Emran Pitafi Vlogs

Emran Pitafi Vlogs Emran Pitafi is a school administrator by profession, a traveller , a writer by passion.

‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنزندگی تیرے تعاقب میں ہماتنا چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیںعہدِ حاضر کے ممتاز اور منفرد...
25/01/2026

‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیں

عہدِ حاضر کے ممتاز اور منفرد شاعر طاہرؔ فراز رامپوری مالک حقیقی سے جا ملے۔
اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں جگہ نصیب عطا فرمائے ۔آمین‏اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن

زندگی تیرے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مرجاتے ہیں

عہدِ حاضر کے ممتاز اور منفرد شاعر طاہرؔ فراز رامپوری مالک حقیقی سے جا ملے۔
اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے جنت الفردوس میں جگہ نصیب عطا فرمائے ۔آمین

ایک لڑکی اپنے والد کے ساتھ کتابیں فروخت کر رہی تھی۔ اچانک، اُس نے دور سے اپنے محبوب کو آتے دیکھا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گ...
06/09/2025

ایک لڑکی اپنے والد کے ساتھ کتابیں فروخت کر رہی تھی۔
اچانک، اُس نے دور سے اپنے محبوب کو آتے دیکھا۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں، وہ اُس کی طرف بڑھی اور قدرے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہنے لگی:
"کیا آپ اس کتاب کے لیے آئے ہیں جس کا نام ہے "ابو جی میرے ساتھ ہے"، انگریزی مصنف شیکسپیئر کی؟"
محبوب نے اُس کے سوال کو سمجھتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا:
"نہیں، میں اُس کتاب کے لیے آیا ہوں جس کا نام ہے "کہاں ملنا چاہیے"، انگریزی مصنف تھامس کی۔"
لڑکی نے تھوڑا سا چونک کر کہا:
"میرے پاس وہ کتاب تو نہیں، مگر آپ "آم کے درخت تلے" نامی کتاب لے سکتے ہیں، جو پیٹریس نے لکھی ہے۔"
محبوب نے کہا:
"ٹھیک ہے، پیاری! لیکن کل یونیورسٹی میں کیا آپ میرے لیے "پانچ منٹ بعد کال کروں گا"، مشہور مصنف جون برنار کی کتاب لا سکتی ہیں؟"
لڑکی نے شوق بھرے لہجے میں جواب دیا:
"ضرور، اور آپ بھی "میں کبھی تمہیں مایوس نہیں کروں گا"، نام ور مصنف میشیل دانیال کی کتاب لانا مت بھولنا۔ خدا حافظ!"
جب لڑکا رخصت ہو گیا، تو والد نے مسکراتے ہوئے پوچھا:
"اتنی ساری کتابیں، کیا وہ واقعی سب پڑھ لے گا؟"
لڑکی نے محبت سے اپنے والد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:
"ہاں، بابا، وہ یونیورسٹی کا نہایت ذہین اور ممتاز طالب علم ہے۔"
والد نے سوچتے ہوئے کہا:
"اچھا، میری پیاری بیٹی، دیکھو، میرے پاس بھی تم دونوں کے لیے دو بہترین کتابیں ہیں، جو یقیناً تمہیں پسند آئیں گی۔ اپنے دوست کو یہ کتاب دو، جس کا نام ہے "میں بے وقوف نہیں، سب کچھ سمجھ گیا ہوں"، ڈچ مصنف فرانک مرتیز کی۔ اور تمہارے لیے، میری جان، یہ کتاب ہے "اپنے کزن سے کل شادی کی تیاری کرو"، روسی مصنف ہنری موریس کی۔"

عربی سے ترجمہ: اسد اللہ میر الحسنی ۔۔۔(کاپی)

A wealthy young Arab, studying in Germany, writes to his father:"Dad, Berlin is a very beautiful city, and the people ar...
04/09/2025

A wealthy young Arab, studying in Germany, writes to his father:

"Dad, Berlin is a very beautiful city, and the people are very kind to me, but I feel shy when I arrive at the university in my Range Rover, while my great professors arrive by train."

After a short while, he received a letter from his father with a check for ten million dollars attached. The letter read:

"Buy yourself a train, my son, and don't embarrass us in front of foreigners."

ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو  قبیلے والوں نے دعوت پر بلایا مگر وہ کھانے کی نہیں  غیرت دکھانے کی دعوت تھی ...
20/07/2025

ڈیڑھ سال قبل پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو قبیلے والوں نے دعوت پر بلایا مگر وہ کھانے کی نہیں غیرت دکھانے کی دعوت تھی دونوں کو لے جا کر ایک چٹیل میدان میں کھڑا کردیا جاتا ہے وہاں 19غیرت مند بلوچ مرد کھڑے ہیں جن میں سے پانچ کے پاس لوڈڈ اسلحہ ہے ، بڑی سی چادر میں لپٹی 24 سالہ شیتل اور 32 سالہ زرک کو گاڑیوں کے قافلے میں قتل گاہ پر لاکر اتارا جاتا ہے

