Dr. Muhammad Amjad

Dr. Muhammad Amjad My Basic aim of this page is to enhance Educational learning and motivate the young boys to improve themselves and to take part in the progress of the country.

And to entertain the people in positive way and enjoyment. Also enhance AI Tools for all .

یہ ایک چھوٹا سا سوشل تجربہ تھا۔۔۔کل میں نے اپنے ایک گروپ میں ایک پوسٹ کی۔ پوسٹ کا مواد کافی کام کا تھا، لیکن اس کے ساتھ ...
19/08/2026

یہ ایک چھوٹا سا سوشل تجربہ تھا۔۔۔
کل میں نے اپنے ایک گروپ میں ایک پوسٹ کی۔ پوسٹ کا مواد کافی کام کا تھا، لیکن اس کے ساتھ تصویر ایسی تھی کہ بس سمجھ لیں شغل ہی شغل تھا۔ 😄
جیسا کہ مجھے توقع تھی، پوسٹ کرتے ہی اس پر انٹرایکشن کی بھرمار شروع ہو گئی۔
اس گروپ میں عام طور پر ایک ہفتے بعد بھی میری پوسٹس کے ویوز 10 ہزار سے آگے نہیں جاتے، لیکن اس پوسٹ کے صرف 20 گھنٹوں میں ویوز 20 ہزار سے تجاوز کر گئے، اور ساتھ میں کافی لائکس، کمنٹس اور شیئرز بھی آ گئے۔
میں نے یہ تجربہ کسی شکایت کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ایک بات سمجھانے کے لیے کیا تھا۔
ہم سب کی خواہش ہے کہ سوشل میڈیا پر اچھا مواد آگے آئے، اچھی باتیں زیادہ لوگوں تک پہنچیں، تعلیم، تحقیق، معلومات اور مثبت سوچ کو فروغ ملے۔
لیکن ہمارا اپنا رویہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
سوشل میڈیا پر کوئی پوسٹ اس لیے وائرل نہیں ہوتی کہ وہ اچھی ہے یا بری۔ وہ اس لیے آگے جاتی ہے کہ لوگ اس کے ساتھ انٹرایکٹ کرتے ہیں۔
میرے سمیت بہت سے لوگ روزانہ ایسی پوسٹس لکھتے ہیں جن میں شاید آپ کو کوئی مفید بات مل جائے، کوئی نئی معلومات ہو، کوئی تجربہ ہو یا کوئی ایسی بات ہو جس پر سوچنے کی ضرورت ہو۔
آپ پوسٹ پڑھتے ہیں، اچھی بھی لگتی ہے، لیکن لائک نہیں کرتے، کمنٹ نہیں کرتے، شیئر نہیں کرتے۔
نتیجہ؟
فیس بک کے الگورتھم کو یہ پیغام جاتا ہے کہ شاید لوگوں کو یہ پوسٹ پسند نہیں آئی، چنانچہ وہ اسے مزید لوگوں تک پہنچانا کم کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس کوئی فضول، منفی یا بے ہودہ چیز سامنے آتی ہے اور لوگ اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
کوئی لائک کرتا ہے، کوئی کمنٹ کرتا ہے، کوئی بحث کرتا ہے، کوئی غصے میں گالی دیتا ہے اور کوئی اسے دوسروں کو بھی بھیج دیتا ہے۔
الگورتھم کے لیے یہ سب انٹرایکشن ہے۔
اسے اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے کمنٹ تعریف میں کیا یا گالی دے کر۔
آپ جتنا زیادہ انٹرایکٹ کریں گے، وہ اتنا ہی سمجھے گا کہ یہ مواد لوگوں کی توجہ حاصل کر رہا ہے اور اسے مزید لوگوں کو دکھاتا رہے گا۔
پھر ہم سب بیٹھ کر شکایت کرتے ہیں:
"یار سوشل میڈیا پر یہ کیسا گند وائرل ہو رہا ہے؟"
بھائی۔۔۔
گند خود وائرل نہیں ہوتا، ہم اسے وائرل کرتے ہیں۔
یہاں ایک بہت سادہ سا اصول اپنا لیں۔
اچھی چیز دیکھیں تو انٹرایکٹ کریں۔
بری چیز دیکھیں تو اگنور کریں۔
کسی اچھی پوسٹ پر ایک لائک، ایک مثبت کمنٹ یا ایک شیئر شاید آپ کے لیے معمولی بات ہو، لیکن مواد بنانے والے کے لیے یہ حوصلہ افزائی بھی ہے اور الگورتھم کو ایک پیغام بھی کہ یہ مواد لوگوں کے لیے مفید ہے۔
اور اگر کوئی فضول، منفی، بے ہودہ یا اشتعال انگیز چیز ہے تو اس کے نیچے جا کر بحث نہ کریں، اسے گالیاں نہ دیں، اسے دوستوں کو یہ کہہ کر بھی نہ بھیجیں کہ "دیکھو لوگ کیا کیا کر رہے ہیں۔"
بس اگنور کر دیں۔
کیونکہ بعض اوقات کسی بری چیز کے خلاف آپ کا غصہ بھی اسے مزید لوگوں تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا صاف ہو، اچھا مواد سامنے آئے، ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو بہتر چیزیں نظر آئیں، لیکن اس کے لیے صرف فیس بک کو الزام دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔
سوشل میڈیا ہم سب مل کر بناتے ہیں۔
آپ جس چیز کو توجہ دیں گے، وہی بڑھے گی۔
آپ جس چیز کو نظر انداز کریں گے، اس کی پہنچ کم ہوگی۔
اس لیے اگلی بار کوئی اچھی، معلوماتی یا مثبت پوسٹ آپ کے سامنے آئے تو صرف پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں۔
ایک لائک کر دیں، دو لفظ لکھ دیں، ضرورت ہو تو شیئر کر دیں۔
اور اگر کوئی گندی چیز سامنے آئے تو اسے مشہور کرنے کے بجائے خاموشی سے آگے بڑھ جائیں۔
پھر دیکھیں، کچھ عرصے بعد آپ کی اپنی فیس بک بھی بدلنے لگے گی۔
آخرکار سوشل میڈیا پر وہی چیزیں زیادہ نظر آتی ہیں جنہیں ہم زیادہ توجہ دیتے ہیں۔
تو پھر شکایت کرنے سے پہلے ذرا یہ بھی دیکھ لیا کریں کہ
ہم خود کس چیز کو وائرل کر رہے ہیں۔

