10/01/2015
سنگدل خاتون نے پمز ہسپتال سے 1 روزکے نامولود بچے کو اغواء کر لیا
10 جنوری 2015
اغواء میں ہسپتال کا عملہ ملوث ہے ، ورثاء واقعہ والدین کی غفلت کے باعث پیش آیا،پمز حکام
ورثاء کا پمز عملے کے خلاف احتجاج زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے کو بند کر دیا
واقعے کی تحقیقات کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی
اسلام آباد (انفوستان نیوز) پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائینسز(پمز) کے زچہ بچہ وارڈ سے نا مولود بچے کو رات 12 بجے اغواء کر لیا گیا بچے کے اغواء میں ہسپتال کا عملہ ملوث ہے ورثاء کا الزام ورثاء کا پمز عملے کے خلاف احتجاج زیرو پوائنٹ سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے کو بند کر دیا ۔واقعے کی تحقیقات کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ۔ تفصیلات کے مطابق علی پور کی رہائشی شازیہ کے ہاں جمعے کی درمیانی شب پاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنیز (پمز) کے زچہ بچہ وارڈ میں بچے کی ولادت ہوئی تھی ولادت کے بعد نو مولود بچے کو زچہ بچ وارڈ سے جنرل وارڈ میں منتقل کر دیا تھا جہاں سے اٹینڈ کی موجودگی کے باوجود ایک نامعلوم خاتون وارڈ میں گھس آئی اور بچے کو اٹھا کر فرار ہوگئی نومولود بچے کے اغواء کے بعد بچے کے والدین نے بچے کے اغواء کی ساری ذمہ داری ہسپتال کے عملے پر ڈال دی انہوں نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ بچے کے اغواء میں ہسپتال کا ملوث ہے جبکہ (پمز ) حکام نے اس الزام کو مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ الزام میں کو ئی حقیقت نہیں ہے واقعہ والدین کی غفلت کے باعث پیش آیا ہے اغواء کی تحقیقا ت کے لئے 5 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ٹیم میں ہسپتال کے سکیورٹی سپروائزر اور زچہ بچہ وارڈ کے سٹاف کے ممبرز کو بھی شامل کیا گیا ہے ڈائریکٹر زچہ بچہ وارڈ کا کہنا ہے وارڈ میں کو ئی سی سی ٹی وی کیمرے موجود نہیں ہیں کہ جس سے اغواء کر نے والی خاتون کی شناخت کی جائے ۔ادھر نامولود بچے کے ورثاء نے پمز عملے کے خلاف زیرو پوائنٹ سے لے کر فیصل مسجد تک ایکسپریس ھائی وے کو بلا ک کر دیا جسکے باعث گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں ورثاء کا مطالبہ ہے کہ واقع میں ملوث کو گرفتار کر کے ہمیں ہمارا لخت جگر لوٹایا جائے پولیس کا کہنا ہے کہ ڈیوٹی پر موجود 2 سیکورٹی گارڈ اور ایک سینٹری ورکر کو حراست میں لے کر تھانہ مارگلہ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان سے پوچھ گچھ جاری ہے