Islamic Reflection

Islamic Reflection Please like & subscribe our channel. Alkhair Islamic world. https://youtube.com/-786-72?si=koJWLPukvugKlp6z
(1)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:*”اللہ سے (گناہوں سے) عفو و درگزر اور مصببتوں سے  عافیت طلب کرو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بن...
25/09/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
*”اللہ سے (گناہوں سے) عفو و درگزر اور مصببتوں سے عافیت طلب کرو، کیونکہ ایمان و یقین کے بعد کسی بندے کو عافیت سے بہتر کوئی چیز نہیں دی گئی۔”*
عافیت کا مطلب ہے *زندگی کا آسان ہو جانا۔*
یعنی نہ بیماری ستائے، نہ دشمن نقصان پہنچائے، نہ دل ٹوٹے، نہ خوف دل پر چھا جائے۔
*عافیت وہ کیفیت ہے جہاں اللہ کی حفاظت انسان کو ڈھانپے لیتی ہے۔*
دنیا کی دولت، شہرت اور کامیابی سب بیکار ہیں اگر صحت نہ ہو، دل بے سکون ہو یا ایمان خطرے میں ہو۔
عافیت مل جائے تو انسان خوشحال اور مطمئن رہتا ہے، چاہے اس کے پاس بہت زیادہ مال نہ ہو۔
*📌یہ دعا صبح شام ۳ مرتبہ پڑھیں۔*
‎اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدْنِي،اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي،اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَاللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ،اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

*اے اللہ! میرے جسم میں عافیت عطا فرما،اے اللہ! میرے کانوں میں عافیت عطا فرما،اے اللہ! میری آنکھوں میں عافیت عطا فرما، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔اے اللہ! میں کفر اور محتاجی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔امين

🌸 *حیا اور شرم میں اصل فرق کیا ہے؟* 🌸💗 *حیا* انسان کو برائی سے روکتی ہے،🤍 *شرم* لوگوں کے سامنے جھجک یا شرمندگی کا احساس ...
25/09/2026

🌸 *حیا اور شرم میں اصل فرق کیا ہے؟* 🌸

💗 *حیا* انسان کو برائی سے روکتی ہے،
🤍 *شرم* لوگوں کے سامنے جھجک یا شرمندگی کا احساس ہے۔

✨ *آپ کے دل کے قریب کون سی صفت ہے؟* 🫶🏻

🌷 *حیا ہو تو دل ❤️*
🦋 *شرم ہو تو دل 🤍*

*اپنی پسند والا ری ایکٹ ضرور کریں!* 💕

25/09/2026

`سبق آموز کہانی`

*چراغ کی روشنی* ✍🏻

ایک شخص رات کے وقت ایک سنسان راستے سے گزر رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا چراغ تھا۔
راستے میں ایک آدمی نے طنز کرتے ہوئے کہا:
"تمہارے اس چھوٹے سے چراغ سے کتنی دور تک روشنی ہوگی؟"
مسافر مسکرایا اور بولا:
"مجھے پورے راستے کو روشن کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے صرف اتنی روشنی چاہیے کہ اگلا قدم نظر آتا رہے۔"
وہ شخص خاموش ہوگیا۔
زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔
ہم اکثر پوری زندگی کا راستہ ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں؛ مستقبل کی فکر، آنے والے مسائل، لوگوں کے رویے اور اپنے انجام کے بارے میں سوچتے سوچتے آج کا قدم بھی بھول جاتے ہیں۔
حالانکہ ضرورت صرف اتنی ہے کہ اگلا درست قدم دکھائی دے۔
🌸 آج کا اچھا فیصلہ،
🌸 آج کی ایک نیکی،
🌸 آج کی ایک مثبت کوشش،
🌸 اور آج کا ایک صبر...
کل کے راستے کو خود روشن کر سکتا ہے۔
یاد رکھیے:
آپ کو پوری زندگی کا نقشہ نہیں چاہیے،
بس اگلا قدم درست ہونا چاہیے۔
✨ سبق:
جو شخص ہر آنے والے کل کی فکر میں آج کا سکون کھو دیتا ہے، وہ زندگی کے خوبصورت لمحے ضائع کر دیتا ہے۔