ہم ہر سال 3400 پی ایچ ڈی پیدا کر رہے ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔پاکستان کی یونیورسٹیاں ہر سال تقریباً 3400 پی ایچ ڈی پیدا کر رہی ہیں ...
19/08/2026

ہم ہر سال 3400 پی ایچ ڈی پیدا کر رہے ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی یونیورسٹیاں ہر سال تقریباً 3400 پی ایچ ڈی پیدا کر رہی ہیں اور اب تک یہ تعداد تقریباً 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔
یہ اعداد و شمار سن کر یقیناً خوشی ہوتی ہے کہ شاید ہمارا ملک علم اور تحقیق کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن جب ذرا گہرائی میں جا کر ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہیں تو تصویر اتنی روشن نظر نہیں آتی۔
ان تقریباً چالیس ہزار پی ایچ ڈی میں سے صرف سات فیصد کے قریب کا تعلق انجینئرنگ اور آئی سی ٹی جیسے شعبوں سے ہے، یعنی ان شعبوں سے جو کسی بھی ملک کی صنعتی، تکنیکی اور معاشی ترقی کی بنیاد بنتے ہیں۔
لیکن میرے خیال میں اصل مسئلہ یہ بھی نہیں کہ ہم کتنے پی ایچ ڈی پیدا کر رہے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم ان پی ایچ ڈی سے حاصل کیا کر رہے ہیں؟
کیا یہ لوگ پاکستان کے حقیقی مسائل حل کرنے میں کردار ادا کر رہے ہیں؟
کیا نئی ٹیکنالوجیز، نئی مصنوعات اور نئی صنعتیں پیدا ہو رہی ہیں؟
کیا ہماری تحقیق ملک کی معیشت، صنعت، زراعت، توانائی، صحت اور دوسرے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مدد دے رہی ہے؟
یا ہم نے صرف ایک ایسا انتہائی تعلیم یافتہ طبقہ تیار کر لیا ہے جس کی آخری منزل کسی یونیورسٹی میں ایک نوکری حاصل کرنا رہ گئی ہے؟
یہ سوال شاید کچھ لوگوں کو اچھا نہ لگے، لیکن اب ہمیں یہ سوال پوچھنا ہوگا۔
کیا ہمارے پی ایچ ڈی طلبہ کے تحقیقی موضوعات کا تعلق پاکستان کی حقیقی ضروریات سے ہے؟
یا بہت سی جگہوں پر تحقیق صرف اس لیے کی جا رہی ہے کہ ایک مقالہ شائع ہو جائے، ایک ڈگری مکمل ہو جائے اور اگلی ترقی کا راستہ کھل جائے؟
کیا ہمارا نظام ایسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو کوئی مسئلہ حل کرے، کوئی نئی چیز ایجاد کرے، صنعت کے کام آئے یا بازار تک پہنچ سکے؟
یا ہماری کامیابی کا پیمانہ اب بھی صرف کتنے مقالے شائع ہوئے تک محدود ہے؟
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارے پی ایچ ڈی کرنے والے نوجوان صنعت، تحقیق و ترقی، سرکاری اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور نئے کاروباروں کی طرف کیوں نہیں جا رہے؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں پی ایچ ڈی صرف یونیورسٹی کے استاد پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔
وہ صنعت کے لیے محقق پیدا کرتے ہیں، نئی ٹیکنالوجی بنانے والے لوگ پیدا کرتے ہیں، نئی کمپنیاں اور نئی مصنوعات پیدا کرتے ہیں، اور ایسے لوگ پیدا کرتے ہیں جو پیچیدہ مسائل حل کر سکیں۔
