The Right Way Science Academy

The Right Way Science Academy All kind of information
(5)

14/12/2025

Working model of Carbon Absorption Cycle
゚viralシ ゚viralシfypシ゚viralシalシ ゚viralシ ゚viralシfypシ゚

In Japan, the first three years of elementary school place less emphasis on tests and more on developing character, mann...
07/12/2025

In Japan, the first three years of elementary school place less emphasis on tests and more on developing character, manners, and social values. During this time, children are guided to practice respect, empathy, and responsibility, even helping clean their own classrooms—transforming routine chores into lessons in discipline. This thoughtful approach prioritizes emotional intelligence and kindness, building a strong foundation before academics take the spotlight. Educators believe it shapes well-rounded, socially adept individuals, giving Japan’s education system a uniquely holistic—and genuinely heartwarming—edge.

رواں سال خلا کے 220 دن کے دورے سے واپس آنے والے ناسا کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ نے ایکس پر تصویر شیئر کی ہے جو...
06/12/2025

رواں سال خلا کے 220 دن کے دورے سے واپس آنے والے ناسا کے سائنسدان اور فوٹوگرافر ڈونلڈ پیٹٹ نے ایکس پر تصویر شیئر کی ہے جو دنیا بھر میں وائرل ہوگئی

06/12/2025

Holy Quran Recitation

06/12/2025
27/11/2025
عرب کی چار، یورپ کی یار، اور دیسی مرد کا ’بے شرم‘ پیار: مشرقی غیرت کا المیہ! - بلال شوکت آزادآئیے آج ایک منٹ کے لیے جھوٹ...
24/11/2025

عرب کی چار، یورپ کی یار، اور دیسی مرد کا ’بے شرم‘ پیار: مشرقی غیرت کا المیہ! - بلال شوکت آزاد

آئیے آج ایک منٹ کے لیے جھوٹی انا، خاندانی وقار اور "لوگ کیا کہیں گے" کے بتوں کو ایک طرف رکھ کر، اس کرہ ارض کے سب سے مظلوم، سب سے مسکین اور سب سے زیادہ کنفیوژڈ جاندار کا ماتم کریں, جسے عرفِ عام میں "مشرقی شوہر" کہا جاتا ہے۔

یہ وہ مخلوق ہے جو اپنی ساری زندگی "حلال" اور "حرام" کے درمیان نہیں، بلکہ "اماں جی کی گھوری" اور "بیوی کی دوری" کے درمیان لٹکتے ہوئے گزار دیتا ہے۔

دنیا کے نقشے پر تین قسم کے مرد پائے جاتے ہیں جو اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں (یا کم از کم کوشش کر رہے ہیں):

ایک عرب، جس کے لیے ’تعددِ ازواج‘ (Polygamy) نہ صرف شریعت کا حکم ہے بلکہ اس کی ثقافتی مردانگی کا ثبوت بھی؛ وہ چار شادیاں کرتا ہے، چار گھر آباد کرتا ہے، اور معاشرہ اسے ’شیخ صاحب‘ کہہ کر سیلوٹ مارتا ہے۔

دوسرا یورپی، جس کے لیے ’نکاح‘ کا جھنجھٹ ہی نہیں؛ وہ ’ملٹی پل پارٹنرز‘ اور ’ڈیٹنگ‘ کے کلچر میں مست ہے، جہاں اگر تعلق بوجھ بن جائے تو وہ اسے پرانی شرٹ کی طرح اتار پھینکتا ہے۔

اور پھر آتا ہے ہمارا دیسی مشرقی مرد... بیچارہ! یک زوجہ (Monogamous)، وفادار، اور شریف! اتنا شریف کہ اگر اپنی اکلوتی، حلال، اور نکاح شدہ بیوی کے ساتھ دن کی روشنی میں ایک چارپائی پر بیٹھ جائے، تو پورا گھر اسے ایسے دیکھتا ہے جیسے اس نے مسجد کے صحن میں ڈسکو ڈانس شروع کر دیا ہو۔

یہ موضوع اتنا ہی دکھتا ہوا ہے جتنا کہ گرمیوں کی دوپہر میں ننگے پاؤں اسفالٹ کی سڑک پر چلنا۔ میں آج جس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے لگا ہوں، وہ دراصل مشرقی معاشرت کی "منافقت کی شہ رگ" ہے۔

کیونکہ ہمیں بچپن سے سکھایا گیا کہ "مشرقیت" میں بڑی حیا ہے، بڑی شرم ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حیا نہیں، یہ "رومانوی قبض" (Romantic Constipation) ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے ’زنا‘ کو تو آسان بنا دیا (جو کہ ابتدائی مراحل سے اب آگے بڑھ چکا ہے)، لیکن ہم نے نکاح تو نکاح, ’نکاح‘ کے اندر کی حلال محبت کو اس سے بھی زیادہ مشکل، مشکوک اور ’بے ہودہ‘ بنا دیا۔

