Infostan - Information Portal

Infostan - Information Portal Infostan - The Information Portal working to provide information about various things and topics ava

سنگدل خاتون نے پمز ہسپتال سے 1 روزکے نامولود بچے کو اغواء کر لیا 10 جنوری 2015   اغواء میں ہسپتال کا عملہ ملوث ہے ، ورثا...
10/01/2015

سنگدل خاتون نے پمز ہسپتال سے 1 روزکے نامولود بچے کو اغواء کر لیا
10 جنوری 2015


اغواء میں ہسپتال کا عملہ ملوث ہے ، ورثاء واقعہ والدین کی غفلت کے باعث پیش آیا،پمز حکام
ورثاء کا پمز عملے کے خلاف احتجاج زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے کو بند کر دیا
واقعے کی تحقیقات کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی
اسلام آباد (انفوستان نیوز) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز(پمز) کے زچہ بچہ وارڈ سے نا مولود بچے کو رات 12 بجے اغواء کر لیا گیا بچے کے اغواء میں ہسپتال کا عملہ ملوث ہے ورثاء کا الزام ورثاء کا پمز عملے کے خلاف احتجاج زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے کو بند کر دیا ۔واقعے کی تحقیقات کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق علی پور کی رہائشی شازیہ کے ہاں جمعے کی درمیانی شب پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنیز (پمز) کے زچہ بچہ وارڈ میں بچے کی ولادت ہوئی تھی ولادت کے بعد نو مولود بچے کو زچہ بچ وارڈ سے جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا تھا جہاں سے اٹینڈ کی موجودگی کے باوجود ایک نامعلوم خاتون وارڈ میں گھس آئی اور بچے کو اٹھا کر فرار ہوگئی نومولود بچے کے اغواء کے بعد بچے کے والدین نے بچے کے اغواء کی ساری ذمہ داری ہسپتال کے عملے پر ڈال دی انہوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ بچے کے اغواء میں ہسپتال کا ملوث ہے جبکہ (پمز ) حکام نے اس الزام کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ الزام میں کو ئی حقیقت نہیں ہے واقعہ والدین کی غفلت کے باعث پیش آیا ہے اغواء کی تحقیقا ت کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ٹیم میں ہسپتال کے سکیورٹی سپروائزر اور زچہ بچہ وارڈ کے سٹاف کے ممبرز کو بھی شامل کیا گیا ہے ڈائریکٹر زچہ بچہ وارڈ کا کہنا ہے وارڈ میں کو ئی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں ہیں کہ جس سے اغواء کر نے والی خاتون کی شناخت کی جائے ۔ادھر نامولود بچے کے ورثاء نے پمز عملے کے خلاف زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک ایکسپریس ھائی وے کو بلا ک کر دیا جسکے باعث گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں ورثاء کا مطالبہ ہے کہ واقع میں ملوث کو گرفتار کر کے ہمیں ہمارا لخت جگر لوٹایا جائے پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود 2 سیکورٹی گارڈ اور ایک سینٹری ورکر کو حراست میں لے کر تھانہ مارگلہ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے

’ہمارے گھروں کو تعمیر کیا جائے‘، آپریشن ضرب عضب کے متاثرین 10 جنوری 2015   پشاور(انفوستان نیوز) حکومتی اور فوجی دعوؤں کے...
10/01/2015