ہمیں بھی اپنے پی ایچ ڈی نظام کو اسی سمت میں لے جانے کی ضرورت ہے۔
ایک عام خیال یہ ہے کہ حکومت تحقیق کے لیے مزید پیسہ دے، یونیورسٹیوں میں مزید اسامیاں پیدا کرے اور زیادہ اسکالرشپس دے تو تحقیق خود بخود بہتر ہو جائے گی۔
میرے خیال میں صرف پیسہ مسئلے کا حل نہیں۔
جب تک ہماری ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں، تحقیق کے معیار اور اثر کو اہمیت نہیں دی جاتی، یونیورسٹی اور صنعت کے درمیان مضبوط تعلق پیدا نہیں ہوتا اور ایسی تحقیق کو انعام نہیں ملتا جو عملی دنیا میں کچھ تبدیل کرے، تب تک مزید پیسہ شاید مزید مقالے تو پیدا کر دے، لیکن ضروری نہیں کہ مزید حل بھی پیدا کرے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ پاکستان کو اگلے دس، بیس اور تیس سال میں کن شعبوں میں ماہرین کی ضرورت ہوگی۔
توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، جدید مینوفیکچرنگ، زراعت، پانی، موسمیاتی تبدیلی، بائیوٹیکنالوجی، جدید طب، دفاعی ٹیکنالوجی اور دوسرے ایسے شعبے جہاں مستقبل کی معیشت بننے والی ہے۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں دینی، انہیں ایسے مسائل بھی دینے ہیں جنہیں حل کر کے وہ ملک بدل سکیں۔
اور شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہم پی ایچ ڈی کی کامیابی کا پیمانہ بھی بدل دیں۔
یہ نہ پوچھیں کہ:
ہم نے کتنے پی ایچ ڈی پیدا کیے؟
یہ پوچھیں:
ان پی ایچ ڈی نے کتنے مسائل حل کیے؟
کتنی نئی ٹیکنالوجیز بنائیں؟
کتنی مصنوعات تیار ہوئیں؟
کتنے کاروبار اور روزگار پیدا ہوئے؟
کتنی تحقیق صنعت تک پہنچی؟
اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کے لیے کتنی قدر پیدا ہوئی؟
اگر چالیس ہزار پی ایچ ڈی میں سے چند ہزار بھی حقیقی مسائل حل کرنے، نئی صنعتیں کھڑی کرنے اور نئی ٹیکنالوجی بنانے میں کامیاب ہو جائیں تو یہ تعداد پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
لیکن اگر ہماری تمام کامیابی صرف ڈگری، مقالے اور یونیورسٹی کی ایک نوکری تک محدود رہی تو پھر ہمیں تعداد پر خوش ہونے کے بجائے اپنے نظام پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
علم کی اصل خوبصورتی صرف یہ نہیں کہ وہ کتاب میں محفوظ ہو جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کی زندگی بہتر بنا دے۔
مزید تعلیم، تحقیق، اسکالرشپس اور کیریئر سے متعلق ایسی تحریروں کے لیے مجھے لازمی Follow کریں۔
اگر تحریر آپ کو بامعنی لگی ہو تو اسے آگے Share بھی کریں، شاید یہ سوال کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو آنے والے کل میں اس نظام کو بہتر بنانے کا حصہ بنے۔
یاد رکھیں:
محنت کبھی ضائع نہیں جاتی، درست سمت میں کی گئی مسلسل محنت، علم اور اللہ پر بھروسہ مل جائیں تو انسان اپنی منزل ہی نہیں، دوسروں کے لیے راستے بھی بدل سکتا ہے۔
Dr Muhammad Amjad

