I Love Pakistan Army

I Love Pakistan Army 🇧🇫 All Pakistan PTI Youth 🇧🇫

16/04/2026
16/04/2026
یہ۔۔ پاکستان۔۔ شاید واحد ملک ہے جہاں حرام کھانے والوں نے حلال کھانے والوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔یہاں محنت کی کمائی جرم...
16/04/2026

یہ۔۔ پاکستان۔۔ شاید واحد ملک ہے جہاں حرام کھانے والوں نے حلال کھانے والوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔
یہاں محنت کی کمائی جرم بن گئی ہے اور لوٹ مار ہنر کہلاتی ہے۔
یہاں سچ بولنے والا دیوار سے لگ جاتا ہے اور جھوٹ بولنے والا ایوانوں تک جا پہنچتا ہے۔

حرام کا نوالہ طاقت بن کر تخت پر بیٹھ جاتا ھے
اور حلال کی روٹی پسینے میں بھیگ کر شرمندہ کھڑی ہے۔
جو مزدور ایمانداری سے کماتا ہے وہ مہنگائی کے ہاتھوں روز مرتا ہے،
اور جو قوم کا خون چوستا ہے وہ گاڑیوں، بنگلوں اور پروٹوکول میں زندہ رہتا ہے۔

یہ کیسا انصاف ہے
کہ رشوت لینے والا باعزت
اور رشوت نہ دینے والا ذلیل؟
یہ کیسی فلاحی ریاست ھے
جہاں چور قانون ساز
اور مظلوم مجرم ٹھہرتا ہے؟

حرام خوروں نے صرف معیشت نہیں لوٹی،
انہوں نے ضمیر، اخلاق اور ایمان بھی گروی رکھ دیے ہیں۔
تعلیم کو کاروبار،
علاج کو تجارت،
اور انصاف کو نیلام کر دیا گیا ہے۔

یہاں حلال کمانے والا باپ
اپنے بچوں کی آنکھوں میں سوال دیکھ کر شرمندہ ہوتا ہے،
اور حرام کھانے والا مجرم
ٹی وی اسکرین پر قوم کو صبر کا درس دیتا ہے۔

اصل المیہ یہ نہیں کہ حرام عام ہو گیا،
اصل سانحہ یہ ہے کہ حلال مشکل بنا دیا گیا۔

آواز پاکستان۔

10/04/2026

*09 اپریل — آج کے دن پاکستان کے واحد دلیر لیڈر نے غیروں کی دشمنی اپنوں کی غداری کی وجہ سے فقط ایک ڈائری لے کر وزیراعظم ہاؤس کو الوداع کہا تھا❤️‍🩹😣*

آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟
09/04/2026

آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

🚨 اقوام متحدہ میں غاصبوں کی تاریخی ذلت: ٹرمپ کی دھمکیاں ہوا میں اڑ گئیں، روس، چین اور فرانس نے ہرمز پر ایرانی کنٹرول پر ...
03/04/2026

🚨 اقوام متحدہ میں غاصبوں کی تاریخی ذلت: ٹرمپ کی دھمکیاں ہوا میں اڑ گئیں، روس، چین اور فرانس نے ہرمز پر ایرانی کنٹرول پر مہر لگا دی! 🇺🇳⚓
دوستو! امریکی صدر ٹرمپ نے دو دن پہلے پوری دنیا اور اپنے اتحادیوں کو طعنہ دیا تھا کہ "ہمت کرو، جاؤ اور ہرمز کا راستہ خود چھین لو!"
لیکن غاصبوں کے کٹھ پتلی اتحادیوں (خلیجی ممالک) کی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ اکیلے پاسدارانِ انقلاب سے ٹکراتے۔ وہ قانونی اجازت لینے کے لیے روتے ہوئے اقوام متحدہ پہنچ گئے۔ اور وہاں کیا ہوا؟ روس، چین اور سب سے حیران کن طور پر فرانس نے مل کر اس قرارداد کو موت کے گھاٹ اتار دیا!

آئیے غاصبوں کے اس سفارتی زوال، فرانس کی کھلی بغاوت، اور چین کے اس سٹریٹجک ماسٹر سٹروک کا ڈیپ انالیسس کرتے ہیں جس نے امریکہ کو دنیا میں بالکل تنہا کر دیا ہے:

📜 بحرین کی قرارداد اور سفارتی موت کا وار:
2 اپریل کو، بحرین نے خلیجی ممالک کی طرف سے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ہرمز کو 6 ماہ کے لیے کھولنے کے لیے "تمام ضروری دفاعی ذرائع" استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔
خلیجی معیشتیں دم توڑ رہی ہیں۔ پورے مارچ کے مہینے میں ہرمز سے صرف 84 ٹینکرز گزرے ہیں (جنگ سے پہلے اتنے جہاز ایک دن میں گزرتے تھے)۔