’ہمارے گھروں کو تعمیر کیا جائے‘، آپریشن ضرب عضب کے متاثرین
10 جنوری 2015


پشاور(انفوستان نیوز) حکومتی اور فوجی دعوؤں کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کے بعد نوّے فیصد علاقے کو کلیئر کر دیا گیا تاہم ابھی تک وہاں سے بے گھر ہونے والے گیارہ لاکھ افراد کی واپسی کے لئے کوئی موثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔ فاٹا سیکرٹریٹ کے ترجمان عدنان خان سے جب اس سلسلے میں ڈوئچے ویلے نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا، ”بے گھر قبائلی عوام کی واپسی سے قبل ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے باقائدہ فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں، جن علاقوں میں صورتحال بہتر ہے، وہاں صحت،تعلیم، بجلی، پانی اور مواصلات کے نظام پر کام شروع کرنے کے لئے فنڈز جاری کر دیے گئے ہیں۔ بحالی کا کام مکمل ہو جائے تو حکومت موزوں وقت پر ان کی واپسی کے شیڈول کا بھی اعلان کریگی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ بے گھر افراد کی واپسی کے وقت انہیں تمام سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم ہوں، تعلیمی ادارے کھل جائیں اور صحت کے مراکز فعال ہوں سب سے زیادہ نقصان بجلی اور تعلیمی اداروں کو پہنچایا گیا، جس کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کیا جارہا ہے۔“ فاٹا سیکرٹریٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خیبر پختونخوا میں شمالی وزیرستان کے ستاسی ہزار خاندان، خیبر ایجنسی کے چھیانوے ہزار خاندان، جنوبی وزیر ستان کے باسٹھ ہزار، اورکزئی کے انتیس ہزار اور کُرم ایجنسی کے پچیس ہزار خاندان رہائش پذیر ہیں۔ مہمند اور باجوڑ ایجنسی کے بے گھر افراد اسکے علاوہ ہیں۔ خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ کے رہنما سہیل آفریدی سے جب ڈوئچے ویلے نے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ”بے گھر افراد میں صرف دس فیصد تک لوگ کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں اور ان لوگوں کو بھی حکومت سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ کیمپوں میں رہنے والے ایک دن بھی خیموں میں رہنا نہیں چاہتے، اگر حکومت کل انہیں گھر جانے کی اجازت دیں تو وہ جانے کے لئے تیار ہیں۔ خیبر ایجنسی کے تحصیل باڑہ میں یکم ستمبر 2009ء سے آپریشن شروع کیا گیا اور اس علاقے میں اس وقت سے کرفیو نافذ ہے، وہاں کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کیا گیا ہے۔ باڑہ مارکیٹ پورے ملک میں مشہور تھی اور لوگ وہاں شاپنگ کے لئے آتے رہے لیکن آج ان علاقوں میں کاروبار مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔‘‘ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک روز قبل پولیٹیکل انتظامیہ نے انہیں جلد از جلد بحالی کا کہا ہے لیکن انہیں تاریخ نہیں بتائی کہ بے گھر لوگوں کو اپنے گھر جانے کی اجازت کب دی جائیگی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بے گھر افراد کے ساتھ صوبائی حکومت کے اداروں کے رویے سے بالکل مطمئین نہیں ہیں، ’’ہم چاہتے ہیں کہ بے گھر افراد کی جلد از جلد واپسی ہو اور انہیں مکمل بحالی پیکیج دیا جائے۔“ متاثرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک اور پوری دنیا کو دہشت گردی سے بچانے کے لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنا گوارہ کیا لیکن بین الاقومی اور ملکی حکومتوں نے ان کی قربانیوں کی قدر نہیں کی اور انہیں اشیائے ضرورت بھی بھیک کی طرح دی جاتی ہے،انہیں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونا پڑتا ہے۔ قبائلی اُمور کے ماہر محمد جمیل خان مومند کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقوں کا بنیادی ڈھانچہ ایک عشرے پر محیط جنگ نے تباہ کردیا ہے، اب اس کی بحالی مہینوں یا سال کی بات نہیں بلکہ اسکے لئے سالوں درکار ہوں گے۔ اندازوں کے مطابق قبائلی علاقوں کی آبادی ایک کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے تاہم وفاقی حکومت کے زیر انتظام ان علاقوں کی تعمیر و ترقی کے لئے سال رواں کے بجٹ میں صرف17ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

پائلٹ نے مسلسل 20 گھنٹے جہاز اڑا کر فلائٹ سیفٹی کی دھجیاں اڑا دیں 10 جنوری 2015   کراچی(انفوستان نیوز)پی آئی اے کے پائل...
10/01/2015