25/09/2026

*جمعہ, 25 ستمبر 2026*

طلوع آفتاب 06:04

فلکیاتی دوپہر: 12:05,

*غروب آفتاب: 18:07*

دن کی مدت: 12:03

رات کی مدت: 11:57

24/09/2026

*فہم قرآن کیلئے روزانہ کا مختصر سبق۔*

*24ستمبر، 2026ء*

*درس قرآن *

*سورۃ الحج آیت 49*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۴۹﴾*

*لفظی ترجمہ*
*قُلۡ* آپ کہہ دیجئے *یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ* اے لوگو *اِنَّمَاۤ اَنَا* بیشک میں *لَکُمۡ* تمہارے لیے *نَذِیۡرٌ* ڈرانے والا ہوں *مُّبِیۡنٌ* واضح طور پر ۔

*سلیس ترجمہ*
آپ اعلان کر دیجیے کہ لوگو ! میں تمہیں کھلم کھلا خبردار کرنے والا ہوں۔

*تشریح*
گزشتہ آیات میں کافروں کی طرف سے جلد عذاب کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس کا ایک جواب تو یہ دیا گیا کہ تمہارے اوپر اللہ کی پکڑ آنے میں جو دیر ہو رہی ہے، اسے اللہ کی طرف سے مہلت سمجھو، جو وہ ہر قوم کو دیا کرتا ہے۔
اب اس آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی انہیں دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپ ان کے سامنے اعلان فرما دیں کہ میرا کام تو صرف اللہ کا پیغام پہنچانا اور نہ ماننے والوں کو برے انجام سے خبردار کرنا ہے اور یہ کام میں پوری ذمہ داری سے ادا کر رہا ہوں۔ باقی عذاب کب اور کس وقت آنا ہے، یہ مجھے معلوم نہیں۔ تمہارے اعمال کی جزا و سزا دینا اللہ کا کام ہے، میرا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

*سورۃ الحج آیت 50*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾*

*لفظی ترجمہ*
*فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا* پھر جو لوگ ایمان لائے *وَ عَمِلُوا* اور عمل کیے *الصّٰلِحٰتِ* اچھے *لَہُمۡ* ان کے لیے *مَّغۡفِرَۃٌ* مغفرت *وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ* اور باعزت رزق ہے ۔

*سلیس ترجمہ*
پھر جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کے لیے مغفرت ہے اور باعزت رزق ہے۔
*تشریح*
یعنی جن لوگوں کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی گواہی ان کے اعمال سے بھی ہوتی ہے ان کی تمام خطائیں اور کوتاہیاں قابل معافی ہیں، ان کی تمام نیکیوں اور اچھے کاموں کی قدردانی ہوگی اور عزت کے ساتھ ہر قسم کا عمدہ رزق ملے گا۔
گزشتہ آیات میں جہاد کا حکم ہوا تھا، اس وقت مسلمان کافروں کے ظلم و ستم کی وجہ سے گھروں سے بے گھر ہو گئے تھے اور مالی طور پر بھی تنگدست تھے، ان کے لیے بھی اس آیت میں بشارت ہے کہ ایمان و عمل صالح کے حامل مجاہد کے لیے بخشش بھی ہے اور باعزت رزق بھی، چنانچہ اللہ نے انہیں دنیا میں مال غنیمت سے بھی نوازا جسے قرآن کریم میں طیب اور پاکیزہ رزق کہا گیا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے۔

22/09/2026

*فہم قرآن *

*22 ستمبر، 2026ء*

*درس قرآن*

*سورۃ الحج آیت ،48,47*
........بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾*

*لفظی ترجمہ*
*وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ* اور وہ آپ سے جلدی طلب کرتے ہیں *بِالۡعَذَابِ* عذاب *وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ* اور ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ *وَعۡدَہٗ* اپنے وعدے کی *وَ اِنَّ یَوۡمًا* اور بیشک ایک دن *عِنۡدَ رَبِّکَ* آپ کے رب کے نزدیک *کَاَلۡفِ سَنَۃٍ* ہزار سال کی طرح ہے *مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ* اس سے جو تم شمار کرتے ہو ۔

