Wajood e Ishq

Wajood e Ishq wajood-e-ishq
Dil s Rab tak ka safar
novel available I am Meta Certified Social Media Marketing Associate and Google Certified Digital Marketing Associate.

31/07/2026

Some Lines from my Novel Wajood e Ishq

اب میں سب کو ایک بہت اہم مشورہ دوں گا، بلکہ ایک التجا کروں گا۔
یہ اردو اسپیکنگ معاشرہ ہے اور ہم سب کی قومی زبان اردو ہے۔
غور سے سنیے گا، اسلام لانے کا، مسلمان ہونے کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لانا اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے تمام انبیا پر ایمان لانا۔
اس کا مطلب ہے تمام انبیا کی اتنی عزت کرنی ہے جتنی عزت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ایک پیغمبر کا حق ہے۔ اس بات کو آپ سب مسلمان مانتے ہوں گے۔
آپ سب نے حضرت لوطؑ کا نام، ان کی قوم کا قصہ قرآنِ پاک میں پڑھا ہوگا۔
کیا آپ حضرت لوطؑ کی عزت کرتے ہیں؟
کیا آپ ان کو اللہ تعالیٰ کا پیغمبر مانتے ہیں؟
پھر آپ کو حضرت لوطؑ کا نام کیوں پسند نہیں؟
ان کے نام کی بے ادبی کیوں کرتے ہیں؟
آپ تحمل سے سنیے گا۔
کوئی محمدی فعل، محمدی کام، ابراہیمی فعل یا ابراہیمی کام برا ہے یا گناہ سے تشبیہ دیتے ہیں آپ؟
نہیں نا؟
تو پھر لوطی فعل کو کیوں گھناونے، قبیح ہم جنس پرستی کے کام سے تشبیہ دیتے ہیں۔
محمدیت یا ابراہیمیت کبھی کوئی برا کام یا برا فعل ہو سکتا ہے؟
نہیں نا؟
تو پھر لواطت کو آپ نے ہم جنس پرستی کیوں کہا ہوا ہے؟
آپ یہی کہیں گے کہ ان کی قوم میں یہ برائی تھی، یعنی قومِ لوطؑ میں یہ برائی تھی، اس لیے ایسے نام تشبیہ میں لوگوں نے رکھ لیے۔
تو حضرت شعیبؑ کی قوم میں ناپ تول میں کمی کی اور کاروبار میں دھوکا دینے کی برائی تھی، یعنی قومِ شعیب۔
کیا کسی نے آج تک کسی شعیبی کام کو برا کہا؟
کیا شعیبیت کو ہم کسی برے کام سے تشبیہ دے سکتے ہیں؟
نہیں نا، کیونکہ اس طرح حضرت شعیبؑ کی توہین ہو جائے گی۔
تو پھر حضرت لوطؑ کے نام سے کیا مسئلہ ہے آپ کو؟
پتا نہیں ان کے نام کو، ان کے نام کے ماخذ کو specifically target کیا گیا یا گستاخی کرتے وقت کسی نے دھیان ہی نہیں دیا۔
میں آپ سب سے التجا کروں گا۔ یہ سب انبیا آخرت میں ہمارے سامنے ہوں گے۔ حضرت لوطؑ نے ہماری شکایت اللہ تعالیٰ سے کر دی پھر کیا ہو گا ہمارا؟
یا ہمارا ایک نبی کے نام کے ماخذ کو غلط کاموں سے تشبیہ دینا میرے رب کو برا لگ گیا تو کیا ہو گا ہمارا؟
صرف اردو کی بات نہیں، سرائیکی میں بھی لوط نعوذ باللہ ایسے بچے یا کمزور بوڑھے کو کہتے ہیں جو سٹل پڑا ہو، حرکت نہ کر سکتا ہو۔
مجھے لگتا ہے اللہ تعالیٰ کے دیے گئے حضرت لوطؑ کے نام کو specifically target کیا گیا ہو۔
پلیز کسی بھی زبان میں ایک اللہ کے نبی کی گستاخی ہوتی ہے، اس کو ختم کروائیں۔ یہ لفظ حذف کروائیں۔ ان کا استعمال ختم کروائیں۔ ہم نے اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے۔
آپ ہم جنس پرستی کے لیے کوئی اور برے نام رکھ لیں۔ جو حضرت لوطؑ کے نام کے ماخذ الفاظ ہیں، ان کا مطلب اس قبیح فعل کو نہ لیں پلیز۔ یہ التجا ہے میری تمام مسلمانوں سے کہ آج کے بعد حضرت لوطؑ کا نام اور ان کے نام کے تمام ماخذ انتہائی احترام سے ادا کیے جائیں اور ان کا مطلب بھی انتہائی پاکیزہ ہو۔
کسی لوطی فعل یا لواطت کو برا نہ کہیں آپ پلیز۔ ہر لوطی فعل یا لواطت قابلِ احترام ہے، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سچے نبی کا کام ہے اور اس کو ہم جنس پرستی سے تشبیہ دینا اللہ کے پیغمبر کی توہین ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بار بار کہا ہے کسی نبی میں فرق نہیں رکھنا چاہیے ایمان لانے کے بعد۔ ہم حضرت لوطؑ کے نام سے فرق کیوں رکھتے ہیں؟ سوچیے گا ضرور۔

Lines from Novel Wajood e Ishqاس بھائی صاحب سے فارغ ہوا تو شیطان کی ایک اور محنت میرے سامنے آ گئی۔دو لوگ مجھے بہت عجیب م...
16/07/2026

Lines from Novel Wajood e Ishq
اس بھائی صاحب سے فارغ ہوا تو شیطان کی ایک اور محنت میرے سامنے آ گئی۔
دو لوگ مجھے بہت عجیب ملے، ضمیر۔
ایک نے پہلے اللہ کے رسول ﷺ کی وہ تعریف کی، وہ تعریف کی کہ مجھے اس پر رشک آنے لگا، مگر بعد میں کیا کہتا ہے:
"اصل میں ہمارے جو آخری نبی تھے، اللہ کے رسول ﷺ تھے، انہی کے لیے کائنات بنی اور نعوذ باللہ وہی خدا ہیں۔"
دوسرے صاحب نے بالکل ایسا ہی کام مولا علیؓ کے بارے میں کیا۔
پہلے ان کے ایمان کی، ان کے جذبے کی، ان کی ہمت کی خوب تعریفیں کیں اور باتیں کرتے کرتے وہی کہ نعوذ باللہ وہی خدا ہیں۔
وہ دونوں آن لائن مجھ سے بات کر رہے تھے اور کئی دن سے اس ایک ہی بات پر میرا سر کھایا ہوا تھا۔
میں شروع میں ان سے تھوڑا پولائٹ رہا کیونکہ ایسی ہستیوں کی تعریفیں جو کر رہے تھے، لیکن جیسے ہی انہوں نے یہ باتیں کیں، میں نے کہا:
میں نے کئی دن آپ لوگوں کی باتیں سنی ہیں، آج میری باتیں پوری سننا۔
دونوں ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے۔ دونوں صاحبان اپنے ذہن میں خوش تھے کہ مجھے اپنے عقائد میں گھیر لیا ہے۔ پھر میں نے دونوں کو آن لائن کانفرنس میں لیا اور کہا:
"چپ کر کے میری باتیں سننا اور جواب دینا۔"
میں نے ان کے آگے بھی سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
میں نے کہا:
"پتا ہے رب کون ہوتا ہے؟
پتا ہے رب کا مقام کیا ہے؟
پتا ہے پوری کائنات میں میرے رب سے زیادہ غیرت مند کوئی نہیں؟
پتا ہے میرے رب سے زیادہ اپنی عزتِ نفس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں، کیونکہ وہ ربِ کائنات ہے؟
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ بے شک بہت ہی اعلیٰ شخصیت کے مالک تھے، مگر ان کے بارے میں اتنی غلط بات کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
اسی طرح مولا علی شیرِ خداؓ ایک بہت ہی کمال شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی بہادری آج تک لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے، مگر انہیں نعوذ باللہ خدا کہنا کسی مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔
اگر تم اپنی ضد پر قائم ہو تو دونوں سنو۔
میرے رب کو کسی نے نہ ہی پیدا کیا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ہے۔
میرے رب نے مخلوق کو بنایا۔ آپ قرآن پڑھ لیں، سورۂ اخلاص کا ترجمہ یہی ہے۔
اب آپ بتائیں، مولا علیؓ کے ماں باپ بھی تھے جن سے وہ پیدا ہوئے اور ان کی اولاد بھی تھی۔
اسی طرح اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ماں باپ بھی تھے جن سے وہ پیدا ہوئے اور ان کی اولاد بھی تھی۔