پائلٹ نے مسلسل 20 گھنٹے جہاز اڑا کر فلائٹ سیفٹی کی دھجیاں اڑا دیں
10 جنوری 2015


کراچی(انفوستان نیوز)پی آئی اے کے پائلٹ نے مسلسل 20 گھنٹے جہاز اڑا کر فلائٹ سیفٹی کے قوانین کی دھجیاں اڑادیں ۔ پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے کے فلائٹ آپریشن حکام نے پائیلٹ کو بغیر آرام کیے پرواز پر مجبور کیا۔ پی آئی اے کے پائلٹ کیپٹن ایم ڈبلیو ملک نے اپنی گرینڈ جرنی کا آغاز8 جنوری کی شام پانچ بجے کراچی سے جدہ کیلئے پرواز پی کے 731 اڑا کر کیا، اگلے ہی دن 9 جنوری کو عل الصبح کپٹن ایم ڈبلیو ملک جدہ سے کراچی کیلئےطیارہ لے کر اڑگئے شدید دھند کی وجہ سے طیارہ کراچی میں لینڈنہیں کرسکا ، فلاٹٹ کو مسقط میں لینڈ کرنا پڑا۔ مسقط میں کئی گھنٹے قیام کے دوران پی کے 732 کے پائلٹ کا ڈیوٹی ٹائم ختم ہوگیا۔ فلائٹ ڈیوٹی ٹائم قانون کے مطابق پائلٹ کی فلائنگ ڈیوٹی دس گھنٹے ہے، سی اے اے کے ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈ 2 گھنٹے کی چھوٹ جبکہ ڈائریکٹر جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی مزید 4 گھنٹے طیارہ اڑانےکی اجازت دے سکتے ہیں یعنی ایک پائلٹ زیادہ سے زیادہ بھی صرف 16 گھنٹے پرواز کرسکتا ہے۔ لیکن ذرائع کے مطابق پی آئی اے انتظامیہ کے مجبور کرنے پر پائلٹ کیپٹن ایم ڈبلیو ملک نے ڈیوٹی ٹائم لمی ٹیشن اور فلائٹ سیفٹی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 19 گھنٹے 55 منٹ کی مسلسل فلائنگ ڈیوٹی کی ۔ اس پرواز پر نہ صرف پائیلٹس بلکہ فضائی میزبانوں نے بھی خلاف قانون اضافی ڈیوٹی کی ۔پی آئی اے کے ترجمان حنیف رانا اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جارج کا کہنا ہے کہ پائلٹ کی رضامندی کے بعد ہی اسے پرواز جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن پی آئی اے اور سی اے اے کے ترجمان اس سوال کے جواب میں خاموشی اختیار کرگئے کہ مسافروں اور طیارے کی سلامتی کے بین الاقوامی قوانین کے اس کھلی خلاف ورزی کی اجازت کس قانون کے تحت دی گئی ۔20 گھنٹے کی مسلسل ڈیوٹی سے تھکے ہارے پائلٹ سے اگر پرواز کو کوئی حادثہ پیش آجاتا تو اس کی ذمہ داری سول ایوی ایشن اتھارٹی قبول کرتی یا پی آئی اے ۔350 مسافروں کی سلامتی کو کس قانون کے تحت خطرے میں ڈالا گیا؟ جبکہ ملک میں فضائی حادثات کی تاریخ یہ ہے کہ ہر حادثہ کی ذمہ داری حادثے میں جاں بحق ہوجانے والے پائلٹ پر ہی عائد کی گئی ۔

قومی کرکٹرشعیب ملک سے کوئی تعلق نہیں ، سازش کی جا رہی ہے ‘ اداکارہ عمائمہ ملک 10 جنوری 2015   لاہو ر(انفوستان نیوز) فلم ...
10/01/2015

قومی کرکٹرشعیب ملک سے کوئی تعلق نہیں ، سازش کی جا رہی ہے ‘ اداکارہ عمائمہ ملک
10 جنوری 2015