17/08/2026

Great man . Kash Pakistan MN Bhi aesa hota

17/08/2026

Kash aesa Pakistan MN Bhi hota

16/08/2026
15/08/2026

Sach Keh rahi Hy

🇵🇰 ہم کہاں کھڑے ہیں؟14 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں، خود سے ایک سوال پوچھنے کا دن بھی ہے۔ہر سال 14 اگست آتا ہے تو سڑکیں...
14/08/2026

🇵🇰 ہم کہاں کھڑے ہیں؟

14 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں، خود سے ایک سوال پوچھنے کا دن بھی ہے۔

ہر سال 14 اگست آتا ہے تو سڑکیں سبز ہو جاتی ہیں، گھروں پر پرچم لہراتے ہیں، ملی نغمے گونجتے ہیں اور ہم فخر سے کہتے ہیں: ہم آزاد ہیں۔ یہ فخر بجا ہے۔ 14 اگست 1947 ہماری تاریخ کا وہ دن ہے جب ہمیں اپنی ایک آزاد ریاست ملی۔ لیکن شاید آزادی کی سالگرہ مناتے ہوئے ہمیں ایک لمحے کے لیے جشن کے شور سے باہر نکل کر یہ بھی پوچھنا چاہیے: آزادی کے 79 سال بعد ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟

دنیا میں کسی ملک کی ترقی صرف اس کی سڑکوں، عمارتوں، فوجی طاقت یا GDP سے نہیں ناپی جاتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہاں کا انسان کس حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ کیا اسے معیاری تعلیم میسر ہے؟ کیا وہ صحت مند اور محفوظ زندگی گزار رہا ہے؟ کیا اسے انصاف ملتا ہے؟ کیا اسے روزگار اور ترقی کے مواقع حاصل ہیں؟ کیا معاشرہ پرامن ہے؟ کیا نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ملک میں دیکھتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ دنیا مختلف عالمی انڈیکسز کے ذریعے ممالک کی کارکردگی کو پرکھتی ہے۔