لیکن روس، چین اور فرانس نے مل کر اس قرارداد کی مخالفت کر دی۔ روس اور چین نے اسے "یکطرفہ" قرار دیا، اور فرانسیسی صدر میکرون نے فوجی آپریشن کو "غیر حقیقت پسندانہ" کہہ دیا۔ قرارداد ڈرافٹنگ روم میں ہی دم توڑ گئی۔

اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب امریکہ، برطانیہ یا خلیجی ممالک کی نیوی ہرمز میں جو بھی ملٹری آپریشن کرے گی، وہ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے بغیر (غیر قانونی) ہوگا۔ ان کے پاس اب کوئی انٹرنیشنل لیگل کور نہیں بچا!

🇫🇷 فرانس کی کھلی بغاوت اور نیٹو کا جنازہ:
یہاں سب سے بڑی دراڑ فرانس کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ فرانس نے پہلے امریکی ملٹری فلائٹس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھیں، اور اب اس نے امریکی قرارداد کو بلاک کر دیا ہے!

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ مارسیل (Marseille) میں واقع فرانسیسی شپنگ کمپنی CMA CGM (جو دنیا کی تیسری بڑی کمپنی ہے) کے اپنے 14 بڑے تجارتی جہاز اس وقت ہرمز کی بندش کی وجہ سے سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیکن فرانس نے اپنے قومی تجارتی مفاد کے بجائے چین اور روس کے ساتھ 'سفارتی الائنمنٹ' کو ترجیح دی۔ یہ غیر جانبداری نہیں ہے... یہ اس بات کا اعلان ہے کہ فرانس کی نظر میں اب امریکہ کے بجائے چین کے ساتھ تعلقات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں!

🇨🇳 چین کا سٹریٹجک ماسٹر سٹروک اور یوآن کی طاقت:
چین کا اس قرارداد کو بلاک کرنا اس پوری گیم کا سب سے گہرا راز ہے۔
چین کو ہرمز کھلوانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ چین کے جہاز پہلے ہی وہاں سے گزر رہے ہیں! پاسداران انقلاب کی 'سلیکٹو پیسیج' پالیسی کے تحت چینی ٹینکرز 'یوآن' میں ٹول ٹیکس دے کر آرام سے گزرتے ہیں، جبکہ یورپ، جاپان اور کوریا کے جہاز سمندر میں خوار ہو رہے ہیں۔

چین اس بندش سے منافع کما رہا ہے۔ یہ موجودہ صورتحال چین کو عالمی انرجی مارکیٹ میں وہ سبقت دے رہی ہے جو اسے پہلے کبھی حاصل نہیں تھی۔ چین نے اپنے ویٹو (Veto) کے اختیار کو استعمال کر کے دراصل اپنے اس سٹریٹجک اور معاشی فائدے کو محفوظ کیا ہے!

🛑ہرمز اب صرف ایران نے نہیں، عالمی نظام نے بھی بند کر دیا ہے!
غاصبوں کے اتحادی ایک عجیب شکنجے میں پھنس چکے ہیں:

● ایک طرف ٹرمپ انہیں حکم دے رہا ہے کہ "حملہ کرو"۔

● دوسری طرف IRGC انہیں دھمکی دے رہی ہے کہ "حملہ کیا تو تمہارے پل اور انفراسٹرکچر تباہ کر دیں گے"۔

● اور اب سلامتی کونسل نے انہیں بتا دیا ہے کہ "تم قانونی طور پر یہ کارروائی کر ہی نہیں سکتے"۔

یہ اتحاد کسی خطرے کی وجہ سے نہیں ٹوٹا... یہ اس 'انتخاب'کی وجہ سے ٹوٹا ہے جو امریکہ نے مسلط کیا تھا۔ اور آج اس انتخاب کا فیصلہ اس کمرے (اقوام متحدہ) میں ہو چکا ہے جہاں تین ملکوں کے ویٹو کی طاقت دنیا کے 20 ملین بیرل روزانہ تیل سے زیادہ بھاری ثابت ہوئی ہے۔ مظلوم کی مزاحمت نے غاصبوں کو عالمی سطح پر تنہا اور غیر قانونی ثابت کر دیا ہے!