لاہو ر(انفوستان نیوز) فلم اور ٹی وی کی معروف اداکارہ عمائمہ ملک نے کہا ہے کہ میرا قومی کرکٹرشعیب ملک سے کوئی تعلق نہیں ہے ، ذراسی ملاقات کا بتنگڑبنایاجارہا ہے جو میرے کرےئر کو نقصان پہنچانے کی ایک سازش ہے ۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شعیب ملک ایک شادی شدہ آدمی ہے جو اپنی بیوی سے بڑی محبت کرتا ہے اس کی شادی شدہ زندگی کے خلاف ایسی خبریں لگانے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ۔ عمائمہ ملک نے کہا کہ میں فضول باتوں کی طرف توجہ دینے کی عادی نہیں ہوں ، اس وقت میری تمام تر توجہ اپنے کام کی طرف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں میر ے کام اور میری اداکاری کو بہت سراہا گیا ہے ۔ بھارتی لوگ بڑے صلاحیت اور پروفیشنل ہیں کیونکہ ہیرے کی قدر صرف جوہری ہی جانتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ میری آنے والی بھارتی فلموں میں میرا کردار میرے چاہنے والوں کو پسند آئے گا ۔

پنڈتوں نے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کی نوید سنا دی 10 جنوری 2015   لاہور(انفوستان نیوز)پنڈتوں نے اگلے مہینے شروع ہ...
10/01/2015

پنڈتوں نے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کی نوید سنا دی
10 جنوری 2015


لاہور(انفوستان نیوز)پنڈتوں نے اگلے مہینے شروع ہونے والے کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی جیت کی نوید سنادی ہے ۔کرکٹ کا عالمی دنگل 37روز بعد شروع ہو رہا ہے اور دنگل کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ یہ عالمی کپ بھی 1992جیسا ہو گا جس میں پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں فتح حاصل کی تھی تب نواز شریف وزیراعظم تھے جنہیں اب بھی عوام نے اس منصب پر فائز کیاہے البتہ تب ٹیم کی قیادت عمران خا ن کر رہے تھے جو اس وقت عمران خان غیر شادی شدہ تھے اور اب ان کی باقاعدہ شادی ہو چکی ہے اور ٹیم کی قیادت نہیں کر رہے بلکہ اب قومی ٹیم کی قیادت عمران خان کے قبیلے اور آبائی شہر میانوالی سے تعلق رکھنے والے مصباح الحق کر رہے ہیں۔

سائنسدانوں نے 30 سال بعد پہلی اینٹی بایوٹک دوا کا فارمولا تیار کرلیا 10 جنوری 2015   بوسٹن(انفوستان نیوز)گزشتہ کئی دہائی...
10/01/2015

سائنسدانوں نے 30 سال بعد پہلی اینٹی بایوٹک دوا کا فارمولا تیار کرلیا
10 جنوری 2015