Human Development Index میں پاکستان 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے۔ یہ انڈیکس تعلیم، صحت اور آمدنی جیسے بنیادی انسانی عوامل کو دیکھتا ہے۔ پاکستان Low Human Development کیٹیگری میں شامل ہے۔ ہمارے لیے شاید سب سے بڑا سوال یہ ہونا چاہیے کہ اگر ایک قوم اپنے بچوں کو معیاری تعلیم، صحت اور بہتر زندگی کے مواقع نہ دے سکے تو پھر اس کی آزادی کا حقیقی فائدہ عام انسان تک کیسے پہنچے گا؟

تعلیم کی بات کریں تو سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں متوقع تعلیمی سال تقریباً 7.9 سال جبکہ اوسط تعلیمی سال صرف 4.3 سال ہے۔ یہ صرف اعداد نہیں، کروڑوں بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کی کہانی ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا: کیا ہمارا تعلیمی نظام صرف ڈگریاں دے رہا ہے یا ایسے انسان بھی پیدا کر رہا ہے جو سوال کر سکیں، تحقیق کر سکیں، تخلیق کر سکیں اور دنیا کے ساتھ مقابلہ کر سکیں؟

پھر صحت کا شعبہ ہے۔ ایک آزاد ملک کا شہری صرف سیاسی آزادی نہیں چاہتا، وہ ایک صحت مند اور باوقار زندگی بھی چاہتا ہے۔ اگر ایک عام انسان کو بنیادی علاج، صاف پانی، مناسب خوراک اور معیاری صحت کی سہولت کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑے تو ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: کیا آزادی کا مقصد صرف آزاد ریاست حاصل کرنا تھا یا آزاد انسان کو بہتر زندگی دینا بھی تھا؟

امن بھی کسی ملک کی کامیابی کا بنیادی پیمانہ ہے۔ Global Peace Index 2026 میں پاکستان 163 ممالک میں 152ویں نمبر پر ہے۔ سوال یہ نہیں کہ صرف سرحدیں محفوظ ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا عام شہری اپنے گھر، بازار، اسکول، دفتر اور سڑک پر خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے؟ کیونکہ حقیقی آزادی وہی ہے جہاں انسان خوف کے بغیر زندگی گزار سکے۔

اور پھر آتا ہے قانون اور انصاف کا سوال۔ World Justice Project کے Rule of Law Index 2025 میں پاکستان 143 ممالک میں 130ویں نمبر پر ہے۔ آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کوئی بیرونی طاقت ہم پر حکومت نہ کرے۔ آزادی کا ایک اہم مطلب یہ بھی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو، کمزور کو طاقتور کے مقابلے میں انصاف مل سکے اور کسی شہری کا حق اس کی دولت، تعلق یا عہدے کا محتاج نہ ہو۔

معیشت بھی اسی سوال کا حصہ ہے۔ بڑے معاشی اعداد و شمار اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل سوال عام آدمی کا ہے: کیا اس کی آمدنی بڑھ رہی ہے؟ کیا اسے باعزت روزگار مل رہا ہے؟ کیا نوجوان اپنے مستقبل کے لیے پاکستان پر اعتماد کرتا ہے؟ اگر ایک نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنی کامیابی کا سب سے بڑا خواب ملک چھوڑنے کو سمجھنے لگے تو ہمیں صرف اسے الزام نہیں دینا چاہیے، بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ہم نے اپنے ملک میں اس کے لیے کتنے مواقع پیدا کیے ہیں۔

دنیا اب صرف دولت سے نہیں، Innovation یعنی جدت اور تخلیق سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ Global Innovation Index 2025 میں پاکستان 139 ممالک میں 99ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں صلاحیت کی کمی نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نظام انہیں تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار اور نئی دریافتوں کے لیے وہ ماحول فراہم کر رہا ہے جس کے ذریعے پاکستان خود دنیا کے مسائل حل کرنے والا ملک بن سکے؟