*سلیس ترجمہ*
اور یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی طلب کر رہے ہیں اور اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی ہرگز نہ کرے گا، ہاں البتہ تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔

*تشریح*
نبی کریم ﷺ کو جھٹلانے اور مخالفت کرنے والے کہتے تھے کہ تم جس عذاب کی دھمکیاں دے رہے ہو، جلدی لے آؤ اور ہمارا کام تمام کر دو۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا اور اٹل ہے، عذاب اور قیامت آ کر ہی رہیں گے۔ اللہ کے نیک بندے عزت والے ہوں گے اور اللہ کے دشمن ذلیل ہوں گے۔
*وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾*
"اللہ کے نزدیک ایک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے" یہ اللہ کے حلم اور بردباری کے لحاظ سے ہے، اسے علم ہے کہ وہ نافرمانوں کی گرفت پر ہر وقت قادر ہے، اس لیے جلدی کیا ہے۔ چاہے کتنی ہی مہلت مل جائے اور رسی دراز ہو جائے لیکن جب وہ چاہے گا سانس لینے کو بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا (ابن کثیر)
اللہ کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی زیادہ ہوتی ہے، تمہارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے۔ وہ اتنا حلیم و بردبار ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو سال کی ہو گی اور ایک گھنٹے کی مہلت دے تو چالیس سال سے بھی زیادہ ہوگی۔ اللہ کے ہاں اوقات اور دنوں کے شمار کے وہ محدود پیمانے نہیں جو تمہارے ہاں ہیں۔
امام رازی لکھتے ہیں کہ جو نافرمان لوگ جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر وہ جان لیتے کہ یومِ عذاب کیا چیز ہے تو کبھی یہ فرمائش نہ کرتے، عذاب کا ایک دن ہی انہیں ہزار سال کے برابر معلوم ہو گا۔

*سورۃ الحج آیت 48*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾*

*لفظی ترجمہ*
*وَ کَاَیِّنۡ* اور کتنی *مِّنۡ قَرۡیَۃٍ* بستیوں میں سے *اَمۡلَیۡتُ* میں نے مہلت دی *لَہَا* ان کے لیے *وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ* اور وہ ظالم تھیں *ثُمَّ اَخَذۡتُہَا* پھر میں نے پکڑ لیا ان کو *وَ اِلَیَّ* اور میری طرف *الۡمَصِیۡرُ* لوٹنا ہے۔

*سلیس ترجمہ*
کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ میں لے لیا۔ اور آخر کار سب کو میرے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔

*تشریح*
یعنی کتنی ہی نافرمان اور ظالم بستیوں والوں کو پہلے ہم مہلت دیتے رہے (جن کی تعداد ہم ہی جانتے ہیں) لیکن انہوں نے ہماری مہلت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، وہ برابر انبیاء کرام کی مخالفت اور ان کے دین کا مذاق اڑاتے رہے اور پھر مناسب وقت پر ہم نے انہیں گرفت میں لے لیا۔
اگر کوئی دنیا میں بچ گیا تو آخرت میں ضرور ہماری عدالت میں پیش ہوگا اور اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔

21/09/2026

*فہم قرآن کیلئے روزانہ کا مختصر سبق۔*

*21 ستمبر، 2026ء*

*درس قرأن*

*46,45سورۃ الحج آیت 42، 43، 44*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*وَ اِنۡ یُّکَذِّبُوۡکَ فَقَدۡ کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۴۲﴾ وَ قَوۡمُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ قَوۡمُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۴۳﴾ وَّ اَصۡحٰبُ مَدۡیَنَ ۚ وَ کُذِّبَ مُوۡسٰی فَاَمۡلَیۡتُ لِلۡکٰفِرِیۡنَ ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ ۚ فَکَیۡفَ کَانَ نَکِیۡرِ ﴿۴۴ ﴾*