بوسٹن(انفوستان نیوز)گزشتہ کئی دہائیوں سے ماضی کے سائنسدانوں کی کاوشوں کی بدولت تیار کی جانے والی اینٹی بایوٹیک ادویات انسانی صحت کی ضامن رہی ہیں تاہم 50 اور 60 کی دہائی اور 1987 کے بعد اس سلسلے میں کوئی نئی دریافت نہ ہونا سائنسدانوں ک لیے تشویش کا باعث تھا لیکن اب ان کی پریشانی ختم ہوئی اور 3 عشروں بعد نئی اینٹی بایوٹیک دوا تیار کر لی گئی ہے جسے میڈیکل سائنس میں ایک اہم دریافت قراردیا جارہا ہے۔ امریکا کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی بوسٹن کے سائنسدان کئی دہائیوں سے مختلف تجربات سے ایسے اینٹی بیکٹریا دوا بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے جو نئی پیدا ہونے والی بیماریوں اور انفکیشن کے جراثیم کو قابو کرسکیں اور بالآخر ان کی کوشش رنگ لے آئی اور انہوں ’ٹیکسوبیکٹم‘ نامی اینٹی بایوٹیک دریافت کرلی جو بیکٹریل انفیکشن تپ دق، خون میں گندگی پیدا کرنے والے جراثیم اور سی ڈف کے خلاف انسانی جسم میں مزاحمت پیدا کرے گی تاہم یہ میڈیسن آئندہ 5 سال میں دستیاب ہوگی۔ ابتدائی طور پر اس دوا کا تجربہ ایک چوہے پر کیا گیا جس کے انتہائی مثبت نتائج سامنے آئے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ اس دوا کے کسی قسم کے سائیڈ ایفکیٹس بھی نظر نہیں آئے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس دوا کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ یہ بیکٹریا سیل وال کو مضبوط کرنے والے سیل پر دو طرفہ حملہ کرے گی اور انہیں بڑھنے سے روکے گی۔ بوسٹن کی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے نئی اینٹی بائیوٹک کی دریافت کے لیے ایک دلچسپ اور قدیم طریقہ اختیار کیا یعنی مٹی کا استعمال۔ مٹی میں بڑی تعداد میں جراثیم موجود ہوتے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک فیصد کو تجربہ گاہ میں اگایا جا سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے بیکٹیریا کے لیے ایک خاص قسم کا ماحول تیار کیا جسے انہوں نے زیرِ زمین ہوٹل کا نام دیا، اس ہوٹل کے ہر ’کمرے‘ میں ایک ایک بیکٹیریا ڈال دیا گیا اور اس آلے کو مٹی میں دفنا دیا گیا۔ اس طرح بیکٹیریا کو اپنی افزائش کے لیے مٹی کا مخصوص ماحول دستیاب ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ سائنس دانوں کو ان کا مشاہدہ کرنے کا موقع بھی مل گیا، اس کے بعد ان جراثیم سے ایک دوسرے کے خلاف جو کیمیائی مادے خارج ہوئے اور ان کی جراثیم کش خصوصیات کا تجزیہ کیا گیا، اس طریقے سے سائنس دانوں کو 25 نئی اینٹی بائیوٹکس ہاتھ آئیں، جن میں سے ایک ’ٹیکسوبیکٹن‘ سب سے زیادہ حوصلہ افزا نکلی۔ تحقیق کے مرکزی سائنس دان پروفیسر کم لیوس کاکہنا تھا کہ اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے تجربہ گاہ سے باہر اگائے جانے والے بیکٹیریا ایسے مخصوص کیمیائی مادے خارج کرتے ہیں جو ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھے تھے، یہ جراثیم کش ادویات کا بہت حوصلہ افزا ماخذ ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سے اینٹی بیکٹیریا کی دریافت کا نیا باب کھل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چوہوں پر کیے جانے والے تجربات سے پتہ چلا کہ یہ متعدد اینٹی بائیوٹکس کے لیے مدافعت رکھنے والے بیکٹیریا کے خلاف بھی موثر ہے۔

دبئی کے ایک ماہ کے سیاحتی ویزا کی فیس میں 40 درہم کا اضافہ 09 جنوری 2015   دبئی (انفوستان نیوز) دبئی کے ایک ماہ کے سیاحت...
10/01/2015

دبئی کے ایک ماہ کے سیاحتی ویزا کی فیس میں 40 درہم کا اضافہ
09 جنوری 2015


دبئی (انفوستان نیوز) دبئی کے ایک ماہ کے سیاحتی ویزا کی فیس میں 40 درہم کا اضافہ کردیاگیا اور اب سیاحتی ویزا کی فیس 210 درہم کی بجائے 250 درہم ہوگی اور ویزا بھی ناقابل توسیع ہوگا ۔ ذرائع ابلاغ نے ٹریول ایجنٹس کے حوالہ سے بتایاکہ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈینسی اینڈ فارنرز افیئر نے یکم جنوری سے سیاحوں کی 30 روزہ سنگل انٹری کیلئے فیس 250 درہم کردی ہے اور ویزا میں ایک ماہ کی توسیع اور دس دن کا گریس پیریڈ بھی ختم کردیا گیا ہے ۔ ایجنٹس جو کہ ا س سے قبل ٹورسٹ ویزوں کو پراسیس کرنے کی فیس 300 درہم لے رہے تھے وہ اب 450 درہم فیس لیں گے ۔فوری طورپر ویزا فیس میں اضافہ کی سرکاری طورپر تصدیق نہیں ہوسکی۔

