19/08/2026
یہ ایک چھوٹا سا سوشل تجربہ تھا۔۔۔
کل میں نے اپنے ایک گروپ میں ایک پوسٹ کی۔ پوسٹ کا مواد کافی کام کا تھا، لیکن اس کے ساتھ تصویر ایسی تھی کہ بس سمجھ لیں شغل ہی شغل تھا۔ 😄
جیسا کہ مجھے توقع تھی، پوسٹ کرتے ہی اس پر انٹرایکشن کی بھرمار شروع ہو گئی۔
اس گروپ میں عام طور پر ایک ہفتے بعد بھی میری پوسٹس کے ویوز 10 ہزار سے آگے نہیں جاتے، لیکن اس پوسٹ کے صرف 20 گھنٹوں میں ویوز 20 ہزار سے تجاوز کر گئے، اور ساتھ میں کافی لائکس، کمنٹس اور شیئرز بھی آ گئے۔
میں نے یہ تجربہ کسی شکایت کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ایک بات سمجھانے کے لیے کیا تھا۔
ہم سب کی خواہش ہے کہ سوشل میڈیا پر اچھا مواد آگے آئے، اچھی باتیں زیادہ لوگوں تک پہنچیں، تعلیم، تحقیق، معلومات اور مثبت سوچ کو فروغ ملے۔
لیکن ہمارا اپنا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ اس لیے وائرل نہیں ہوتی کہ وہ اچھی ہے یا بری۔ وہ اس لیے آگے جاتی ہے کہ لوگ اس کے ساتھ انٹرایکٹ کرتے ہیں۔
میرے سمیت بہت سے لوگ روزانہ ایسی پوسٹس لکھتے ہیں جن میں شاید آپ کو کوئی مفید بات مل جائے، کوئی نئی معلومات ہو، کوئی تجربہ ہو یا کوئی ایسی بات ہو جس پر سوچنے کی ضرورت ہو۔
آپ پوسٹ پڑھتے ہیں، اچھی بھی لگتی ہے، لیکن لائک نہیں کرتے، کمنٹ نہیں کرتے، شیئر نہیں کرتے۔
نتیجہ؟
فیس بک کے الگورتھم کو یہ پیغام جاتا ہے کہ شاید لوگوں کو یہ پوسٹ پسند نہیں آئی، چنانچہ وہ اسے مزید لوگوں تک پہنچانا کم کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس کوئی فضول، منفی یا بے ہودہ چیز سامنے آتی ہے اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
کوئی لائک کرتا ہے، کوئی کمنٹ کرتا ہے، کوئی بحث کرتا ہے، کوئی غصے میں گالی دیتا ہے اور کوئی اسے دوسروں کو بھی بھیج دیتا ہے۔
الگورتھم کے لیے یہ سب انٹرایکشن ہے۔
اسے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کمنٹ تعریف میں کیا یا گالی دے کر۔
آپ جتنا زیادہ انٹرایکٹ کریں گے، وہ اتنا ہی سمجھے گا کہ یہ مواد لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور اسے مزید لوگوں کو دکھاتا رہے گا۔
پھر ہم سب بیٹھ کر شکایت کرتے ہیں:
"یار سوشل میڈیا پر یہ کیسا گند وائرل ہو رہا ہے؟"
بھائی۔۔۔
گند خود وائرل نہیں ہوتا، ہم اسے وائرل کرتے ہیں۔
یہاں ایک بہت سادہ سا اصول اپنا لیں۔
اچھی چیز دیکھیں تو انٹرایکٹ کریں۔
بری چیز دیکھیں تو اگنور کریں۔
کسی اچھی پوسٹ پر ایک لائک، ایک مثبت کمنٹ یا ایک شیئر شاید آپ کے لیے معمولی بات ہو، لیکن مواد بنانے والے کے لیے یہ حوصلہ افزائی بھی ہے اور الگورتھم کو ایک پیغام بھی کہ یہ مواد لوگوں کے لیے مفید ہے۔
اور اگر کوئی فضول، منفی، بے ہودہ یا اشتعال انگیز چیز ہے تو اس کے نیچے جا کر بحث نہ کریں، اسے گالیاں نہ دیں، اسے دوستوں کو یہ کہہ کر بھی نہ بھیجیں کہ "دیکھو لوگ کیا کیا کر رہے ہیں۔"
بس اگنور کر دیں۔
کیونکہ بعض اوقات کسی بری چیز کے خلاف آپ کا غصہ بھی اسے مزید لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا صاف ہو، اچھا مواد سامنے آئے، ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو بہتر چیزیں نظر آئیں، لیکن اس کے لیے صرف فیس بک کو الزام دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا ہم سب مل کر بناتے ہیں۔
آپ جس چیز کو توجہ دیں گے، وہی بڑھے گی۔
آپ جس چیز کو نظر انداز کریں گے، اس کی پہنچ کم ہوگی۔
اس لیے اگلی بار کوئی اچھی، معلوماتی یا مثبت پوسٹ آپ کے سامنے آئے تو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
ایک لائک کر دیں، دو لفظ لکھ دیں، ضرورت ہو تو شیئر کر دیں۔
اور اگر کوئی گندی چیز سامنے آئے تو اسے مشہور کرنے کے بجائے خاموشی سے آگے بڑھ جائیں۔
پھر دیکھیں، کچھ عرصے بعد آپ کی اپنی فیس بک بھی بدلنے لگے گی۔
آخرکار سوشل میڈیا پر وہی چیزیں زیادہ نظر آتی ہیں جنہیں ہم زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
تو پھر شکایت کرنے سے پہلے ذرا یہ بھی دیکھ لیا کریں کہ
ہم خود کس چیز کو وائرل کر رہے ہیں۔