اب آپ بتائیں، اگر آپ خود کو سچا سمجھتے ہیں تو قرآنِ پاک کو آپ جھٹلاتے ہو، اور اگر قرآنِ پاک پر ایمان لاتے ہو تو آپ جھوٹے ہو۔ فیصلہ آپ دونوں خود کر لو۔
مولا علیؓ نے عبادت کی، کئی مسلمان گواہ ہیں، اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو اللہ کے آخری نبی ہیں، انہوں نے بھی عبادت کی۔
میرے خدا نے آج تک نہ کسی کی عبادت کی ہے اور نہ کرے گا۔
جو خود کسی کی عبادت کرتا ہے اور اپنے آپ کو خدا کہتا ہے تو وہ خود جھوٹا ہے، جیسے فرعون خود بتوں کی پوجا کرتا تھا اور لوگوں کو کہتا تھا کہ وہ نعوذ باللہ خدا ہے، تو وہ جھوٹا تھا۔
اور اگر کسی نے نہیں کہا کہ میں رب ہوں اور لوگ اسے رب سمجھتے ہیں تو وہ لوگ جھوٹے ہیں، جیسے آپ دونوں جھوٹے ہو۔"
پتا نہیں آپ کو کس نے یہ غلط پٹی پڑھائی اور آپ نے سن لی۔ مجھے کوئی کہے ان ہستیوں کے بارے میں کہ یہ نعوذ باللہ خدا ہیں تو میں ان کو کہتا ہوں، ایسا خدا جو کسی اور کی عبادت کرے، وہ خدا تھوڑی ہے۔
خدا تو خود عبادت کے لائق ہے، وہ کسی کی عبادت نہیں کرتا، اور جو کسی اور کی عبادت کرے وہ خدا بننے کے لائق ہی نہیں ہے۔ اس کی شخصیت کو شیطان نے خدا بنا کر آپ کے سامنے کھڑا کیا ہے۔
دوسرا، ان دونوں ہستیوں کو مشرکین کی طرف سے تکلیف پہنچائی گئی۔ میرا خدا ان چیزوں سے پاک ہے۔ میرے رب کو پوری کائنات میں کبھی کوئی تکلیف پہنچا سکا ہے نہ پہنچا سکے گا۔ وہ تو بے نیاز ہے۔ میرے رب کو جو تکلیف پہنچانے کی کوشش کرے گا، ذرا سی بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتا، چاہے ہزار دفعہ بار بار پیدا ہو کر بھی آ جائے۔
آپ دونوں نے قرآنِ پاک میں پڑھا ہوگا کہ حضرت موسیٰؑ نے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنے کا اصرار کیا تھا۔ ڈائریکٹلی بھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے پہاڑ کی طرف دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے بھی پہاڑ کی طرف دیکھا اور پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی۔ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا اور حضرت موسیٰؑ بے ہوش ہو گئے۔ اتنا جلال ہے میرے رب کا۔ اب مجھے تم دونوں بتاؤ، نعوذ باللہ ان ہستیوں کو رب کہتے ہو تو میرے رب کا وہ جلال کہاں گیا؟
میں پھر کہوں گا، یہ دونوں ہم سب مسلمانوں کے لیے نہایت قابلِ عزت، قابلِ محبت اور قابلِ تقلید ہیں، مگر ان دونوں کو مشرکینِ مکہ نے چیلنج کیا اور زخمی بھی کیا۔
میرے رب کو آج تک جس نے بھی چیلنج کیا ہے، اسے پتا چل گیا کہ چیلنج کا مطلب کیا ہوتا ہے۔
میرے رب کے حکم کی تابع پوری کائنات ہے۔ جو میرے رب کو چیلنج کرتا ہے، میرا رب اسے معمولی چیزوں سے جواب دیتا ہے اور وہ معمولی چیزیں اس چیلنج کرنے والے کا جینا عذاب کر دیتی ہیں۔
نعوذ باللہ نمرود فوج لے آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی فوج کو بلاؤ، اس سے نعوذ باللہ لڑوں گا۔ مچھر اس کے مقابل آ گئے اور اس کی فوج میں سے ہر ایک کی زندگی کا ایک ایک لمحہ جو بچا تھا، اذیت بنا دیا۔
ٹائٹینک بنانے والے نے ٹائٹینک بنانے کے بعد خدا کو چیلنج کیا تھا۔ برف کے ایک ٹکڑے نے اسے توڑ دیا اور سمندر کی گہرائیوں میں اسے پھینک دیا۔
اللہ کے بندو! جو پوری کائنات میں سب سے طاقتور ہے، جس کا کوئی ثانی نہیں، کیوں اُس کی شان میں کمی کرنے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو؟
پھر بھی وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ اُن میں سے ایک بولا:
"تم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا نا؟"
میں نے کہا:
"نہیں دیکھا۔"
کہنے لگا:
"اگر مولا علیؓ قیامت کے دن رب کی صورت میں آ گئے تو کیا کرو گے؟ وہ اگر رب ہوئے تو تم کہاں جاؤ گے؟ کیا بنے گا تمہارا؟ تم تو ہلاک ہو جاؤ گے۔"
میں نے کہا:
"اب میرا پورا جواب تسلی سے سننا۔
میرا رب کچھ کام ایسے ہیں جو کبھی نہیں کر سکتا۔
میرا رب جھوٹ نہیں بول سکتا۔
میرا رب دھوکا نہیں دے سکتا۔
میرا رب وعدہ خلافی نہیں کر سکتا اور میرا رب سمجھوتہ بھی نہیں کر سکتا۔
میں ایمان لایا ہوں کلمۂ شہادت پر۔
میں ایمان لایا ہوں قرآنِ پاک پر۔
میں ایمان لایا ہوں اللہ تعالیٰ کی تمام اُتاری ہوئی کتابوں اور صحیفوں پر۔
میں ایمان لایا ہوں اللہ تعالیٰ کے آخری بھیجے ہوئے رسول، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اور اُن تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر، بغیر کسی میں فرق رکھے۔
اگر تمہارے والا شک کسی انسان کے دل میں آ جائے یا وہ تمہاری بات پر یقین کر لے تو اُسے قرآنِ پاک کی آیات کو جھٹلانا پڑے گا۔ قرآنِ پاک کی سورۂ اخلاص میں ہے کہ نہ ہی ربِ کائنات نے کسی کو پیدا کیا اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہوا۔ مجھے بتاؤ، مولا علیؓ کے ماں باپ بھی تھے اور اولاد بھی تھی، تو پھر کیا قرآنِ پاک کی آیت کو تمہارے کہنے پر جھٹلا دوں؟ اِن آیات کو سن کر گونگا بن جاؤں، بہرا بن جاؤں، اندھا بن جاؤں؟ ایسا قرآن جو لوحِ محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اُسے جھٹلا دوں؟
بتاؤ مجھے، تمہارے شک کی وجہ سے ربِ کائنات کی لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی بات کو جھٹلا دوں، اپنا ایمان ختم کر دوں؟
مجھے جواب دو، کیا ربِ کائنات کی کہی ہوئی بات غلط ہو سکتی بھلا؟
اگر تمہاری بات، تمہارے شک کو دل میں جگہ دے دوں تو پھر تو ہر چیز سے ڈر جاؤں۔ کچھ عرصے بعد تم کہو گے یہ درخت قیامت میں خدا نکلا تو کیا کرو گے؟ پھر کہو گے یہ سمندر، یہ چاند، یہ سورج، یہ ستارے، یہ پہاڑ خدا نکلے تو کیا کرو گے؟ تمہارے سامنے دجال آ گیا تو اُس کے بارے میں بھی کیا یہی کہتے پھرو گے کہ یہ قیامت میں خدا نکلا تو کیا کرو گے؟
تم اپنا ایمان نبیوں پر، قرآنِ پاک پر، اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر ختم کر دو، پھر چاہے جس مرضی کو خدا بناتے پھرو، کیونکہ تمہاری نظر میں تو کوئی بھی قیامت میں خدا بن کر آ سکتا ہے۔
میرا ایمان ہے اللہ تعالیٰ کی اس لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی کتاب، قرآنِ پاک پر، تمام انبیائے کرام علیہم السلام پر بغیر کسی نبی میں فرق رکھے، تمام آسمانی کتابوں پر اور صحیفوں پر۔ میرا رب عرش پر موجود ہے، اُس جیسی شان والا کوئی نہیں، اُس جیسا علم والا کوئی نہیں، اُس جیسا طاقت والا کوئی نہیں، اُس جیسا معاف کرنے والا، رحم کرنے والا کوئی نہیں، اور نہ ہی اُس جیسا سچ بولنے والا اور اپنی بات پر قائم رہنے والا کوئی ہے۔
اللہ کے بندو! وہ ہمیشہ کی زندگی ہے، کبھی ختم ہی نہیں ہونی۔ رب کو اُس کی باتوں سے پہچانو نا!
