Qaum Digital

Qaum Digital ہم زندہ قوم ہیں
(4)

چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار احمد نےآم کی تباہی کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ بدھ کی رات اپر سندھ اور پن...
05/06/2026

چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار احمد نےآم کی تباہی کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ بدھ کی رات اپر سندھ اور پنجاب بھر میں آنے والی شدید آندھی اور بارش کی وجہ سے آم کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور آموں کے باغات کے مالکان کے مطابق پنجاب میں عام کی فصل کا نقصان اٹھارہ سے بیس فیصد ہے جبکہ سندھ میں آٹھ سے دس فیصد، کیونکہ سندھ کا آم پک اور اتر کر مارکیٹ میں فروخت کے لیے جا چکا تھا اور آخری ورائٹی باقی تھی، جبکہ پنجاب میں عام کی ابتدائی اقسام سمیت تمام اقسام اس آندھی کا شکار ہو گئی ہیں کیونکہ پنجاب کا آم ابھی کچا تھا اور اس کی گٹھلی بھی پوری طرح تیار نہیں ہوئی تھی۔ اس وجہ سے پنجاب میں نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ آندھی کی وجہ سے ہزاروں درخت اکھڑ گئے اور باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ باغات کے کناروں پر لگے ہوئے درخت بھی ٹوٹنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
سندھ میں حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر، ڈہرکی، میرپور خاص، خیرپور میرس، لاڑکانہ جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، لیہ، بھکر، نور پور تھل، خوشاب، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ساہیوال، وہاڑی، ٹوبہ، سرگودھا سمیت متعدد علاقے لاہور تک آندھی سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے آم اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر باغوں سے ہٹا لیں کیونکہ اگر یہ وہاں پڑے رہے تو یہ گل جائیں گے اور ان میں فروٹ فلائی پیدا ہو سکتی ہے جو درختوں پر لگی فصلوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔
ملتان اور گردونواح میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین پر گرے آم اٹھانے کے لیے مزدور نہیں مل رہے اور رات کی آندھی نے عاموں کی فصل کے ٹھیکیداروں، جنہیں عرفِ عام میں بیکھر کہا جاتا ہے، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب میں سرکاری اور نجی سطح پر چونکہ آم کی فصل کی بائی پروڈکٹس بنانے کی نہ کوئی تربیت ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی کارخانے، اس لیے آندھی سے گرے ہوئے آم کسی کام نہیں لائے جا سکیں گے کیونکہ ان سے نہ تو بڑے پیمانے پر اچار بنایا جا سکے گا نہ ہی اس کا مربہ بن سکے گا، کیونکہ اتنا وسیع نیٹ ورک نہ حکومت کے پاس ہے نہ نجی شعبے میں۔ آم کے کاشتکاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قسم کی قدرتی آفات کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔












































کیا پنکی کو لاہور منتقل کر کے پولیس مزید تفتیش کرے گی؟.لاہور پولیس نے کوکین کوئین انمول عرف پنکی کو لاہور منتقل کر کے تف...
05/06/2026

کیا پنکی کو لاہور منتقل کر کے پولیس مزید تفتیش کرے گی؟
.



لاہور پولیس نے کوکین کوئین انمول عرف پنکی کو لاہور منتقل کر کے تفتیش کرنے کی اجازت حاصل کر لی ہے۔ پنکی کے خلاف لاہور میں مجموعی طور پر 5 مقدمات درج ہیں۔
پولیس ٹیمیں جلد کراچی روانہ ہوں گی اور قانونی اجازت حاصل کرنے کے بعد ملزمہ کو لاہور منتقل کرے گی۔
دوسری جانب سیشن عدالت نے پنکی کے اہم سہولت کاروں کی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ مؤخر کر دیا ہے۔ عدالت نے مقدمے کا چالان پیش نہ کیے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور آئندہ ہفتے چالان پیش کرنے کا حکم دیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے پنکی کے خلاف قتل اور منشیات کے سات مقدمات کی سماعت میں پولیس کو پیر تک تمام مقدمات کا چالان پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
یاد رہے کہ پنکی کو 12 مئی کو کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 10 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ اس پر قتل، منشیات فروشی اور غیرقانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ پنکی اربوں روپے کے منشیات نیٹ ورک کی سرغنہ ہے۔ اس کا نیٹ ورک کراچی سے لاہور تک پھیلا ہوا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ لاہور منتقلی کے بعد مزید کیا انکشافات ہوتے ہیں۔









































05/06/2026

ایمر سن ؛وائسرائے نما وائس چانسلر تک رسائی مشکل ،ملاقات کیلئے متنازع پرفارما جاری

کیا سندھ کے عوام پتھر کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ن لیگ کا الزام.مسلم لیگ ن کے ترجمان اسد عثمانی نے کہا ہے کہ شرمیلا ...
05/06/2026

کیا سندھ کے عوام پتھر کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں؟ ن لیگ کا الزام

.


