05/06/2026
چیف ایڈیٹر روزنامہ قوم میاں غفار احمد نےآم کی تباہی کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ بدھ کی رات اپر سندھ اور پنجاب بھر میں آنے والی شدید آندھی اور بارش کی وجہ سے آم کی فصل کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے اور آموں کے باغات کے مالکان کے مطابق پنجاب میں عام کی فصل کا نقصان اٹھارہ سے بیس فیصد ہے جبکہ سندھ میں آٹھ سے دس فیصد، کیونکہ سندھ کا آم پک اور اتر کر مارکیٹ میں فروخت کے لیے جا چکا تھا اور آخری ورائٹی باقی تھی، جبکہ پنجاب میں عام کی ابتدائی اقسام سمیت تمام اقسام اس آندھی کا شکار ہو گئی ہیں کیونکہ پنجاب کا آم ابھی کچا تھا اور اس کی گٹھلی بھی پوری طرح تیار نہیں ہوئی تھی۔ اس وجہ سے پنجاب میں نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔ آندھی کی وجہ سے ہزاروں درخت اکھڑ گئے اور باغات کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ باغات کے کناروں پر لگے ہوئے درخت بھی ٹوٹنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
سندھ میں حیدرآباد، نوابشاہ، سکھر، ڈہرکی، میرپور خاص، خیرپور میرس، لاڑکانہ جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں جبکہ پنجاب میں ملتان، رحیم یار خان، بہاولپور، لیہ، بھکر، نور پور تھل، خوشاب، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ، ساہیوال، وہاڑی، ٹوبہ، سرگودھا سمیت متعدد علاقے لاہور تک آندھی سے متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ زراعت کی طرف سے کاشتکاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ گرے ہوئے آم اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر باغوں سے ہٹا لیں کیونکہ اگر یہ وہاں پڑے رہے تو یہ گل جائیں گے اور ان میں فروٹ فلائی پیدا ہو سکتی ہے جو درختوں پر لگی فصلوں کو بھی نقصان پہنچائے گی۔
ملتان اور گردونواح میں اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زمین پر گرے آم اٹھانے کے لیے مزدور نہیں مل رہے اور رات کی آندھی نے عاموں کی فصل کے ٹھیکیداروں، جنہیں عرفِ عام میں بیکھر کہا جاتا ہے، کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پنجاب میں سرکاری اور نجی سطح پر چونکہ آم کی فصل کی بائی پروڈکٹس بنانے کی نہ کوئی تربیت ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر کوئی کارخانے، اس لیے آندھی سے گرے ہوئے آم کسی کام نہیں لائے جا سکیں گے کیونکہ ان سے نہ تو بڑے پیمانے پر اچار بنایا جا سکے گا نہ ہی اس کا مربہ بن سکے گا، کیونکہ اتنا وسیع نیٹ ورک نہ حکومت کے پاس ہے نہ نجی شعبے میں۔ آم کے کاشتکاروں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کیے جائیں تاکہ اس قسم کی قدرتی آفات کی صورت میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