یہ قرآنِ پاک ربِ کائنات کی پہچان ہے۔ اس میں ربِ کائنات کی وہ آیات ہیں جو لوحِ محفوظ میں لکھی ہیں۔ کیوں اِن پر غور نہیں کرتے؟ کیوں اِن کو جھٹلاتے ہو؟
دیکھو، کچھ لوگوں نے بُت بنائے مگر اُن کا عقیدہ یہی تھا کہ اِن سب کا رب موجود ہے، وہ اِن سب سے بڑا ہے۔ کچھ لوگوں نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا کہ اُن کو کائنات کے رب نے نبی بنا کر بھیجا، جیسے مسیلمہ کذاب، جیسے وہ عورت سجاح تھی اور جیسے قادیانی۔ اِن سب نے رب کو اُس کے مقام سے نیچے نہیں آنے دیا۔ تم دونوں تو ربِ کائنات کو انسانیت کے درجے تک لے آئے۔ تم لوگوں نے خدا ہی انسانوں کو سمجھ لیا۔
اصل میں جب ہمارا رب عہدِ الست کے وقت ہمارے سامنے آیا تھا، اُس وقت جو کیفیت، جو عقیدت، جو احترام ہم پر طاری ہوا تھا، وہی کیفیت عشق ہے، اور اُسی کیفیت کو ہم انسان دوبارہ اپنے اندر لانے کے لیے کبھی کسی کو خدا بناتے ہیں، کبھی کسی کو، سوائے سچے رب کے۔ سچے رب کو اس لیے خدا نہیں بناتے کیونکہ ہمیں پتا ہے کہ اس دنیا میں اِن آنکھوں سے سچا رب نظر ہی نہیں آ سکتا۔
اپنی روح کے سامنے سچے رب کو خدا مانو گے تو تمہیں پتا ہوگا کہ اُس کا دیدار نہیں ہونا، اور بات ہے بھی سچ۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار صرف جنتیوں کو ہوگا، اور وہ بھی جنت میں۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار صرف اُس عہدِ الست والی کیفیت کا انتظار ہی کر سکتے ہیں۔
اتنے دنوں سے میرا سر کھا رکھا تھا، ہے کوئی جواب تم لوگوں کے پاس؟
دونوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ میں نے اتنا کہا:
"شیطان چاہتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو خدا مان لیں، چاہے وہ کوئی بھی ہو، اور اس محنت پر وہ دن رات لگا ہے۔ آپ پلیز اُس کو اس محنت میں کامیاب نہ ہونے دیں، ورنہ آپ کی آخرت تباہ ہو جائے گی۔"

14/07/2026
Falsafa e Ishq Part 2  (Lines from Novel Wajood e Ishq)جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے پہلے ستارے کو رب کہا، پھر وہ ڈوب گیا تو ا...
14/07/2026

Falsafa e Ishq Part 2 (Lines from Novel Wajood e Ishq)
جس طرح حضرت ابراہیمؑ نے پہلے ستارے کو رب کہا، پھر وہ ڈوب گیا تو انہیں پتا چل گیا کہ ڈوبنے والا خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ پھر چاند کو رب کہا، وہ بھی ڈوب گیا تو پھر ڈھونڈا۔ پھر سورج کو رب کہا، وہ بھی شام میں غروب ہو گیا۔ وہ تلاش میں رہے رب کی،"
انہیں ڈوبنے والے، ساتھ چھوڑنے والے اور کمزور رب نہیں لگے۔ وہ رب کی تلاش میں رہے جب تک انہیں رب مل نہ گیا۔
سوچو ہم کسی صحرا میں پھنس گئے ہیں۔ میں تمہیں کہوں جاؤ کچھ کھانے پینے کی چیز لے کر آؤ، بہت شدید بھوک اور پیاس لگی ہے۔
تم تلاش کرو اور واپس آ کر کہو کہ یہ ریت ملی ہے، کھانے کو اسی کو کھا لو۔ اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں ہے یہاں کھانے پینے کو۔
تو بتاؤ، میں ریت کھا لوں گا یا اسے کھانے کی چیز سمجھ لوں گا؟
اگر ریت کو بھوک کی شدت میں کھا لیا، کیا وہ مجھے فائدہ دے گی؟
میری بھوک اور پیاس مٹ جائے گی؟
بھوک لگی ہے تو کھانے کی چیز پر میری تلاش ختم ہونی چاہیے نا؟
اسی طرح اللہ تعالیٰ کی تلاش ہے تو ہم انسانوں کو پہنچنا بھی اللہ تعالیٰ تک چاہیے نا۔ ہم شیطان کے بنائے جھوٹے خدا کیون پوجنے بیٹھ جاتے ہیں؟ ٹھیک ہے اس سے تھوڑی دیر کے لیے ہماری روح کو لگتا ہے وہ کیفیت واپس مل گئی.