پھر Gender Gap کا مسئلہ ہے۔ Global Gender Gap Report 2025 میں پاکستان 148 ممالک میں آخری، یعنی 148ویں نمبر پر رہا۔ یہ صرف خواتین کا مسئلہ نہیں، یہ پوری قوم کی انسانی صلاحیت کا مسئلہ ہے۔ اگر معاشرہ اپنی نصف آبادی کی تعلیم، صلاحیت، قیادت اور معاشی کردار کو مکمل طور پر استعمال نہ کرے تو وہ اپنی ترقی کے امکانات کا ایک بڑا حصہ خود محدود کر دیتا ہے۔

بدعنوانی بھی اسی تصویر کا ایک اہم حصہ ہے۔ Transparency International کے Corruption Perceptions Index 2025 میں پاکستان 182 ممالک میں 136ویں نمبر پر ہے۔ کرپشن صرف سرکاری خزانے سے پیسے کی چوری نہیں۔ یہ میرٹ کی چوری ہے، مواقع کی چوری ہے، وقت کی چوری ہے اور بعض اوقات کسی غریب بچے کے مستقبل کی چوری بھی ہے۔

اور آخر میں ایک ایسا سوال جسے ہم اکثر بھول جاتے ہیں: کیا ہماری ترقی نے ہمیں خوش بھی کیا ہے؟ World Happiness Report 2026 میں پاکستان 147 ممالک میں 104ویں نمبر پر ہے۔ کیونکہ ترقی کا آخری مقصد صرف بڑی عمارتیں، تیز سڑکیں اور بلند GDP نہیں۔ ترقی کا اصل مقصد ایک ایسا انسان ہے جو صحت مند ہو، تعلیم یافتہ ہو، محفوظ ہو، باعزت ہو، اپنے مستقبل سے پُرامید ہو اور اپنی زندگی سے مطمئن ہو۔

تو اس 14 اگست پر جب ہم پرچم لہرائیں، قومی ترانہ سنیں اور پاکستان زندہ باد کہیں تو ضرور کہیں۔ لیکن اس کے ساتھ اپنے دل میں چند سوال بھی زندہ رکھیں۔

کیا ہمارا بچہ بہترین تعلیم حاصل کرنے کے لیے آزاد ہے؟

کیا ہمارا نوجوان اپنے خواب پورے کرنے کے لیے پاکستان میں مواقع پاتا ہے؟

کیا غریب آدمی طاقتور کے بغیر انصاف حاصل کر سکتا ہے؟

کیا ہمارا شہری خوف کے بغیر زندگی گزار سکتا ہے؟

کیا ہماری معیشت عام آدمی کو باعزت زندگی دے رہی ہے؟

کیا ہم دنیا کو صرف استعمال کر رہے ہیں یا نئی دنیا بنانے میں بھی اپنا حصہ ڈال رہے ہیں؟

اور سب سے اہم سوال:

کیا ہم نے صرف ایک آزاد ملک حاصل کیا ہے، یا ایک ایسا آزاد معاشرہ بھی بنا رہے ہیں جہاں ہر انسان تعلیم، صحت، امن، انصاف، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے؟

شاید 14 اگست کا اصل پیغام یہی ہے کہ آزادی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ ہر نسل کی ذمہ داری ہے۔

ہمیں پاکستان سے محبت ضرور کرنی چاہیے، لیکن محبت کا مطلب صرف تعریف کرنا نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی محبت کا مطلب اپنے محبوب سے سچ بولنا بھی ہوتا ہے۔

اس لیے آج جشن بھی منائیں، لیکن آئینہ بھی دیکھیں۔

کیونکہ پاکستان کا سوال صرف یہ نہیں کہ ہم آزاد کب ہوئے تھے؟

اصل سوال یہ ہے:

ہم آزادی کے بعد کہاں پہنچے ہیں، اور اب ہمیں کہاں پہنچنا ہے؟

پاکستان زندہ باد 🇵🇰

Address

Multan

Telephone

+923002826839

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr. Muhammad Amjad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dr. Muhammad Amjad:

Shortcuts

Share