17/07/2026
آپ کو عامر خان کی فلم "تھری ایڈیٹس" کا وہ کردار تو یاد ہوگا... "فنسخ وانگڑو"۔
بہت سے لوگوں کو شاید یہ معلوم نہیں کہ وہ کردار کسی خیالی انسان کا نہیں تھا، بلکہ بھارت کے معروف انجینئر، استاد اور سماجی کارکن سونم وانگچک سے متاثر ہو کر تخلیق کیا گیا تھا۔
آج وہی سونم وانگچک 19 دن سے بھوک ہڑتال پر بیٹھا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان کا تقریباً 9 کلو وزن کم ہو چکا ہے۔ جسم کمزور پڑ چکا ہے، بولنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے، لیکن وہ اب بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بغیر کسی جواب کے بھوک ہڑتال ختم کر دی، تو یہ ان لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہے ہیں۔
ان کے مطالبات میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر جوابدہی، نظامِ امتحانات میں اصلاحات، اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ شامل ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھ کر سوچیے...
آخر ایک انسان کو کس درد، کس یقین اور کس بے بسی سے گزرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنی ہی بھوک کے خلاف لڑنے پر مجبور ہو جائے؟
ہم میں سے اکثر لوگ دو وقت کی روٹی چند گھنٹے دیر سے مل جائے تو بے چین ہو جاتے ہیں، مگر ایک شخص 19 دن سے اپنی آواز سنانے کے لیے کھانا چھوڑ کر بیٹھا ہے۔
آپ اس کی سوچ سے اتفاق کریں یا اختلاف، یہ آپ کا حق ہے۔
لیکن کسی انسان کو اپنی بات منوانے کے لیے اپنی جان داؤ پر لگانی پڑے، یہ کسی بھی معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
میری خواہش ہے کہ دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں، ہیومنسٹ تنظیمیں اور ہر وہ شخص جو پرامن احتجاج اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے، سونم وانگچک کی صحت، سلامتی اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرے۔
اختلاف زندہ معاشروں کی پہچان ہوتا ہے، مگر خاموشی اکثر ناانصافی کو طاقت دے دیتی ہے۔
آصف