عرب مرد اپنی بیویوں کے ساتھ گھومتا ہے، یورپ والا اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ ساحل پر لیٹتا ہے، لیکن دیسی مرد؟

وہ اپنی بیوی کے ساتھ موٹر سائیکل پر بھی ایسے بیٹھتا ہے کہ درمیان میں "خاندانی غیرت" کا بیگ رکھا ہوتا ہے تاکہ بریک لگنے پر کہیں جسم سے جسم نہ ٹکرا جائے اور بزرگوں کی روحیں قبروں میں بے چین نہ ہو جائیں۔

ہمارے ہاں میاں بیوی کا ایک ساتھ بیٹھنا، ہنس کر بات کرنا، یا خدا نخواستہ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال دینا، ’اشلیلیتا‘ (Obscenity) کی انتہا سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے خاندانی نظام (Joint Family System) کا غیر اعلانیہ قانون یہ ہے کہ میاں بیوی صرف رات کے اندھیرے میں، بند کمرے کے اندر ہی میاں بیوی ہیں؛ جیسے ہی دروازہ کھلتا ہے اور وہ صحن میں آتے ہیں، انہیں فوراً "بہن بھائی" یا کم از کم "اجنبی پڑوسیوں" والی ایکٹنگ کرنی پڑتی ہے۔

اگر غلطی سے شوہر نے سب کے سامنے بیوی کی تعریف کر دی، یا اسے پانی کا گلاس پکڑا دیا، تو سمجھیں قیامت آ گئی۔ اماں جی کا بلڈ پریشر شوٹ کر جائے گا، پھپھو کی آنکھوں میں آنسو آ جائیں گے کہ

"ہائے! لڑکا تو ہاتھ سے گیا، زن مرید ہو گیا، جورو کا غلام بن گیا!"

یہ معاشرہ اس جوڑے کو تو برداشت کر لیتا ہے جو روزانہ لڑتا ہے، ایک دوسرے کو گالیاں دیتا ہے اور گھر کو جہنم بنا دیتا ہے, انہیں کہا جاتا ہے

"کوئی بات نہیں، برتن ہیں، کھڑکتے ہی ہیں"۔

لیکن اگر کوئی جوڑا پیار سے رہے، ایک دوسرے کے ساتھ ہنسے، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہو، تو انہیں فوراً "بے شرم جوڑے" کا ٹائٹل دے دیا جاتا ہے۔

"دیکھو ذرا! کیسے چپکے بیٹھے ہیں، کوئی شرم حیا نہیں، بڑے بزرگوں کا لحاظ نہیں!"

ارے خدا کے بندو!

وہ اس کی بیوی ہے! حلال ہے!
اس کا لباس ہے!
شریعت نے اسے اس کے لیے سکون بنایا ہے!

لیکن نہیں، ہماری مشرقی ثقافت شریعت سے بڑی ہے۔

شریعت کہتی ہے

"بیوی تمہاری کھیتی ہے"،

مشرقی کلچر کہتا ہے

"خبردار! کھیتی صرف رات کو دیکھنی ہے، دن میں اس پر ’نو ٹریس پاسنگ‘ کا بورڈ لگا دو"۔

یہاں سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ ہم اپنی اس گھٹن کو "اسلامی اقدار" کا نام دیتے ہیں۔

یہ سراسر جھوٹ ہے۔

اسلام وہ دین ہے جس کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زوجہ (حضرت عائشہؓ) کے ساتھ ایک ہی برتن میں پانی پیا، جہاں سے انہوں نے منہ لگایا وہیں سے منہ لگا کر پیا، دوڑ کا مقابلہ کیا، اور سرِ عام اپنی محبت کا اظہار کیا۔

اسلام نے تو مرد اور عورت کے تعلق کو اتنا سہل، اتنا فطری اور اتنا خوبصورت بنایا تھا کہ ایک لقمہ بیوی کے منہ میں ڈالنا بھی "صدقہ" قرار دیا گیا۔

لیکن ہمارے دیسی "مُلا-کلچرل گٹھ جوڑ" نے کیا کیا؟

انہوں نے دین سے "نکاح" کا ڈھانچہ تو لیا، لیکن اس کی "روح" نکال دی۔

عربوں نے کیا لیا؟

انہوں نے شریعت کا "تعدد" (Polygamy) لیا۔ امیر ہیں، وسائل ہیں، انصاف کرتے ہیں (یا کوشش کرتے ہیں)، اور چار شادیاں کر کے اپنی فطری جبلت کو حلال راستے پر رکھتے ہیں۔