شیتل جس کے ہاتھ میں قرآن تھا قبیلے کے مردوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے سکون سے آگے بڑھتی ہے صرف گولی مارنے کی اجازت ہے جبکہ اس کی اجازت کسی نے طلب ہی کب کی تھی وہ قتل گاہ کی جانب خود بڑھی ، اسے معلوم تھا اپنا انجام اس لیے نہ اس کے پاؤں کانپے، نہ آنکھوں میں التجا تھی، نہ لبوں پر چیخ، نہ دامن میں رحم کی بھیک, اس کی خاموشی میں وہ شور تھا جو ان سب چیخوں پر بھاری تھا جو ظلم کے خلاف کبھی نہ نکل سکیں

پھر گولی نہیں ، 9 گولیاں ماری گئیں۔۔۔

پھر اس کے بعد زرک کی باری آئی ، اسے دو گنا ماری گئیں

صرف اس ایک جرم پر کہ اس نے من پسند انسان سے نکاح کیا ۔۔۔۔

اور موت سے کم سزا پر تو غیرت کو چین نہیں آتا
اس بلوچ قبیلے کی غیرت کو بھی سلام ، جو غیرت کے نام پر اپنی ہی بیٹی کو بے غیرت مردوں کے مجمعے کے سامنے لائے اور میدان میں کھڑا کرکے غیرت کی پگ پر ایک اور کلغی سجا لی

ایک اور بیٹی ہار گئی ، پگڑیاں جیت گئیں

💔💔

زمانے کے چلن سے برسرِ پیکار عورت ہوں
سو ہر اک مرحلے پر جبر سے دوچار عورت ہوں

مرے اندر نمو پاتی ہیں آنے والی نسلیں بھی
خدا کے بعد میں تخلیق کا کردار عورت ہوں

سکردو روڈ پر حالیہ کار حادثے میں گجرات سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کی افسوسناک موت نے ہر دل کو غمگین کر دیا ہے۔ ان م...
29/05/2025

سکردو روڈ پر حالیہ کار حادثے میں گجرات سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کی افسوسناک موت نے ہر دل کو غمگین کر دیا ہے۔ ان میں سے ایک لڑکا زخمی حالت میں گاڑی سے نکل کر ایک پتھر پر بیٹھا اور دم توڑ گیا۔ اس کی تصویر بار بار سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ان بچوں کے والدین، بہن بھائی یا قریبی رشتہ دار جب یہ تصاویر بار بار دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل پر کیا گزرتی ہوگی؟

ہم میں سے ہر دوسرا فرد "انوسٹیگیشن ایکسپرٹ" بن چکا ہے، بغیر سوچے سمجھے پوسٹیں اور قیاس آرائیاں پھیلا رہا ہے۔ کیا یہ ہمارا اخلاقی، انسانی اور دینی فرض نہیں کہ ہم غم زدہ خاندان کا درد بڑھانے کے بجائے ان کے لیے آسانی کا سبب بنیں؟

برائے کرم ایسی تصاویر شیئر نہ کریں۔ دکھ کی تشہیر سے صرف تکلیف بڑھتی ہے، انصاف نہیں ملتا۔ احساس اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

ان کے لیے دعا کریں، نہ کہ ان کے زخموں کو تازہ کریں۔

---

The recent tragic car accident on Skardu Road, claiming the lives of four young boys from Gujrat, has left us all heartbroken. One of the boys, after exiting the wrecked car, sat injured on a rock and tragically passed away. A heartbreaking moment indeed — but one that is now being repeatedly shared on social media.

Have we ever paused to think what their parents, siblings, or close relatives must feel when they see those images again and again?

In our society, almost everyone has become a self-proclaimed "investigation expert," spreading posts and assumptions without empathy or understanding. Is it not our moral, human, and even religious duty to ease the pain of grieving families — not deepen it?

Please stop sharing such distressing photos. Grief is not a spectacle. Awareness does not come from sensationalism. Let’s be responsible and respectful.

Pray for them — don't reopen their wounds.

13/05/2025

Indeed, sometimes we must fight for our survival — but nothing is greater than peace. Every individual, every soul in a nation holds immense value. Instead of choosing war, we should stand for peace. Instead of fueling conflict, let’s promote dialogue, understanding, and unity. A peaceful path is always the most powerful one.

10/05/2025

Who won and who lost — that's a different debate. The greatest achievement is that a ceasefire has been established. No matter how many wars are fought, every conflict eventually ends at the negotiation table. Peace is the only true path. Life must go on. Above all, humanity must prevail.