. . *لفظی ترجمہ*
*وَ اِنۡ* اور اگر *یُّکَذِّبُوۡکَ* وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں *فَقَدۡ* تو بیشک *کَذَّبَتۡ* جھٹلایا *قَبۡلَہُمۡ* ان سے پہلے *قَوۡمُ نُوۡحٍ* قوم نوح نے *وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوۡدُ* اور عاد وثمود نے *وَ قَوۡمُ اِبۡرٰہِیۡمَ* اور قوم ابراہیم *وَ قَوۡمُ لُوۡطٍ* اور قوم لوط نے *وَّ اَصۡحٰبُ مَدۡیَنَ* اور مدین والوں نے *وَ کُذِّبَ مُوۡسٰی* اور جھٹلایا گیا موسیٰ کو *فَاَمۡلَیۡتُ* پھر میں نے مہلت دی *لِلۡکٰفِرِیۡنَ* کافروں کو *ثُمَّ اَخَذۡتُہُمۡ* پھر میں نے انہیں پکڑ لیا *فَکَیۡفَ کَانَ* پھر کیسی تھی *نَکِیۡرِ* میری گرفت ؟

*سلیس ترجمہ*
اور اگر یہ (کفار) آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (تعجب کی کیا بات ہے) ان سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود نے بھی (اپنے رسولوں کو) جھٹلایا تھا اور قوم ابراہیم اور قوم لوط نے (بھی) اور مدین والوں نے بھی، اور موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی جھٹلایا گیا۔ چنانچہ میں (ان سب) کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انھیں پکڑ لیا، اب دیکھ لو میری گرفت کیسی ہوئی؟

*تشریح*
ان آیات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیغام تسکین ہے کہ آپ کے ساتھ آپ کی قوم کا انکار و مخالفت کا رویہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ پہلی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کرام کے ساتھ یہی رویہ رکھا، جس طرح انہوں نے صبر و استقامت سے اپنا کام جاری رکھا، آپ بھی قوم کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا کام جاری و ساری رکھیے اور برداشت و صبر و استقامت سے کام لیجئے۔ ان قوموں کو ہم نے فوراً نہیں پکڑا بلکہ انہیں غور و فکر کے لیے مناسب وقت دیا اور ڈھیل دی، مگر جب وہ سرکشی اور مخالفت سے باز نہ آئے تو ہم نے انہیں بڑی سخت گرفت میں لے لیا اور وہ عبرت کے نشان بن گئے۔ اب اگر مکہ کے کافر آپ کو جھٹلا رہے ہیں اور مخالفت سے باز نہیں آتے تو میں ان کو بھی پکڑ لوں گا، چاہے یہ کتنی ہی طاقت رکھتے ہوں۔ مسلمانوں کی مہاجرین و انصار کی جماعت جسے وہ کمزور سمجھ رہے ہیں، یہ ان پر ایسی یلغار کرے گی کہ ان کا سارا غرور و تکبر کافور ہو جائے گا اور ان کی شان خاک میں مل کر رہ جائے گی۔
قوم عاد سے ہود علیہ السلام کی قوم اور ثمود سے صالح علیہ السلام کی قوم مراد ہے، جبکہ اصحابِ مدین شعیب علیہ السلام کی قوم تھی۔ ان میں سے کسی قوم پر پتھروں کی بارش ہوئی، کسی کو زلزلہ سے زمین میں دھنسا دیا گیا، کسی کو زوردار کڑک نے ہلاک کر دیا اور کوئی پانی میں ڈبو کر مار دی گئی۔ (دیکھیے العنکبوت:40) یہ بڑی بڑی مہذب و متمدّن، طاقتور اور مال و دولت رکھنے والی قومیں تھیں، ان کی فوجیں، ان کے علوم و فنون، ان کی صناعی اور انجینری اور تدبیریں انہیں ہلاکت سے نہ بچا سکیں۔


. .. ... ... ..*سورۃ الحج آیت 45* ............بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾*

