31/12/2016
سال2016 کا آخری سورج ڈھلنا شروع ہو چکا ہے۔ڈھلتے سورج کی سرد مہری تو آپ دیکھ ہی چُکے ہونگے۔۔۔اور یہ سال کچھ بھی اب سے کچھ دیر بعد ماضی میں گردانا جائے گا۔۔۔۔زندگی اور ہے بھی کیا؟۔۔۔ دِن اور رات اور دن ایک دوسرے میں تبدیل ہونا اور سانسوں کی آمدورفت۔۔۔۔بس اور کیا؟ ہاں انکی اہمیت ہمارے وجود اور اس سے پیدا کردہ ماحول، اور رویوں سے مشروط ہے۔۔
زندگی نشیب و فراز کے ساتھ حسن میں ہیں۔۔غمی و خوشی کے ادوار مل کر زندگی ترتیب دیتے ہیں۔۔۔اگر سب کچھ اچھا ہو جائے اور سب کچھ برا ہوجائے تو دونوں صورتوں میں زندگی بہت بور ہو جائے گی۔۔اسی طرح اس سال ہم نے بہت کچھ کھویا بہت کچھ پایا۔ہم نے بہت سے مواقع بہت سے انسان جنکا بچھڑنا ایک خلا ہے ہم نے کھو دئیے۔۔کھوئے ہوئے کا ملال اپنی جگہ مگر وقت ایک جگہ پر رک نہیں جاتا۔۔انکے جانے سے صرف جسم کا تبادلہ ہؤا ہے۔۔۔شخصیات کا نہیں۔۔۔انکے جینے کے مقصد کا نہیں۔۔ہم ان کے مقصد کو زندہ رکھ سکتے ہیں مقصد زندہ رکھنا گویا انہی کو دلوں میں زندہ رکھنا۔۔۔اور ہر وقت کا اپنا ایک چام ہے جہاں ہم نے بہت کچھ کھویا۔۔۔وہیں ہم نے اجتماعی یا انفرادی طور پر کچھ پایا بھی ہو گا تو جو پایا اُسکی بیش بہا مبارکباد۔۔۔اب ہمیں کھوئے ہوئے کو بھول کر۔۔۔ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا ہے۔۔میرے نزدیک تقریباً ہم خود پر تنقید کے سبھی باب پورے کر چکے ہیں ہیں۔۔میرے خیال میں تنقید کو چھوڑ کر ہمیں حقیقت پسندانہ رویہ اپنا کر اب عمل کرنا ہو گا۔۔۔۔اچھے کے لئیے۔۔۔بہت نفرتیں جمع کر لیں اب ہمیں کچھ نیا کرنا چاہئیے۔۔اب ہمیں مثبت رویوں کو فروغ دینا چاہئیے۔۔ منفیت کا خاتمہ ہو جانا چاہئیے ۔۔۔۔
جو بیت چُکا سو بت چُکا۔۔۔اب ہم نئے سال کی آمد پر بہتری،ترقی، اور آگے بڑھنے کے لئیے پُر عزم ہیں۔۔۔ہم بحییثیت ایک پاکستانی اپنے وطن کی بگڑی ہوئی حالت کو سنوارنے اور اسے ترقی کی نئی راہوں سے روشناس کرواننے کے لئیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔۔۔ اور مجھے امید ہے اپنی قوم کے ہر فرد سے وہ جانتا ہے کہ اسے کس طرح اپنے وطن کی ترقی و خوشحالی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔۔۔ اور ہمیں ایک قوم بن کر ابھرنا ہو گا۔۔انشااللہ!
میری دعا ہے اللہ سبکو خوشیوں اور کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔۔۔اللہ سب کے گناہوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے اور ہمیں آسانیاں بخشے اور دوسروں کے لئیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔
آمین؛
نـــــمــــــودِ صــــــبح نہ ہو گی بعـــید،کہ اُمـــــید ابھی باقی ہے
دیارِ وطن میں گونجے خوشیوں کی نوید،کہ اُمید ابھی باقی ہے