یورپیوں نے کیا لیا؟

انہوں نے (اسلام کے بغیر ہی) "آزادی" اور "چوائس" لے لی۔ وہ رشتے کو بوجھ نہیں بننے دیتے، جب تک خوش ہیں ساتھ ہیں، ورنہ الگ۔

ہم نے کیا لیا؟

ہم نے صرف "پابندیاں" لیں۔ ہم نے نہ عربوں والی ہمت اور وسائل پیدا کیے کہ چار شادیاں کر سکیں (یہاں ایک کا نخرہ اور ساس کے طعنے ہی بندے کو جوانی میں بوڑھا کر دیتے ہیں)، اور نہ ہی یورپیوں والی آزادی اپنائی۔

ہم نے ایک "مونوگیمی" (یک زوجگی) اپنائی، اور پھر اس ایک بیوی کو بھی "خاندانی سیاست" کی بھینٹ چڑھا دیا۔

ہمارا مرد ساری زندگی اس حسرت میں گزار دیتا ہے کہ کاش وہ بھی اپنی بیوی کے ساتھ کھل کر جی سکے۔

وہ دفتر میں تھکا ہارا ہوتا ہے، باہر کی دنیا کی حسیناؤں (جو یورپی طرز پر آزاد ہیں) کو دیکھ کر نظریں نیچی (یا اونچی) کرتا ہے، اور جب گھر آتا ہے تو اسے اپنی بیوی کے پاس بیٹھنے کے لیے بھی "موقع" تلاش کرنا پڑتا ہے کہ کب اماں جی سوئیں، کب بچے ٹیوشن جائیں، اور کب وہ اپنی ہی بیوی سے دو میٹھے بول بول سکے۔ یہ زندگی نہیں، یہ "قیدِ بامشقت" ہے۔

نتیجہ: جیسی تیسی گزر جائے!

تو میرے پیارے مشرقی بھائیو!

یہ جو تم "جیسی تیسی گزر جائے" والی زندگی جی رہے ہو، یہ دراصل تمہاری اپنی بزدلی اور معاشرتی منافقت کا نتیجہ ہے۔ تم نے شریعت کو چھوڑ کر "رواج" کو اپنا خدا بنا لیا ہے۔

شریعت کہتی ہے: نکاح آسان کرو، میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں، ایک دوسرے کے لیے زینت اختیار کرو۔

رواج کہتا ہے: نکاح مشکل کرو، جہیز مانگو، اور شادی کے بعد میاں بیوی کو ایسے رکھو جیسے دو اجنبی مجبوری میں ایک چھت تلے رہ رہے ہوں۔

عرب اور یورپ والے زندگی اس لیے جی رہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی اپنی "اقدار" (چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیکولر) کو مکمل اپنایا ہے۔ وہ منافق نہیں ہیں۔

عرب کو چار شادیاں کرنے میں شرم نہیں آتی، اور گورے کو گرل فرینڈ رکھنے میں شرم نہیں آتی۔

صرف ہم ہیں جو "نکاح" کر کے بھی شرما رہے ہیں، اپنی بیوی کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بھی ڈر رہے ہیں، اور ایک چارپائی پر بیٹھنے کو "بے حیائی" سمجھ رہے ہیں۔

حل کیا ہے؟

حل یہ ہے کہ یا تو عربوں جتنی جیب اور ہمت پیدا کر لو، یا پھر کم از کم اتنی غیرت پیدا کر لو کہ اپنی اس "ایک اور اکلوتی" بیوی کو وہ عزت، وہ محبت اور وہ مقام دے سکو جو اللہ نے اسے دیا ہے، چاہے اس کے لیے تمہیں پورے خاندان کی "آنکھوں" اور "زبانوں" کا مقابلہ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

ورنہ، یہ زندگی تو بس گزر ہی جائے گی، لیکن جب اوپر جاؤ گے تو فرشتوں کو کیا منہ دکھاؤ گے کہ

"یا اللہ! تو نے حلال کیا تھا، لیکن میں اماں جی اور محلے والوں سے ڈر گیا تھا؟"



#آزادیات

15/11/2025

Congratulation Pakistan mein Facebook monetization shuru hua.

15/11/2025

A few old men are doing the special type of yoga that you have never seen before 😀

We mourn the passing of Dr. Arfa Sayeda Zehra a renowned educationist, human rights advocate, and distinguished scholar ...
11/11/2025

We mourn the passing of Dr. Arfa Sayeda Zehra a renowned educationist, human rights advocate, and distinguished scholar of Urdu language and culture. Throughout her illustrious career, she dedicated herself to promoting education, equality, and social justice. Her powerful voice and intellectual integrity inspired countless students, educators, and activists across Pakistan and beyond. Dr. Zehra’s lifelong commitment to women’s empowerment and cultural preservation has left an indelible mark on society. Her legacy will continue to enlighten generations to come.

Address

Multan

Telephone

+923007196639

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Right Way Science Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share