جو کسی کو بھی خدا سمجھ کر سامنے دیکھتا ہے اسے لگتا ہے پوری کائنات کا مالک وہ ہے۔ وہ اس وقت خود کو خوش قسمت ترین انسان تصور کرتا ہے کیونکہ وہ اپنی روح کو یقین دلا رہا ہوتا ہے کہ یہ وہی رب ہے جس کے سامنے عہدِ الست لیا تھا۔ ہماری روح اپنی پوری طاقت سے ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ اسی لیے تو دجال کے بارے میں سب انبیاء کرام خبر دار کرتے گئے کہ بہت بڑا فتنہ ہو گا۔ کچھ شعبدے، کچھ تماشے وہ دکھائے گا اور انسانوں کی اکثریت کی روح اسے عہدِ الست والا رب سمجھ بیٹھے گی۔ لوگ بہت اچھے مسلمان ہوں گے مگر دجال کو دیکھتے ہی ڈگمگا جائیں گے۔ مومن لوگ اپنی عورتوں کو گھر میں قید کر کے جائیں گے کہ دجال کو دیکھ لیا تو ان کا ایمان جاتا رہے گا، مگر وہ بھاگ کر اس کے پاس پہنچ کر اس پر ایمان لے آئیں گی۔ دیکھو کسی جھوٹے خدائی کو روح کے سامنے رب کا درجہ دے کر ہم پر وہ عہدِ الست والی کیفیت تو طاری ہو جاتی ہے مگر،

جو واقعی میں پوری کائنات کا سچا رب ہے، اُس کو پھر کون سا مقام دو گے؟
قیامت والے دن کیا جواب دو گے، عہدِ الست کیوں توڑا؟
وہ انسان ہمیشہ کے لیے جہنم کا حق دار بن گیا نا پھر؟
اسدی! ہماری روح نے ربِ کائنات کو اپنے سامنے دیکھا ہے، اس کی غذا صرف وہی عشق کا لمحہ ہے۔ ہماری روح کو وہ لمحہ واپس چاہیے جب کائنات کا رب ہمارے سامنے تھا۔ لیکن اس دنیا میں ہمیں صبر کرنا ہے۔ یہاں ہم انسانوں کے پاس دو راستے ہیں:
یا تو صبر کریں، یا پھر شیطان نے جھوٹے خداؤں کی جو دکانیں سجا رکھی ہیں، ان دکانوں میں سے کسی جھوٹے رب کو اٹھا کر اسے اپنی روح کے سامنے خدا بنا کر پیش کر دیں۔
کہیں پر وہ ہمارے ہم جنس کو خدا بنا کر پیش کر دیتا ہے اور ہم خود کو لیلیٰ مجنوں، ہیر رانجھا اور اسی طرح کا کوئی کردار سمجھ کر وہی عشق والا جذبہ خود پر طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ دیر کے لیے ہماری روح مان بھی جاتی ہے اور پوری شد و مد کے ساتھ اسی عشق کے جذبے کو، اسی احساس کو دوبارہ سے اپنے اوپر طاری کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یعنی ہم انسان اپنی دوسری سب سے بڑی خواہش کو اپنی پہلی سب سے بڑی خواہش بنا لیتے ہیں اور نسل بڑھانے کے لیے کسی ہم جنس سے عشق والا جذبہ اپنے اوپر طاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مگر ہوتا کیا ہے؟ تم نے عمیرہ احمد کا "من و سلویٰ" ناول پڑھا ہے؟
میں نے اسدی سے پوچھا۔
"ہاں، پڑھا ہے۔"
وہ تھرتھراتے سرد لہجے میں بولا۔
"من و سلویٰ میں عمیرہ احمد نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ والی محبت، اللہ تعالیٰ والا جذبہ کسی اور کے لیے رکھو گے تو ایک دن اللہ تعالیٰ اس کی اصلیت تمہارے سامنے لے آئے گا۔
ایک بات اور بتا دوں،جب روح کو پتا چلتا ہے کہ وہ پرفیکٹ نہیں ہے، پھر آپ کی روح جو اذیت دیتی ہے نا، وہ اذیت بیان سے باہر ہوتی ہے۔
روح کو آپ کوئی جھوٹا خدا بنا کر پیش کر دو، وہ وہی عہدِ الست والا جذبہ اس کے لیے طاری کر لے گی، مگر جیسے ہی روح کو پتا چلے گا کہ تم نے اس کے ساتھ دھوکا کیا ہے، جس کے لیے خدا کا جذبہ پیدا کیا تھا اس میں یہ یہ خامی ہے، آپ کی روح آپ کا جینا عذاب کر دے گی۔
صنفِ مخالف سے عشق میں اسی طرح ہوتا ہے اور اس طرح کے عشق میں سب سے اذیت ناک کیفیت تب ہوتی ہے جب دونوں عشق کرنے والوں کی آپس میں شادی ہو جائے۔
کیونکہ عشق کے جذبے کو اپنے اوپر طاری کرنے میں مزہ آتا ہے، مگر جس سے عشق کرتے ہیں وہ آپ جیسے انسان کی صورت میں آپ کا لائف پارٹنر بن جائے اور اس سے شادی ہو جائے، جس کو آپ عشق کی شادی کہہ لو، ساتھ رہ کر فوراً ہی انسانی کمزوریاں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں اور پھر آتا ہے روح کا عذاب۔
ہماری روح کو پرفیکٹ خدا چاہیے، جیسا خدا اس نے عہدِ الست کے وقت دیکھا تھا۔"
آپ کو جیسے ہی انسانی کمزوریوں کا پیکر سامنے ملتا ہے، آپ کی روح سوالیہ نشان بن کر آپ کے سامنے کھڑی ہوتی ہے، اور تم دیکھ لو کہ جو اس طرح کی دھواں دھار شادیاں ہوتی ہیں، ان کا انجام اکثر اوقات بہت خطرناک ہوتا ہے۔ اور اگر دونوں کو آپس میں تھوڑی بہت بن بھی جائے، پھر دنیا میں زندگی کیسے گزارنی ہے؟ ان دونوں نے تو اکثر خاندان میں ہر ایک کی مخالفت لے کر، سب سے لڑ کر شادی کی ہوتی ہے۔ عشق وہ ہوتا ہی نہیں جس میں کسی کی مانی جائے۔
اب جیسے شادی ہوئی، اکٹھے ہوئے، آگے کا تو سوچا نہیں۔ عشق میں تو صرف حاصل کرنے تک کا سفر ہوتا ہے، اس کے بعد کے سفر کا کوئی سوچتا ہی نہیں۔ سیاست، ریاست، معیشت، معاشرت، بچے، ان کی تعلیم، رشتہ داری، دوستی—ان کو کیسے گزارنا ہے، کیا کرنا ہے، یہاں یہ والا عشق بالکل خاموش ہے۔
اگر آپ سب سے محبت کے دعوے دار بنتے ہیں، یعنی انسان سے عشق کیا اور باقی سب انسانوں سے بھی محبت کرتے ہیں، تو جنہوں نے پیسے سے عشق کیا ہوا ہے، وہ آپ کو ایسی ایسی جگہ سے، ایسے ایسے دھوکے دیں گے کہ انسانی محبت سے، انسانی احترام سے آپ کا دل ہی اٹھ جائے گا۔
یہ تو ہو گیا صنفِ مخالف کا عشق۔ شیطان نے سیدھے سادھے بت سامنے رکھ دیے انسانوں کے کہ ان کو خدا سمجھو، اور انسان ان کو خدا سمجھ کر پوج رہے ہیں۔
اس کے بعد شیطان کی دکان میں ہر طرح کے جھوٹے خدا دستیاب ہیں۔ جو شخص جیسا خدا چاہتا ہے، شیطان اپنی دکان میں سے اس کو خدا نکال کر پیش کر دیتا ہے۔ جیسے کوئی کسی سیاست دان کے لیے اپنے پورے خاندان سمیت اپنا سب کچھ لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ اس کی ہر صحیح اور غلط بات کو دل و جان سے ماننے لگ جاتے ہیں۔
کوئی روپے پیسے کو سب کچھ سمجھتا ہے اور اس کے لیے اپنے خاندان کی عزت تو کیا، اپنے گھر کی عورتوں کی عزت بھی بیچنے پر تیار ہو جاتا ہے۔
کسی کو اپنی شہرت چاہیے۔ کوئی طاقت کے نشے کو دنیا کی سب سے اچھی چیز سمجھتا ہے اور اسی طاقت کو حاصل کرنے کے لیے پاگل ہوا جاتا ہے۔
دیکھو، میں نے تمہیں بہت زیادہ الجھا دیا ہے۔ تمہیں آسان لفظوں میں بتاؤں، جس چیز پر توجہ کرو گے، اپنے ذہن میں اسے ہر چیز سے افضل سمجھو گے۔
تمہاری روح اسی کو خدا سمجھ کر، یا اسے عہدِ الست والا جذبہ سمجھ کر، تمہیں اسی کے ارد گرد لے آئے گی۔