لمبی اور صحت مند زندگی کا راز: دلیہ 10 جنوری 2015   لندن(انفوستان نیوز) ماہرین کہتے ہیں کہ اناج ایک ایسی جادو کی گولی ہے...
10/01/2015

لمبی اور صحت مند زندگی کا راز: دلیہ
10 جنوری 2015


لندن(انفوستان نیوز) ماہرین کہتے ہیں کہ اناج ایک ایسی جادو کی گولی ہے جو وٹامنز، معدنیات، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹ سے بھری ہوئی ہے۔ اسی لیے اناج کو صحت کے لیے ایک خزانہ سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ہائی فائبر یا زیادہ ریشوں والی خوراک کے صحت پر فوائد کے بارے میں لوگوں کو بہت پہلے سے علم ہے لیکن اس نئی تحقیق میں تجزیہ کاروں نے معلوم کیا ہے کہ کیا اناج کھانے کے صحت پر طویل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں؟ ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں کو اس نئے مطالعے سے پتا چلا ہے کہ ہر روز دلیہ کا ایک چھوٹا پیالہ کھانا لمبی اورصحت مند زندگی کی کلید بن سکتا ہے۔ سائنس دانوں نے ایک وسیع پیمانے پر کی جانے والی تحقیق سے نتیجہ اخذ کیا کہ جو لوگ خالص اناج سے بنی غذائیں کھاتے ہیں ان میں دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے جس کی وجہ سے دل کی بیماریوں سے مرنے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ سائنسی جریدے 'جرنل جاما انٹرنل میڈیسن' میں شائع ہونے والی تحقیق سے وابستہ تحقیق کاروں نے 14 برس سے زائد عرصے تک 100,000 افراد کی غذا اور صحت کے نتائج کی نگرانی کی۔ یہ تمام لوگ 1984 میں صحت مند تھے جب ان کا اندراج ہوا تھا لیکن جب 2010 میں ایک بار پھر ان کی صحت کے بارے میں معلومات اکھٹی کی گئی تو پتا چلا کہ شرکاء میں سے 26,000لوگوں کی موت واقع ہو گئی تھی۔ تاہم جن لوگوں کی خوراک میں اناج، براؤن چاول، مکئی، دلیہ اور جو زیادہ مقدار میں شامل تھا وہ بہت سی بیماریوں بالخصوص دل کے مرض سے محفوظ لگ رہے تھے۔ تحقیق کاروں نے بتایا کہ نتائج سے ظاہر ہوا کہ خالص اناج کی 28 گرام یا ایک چھوٹا پیالہ ریشہ دار غذا مثلا دلیہ دن میں ایک بار کھانے سے موت کے خطرے کو 5 فیصد اور دل کے امراض کے خطرے کو 9 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک ڈاکٹر ہانگیووو نے کہا کہ ہمارا مطالعہ سے موجودہ غذائی ہدایات کی حمایت ہوئی ہے جس میں اناج کی کھپت میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نتائج نے ایسا امید افزا ثبوت فراہم کیا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خا لص اناج کا کھانا کھانے کے فوائد سے متوقع زندگی میں توسیع ہو سکتی ہے۔ مطالعے کے مصنف ہانگیو وو کے مطابق بھوسے والی اناج میں چوکر اور جراثیم رہ جاتے ہیں اسی لیے اس میں صاف کئے ہوئے اناج مثلا سفید چاول، سفید پاستا، سفید آٹے کے مقابلے میں 25 فیصد سے زائد اضافی پروٹین ہوتا ہے۔ بقول ڈاکٹر ہانگیووو پچھلے مطالعے میں دکھایا گیا تھا کہ خا لص اناج کا استعمال کرنے سے ہڈیوں کی کثافت، بلڈ پریشر میں کمی اور پیٹ میں صحت مند بیکٹیریا کو فروغ ملتا ہے اور ذیا بیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ صرف اوٹ یا جئی میں ایک فائبر 'بیٹا گلوکن' ہوتا ہے جسے کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھا جا سکتا ہے جس کی وجہ سے دل کے امراض کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ جب جسم میں قدرتی قوت مدافعت بڑھانے کی بات آتی ہے تو بیٹا گلوکن صحت مند رہنے کی جنگ میں بیٹا گلوکن ایک اہم ہتھیار ہوتا ہے لیکن چونکہ ہمارا جسم قدرتی طور پر بیٹا گلوکن پیدا نہیں کرتا ہے۔ اس لیے اس مرکب کو حاصل کرنے کے لیے واحد راستہ بیرونی ذرائع ہوتے ہیں جو بالخصوص اناج، خمیر، گندم اور مشروم اور بالخصوص جئی میں بھرا ہوتا ہے۔ جئی کو بنیادی طور پر بیٹا گلوکن کی وجہ سے دل کے لیے صحت مند خوراک کہا جاتا ہے۔ دلیے کو برسوں سے ایک غذائیت بخش ناشتہ خیال کیا جاتا ہے جو ریشہ دار غذا ہے جس سے دیر تک بھوک نہیں لگتی ہے اور آپ بہتر محسوس کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کھلاڑیوں اور ڈائیٹنگ کرنے والوں کا صبح کے ناشتہ میں اناج انتخاب ہوتا ہے۔ اناج بہت سی غذائی ہدایات میں بڑے پیمانے پر شامل ہے کیونکہ یہ زنک، تانبا، میگنیشیئم، آئرن اور تھائیم پر مشتمل ہوتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ خالص اناج کھانے سے جسم میں مانع تکسید مادہ یا اینٹی آکسیڈنٹس کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جو خلیوں کو فری ریڈیکلز نامی مالیکیولز سے بچاتا ہے۔ نئی تحقیق بتاتی ہے کہ اگر زیادہ لوگ اناج کو غذا کے طور پر شامل کرتے ہیں تو ہر سال ہزاروں جانیں بچائی جاسکتی ہیں۔