*لفظی ترجمہ*
*فَکَاَیِّنۡ* پھر کتنی *مِّنۡ قَرۡیَۃٍ* بستیوں میں سے *اَہۡلَکۡنٰہَا* ہم نے ہلاک کر دیا انکو *وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ* اور وہ ظلم کرنے والی تھیں *فَہِیَ خَاوِیَۃٌ* تو وہ گری پڑی ہیں *عَلٰی عُرُوۡشِہَا* اپنی چھتوں پر *وَ بِئۡرٍ* اور کنویں *مُّعَطَّلَۃٍ* بیکار پڑے ہیں *وَّ قَصۡرٍ* اور محل *مَّشِیۡدٍ* مضبوط بنے ہوئے ۔

. ....... . *سلیس ترجمہ*
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وبالا کردیا اس لیے کہ وہ ظالم تھے، وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے مضبوط اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔
................... *تشریح*
یعنی بہت سارے شہر اور بستیاں ایسی ہیں کہ ان کے باشندے جب ظالم بن گئے اور اپنے رب کی نافرمانیوں پر اتر آئے، اس کے رسولوں کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنے کے بجائے ان کی مخالفت کرنے لگے، تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ان کے عالی شان محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اور اوندھے گرے ہوئے ہیں، آبادیاں ویران ہو گئیں، کنویں بے کار اور بند ہو گئے، ان کے مضبوط چونا گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، وہ آج ویران پڑے ہوئے ہیں، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی اور رب کے عذاب نے انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
پرانے زمانے میں کسی علاقے کا کنواں زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج تو فراہمی آب کے جدید نظام رائج ہیں لیکن قدیم تمدن و معاشرت میں کنویں کو بڑی اہمیت حاصل تھی، انہی سے ہی کھیت اور باغات سیراب ہوتے تھے اور منڈیوں میں چہل پہل ہوتی تھی۔ آج بھی جس علاقے میں فراہمی آب کا نظام نہیں ہے وہاں پر کنوؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے

*سورۃ الحج آیت 45*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*فَکَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ فَہِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوۡشِہَا وَ بِئۡرٍ مُّعَطَّلَۃٍ وَّ قَصۡرٍ مَّشِیۡدٍ ﴿۴۵﴾*

.. .... *لفظی ترجمہ*
*فَکَاَیِّنۡ* پھر کتنی *مِّنۡ قَرۡیَۃٍ* بستیوں میں سے *اَہۡلَکۡنٰہَا* ہم نے ہلاک کر دیا انکو *وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ* اور وہ ظلم کرنے والی تھیں *فَہِیَ خَاوِیَۃٌ* تو وہ گری پڑی ہیں *عَلٰی عُرُوۡشِہَا* اپنی چھتوں پر *وَ بِئۡرٍ* اور کنویں *مُّعَطَّلَۃٍ* بیکار پڑے ہیں *وَّ قَصۡرٍ* اور محل *مَّشِیۡدٍ* مضبوط بنے ہوئے ۔

. ...........*سلیس ترجمہ*
کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے تہ وبالا کردیا اس لیے کہ وہ ظالم تھے، وہ اپنی چھتوں کے بل گری ہوئی پڑی ہیں اور بہت سے آباد کنوئیں بیکار پڑے ہیں اور بہت سے مضبوط اور بلند محل ویران پڑے ہیں۔

*تشریح*
یعنی بہت سارے شہر اور بستیاں ایسی ہیں کہ ان کے باشندے جب ظالم بن گئے اور اپنے رب کی نافرمانیوں پر اتر آئے، اس کے رسولوں کے لائے ہوئے دین پر عمل کرنے کے بجائے ان کی مخالفت کرنے لگے، تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ان کے عالی شان محلات کھنڈر بنے پڑے ہیں اور اوندھے گرے ہوئے ہیں، آبادیاں ویران ہو گئیں، کنویں بے کار اور بند ہو گئے، ان کے مضبوط چونا گچ محل جو دور سے سفید چمکتے ہوئے دکھائی دیتے تھے، وہ آج ویران پڑے ہوئے ہیں، ان کی خوبصورتی اور پائیداری بیکار ثابت ہوئی اور رب کے عذاب نے انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
پرانے زمانے میں کسی علاقے کا کنواں زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا، آج تو فراہمی آب کے جدید نظام رائج ہیں لیکن قدیم تمدن و معاشرت میں کنویں کو بڑی اہمیت حاصل تھی، انہی سے ہی کھیت اور باغات سیراب ہوتے تھے اور منڈیوں میں چہل پہل ہوتی تھی۔ آج بھی جس علاقے میں فراہمی آب کا نظام نہیں ہے وہاں پر کنوؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
*سورۃ الحج آیت 46*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾*