کیونکہ روح کا ہماری زندگی میں بہت بڑا کردار ہے۔ روح ہمارے جسم سے زیادہ طاقتور اور ضدی ہے، اور اس روح کو جو چیز سب سے بہتر بنا کر دکھاؤ گے، یہ اس کو خدا مان لے گی۔
ہاں، ایک مسئلہ ہے۔ جیسے ہی تم اس کو وہاں سے موڑ کر نئے خدا کی طرف لے کر جاؤ گے، تمہاری روح تمہارا جینا عذاب کر دے گی۔ تمہیں اپنی ذات کے اندر سے اتنی اذیت ملے گی کہ تم شدید کرب محسوس کرو گے، کیونکہ ہماری روح کو اتنی سادہ سی بات پتا ہے کہ جس کو ایک دفعہ خدا بنا لیا جاتا ہے، اس کی نافرمانی نہیں کی جاتی، اسے چھوڑا نہیں جاتا۔"
اسدی چہرے پر پریشانی کی لکیریں لیے سب سن رہا تھا، جیسے اس کے جسم کی ساری طاقت ختم ہو چکی ہو۔
"ضمیر! میرے اب دو سوال ہیں۔ ایک تو یہ بتاؤ، انسان ایک دوسرے کے لیے خونخوار کیوں بن جاتے ہیں؟"
اور دوسرا سوال، جب ہم انسانوں نے گواہی دے دی کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے تو پھر شیطان ہمارے سامنے جھوٹے خدا لاتا ہے اور ہم اتنی آسانی سے کیوں بھٹک جاتے ہیں؟ اور اتنے سارے نبی اللہ تعالیٰ نے بھیجے، وہ صرف تھوڑی دیر کے لیے ہی شیطانی خداؤں کو ہم سے دور بھگا سکے تھے۔ ہم فوراً ہی شیطان کے آگے اپنے خدا کو پانے کی پیاس لیے اس کے جھوٹے خدا پوجنے کو تیار کیوں ہو جاتے تھے؟"
اسدی کو جیسے شیطان کے سامنے انسانوں کی بے بسی پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
"دیکھو اسدی! تم کہتے ہو شیطان پوری طرح ہمیں کنٹرول کر لیتا ہے، ایسا نہیں ہے۔ انسان کی سرشت کو سمجھو۔ سب سے پہلے حضرت آدمؑ علیہ السلام کو کیا کہہ کر بہکایا تھا شیطان نے؟ کہ:
'یہ گندم کا دانہ کھا لو گے تو تمہیں ہمیشہ کی زندگی مل جائے گی۔'
یعنی شیطان نے ہمارا خیر خواہ بن کر دھوکا دیا تھا۔ یہی اس کا خطرناک ہتھیار ہے۔
وہ ہمیں کنٹرول نہیں کر سکتا۔ وہ صرف ایک انتہائی بے ہودہ مشورہ لے کر آتا ہے، جو مشورہ ہمارے رب کے حکم کے خلاف ہوتا ہے۔ وہ ہمیں کہتا ہے کہ فائدہ اسی میں ہے، اور اگر یہ گناہ نہ کیا تو تمہارا نقصان ہے۔
بس یہاں ہمیں خود کو روکنا ہے۔ اگر رک گئے تو رب ہے، وہ سنبھال لے گا، وہ سیدھا راستہ دکھائے گا، اور اگر شیطان کے پیچھے چل پڑے تو اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔
ہم، پہلے انسان سے لے کر قیامت تک آنے والا ہر انسان بھی اگر اللہ تعالیٰ کا نافرمان بن جاتا ہے، تو نہ میرے رب کو کوئی فرق پڑتا ہے، نہ اس کی شان میں، طاقت میں، بادشاہی میں کوئی کمی ہوتی ہے، اور نہ ہی اسے کوئی نقصان پہنچے گا۔"
اس رب کی شان ہمیشہ جیسی تھی ویسی ہی رہے گی۔ یہ بات صرف اور صرف نافرمانوں کو نقصان پہنچائے گی۔
دوسری طرف حضرت آدمؑ سے لے کر قیامت تک آنے والا ہر انسان اگر اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن جائے تو پھر بھی میرے رب کی طاقت، میرے رب کی شان، میرے رب کا جلال ویسا ہی رہے گا، اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔
اسدی! پہلے میں سمجھتا تھا کہ جنت میں وسائل زیادہ لگتے ہوں گے، اس لیے جنت میں بہت کم لوگ جائیں گے، کیونکہ جہاں ربِ کائنات میزبانی کرے گا، جنت میں آخری داخل ہونے والے شخص کو دنیا کے دس گنا بڑی جگہ دی جائے گی، تو اس لیے جنت میں کم لوگ جائیں گے۔ مگر پھر میں نے سوچا، وسائل تو جہنم میں بھی لگ رہے ہیں۔
دیکھو، دنیا میں طاقت کمبسشن انجن سے آتی ہے نا، اور کمبسشن انجن میں آگ ہوتی ہے۔ اب تم اگر منافق کے بارے میں پڑھو، اللہ تعالیٰ منافق کو جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ڈالے گا۔
وہ بہت گہرا ہے اور وہ منافق آدمی جہنم میں گرتا چلا جائے گا۔ اب یہ دیکھو، ستر سال کے بعد وہ منافق جا کر جہنم کے فرش تک پہنچے گا۔ کتنی آگ، کتنی کمبسشن اس جہنمی کے لیے استعمال ہو گی۔
تو اسدی! اللہ تعالیٰ کے سامنے بات وسائل کی ہے ہی نہیں۔ ہم سب انسان، حضرت آدمؑ سے لے کر قیامت والے دن تک پیدا ہونے والے تمام انسان بھی اگر جنت میں جانے کے اہل ہوتے تو میرے رب کے پاس کسی وسائل کی کمی نہیں۔ میرے رب کے آگے وسائل کی کمی کی تو بات ہی نہیں۔
یہ دنیا میں جو مسلمانوں کو تنگی آتی ہے وسائل کی، یہ صرف آزمائش ہوتی ہے، تاکہ اگر وہ ثابت قدم رہ سکیں تو اللہ تعالیٰ فخر سے فرشتوں کو بتائے کہ اس شخص نے اپنے رب کے لیے یہ مشکل وقت دیکھا، اور سب کے سامنے اسے جنت کا حق دار بنائے کہ یہ انسان رب کے لیے خالص رہا، اب یہ کائنات کے رب کے انعام اور اس کی بے انتہا نعمتوں کا حق دار ہے۔
ورنہ کائنات کے رب کے پاس وسائل کی کیا کمی۔ بس یہی سمجھانا تھا اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔
جو شخص شیطان کے راستے پر جانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، بے شک وہ جہنم کے راستے پر جتنا مرضی آگے جائے۔
اب تمہیں بتاتا ہوں ہم انسان ایک دوسرے کے لیے خونخوار کیوں بن جاتے ہیں۔
دیکھو ہم انسانوں کے لیے سب سے طاقتور جذبہ عشق کا ہے۔ جس انسان نے اپنی روح کو شیطان کے خداؤں میں سے جھوٹے خدا سے روشناس کروا رکھا ہے وہ بہت خطرناک ہے۔
دو انسانوں میں شدید طرح کا مسئلہ تب آتا ہے جب دونوں کی روح کا خدا الگ ہو۔ دونوں اپنے روح کے خدا کے لیے کسی حد تک چلے جائیں گے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن جائیں گے۔
یہ بات ہضم کرنا تمہارے لیے مشکل ہو گا مگر آسان لفظوں میں بتاتا ہوں۔ دیکھو تم جس کو اپنی روح کا خدا بناؤ گے اس کی جھلک تمہاری زندگی کے ہر شعبے میں نظر آئے گی۔
مثلاً ایک شخص ہے، اس کے لیے پیسہ دنیا کی ہر چیز سے عزیز ہے۔ تم اس کے ساتھ کچھ دیر ہی گزارو گے تو اس کے ساتھ رہنے سے تمہارا دم گھٹنے لگے گا۔ وہ پیسے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہو گا۔
اسی طرح تم کسی سے ملتے ہو، وہ طاقت کا دیوانہ ہے۔ اس کی ہر بات طاقت سے شروع ہو گی اور وہیں ختم۔
ہم انسانوں کی ایک خاصیت ہے کہ جس کو اپنی روح کا رب مانتے ہیں ہم چاہتے ہیں پوری دنیا اسی کو رب مانے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہم نے عہد لیا تھا تو سب نے یک زبان ہو کر گواہی دی تھی۔