تھر میں غذائی قلت کے شکار مزید 4بچے دم توڑ گئے 10 جنوری 2015   مٹھی(انفوستان نیوز) تھر میں غذائی قلت اور بنیادی صحت کی س...
10/01/2015

تھر میں غذائی قلت کے شکار مزید 4بچے دم توڑ گئے
10 جنوری 2015


مٹھی(انفوستان نیوز) تھر میں غذائی قلت اور بنیادی صحت کی سہولیات کی کمی نے آج بھی 4 زندگیوں کے چراغ بجھا دئیے جس کے بعد گزشتہ 10 روز میں ہلاکتوں کی تعداد 42 ہوگئی ہے۔ میڈیا کے کے مطابق تھر میں بھوک اور پیاس کے باعث موت کے سائے منڈلارہے ہیں، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر مٹھی کے سول اسپتال میں 9 ماہ کا پرکاش، ڈیپلو کے گاؤں کمالو میں 8 دن کی کوثر، اشرف حالو کا نومولود بچہ اور چھاچھرو کے تحصیل اسپتال میں زیر علاج 6 ماہ کی لیلا کو قحط نے نگل لیا۔ گزشتہ 10 روز میں 39 بچوں سمیت 42 افراد بھوک ، افلاس اور حکومتی غفلت کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں، اس کے علاوہ سول اسپتال مٹھی میں زیرعلاج 40 بچوں میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 2 بچوں کو حیدرآباد بھجوایا گیا ہے۔ دوسری جانب تھر کے غریب باسیوں میں گندم کی پانچویں قسط دو ماہ گزرجانے کے باوجود بھی مکمل طورپر تقسیم نہیں کی جاسکی۔ سردی کی شدت میں اضافے کے باوجود متاثرین کو اب تک امدادی کھجوریں بھی مہیاں نہیں کی گئیں۔

Address

Multan
60600

Telephone

+971562824248

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Infostan - Information Portal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share