کاروبار میں نقصان نہیں تو وہ ہے عقیدت کا کاروبار۔ اس نے حلیہ بدلا، زبان بدلی، انداز بدلا اور “دم درود” شروع کر دیا، مگر اصل دولت کے لیے مستقل ٹھکانے کی ضرورت تھی۔
اسی تلاش میں اس کی ملاقات سرگودھا کے ایک زمیندار گلزار سے ہوئی۔ گلزار اس کے جھانسے میں آ گیا۔ دو ایکڑ زمین دی، پانچ کمروں کی عمارت بنوائی، اور یوں چک 95 شمالی، سرگودھا کے کھلے کھیتوں میں ایک نیا دربار کھڑا ہو گیا جسے نام دیا گیا “دربار علی محمد قلندر”۔ عبدالوحید نے خود کو پیر سید عبدالوحید چشتی قادری کہلوانا شروع کر دیا، جبکہ گلزار شریک گدی نشین بن بیٹھا۔
کچھ ہی عرصے میں دربار مشہور ہو گیا۔ بے اولاد جوڑے، بیمار، پریشان حال لوگ، سب یہاں آنے لگے۔ پھر عبدالوحید نے ایک ایسا “روحانی طریقہ” متعارف کروایا جس نے دربار کو سونے کی کان بنا دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ لوگوں کے گناہ دھو سکتا ہے۔ مریدوں سے مکمل اطاعت لی جاتی، تشدد کو روحانی علاج کہا جاتا، اور لوگ سب کچھ برداشت کرتے رہے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس اندھی عقیدت میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل تھے۔
پیسہ بڑھا تو طاقت کی جنگ شروع ہوئی۔ گدی، اختیار اور آمدن پر اختلافات بڑھے۔ دربار اب عبادت کی جگہ کم اور خوف و اختیار کا مرکز زیادہ بن چکا تھا۔
پھر آیا یکم اپریل 2017۔ اس دن دربار پر غیر معمولی رش تھا۔ لوگ روحانی فیض کے انتظار میں تھے، مگر کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ شام تک یہ جگہ قبرستان بن جائے گی۔ اچانک عبدالوحید کا رویہ بدل گیا۔ اس نے اپنے ہی مریدوں پر حملہ کر دیا۔ لاٹھیاں، ڈنڈے، چاقو — جو ہاتھ آیا استعمال کیا۔ لوگ چیختے رہے، بھاگنے کی کوشش کرتے رہے، مگر دربار موت کا پنجرہ بن چکا تھا۔ 20 انسان قتل ہو گئے، کئی شدید زخمی ہوئے۔
اگلی صبح پورے ملک میں ایک ہی خبر تھی:
“سرگودھا میں پیر نے 20 مرید قتل کر دیے”۔
پولیس نے عبدالوحید کو گرفتار کیا، مگر اصل حیرت تب ہوئی جب مقتولین کے ورثاء سامنے آئے۔ کوئی ایف آئی آر درج کروانے کو تیار نہ تھا۔ کچھ کا یقین تھا کہ پیر رہا ہو کر مقتولین کو زندہ کر دے گا، کچھ سمجھتے تھے کہ وہ جنت جا چکے ہیں اور فرشتے انہیں لینے آئے تھے۔ انہی لوگوں میں وہ زمیندار گلزار بھی شامل تھا جس نے دربار کے لیے زمین دی تھی۔
مقدمہ چلا، گواہ آئے، زخمیوں کے بیانات ریکارڈ ہوئے، اور آخرکار سرگودھا کی اینٹی ٹیررازم کورٹ نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے پیر عبدالوحید کو ہر مقتول کے بدلے الگ الگ سزا سنائی۔ چونکہ قتل کی تعداد بیس تھی، اس لیے اسے 20 بار سزائے موت دی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 100 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی، اور تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے تین قریبی چیلوں کو بھی اسی نوعیت کی سخت سزائیں ملیں۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ سزا کے بعد بھی انہی مقتولین کے بعض لواحقین نے اعلیٰ عدالتوں میں وکیل کر کے قاتل پیر کو چھڑانے کی کوشش کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ سب روحانی معاملہ تھا، جرم نہیں۔ مگر عدالتوں نے یہ دلیل ماننے سے انکار کر دیا، اور قاتل پیر جیل ہی میں رہا۔
یہ صرف ایک جعلی پیر کی کہانی نہیں،
یہ اس معاشرے کی تصویر ہے
جہاں اندھی عقیدت پہلے عقل کو قتل کرتی ہے،
اور پھر انسانوں کو۔