یہی چیز ہم انسانوں کو ایک دوسرے کے لیے خونخوار بناتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی روح کا رب مانتے ہیں اسی وقت سب مانیں اور جیسا ہم چاہتے ہیں سب ویسا ہی کریں۔ اور بات ہے بھی صحیح، اب ذرا روح کی طرف سے سوچو۔ ہماری روح نے اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دی تھی کہ وہ ہمارا رب ہے۔ ہم اپنی روح کو کوئی خدا بنا کر پیش کرتے ہیں اور پھر ظاہر سی بات ہے خدا کی ذات کے تقاضے ہیں کہ جو کام خدا کے لیے ہو اس پر کوئی کمپرو مائز نہیں کرنا۔ یہیں پر ہم دوسرے انسانوں کے لیے خونخوار ہیں جو ہماری روح کی آواز کے مخالف چلتا ہے۔
مجھے اندازہ ہے یہ فلسفہ تمہارے لیے ہضم کرنا یا پورا سمجھنا ذرا مشکل ہو گا لیکن تم ذرا غور کرو گے تو سمجھ آ جائے گا۔
اب تمہیں بتاتا ہوں انبیاء کے بارے میں۔ دیکھو انسانوں کی روح پیدا ہو گئی تھی سب اکٹھی اور اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اقرار بھی کر لیا کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے۔
اب ہم اس دنیا میں آ گئے۔ کیا کریں اب؟ کیسے رب کی عبادت کریں؟ رب کی بات کہاں ہے اور کون سی ہے جو مانیں؟
ایک شخص ٹھنڈے یخ پانی میں ایک ٹانگ پر کھڑا ہو کر کہتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہے۔
دوسرا شخص اٹھتا ہے، لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیتا ہے کہ یہی عبادت ہے، امیروں کو لوٹو۔
کیا کرو گے تم؟ کدھر جاؤ گے؟ کس کو غلط کہو گے؟
اس کام کے لیے انبیاء کرام تشریف لائے تھے کہ بتا سکیں عوام کو کہ اللہ تعالیٰ کیا چاہتا ہے اور اس ربِ کائنات کی عبادت کس طرح کی جائے۔
نہ صرف انبیاء کرام نے بہت احسن طریقے سے اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچائے بلکہ ان میں سے ایک ایک حکم پر عمل کر کے بھی دکھایا۔
انبیاء کرام کا رول تمہیں اب بہت اچھی طرح سمجھ آ گیا ہو گا۔
آخر میں تم نے پوچھا تھا شیطان اتنی جلدی دوبارہ انسانوں کو کیسے بھٹکا لیتا ہے۔
اسدی! وہ صرف خیال ڈالتا ہے ہمارے ذہن کے اندر۔ وہ خیال اللہ تعالیٰ کے حکم کے الٹ ہوتا ہے۔ اب وہ زور دیتا ہے اس خیال کو پورا کرنے کے لیے، آپ کا خیر خواہ بن کر۔
کبھی وہ ہماری کسی نفسانی خواہش کو بہت بڑا بنا کر اس کو استعمال کر کے ہمیں اللہ تعالیٰ کا نافرمان بننے پر مجبور کرتا ہے۔
کبھی وہ ہماری روح کے سامنے خدا لے کر آتا ہے، کبھی وہ کسی چیز سے ڈرا کر ہمیں گناہ گار بننے پر مجبور کرتا ہے۔ اسدی! اس کے پاس کوئی ایک طریقہ نہیں ہے، بہت زیادہ طریقے ہیں۔ وہ ہمارے اندر کے سارے راستے جانتا ہے۔
بس اس سے بچنے کا ایک طریقہ ہے کہ اپنی روح کو اللہ تعالیٰ سے روشناس کرائے رکھو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں بار بار کہا ہے کہ شیطان ہمارا دشمن ہے، ایک جگہ تو یہاں تک کہہ دیا کہ اسے دشمن سمجھو۔ لہٰذا ہمیں اسے دشمن سمجھنا چاہیے، اس کے تمام حملوں سے بچنا چاہیے، اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان اور اللہ تعالیٰ کی مدد چاہیے ہر پل۔
ہم انسانوں کی ایک بہت بری عادت ہے، بھیڑ چال۔
اس کا مطلب ہے کہ جیسے بھیڑیں چلتی ہیں ایک دوسرے کے پیچھے، اس طرح انسان بھی بہت جلد ایک دوسرے کو کاپی کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب کو روحوں نے یک زبان ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دی تھی کہ وہ ہمارا رب ہے۔ اب جہاں کہیں ہم لوگوں کو اکٹھے ہو کر کوئی خاص کام کرتا دیکھتے ہیں، اسی بھیڑ چال کی وجہ سے ہم سب انسان ایک دوسرے کو کاپی کرنے لگ جاتے ہیں۔
اسی بھیڑ چال کی وجہ سے شیطان کا پھیلایا کوئی بھی گناہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہت جلد منتقل ہوتا ہے۔ کچھ لوگ وہ گناہ شروع کرتے ہیں اور پھر باقی لوگ دیکھا دیکھی اسی گناہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھر اسی طرح کچھ عرصے بعد وہ گناہ نارملائز ہو جاتا ہے، معاشرے میں اسے گناہ سمجھا ہی نہیں جاتا۔
"ضمیر! میرا سوال یہ ہے، کوئی بہت مؤثر ہتھیار ہے شیطان کے حملوں سے بچنے کا؟"
اسدی نے پوچھا۔
"ہاں، ایک حل ہے۔ غور سے سنو۔ دیکھو جانداروں میں عقل نہیں ہوتی، ہوتی ہے تو بہت واجبی سی۔ جیسے ہمارے گاؤں میں جو چوپائے تھے۔ نئی چیز دیکھ کر ان میں تجسس ہی نہیں ہوتا تھا۔ ان کی اسٹیٹ آف مائنڈ ہمیشہ ایک جیسی رہتی تھی۔ بس بھوک کے وقت آوازیں نکالتے تھے یا کسی کو کوئی تکلیف ہوتی تب۔
اب سوچو ذرا، اگر ان میں عقل ہوتی تو ہمیں دیکھ کر وہ یہ سوچتے کہ:
'بیچارے انسانوں کے اگلے دو پاؤں خراب ہیں، ہر وقت لٹکتے رہتے ہیں۔ وہ بیچارے صرف دو پاؤں پر ہی چل پاتے ہیں۔'
اسدی! جانوروں کے بعد جنوں میں بھی عقل اتنی نہیں تھی جتنی انسانوں میں ہے۔ ہمیں اگر شیطان کے حملوں کا مقابلہ کرنا ہے تو اپنی عقل سے ہم اسے شکست دے سکتے ہیں۔
ہم یہ تین کام کر کے شیطان کے لیے ناقابلِ تسخیر بن سکتے ہیں:
ہر وقت شیطان کے خلاف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ کر۔
اپنی عقل کو شیطان کے ہر ہتھکنڈے کے خلاف بھرپور استعمال کر کے۔
اپنی اس زندگی میں ہر وقت شیطان کے حملوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہیں، ورنہ وہ کب اور کیسے چال چل جاتا ہے پتا ہی نہیں چلتا۔ وہ ہر وقت ہمارے خلاف حالتِ جنگ میں ہے۔ اگر ہم اسے تھوڑا سا بھی وقت دیں گے تو وہ اپنا کام کر جائے گا۔
اب تمہیں تمہارے سارے سوالوں کے جواب مل چکے ہوں گے۔
میں نے اسدی کی طرف دیکھ کر کہا۔
"ہاں ضمیر ، مل تو چکے ہیں مگر یار زندگی بہت مشکل ہے۔ اگر کچھ ایسا ہو گیا جو مجھے ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم کر دے تو پھر میری تو ہمیشہ کی زندگی تباہ ہو جائے گی۔"
"یہی سوچ، یہی جذبہ، یہی لڑائی مرتے دم تک چاہیے اسدی۔
اگر ہم مرتے دم تک اپنے ایمان کی حفاظت کرتے رہیں تو شیطان حملے کرے گا مگر اس کے حملے ناکام ہوتے رہیں گے۔ بس اس زندگی کے خاتمے تک ہم نے اس کے حملے روکنے ہیں۔ جس دن تم نے یہ سوچا کہ تم مشکل سے نکل آئے ہو، تمہارا ایمان مکمل ہو گیا ہے، سمجھو شیطان کا حملہ ہو گیا ہے تم پر۔