Ghazal by Ahmad Salman
15/02/2025

Ghazal by Ahmad Salman

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے( حقیقی خوشی )جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹ...
11/10/2024

ہندوستان کے ٹاپ بزنس مین رتن ٹاٹا اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔ کل رات وفات پاگئے

( حقیقی خوشی )
جب ہندوستانی ارب پتی رتن جی ٹاٹا سے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ریڈیو پریزینٹر نے پوچھا:
"جناب آپ کو کیا یاد ہے جب آپ کو زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ملی"؟
رتن جی ٹاٹا نے کہا:
"میں زندگی میں خوشی کے چار مراحل سے گزر چکا ہوں، اور آخر کار میں نے حقیقی خوشی کا مطلب سمجھ لیا ہے۔"
پہلا مرحلہ دولت اور وسائل جمع کرنا تھا۔
لیکن اس مرحلے پر مجھے وہ خوشی نہیں ملی جو میں چاہتا تھا۔
پھر قیمتی اشیاء اور اشیاء جمع کرنے کا دوسرا مرحلہ آیا۔
لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس چیز کا اثر بھی عارضی ہے اور قیمتی چیزوں کی چمک زیادہ دیر نہیں رہتی۔
پھر ایک بڑا پروجیکٹ حاصل کرنے کا تیسرا مرحلہ آیا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہندوستان اور افریقہ میں ڈیزل کی سپلائی کا 95% میرے پاس تھا۔
میں ہندوستان اور ایشیا کی سب سے بڑی اسٹیل فیکٹری کا مالک بھی تھا۔ لیکن یہاں بھی مجھے وہ خوشی نہیں ملی جس کا میں نے تصور کیا تھا۔
چوتھا مرحلہ تھا جب میرے ایک دوست نے مجھ سے کچھ معذور بچوں کے لیے وہیل چیئر خریدنے کو کہا۔
تقریباً 200 بچے۔
ایک دوست کے کہنے پر میں نے فوراً وہیل چیئر خرید لی۔
لیکن دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کے ساتھ جاؤں اور وہیل چیئر بچوں کے حوالے کروں۔ میں تیار ہو کر اس کے ساتھ چلا گیا۔
وہاں میں نے ان بچوں کو یہ وہیل چیئر اپنے ہاتھوں سے دی۔ میں نے ان بچوں کے چہروں پر خوشی کی ایک عجیب سی چمک دیکھی۔ میں نے ان سب کو وہیل چیئر پر بیٹھے، چلتے اور مزے کرتے دیکھا۔
ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی پکنک کے مقام پر پہنچ گئے ہوں، جہاں وہ جیتنے والا تحفہ بانٹ رہے ہوں۔
میں نے اپنے اندر حقیقی خوشی محسوس کی۔ جب میں نے جانے کا فیصلہ کیا تو ایک بچے نے میری ٹانگ پکڑ لی۔
میں نے آہستہ آہستہ اپنی ٹانگیں چھوڑنے کی کوشش کی، لیکن بچے نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور میری ٹانگیں مضبوطی سے پکڑ لی، میں نے جھک کر بچے سے پوچھا: کیا تمہیں کچھ اور چاہیے؟
اس بچے نے جو جواب دیا اس نے نہ صرف مجھے چونکا دیا بلکہ زندگی کے بارے میں میرا نظریہ بھی بدل دیا۔
اس بچے نے کہا:

*"میں آپ کا چہرہ یاد رکھنا چاہتا ہوں تاکہ جب میں آپ سے جنت میں ملوں تو میں آپ کو پہچان سکوں اور ایک بار پھر آپ کا شکریہ ادا کروں۔"*
( شکریہ شمیم عباس بمبئی )

27/09/2024

بوسن روڈ ملتان کی معروف اور مصروف سڑک ھے۔آج صبح سویرے بوسن روڈ سے گزر رہا رہا تھا۔ ہلکی ہلکی رفتار سے موٹر سائیکل مجھے اٹھائے رواں دواں تھا۔ میں مختلف دکانوں ، کمرشل پلازوں اور کاروباری اداروں کے سائن بورڈ پڑھتا جا رہا تھا۔ فرصت ہو تو سائن بورڈ پڑھنا بھی ایک دلچسپ کام ھے۔ سائن بورڈ ایک پوری دنیا ہوتی ھے ، انسانی ذہن طرح طرح کے انداز میں اپنی جھلک دکھاتا ھے۔
چلتے چلتے جب میں سیداں والا چوک پر پہنچا تو بجری سریا بیچنے والی ایک دکان کے بورڈ نے میری تمام تر توجہ کو اپنی طرف مبذول کر لیا۔ یہ ایک سریا بنانے والی کمپنی کا بورڈ تھا ۔ کمال کا فقرہ لکھا تھا اس بورڈ پر۔ اس طرح کے فقرے نصاب کی کتابوں میں ہونے چاہئیں ۔ یہ فقرہ سریے سے زیادہ انسانوں کے کام کی چیز ھے ۔ آپ بھی پڑھیے اور سوچئے کہ کس قدر مفید ھے۔
*جس میں لچک نہیں وہ مضبوط نہیں*

پروفیسر سعد غنی صاحب کی وال سے۔۔۔

Address

Multan

Telephone

+923316001403

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Emran Pitafi Vlogs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Emran Pitafi Vlogs:

Share