*لفظی ترجمہ*
*اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا* کیا وہ نہیں چلے پھرے *فِی الۡاَرۡضِ* زمین میں *فَتَکُوۡنَ* تو ہوتے *لَہُمۡ قُلُوۡبٌ* ان کے لیے دل *یَّعۡقِلُوۡنَ* سمجھتے *بِہَاۤ* ان کے ذریعہ *اَوۡ اٰذَانٌ* یا کان *یَّسۡمَعُوۡنَ* *بِہَا* سنتے ان کے ذریعے *فَاِنَّہَا* تو بیشک وہ *لَا تَعۡمَی* نہیں اندھی ہوتی *الۡاَبۡصَارُ* آنکھیں *وَ لٰکِنۡ* اور لیکن *تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ* دل اندھے ہوتے ہیں *الَّتِیۡ* جو *فِی الصُّدُوۡرِ* سینوں میں ہیں۔

. ......................*سلیس ترجمہ*
کیا یہ لوگ زمین میں نہیں چلے پھرے تاکہ ان کے ایسے دل ہوتے جن کے ذریعہ سمجھتے اور ایسے کان ہوتے جن کے ذریعہ سنتے، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر ہیں۔

. .. ......................... *تشریح*
عرب کے لوگ شام و یمن میں تجارت کے لیے جاتے تھے، راستے میں قومِ عاد، قومِ ثمود (مدائن صالح) اور قومِ لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیوں کو دیکھتے۔
آیت میں ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ کیا یہ لوگ ان تباہ شدہ قوموں کے آثار دیکھ کر سبق اور عبرت حاصل نہیں کرتے، اور نہ یہ سوچتے ہیں کہ ان بستیوں کا یہ انجام کیوں ہوا؟ اگر یہ کچھ غور و فکر کرتے تو ان کو حقیقت سمجھ آ جاتی اور کان کھل جاتے ہیں۔
سبق اور عبرت حاصل کرنے کے لیے آنکھوں کی نہیں بلکہ دل کی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تو دل کے اندھے ہیں۔
آیت میں ان لوگوں کو بھی ترغیب دی جا رہی ہے جنھوں نے سفر نہیں کیا، کہ دنیا میں چلو پھرو، اس سے تمہاری آنکھیں دیکھ کر اور کان سن کر عبرت و نصیحت حاصل کریں گے۔

18/09/2026

`السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ`

*درود شریف پڑھ لیجیے 🍃*
*🍁اَللّٰھُمَّ صَــّلِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ*
*کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ*
*اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد 🍁*
*🍁اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ*
*کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ*
*اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِید 🍁*
🍃

18/09/2026

📚 🖋🌙

*فہم قرآن کیلئے روزانہ کا مختصر سبق۔*

*18 ستمبر، 2026ء*

*درس قرآن *

*سورۃ الحج آیت 41,40*

*الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بِغَیۡرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ ؕ۔۔۔۔ ﴿۴۰﴾*

*لفظی ترجمہ*
*الَّذِیۡنَ* وہ لوگ *اُخۡرِجُوۡا* جو نکالے گئے *مِنۡ دِیَارِہِمۡ* اپنے گھروں سے *بِغَیۡرِ حَقٍّ* بغیر حق کے *اِلَّاۤ اَنۡ* مگر یہ کہ *یَّقُوۡلُوۡا رَبُّنَا اللّٰہُ* وہ کہتے ہیں ہمارا رب اللہ ہے۔

*سلیس ترجمہ*
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس بنا پر کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے

*تشریح*
یعنی مسلمان جنہیں مکہ سے نکل جانے پر مجبور کر دیا گیا، ان کے گھر بار چھین لیے گئے، بے وجہ گھر سے بےگھر کر دیے گئے اور مدینہ میں بے سر وسامانی کی حالت میں پہنچے۔
کافروں کو مسلمانوں سے یہ شکایت نہ تھی کہ یہ لوگ شورش پسند ہیں، چور ڈاکو ہیں، یا قتل و غارت کرتے ہیں۔ ان کا جرم اور قصور ان کے نزدیک صرف یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اللہ ہے اور انھوں نے باطل کی فرماں روائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا، جس کی پاداش میں انہیں مکہ جیسے وطن سے نکلنے پر مجبور کر دیا گیا۔
مسلمان جب بھی اللہ کو صحیح معنوں میں اپنا رب تسلیم کرتے ہوئے اس کے دین پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کافر اور دین دشمن اسے ایک ناقابل معافی جرم قرار دے کر ان کے خلاف ظالمانہ کاروائیاں شروع کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے اور اپنے دین کے تحفظ کے لیے اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔

*سورۃ الحج آیت 40 (¡¡)*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*۔۔۔وَ لَوۡ لَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا ؕ۔۔۔۔ ﴿۴۰﴾*

*لفظی ترجمہ*
*وَ لَوۡ لا* اور اگر نہ *دَفۡعُ اللّٰہِ* دفع کرتا اللہ *النَّاسَ* لوگوں کو *بَعۡضَہُمۡ* ان میں سے بعض کو *بِبَعۡضٍ* بعض کے ذریعے *لَّہُدِّمَتۡ* تو گرا دی جاتیں *صَوَامِعُ* خانقاہیں *وَ بِیَعٌ* اور کلیسے *وَّ صَلَوٰتٌ* اور عبادت گاہیں *وَّ مَسٰجِدُ* اور مسجدیں *یُذۡکَرُ* ذکر کیا جاتا ہے *فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ* ان میں اللہ کا نام *کَثِیۡرًا* بہت ۔

*سلیس ترجمہ*
اور اگر اللہ انسانوں کے ایک گروہ کے (شر)کو دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، کلیسے، عبادت گاہیں اور مسجدیں مسمار اور ویران کردی جاتیں، جن میں کثرت سے اللہ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے۔

*تشریح*
صَوَامِعُ صُومَعَہ کی جمع ہے۔ یہ راہبوں اور تارک الدنیا لوگوں کے چھوٹے عبادت خانوں کو کہا جاتا ہے۔ بِیَعٌ بِیعَہ کی جمع ہے۔ عیسائیوں کے گرجے اور کلیسا کو کہتے ہیں۔ صَلَوٰتٌ سے یہودیوں کی عبادت گاہیں (کنیسے) اور مساجد سے مسلمانوں کی عبادت گاہیں مراد ہیں۔
آیت میں اس بات کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ اللہ تعالٰی اپنے نیک بندوں کو تلوار اٹھانے کا حکم کیوں دیتا ہے، اس لیے کہ اگر اللہ شر پسندوں اور شیطانوں کو اپنے نیک لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، چوری ڈاکے عام ہو جائیں، لوگوں کا امن و سکون برباد ہو کر رہ جائے اور صنعت و تجارت کے مراکز تباہ ہو جائیں، یہاں تک کہ کسی مذہب کی عبادت گاہیں جو ہدایت کے مراکز ہوتے ہیں اور جہاں لوگ اللہ کو بہت یاد کرتے ہیں، وہ بھی محفوظ نہ رہیں اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی جائے۔ سورۂ البقرہ میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے "اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا تو زمین میں فساد پھیل جاتا، مگر اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل والا ہے" (البقرہ:251
چنانچہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام اور اپنے نیک بندوں کو اس بارے میں حکم فرمایا، انہوں نے جہاد کر کے شر و فساد کا خاتمہ کیا اور دوبارہ سے دنیا میں امن و سکون قائم کیا، سیاسی و معاشی حالات درست کیے اور دینی مراکز اور عبادت گاہوں کا قیام عمل میں لایا۔
جو لوگ کہتے ہیں کہ تلوار اٹھانا نیک بندوں کا کام نہیں اور یہ دینداری کے خلاف ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ مفسدین کو کھلی چھٹی دے دی جائے اور وہ دل کھول کر زمین کا امن و سکون برباد کر دیں، مساجد و مدارس اور عبادت گاہوں کا نام و نشان نہ رہے اور یوں دین کی ساری بساط لپیٹ کر رکھ دی جائے.