مسلم لیگ ن کے ترجمان اسد عثمانی نے کہا ہے کہ شرمیلا فاروقی کو اگر پیرس دیکھنا ہے تو لاہور جائیں، سندھ کے عوام پتھر کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی ناقص ہے۔ کراچی میں پانی کا شدید بحران ہے، کئی علاقوں میں لائنوں سے پانی نہیں آتا جبکہ ٹینکرز کو پانی ملتا ہے۔
اسد عثمانی نے کہا کہ شہر میں سیوریج کا گندا پانی، کچرے کے ڈھیر اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں شہریوں کے لیے عذاب ہیں۔ پیپلز پارٹی نے 18 سال سے شہر کے نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں نہیں دیں۔
انہوں نے کہا کہ گلگت کے عوام ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں جو ن لیگ ہی دے سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں الیکشن کروا دیا جائے تو ن لیگ اکثریت سے کامیاب ہوگی۔
پیپلز پارٹی نے ابھی ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی ان الزامات کا کیا جواب دیتی ہے۔









































کشمیر کی 12 نشستیں ختم ہوں گی؟ خواجہ آصف کا انتباہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کشمیر اسمبلی کی پاکس...
05/06/2026

کشمیر کی 12 نشستیں ختم ہوں گی؟ خواجہ آصف کا انتباہ
۔
۔
۔
۔

۔
۔
۔

۔

۔
۔
۔

۔
۔

۔
۔
۔

۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کشمیر اسمبلی کی پاکستان سے منتخب 12 نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ 27 جولائی کو آزاد کشمیر کے انتخابات ہیں۔ جو لوگ یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ اس معاملے کو 27 جولائی کو عوام کے سامنے رکھیں اور عوام کو فیصلہ کرنے دیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ شہر اور تحصیل سے کشمیر اسمبلی کی ایک سیٹ ہے۔ یہاں کشمیری مہاجروں کی زیادہ تعداد جموں سے ہے۔ اکتوبر 1947 میں مہاجروں نے دو لاکھ سے زائد جانوں کی قربانی دی۔
انہوں نے کہا کہ آپ کس طرح ان مہاجروں کو ان کے حق سے محروم کر سکتے ہیں؟ کئی دہائیاں ان مہاجروں نے کسمپرسی کی حالت میں گزاریں۔ انہوں نے زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہ کر آزادی کی بہت مہنگی قیمت ادا کی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اپنی رائے کو تسلیم کرانے کے لیے جمہوری راستہ اپنایا جائے۔ ورنہ یہ بلیک میلنگ تصور ہوگی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔









































عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے  سٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فن...
05/06/2026

عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فنانس بل 2026 میں اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کرنے پر غور جاری ہے۔
یکم جولائی 2026 سے نئی ٹیکس شرح نافذ کیے جانے کی تجویز ہے۔ آئی ایم ایف نے اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری دے دی ہے۔
اس فیصلے کے بعد کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تمام تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ نئی شرح کے نفاذ سے اسٹیشنری مصنوعات پر ٹیکس بوجھ تقریباً دگنا ہو جائے گا۔
حکومت بجٹ 2026-27 میں ٹیکس استثنا محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔ اسٹیشنری سیکٹر پر ٹیکس رعایت کے خاتمے سے قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافہ ہوگا۔ اس سے غریب طلبہ پر بھی بوجھ پڑے گا۔
اساتذہ اور طلبہ کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تعلیمی سامان پر ٹیکس میں کمی کرے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔









































05/06/2026

پنجاب میں آندھی نے پھلوں کے بادشاہ کی سلطنت اُلٹ دی ،آم کی فصل 20 فیصد تباہ

حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ س...
05/06/2026

حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس سکیم لانے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ یہ سکیم ان دکانداروں پر لاگو ہوگی جن کا سالانہ کاروبار 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔
اس سکیم کے تحت دکانداروں کو 1 فیصد فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ فارم ایک صفحے پر مشتمل ہے اور 4 زبانوں میں دستیاب ہوگا۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ فارم جمع کرانے سے پہلے اگر کوئی ودہولڈنگ ٹیکس کٹوتی ہوئی ہے تو وہ بھی ایڈجسٹ ہوگی۔ تاہم شرط یہ ہے کہ گوشوارہ جمع کراتے وقت دکاندار کو کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کرانے ہوں گے۔
یہ سکیم اختیاری ہے۔ دکاندار چاہے تو اس میں شامل ہو سکتا ہے یا نارمل ٹیکس نظام میں رہ سکتا ہے۔ ایف بی آر کی طرف سے ایک پلیٹ دی جائے گی جس پر دکاندار کی تفصیلات اور کیو آر کوڈ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق یہ سکیم چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم دکانداروں کا کہنا ہے کہ 25 ہزار روپے کی شرط چھوٹے تاجروں کے لیے مشکل ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے دکاندار اس سکیم کا حصہ بنتے ہیں۔









































چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملتان کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی ط...
05/06/2026

چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ملتان کی ایک بڑی سرکاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طویل غیر حاضریوں، مسلسل سفری مصروفیات اور انتظامی معاملات سے مبینہ لا تعلقی نے یونیورسٹی کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یونیورسٹی کے مختلف حلقوں، اساتذہ اور انتظامی افسران کی جانب سے اٹھائے جانے والے سوالات اب ایک سنگین انتظامی بحران کی شکل اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ وائس چانسلر جن کے تدریسی تجربے کے حوالے سے پہلے ہی مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں، تعیناتی کے بعد سے زیادہ تر وقت مختلف دوروں، تقریبات اور بیرون شہر مصروفیات میں گزارتے رہے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عید الاضحیٰ سے تقریباً دس روز قبل ہی وہ یونیورسٹی سے غیر حاضر ہو گئے تھے اور عید کے بعد صرف دو دن یونیورسٹی آ کر دوبارہ اسلام آباد روانہ ہو گئے۔ انتظامی ذرائع کے مطابق اب ان کی اگلی مصروفیت دوسرے صوبے کی یونیورسٹی میں ایک لیکچر ہے جہاں وہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کے موضوع پر خطاب کریں گے۔
یونیورسٹی کے اندر اس دعوے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب اپنی ہی یونیورسٹی کے تعلیمی، انتظامی اور تحقیقی مسائل حل نہیں ہو پا رہے تو پھر قومی سطح پر اعلیٰ تعلیم کے مستقبل پر لیکچر دینا خود ایک بڑا سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ یونیورسٹی کے بعض سینئر افسران کے مطابق وائس چانسلر کی مسلسل غیر موجودگی کے دوران یہ واضح نہیں ہوتا کہ ادارے کے انتظامی اختیارات کس کے پاس ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وائس چانسلر کئی کئی دن ادارے میں موجود نہ ہوں تو روزمرہ فیصلے، ہنگامی امور اور پالیسی معاملات کون دیکھتا ہے؟ اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کبھی کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
مزید حیران کن بات یہ بتائی جاتی ہے کہ دو سال گزر جانے کے باوجود یونیورسٹی میں تا حال مستقل پرو وائس چانسلر تعینات نہیں کیا گیا۔ سینئر پروفیسرز کے مطابق نہ صرف یہ کہ اس اہم عہدے پر تقرری عمل میں نہیں لائی گئی بلکہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو بھی باضابطہ طور پر کوئی تجویز نہیں بھیجی گئی۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑی یونیورسٹی میں پرو وائس چانسلر کا عہدہ انتظامی تسلسل اور پالیسی استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ کئی ڈینز اور ڈائریکٹرز نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بعض اوقات ایڈیشنل چارج رکھنے والے افسران ادارے کو اس سے زیادہ وقت دیتے ہیں جتنا مستقل وائس چانسلر دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یونیورسٹی جیسے بڑے ادارے کو جز وقتی انداز میں نہیں چلایا جا سکتا اور مستقل قیادت کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی سرکاری یونیورسٹی کا سربراہ مسلسل دوروں، سیمینارز اور سفری سرگرمیوں میں مصروف رہے جبکہ ادارے کے اندر انتظامی خلا پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات براہِ راست تدریس، تحقیق، مالیاتی نظم و نسق اور طلبہ کے مفادات پر مرتب ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یونیورسٹی کی اولین ترجیح ادارے کے اندرونی مسائل کا حل ہونا چاہیے یا بیرونی دورے اور تقریبات؟ کیا وائس چانسلر کی طویل غیر حاضریوں کے دوران انتظامی اختیارات کے استعمال کا کوئی واضح نظام موجود ہے؟ اور آخر دو سال گزرنے کے باوجود پرو وائس چانسلر کی تعیناتی کیوں نہیں ہو سکی؟









































بہاولپور: موٹر سے کرنٹ لگا، 4 افراد کی موت – حادثہ روکا جا سکتا تھا؟،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔بہاولپور کے چک 88 ڈی بی میں کرنٹ ل...
05/06/2026

بہاولپور: موٹر سے کرنٹ لگا، 4 افراد کی موت – حادثہ روکا جا سکتا تھا؟
،
،
،
،
،
،،
،
،

،
،

،

۔
۔
۔

۔
۔
۔

بہاولپور کے چک 88 ڈی بی میں کرنٹ لگنے سے 4 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق سیوریج ڈسپوزل کی موٹر چلانے کے دوران کرنٹ لگنے سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
جاں بحق ہونے والوں میں 2 بھائی بھی شامل ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو قبضے میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں بجلی کی لو شارٹ سرکٹ کو حادثے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ موٹر میں پہلے سے خرابی تھی، جس کے باوجود اسے چلایا جا رہا تھا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کا ماحول ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ بجلی کے آلات کو استعمال کرنے سے پہلے ان کی حالت ضرور چیک کریں اور پرانی یا خراب مشینری کو فوری طور پر ٹھیک کروائیں۔
ایسے حادثات سے بچنے کے لیے سیفٹی سوئچ اور ارتھنگ کا انتظام ضروری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ دیہی علاقوں میں بجلی کے حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔




































Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qaum Digital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your business to be the top-listed Media Company?

Share