07/06/2026
اتوار کی ایک چمکدار صبح جب کچن سے دیسی گھی کی اشتہا انگیز خوشبو پورے گھر میں پھیلی، تو احمد صاحب ہمیشہ کی طرح ڈائننگ ٹیبل پر سب سے پہلے آ کر بیٹھ گئے اور بے صبری سے اپنی پسندیدہ چیز کا انتظار کرنے لگے؛ جیسے ہی ان کی بڑی بیٹی، علیشہ، نے گرمامگرم، کرکرا دیسی گھی کا پراٹھا اور ساتھ میں لذیذ چٹپٹا آم کا اچار ان کے سامنے رکھا، تو احمد صاحب کے چہرے پر دلی سکون کی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ علیشہ نے اپنے ہاتھ کمر پر رکھے اور پیار بھری جھنجھلاہٹ سے مسکراتے ہوئے کہا، "ابو! خدارا کسی دن تو اس روٹین کو بریک دیں، روز روز دیسی گھی اور اچار؟ کبھی تو ناشتے میں آملیٹ، سلائس یا کچھ اور بھی کھا لیا کریں، صحت کا بھی تو خیال رکھنا ہے نا!" احمد صاحب نے پراٹھے کا پہلا نوالہ اچار میں ڈبو کر منہ میں رکھا اور لاڈ سے بیٹی کو دیکھتے ہوئے بولے، "میری جان! دنیا جہان کے برگر اور پین کیکس ایک طرف، اور میری بیٹی کے ہاتھ کے بنے دیسی گھی کے پراٹھے کے ساتھ اچار کا یہ جوڑ ایک طرف؛ اس کے سامنے ہر نعمت پھیکی ہے، اب بتاؤ میں اپنی یہ شاہی عادت کیسے بدلوں؟" جسے سن کر علیشہ لاجواب ہو گئی اور پورا کچن دونوں کے قہقہوں سے گونج اٹھا۔