اب تھوڑا اختصار سے میں تمہیں انسانی زندگی کا فلسفہ سناتا ہوں۔
دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات بنائیں، وہ سب کی سب مخلوقات ایک سیکنڈ کے بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتیں۔
کچھ فرشتے ہیں جو جب سے پیدا ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیے جا رہے ہیں۔ باقی بھی جس فرشتے کو جو کام رب نے کہا ہوا ہے وہ اپنا کام پوری تندہی سے کیے جا رہے ہیں۔
یہ سورج، چاند، جانور، زمین، آسمان، الغرض پوری کائنات اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نافرمانی نہیں کر سکتی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے جن بنائے۔ اب یہاں باقی مخلوقات سے معاملہ مختلف ہے۔ باقی مخلوقات میں تو نافرمانی کا عنصر ہی نہیں ہے۔
یہاں جنوں کو اختیار دیا گیا کہ فرمانبرداری بھی کر سکتے ہیں اور نافرمانی بھی۔
لیکن ساتھ کیا جڑا ہے؟ فرمانبرداری کی تو باقی مخلوقات سے ان کا درجہ بلند ہو جائے گا، انہیں انعام ملے گا، جنت ملے گی، باقی مخلوقات ان کے مقام پر رشک کریں گی، اور نافرمانی کی تو باقی مخلوقات سے بھی درجہ کم، اور ہمیشہ کی جہنم، ہمیشہ کا عذاب۔
اسی طرح انسانوں کو بنایا اللہ تعالیٰ نے۔ انہیں اپنا نائب بنایا۔ ان کو عقل بھی اتنی دی جتنی کسی کو آج تک نہیں دی تھی۔
معاملہ یہی ہے: جو انسان اللہ تعالیٰ کا حکم مانے گا وہ اللہ تعالیٰ کا نائب بھی ہے، اس پر تمام مخلوقات رشک بھی کریں گی۔ وہ مسجودِ ملائک بھی ہے۔ اس کو جنت بھی عطا کی جائے گی، اس پر اللہ تعالیٰ انعام و اکرام کی بارش بھی کرے گا۔ یعنی اس کا رتبہ اللہ کے بعد ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا نائب ہے۔
اور جو انسان اپنے عہدِ الست والی گواہی سے پھر جائیں گے، انہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پسند آ جائے گی، وہ اب باقی سب مخلوقات سے کم تر ہیں۔ اس کی وجہ پتا ہے کیا ہے؟
انسانوں کو اہمیت دی گئی، باقی تمام مخلوقات کو ان کے تابع کیا گیا، مگر اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو پسند کریں تو پھر یہ اس کی سزا ہے۔ ان کے لیے بہت سخت عذاب ہے اسدی، جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، ہمیشہ افسوس کرتے رہیں گے کہ یہ کیا کیا ہم نے، کیوں اپنے رب کی نافرمانی کی۔
یعنی تم کسی پر بھروسہ کرو، اس سے پیار کرو اور وہ تمہیں دھوکہ دینے والوں کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو تمہیں سب سے زیادہ غصہ اسی پر آتا ہے نا۔ یہی حال انسان کا ہے، اتنی عنایات کی گئیں ربِ کائنات کی طرف سے مگر وہ پھر بھی شیطان کا راستہ چن لیں، اپنا رب ہی کسی اور کو سمجھ لیں تو ہمیشہ کا عذاب پھر اس کا مقدر ہے۔
یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی خواہش ہے کہ نافرمانوں کو اور فرمانبرداروں کو الگ کرے۔ سب ایک سیٹ اپ ہے۔ یہ سب ایک مصنوعی سیٹ اپ ہے۔ یوں سمجھو ایک چھوٹا سا امتحان ہے، ایک اسٹیج سیٹ کیا گیا ہے جو لپیٹ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قرآنِ پاک میں جس کا مفہوم ہے کہ یہ دنیا ایک کھیل تماشا ہے۔
افسوس ان پر جو اس کھیل تماشے کو سنجیدہ لے کر ہمیشہ ہمیشہ کی جہنم اپنا مقدر کر لیتے ہیں۔
ورنہ دیکھو تو سہی کائنات کے رب کے چاہنے والے، کائنات کے رب کے پیغمبر بھوکے پیاسے رہے، تکلیفیں برداشت کیں، لوگ ان کی جان کے پیاسے تھے۔ انتہائی تکلیف دہ زندگی گزاری، کبھی اور کبھی غزوۂ بدر و حنین کی طرح، جنگِ قادسیہ کی طرح انہیں ایسی کامیابی دی جاتی ہے کہ دنیا کو یقین ہی نہیں آتا تھا، صدیوں سوچتی رہتی ہے دنیا کہ انہیں یہ کامیابی ملی کیسے۔
اسدی! وہ ربِ کائنات ہے، سب اس کے کھیل ہیں۔ وہ جب چاہتا ہے، جیسے چاہتا ہے، جو چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ وہ ہم سے ایک ایک بات پوچھ سکتا ہے، ہم میں سے کوئی بھی اس سے سوال کرنے کا اہل نہیں۔
اصل میں بات یہ ہے کہ جنت کوئی معمولی انعام نہیں ہے۔ جنت بہت بڑا انعام ہے، وہاں بیماری کبھی نہیں آئے گی، ہمیشہ سب جوان ہی رہیں گے، موت نہیں آئے گی اور اللہ تعالیٰ ناراض نہیں ہوگا، اور ہر جمعہ کے روز اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی نصیب ہوگا۔ یہ کوئی چھوٹا تحفہ نہیں ہے۔
بہت بڑی کامیابی ہے۔ یہ امتحان گاہ، یہ دنیا اس لیے بنائی گئی ہے کہ کون ہے جو خود کو جنت کا اہل بنانا چاہتا ہے۔
دیکھو وہ کائنات کا رب ہے، اگر منطق پر آئیں تو جو اس رب کے ساتھ ہے، اس کو کوئی میلی آنکھ سے دیکھ کر دکھائے، ربِ کائنات اس کی آنکھیں نکال دے گا۔ مگر رب نے ڈھیل دی ہوئی ہے۔ وہ اپنے پیارے بندوں کی اپنے لیے سہی گئی مشکلات، تکلیفیں اور نیکیاں خود دیکھنا چاہتا ہے، ان کو دیکھ کر ان کو ویلیو کر کے ان کا صلہ دینا چاہتا ہے۔ پوری کائنات میں سب کو دکھا کر ان کو مقام دینا چاہتا ہے کہ یہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے رب کو ان دنیاوی آنکھوں سے دیکھے بغیر اس رب کی بات مانی، اس کی فرمانبرداری کی، اس کے لیے تکلیفیں اٹھائیں۔ اب وہ سب تکلیفیں ختم، اب وہ جنت میں ہمیشہ ہمیشہ مزے کریں گے۔
اسدی! اور یہ بہت چھوٹے سے وقفے کے لیے ہوتا ہے۔ تم دیکھو تو سہی۔
ہماری روح کب پیدا ہوئی تھی، شاید لاکھوں سال ہو گئے ہوں گے۔ اب ہمیں یہ زندگی ملی ہے۔ یہ زندگی زیادہ سے زیادہ 100 سال کی ہے، نارملی،
اور ہم پھر موت کے منہ میں جائیں گے۔ اس کے بعد پھر قبر ہے، قیامت تک اس کا خود حساب لگا لو شاید ہزاروں سال اور ہوں۔ پھر اکیلے قیامت کا دن 50 ہزار سال کا۔
اور پھر ہمیشہ کی زندگی، یا جنت میں یا جہنم میں۔
تم خود بتاؤ ذرا نکالو پرسنٹیج، یہ زندگی ہماری کل زندگی کا کتنا فیصد بنتی ہے؟
لیکن بات یہ ہے زندگی کی یہ اسٹیج سب سے فیصلہ کن اسٹیج ہے۔ اس زندگی میں ہم ایک برتن کی طرح ہیں۔ اچھائی ڈالیں گے اپنے اندر تو اچھائی رہے گی، برائی ڈالیں گے تو برائی رہے گی۔ موت کا وقت سب سے اہم ہے، اس وقت ہمارے جسم کے برتن میں جو کچھ ہے وہ ہمارے ساتھ رہے گا، اور موت کے وقت کسی کو نہیں پتا کب اچانک آ جائے۔