آپ کے خیال میں جب چین، روس اور فرانس مل کر امریکہ کی عالمی چودھراہٹ کو اس طرح سلامتی کونسل میں دفن کر رہے ہیں، تو کیا ہم باضابطہ طور پر 'امریکی صدی' کے خاتمے اور ایک نئے 'ملٹی پولر' ورلڈ آرڈر کے آغاز کا اعلان کر سکتے ہیں؟👇

✒️ بریکنگ نیوز ایران نے دبئی کو بڑا الٹی میٹم دے دیا!ذرائع کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر وہ ...
30/03/2026

✒️ بریکنگ نیوز
ایران نے دبئی کو بڑا الٹی میٹم دے دیا!
ذرائع کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر وہ تمام ہوٹلز خالی کر دیے جائیں جہاں امریکی فوجی رہائش پذیر ہیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ جس ہوٹل میں امریکی فوجی موجود ہوں گے، اسے نشانہ بنایا جائے گا۔
⚠️ ایران نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ہٹ لسٹ میں دبئی کا Burj Khalifa سرفہرست ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے:
"ہماری بات کو صرف دھمکی نہ سمجھا جائے، 24 گھنٹوں کا وقت ہم نے سنجیدگی سے دیا ہے۔"‼️

خلیجی ممالک کی “سرخ لکیر”؟جنگ وجدل نے نہایت خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ جب اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ...
29/03/2026

خلیجی ممالک کی “سرخ لکیر”؟
جنگ وجدل نے نہایت خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ جب اسرائیل نے ایران کے سب سے بڑے گیس فیلڈ ساؤتھ پارس (South Pars) کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی کو جنگی اہداف سے آگے بڑھ کر اہم شہری اور معاشی تنصیبات پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے قطر کے شہر رأس لفان (جو دنیا کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس (LNG) برآمدی مرکز ہے) کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی تیل تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔ ان اقدامات نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اب تنازع براہِ راست خلیجی توانائی نظام تک پہنچ چکا ہے۔
خلیجی حکمت عملی:
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ اس جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اسی لیے وہ تاحال محتاط سفارتی رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ تاہم، توانائی کے مراکز پر حملوں کو ایک “سرخ لکیر” قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتے۔ لیکن اپنی معاشی اور قومی سلامتی پر حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ اگر حملے جاری رہے تو فوجی ردعمل خارج از امکان نہیں۔ امریکا واسرائیل کی بھی یہی دیرینہ خواہش ہے۔
“یہ صرف جنگ نہیں، بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے”
کویتی تجزیہ کار زہیر العباد کے مطابق، ایران کے گیس فیلڈ پر حملہ محض عسکری کارروائی نہیں، بلکہ ایک بڑی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد پورے خطے کو جنگ میں دھکیلنا ہے۔ اسرائیل خلیجی ممالک کو جنگ میں شامل کروانا چاہتا ہے۔ ایران کے خلیج پر حملے اسرائیل کو مداخلت کا جواز دے سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک اب تک دانشمندی سے اس جال میں پھنسنے سے بچ رہے ہیں۔
ایران کے لیے ممکنہ نقصان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران خلیجی ممالک کو نشانہ بناتا رہا تو وہ مستقبل کے اہم علاقائی شراکت دار کھو دے گا۔ جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں اسے مشکلات پیش آئیں گی اور خطے میں اس کی سفارتی تنہائی بڑھ سکتی ہے۔
سفارتی کوششیں:
خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، قطر اور عمان، مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔ اب تک کئی اہم اقدامات کئے ہیں: جیسے کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں معاملہ اٹھانا، بین الاقوامی حمایت حاصل کرنا اور دفاعی نظام کو مضبوط بنانا۔
ریاض میں 12 ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی تھا، جس میں مصر، اردن، ترکی، آذربائیجان اور پاکستان جیسے ممالک نے شرکت کی۔
قانونی پہلو: دفاع کا حق محفوظ
اجلاس کے اعلامیے میں ایرانی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، شہری تنصیبات، سفارتی مراکز اور توانائی ڈھانچے پر حملوں کی مذمت کی گئی، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا گیا، یہ آرٹیکل کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، جسے ماہرین ممکنہ فوجی ردعمل کی قانونی بنیاد قرار دے رہے ہیں۔
خلیجی پیغام: صبر کی بھی حد ہوتی ہے
موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک کا مؤقف واضح ہے: ہم جنگ نہیں چاہتے، ہم سفارتی حل کے حامی ہیں، لیکن ہماری توانائی تنصیبات اور قومی مفادات پر حملہ ناقابلِ برداشت ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر ایران نے توانائی کے شعبے کو مسلسل نشانہ بنایا تو یہ ایک بڑی علاقائی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑیں گے۔
مشرقِ وسطیٰ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ خلیجی ممالک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایک طرف سفارت کاری، دوسری طرف دفاعی تیاری۔
لیکن اگر “سرخ لکیر” عبور ہوئی، تو یہ تنازع صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

Address

Multan
32200

Telephone

+923044718752

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when I Love Pakistan Army posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to I Love Pakistan Army:

Share