07/06/2026
پنجاب میں ناجائز قابضین اپنا اپنا سامان باندھ لیں ۔
اور کوئی اور کام ڈھونڈ لیں کیونکہ قانون حرکت میں آچکا ہے۔
باقاعدہ ٹربیونل بنا دیے گئے ہیں
پنجاب پراپرٹی اونر شپ ترمیمی ایکٹ، 36 اضلاع میں ٹربیونلز نامزد
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب کے 36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو ٹربیونلز مقرر کرکے فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کردی جبکہ مجموعی طور پر 575 کیسز میں حکمِ امتناعی ختم کرتے ہوئے تمام کیسز ٹربیونلز کو بھجوا دیئے گئے ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے تحت 36 ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونلز نامزد کیا ہے۔
ٹربیونلز کو اختیار ہوگا کہ وہ قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کروائیں اور جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دے سکیں، اگر کوئی کیس کسی عدالت میں زیر التوا ہوگا تو دونوں میں سے کوئی بھی فریق درخواست دے کر اسے ڈی سی کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو منتقل کرنے کی استدعا کرسکے گا ،تاہم حتمی فیصلہ عدالت کا ہوگا۔
اس سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب پراپرٹی اونرشپ ایکٹ کے مبینہ غلط استعمال پر حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ بعد ازاں پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی، جس کے بعد ہائیکورٹ میں زیر التوا تمام حکم امتناعی ختم کر دئیے گئے۔
علاوہ ازیں ایڈیشنل سیشن ججز ٹربیونلز میں فرائض انجام د یں گے، فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی گئی ہے جبکہ حکم امتناعی ختم کرکے 575 کیسز ٹربیونلز کو بھیج دئیے گئے ہیں، ٹربیونلز کو قبضہ پولیس کے ذریعے واگزار کرانے ،جرم ثابت ہونے پر ملزموں کو 3 سے 10 سال تک قید اور لاکھوں روپے جرمانے کی سزا دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