اسدی! ہم اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں نا ویسے ہی کھوکھلے ہوتے ہیں جیسے روح ڈالنے سے پہلے شیطان نے ہمیں دیکھا تھا۔
پیدا ہونے کے بعد ہم معاشرے میں آتے ہیں۔ اب دو راستے ہیں ہمارے پاس: ایک رحمان کا راستہ اور ایک شیطان کا راستہ۔
اللہ تعالیٰ نے ہماری روح سے گواہی لی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب اللہ تعالیٰ کے اپنے الفاظ کے ساتھ اس دنیا میں ہمارے لیے موجود ہے۔ تمہیں ایک بات بتا دوں، یہ جو قرآنِ پاک ہے اس کے الفاظ میں کسی بھی نبی کے الفاظ سے زیادہ دین ہے، زیادہ فہم ہے، زیادہ اہم ہیں۔ کیونکہ ایک نبی کے الفاظ ایک انسان کے الفاظ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کہے گئے الفاظ ربِ کائنات کے الفاظ ہیں۔
اب ہمارے لیے ایک راستہ رب کا ہے۔ ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، قرآنِ پاک ہے۔ ہماری روح نے کائنات کے رب کو گواہی دی ہوئی ہے کہ وہ ہمارا رب ہے، اور ہمارے لیے ہمارے نبیِ پاک ﷺ کی زندگی ہے۔ یہ تو سارا راستہ رب کا راستہ ہے۔
دوسری طرف شیطان بیٹھا ہے ہمارے سامنے اپنی دکان میں ہزاروں جھوٹے خدا سجا کر۔ جو میرے رب نے کہا ہے شیطان چاہتا ہے کہ یہاں سے اس کو موڑ دو۔ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کے آگے وہ مشکلات ڈال کر رکاوٹیں کھڑی کر کے بیٹھا ہے۔
اسدی! اس چھوٹی سی زندگی میں ہمیں فیصلہ کرنا ہے: اپنے اعمال میں نیکیاں ڈالیں یا برائیاں۔
یہ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے راستے سے ہٹ کر ہم جدھر بھی جائیں گے کبھی بامراد نہیں ہوں گے۔ تھک جائیں گے، خواہ مخواہ کی مصیبتیں اور پریشانیاں آئیں گی۔ بس ڈھیٹ بن کر اپنے دنیاوی مقاصد میں لوگ لگے رہتے ہیں۔
مشکلات اللہ تعالیٰ کے راستے میں بھی ہیں، مگر یہاں اللہ تعالیٰ ان تمام مشکلات کا احساس کرنے والا ہے۔ یہاں ہم اپنی روح کو دھوکہ نہیں دے رہے۔ یہاں بس اپنی روح کو یہ بتانا ہے کہ یہ جو زندگی میں جتنی مشکلات ہیں یہ ہم عہدِ الست والے ربِ کائنات کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔ وہ روح آپ کو بالکل احساس نہیں ہونے دے گی کہ مشکل وقت کیسے گزارنا ہے۔
بس اسدی! یہی چھوٹی سی زندگی، چھوٹا سا امتحان، ہماری ہمیشہ کی زندگی کے لیے فیصلہ کن ہے۔ یہاں ہم نے اپنی روح کو سچے خدا کی طرف لے کر جانا ہے اور مرتے دم تک آخری سانس تک اس پر قائم رہنا ہے۔ جیسے ہی مریں گے شیطان کا زور ہم پر ختم۔
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمارے سامنے آ جائیں گے۔ اب یا تو مشکلات ہمیشہ کے لیے ختم، یا پھر مشکلات ہمیشہ کے لیے شروع۔ یا تو ہم اس زندگی کے بعد ہمیشہ کے لیے پچھتاتے رہیں گے کہ کیا کیا کیوں کیا، کاش واپس چلے جائیں۔
تم لوگو کی ڈیسپریشن کا یہ حال دیکھو جب ان کے سامنے حقیقت کھلے گی وہ یہ تک کہیں گے ہمیں ایک دفعہ واپس جانے دو اپنے برے اعمال کے پچھتاوے میں ہم دنیا اور آسمان کو سونے سے بھر دیں گے ۔ مگر اسدی! ان کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
دوسری طرف جو شہید ہو گئے ان سے بھی پوچھا جائے گا کوئی خواہش ہے۔ وہ یہی کہیں گے جو مزہ شہادت کے وقت آیا وہ بہت کمال تھا۔ کاش ہم دنیا میں جائیں پھر شہید ہوں پھر دنیا میں جائیں پھر شہید ہوں۔
اسدی! انکار ان کو بھی کیا جائے گا کیونکہ دنیاوی زندگی بس صرف ایک بار ہے۔ جو اسی زندگی میں کر لیا، کر لیا۔ جیسے دنیاوی آنکھ بند، کہانی ختم۔ اس زندگی میں سب کو موت ایک دفعہ ہی آنی ہے۔ اب یا تو جو کسی نے صدقۂ جاریہ چھوڑا وہ ملتا رہے گا یا اولاد میں سے کوئی نیک یا برا کام کرے گا اس کا صلہ ملے گا۔ یہ زندگی بس ایک بار ہے۔
اب تم خود سوچو دونوں راستے کتنے واضح ہیں۔ ہمیں پتا کرنا ہے کائنات کا رب کیا چاہتا ہے تو قرآنِ پاک کھول لو۔ اس کتاب میں دنیا کے کسی بھی انسان سے زیادہ آج تک آئے ہوئے کسی بھی پیغمبر کے الفاظ سے زیادہ فہم ہے اور دین ہے کیونکہ یہ کائنات کے رب کے الفاظ ہیں جو لوحِ محفوظ میں لکھے ہوئے ہیں۔
اس قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہوا ہے۔
دوسری طرف شیطان ہے اپنے پورے زور کے ساتھ۔ تمہیں ایک اور بات بتا دوں، شیطان میں خود اتنی عقل نہیں، اس کو عقل دی ہے ان لوگوں نے جو شیطان کے راستے پر چلتے ہیں۔ میں سمجھاتا ہوں شیطان ایک جن ہے اور جن میں انسان جتنی عقل نہیں ہے۔ اب جب وہ کسی انسان کو گمراہ کر کے اپنے راستے پر پورا لگا لیتا ہے اس کی روح کو جھوٹا خدا دکھا دیتا ہے تو پھر وہ انسان شیطان کے کنٹرول میں آ جاتا ہے۔ اب اس انسان کی عقل اللہ تعالیٰ کے دین کے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف استعمال ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اب وہ انسان شیطان کو مدد دے رہا ہوتا ہے اسے نئے نئے راستے بتا رہا ہوتا ہے۔ اس لیے شیطان سے زیادہ خطرناک وہ لوگ ہوتے ہیں جو شیطان کے راستے پر چل رہے ہوتے ہیں۔
اچھا میرے عظیم رب کی عظمت دیکھو، اس کائنات کے رب کی شان دیکھو کہ میرے رب نے اصول تو بنا دیا کہ کافروں کو ہمیشہ کا عذاب ہوگا۔
جو سچا ہوتا ہے اسدی! وہ اپنے اصول کبھی نہیں توڑتا اور پوری کائنات میں میرے رب سے زیادہ سچا کوئی نہیں۔ میرے رب نے آج تک جو بات کی ہے اس پر قائم رہا ہے اور جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کیا ہے اور ہمیشہ پورا کرے گا۔
میرے رب کو پتا تو ہے کہ کافر ہمیشہ کی زندگی میں عذاب میں ہوں گے کیونکہ انہوں نے میرے رب کو جھٹلایا، مگر میرا رب پھر بھی یہی چاہتا ہے کہ جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ان کو دنیا میں اتنا نوازے کہ ان کی چھت، دیواریں اور دروازے سونے چاندی کے ہو جائیں اور میرا رب ایسا کر بھی دیتا اگر ایمان والوں کا خطرہ نہ ہوتا کہ وہ بہک جائیں گے اور ان کے سونے اور چاندی کے گھر دیکھ کر وہ سچے رب پر ایمان ختم کر بیٹھیں گے۔
اب تمہیں اس زندگی کی، عشق کی، اس دنیا کی اور بہت ساری چیزوں کی سمجھ آ گئی ہوگی؟

Address

Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Wajood e Ishq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share