*سورۃ الحج آیت 40 (¡¡¡)*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*۔۔۔ وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾*

*لفظی ترجمہ*
۔۔۔۔ *وَ لَیَنۡصُرَنَّ اللّٰہُ* اور البتہ ضرور مدد کرتا ہے اللہ *مَنۡ یَّنۡصُرُہٗ* جو اس کی مدد کرتا ہے *اِنَّ اللّٰہَ* بیشک اللہ *لَقَوِیٌّ* بڑی قوت والا *عَزِیۡزٌ* صاحب اقتدار ہے ۔

*سلیس ترجمہ*
۔۔ اور جو شخص اللہ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالٰی بڑی قوت والا اور صاحب اقتدار ہے ۔

*تشریح*
اللہ تعالٰی کی مدد کرنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہے، بلکہ اس کے دین کی مدد مراد ہے۔ جو لوگ دین اسلام کو پھیلانے، اس کا نظام قائم کرنے اور برائی کی جگہ نیکی کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی تمام تر صلاحیتیں اور اسباب وسائل اس پر صرف کر دیتے ہیں، وہ لوگ اللہ کے مددگار ہیں۔
اللہ کے دین کی مدد دلائل کے ساتھ بھی ہے، تلوار کے ساتھ بھی، جان و مال کے ساتھ بھی، زبان و قلم کے ساتھ بھی، غرض ہر طرح سے اللہ کے دین کی مدد لازم ہے، اور جو بھی یہ فریضہ انجام دے گا، یقیناً وہ اللہ کا کام کر رہا ہے اور اللہ پر لازم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی مدد فرمائے۔ اب اس مدد کے لیے چاہے وہ ظاہری اسباب پیدا فرما دے، یا غیب سے اپنے لشکروں کے ساتھ مدد فرمائے، بہرحال وہ مدد ضرور فرماتا ہے۔
*اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۴۰﴾*
یعنی کافر اور دشمنانِ دین مسلمانوں کی کمزور حالت کو دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں کہ یہ ہمارے خلاف کیا کر سکتے ہیں؟ یہ قطرے تمہارے لیے طوفان بن سکتے ہیں، کیونکہ ان کی مدد و نصرت پر اللہ کی بڑی طاقتور ذات موجود ہے۔ چنانچہ اللہ نے اپنا یہ وعدہ پورا فرمایا اور اس کے دین کی مدد کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے پیرو کاروں کے ہاتھوں بڑی طاقتور اور ظالم حکومتوں کو شکست دے کر پوری دنیا میں اسلام کا بول بالا کر دیا۔
آج مسلمان یہ دیکھ رہے ہیں کہ کافروں کے خلاف ہماری مدد کیوں نہیں ہو رہی؟ یہ نہیں ہو سکتا کہ مسلمان اللہ کے دین کے باغیوں کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھائیں، وفاداریاں اللہ کے دشمنوں کے ساتھ ہوں اور اس کے دین کے ساتھ برائے نام تعلق ہو اور پھر بھی چاہیں کہ اللہ ان کی مدد کرے!

*سورۃ الحج آیت 41*

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

*اَلَّذِیۡنَ اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾*

*لفظی ترجمہ*
*اَلَّذِیۡنَ* وہ لوگ *اِنۡ مَّکَّنّٰہُمۡ* اگر ہم انہیں اقتدار دیں *فِی الۡاَرۡضِ* زمین میں *اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ* وہ نماز قائم کریں گے *وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ* اور زکوۃ ادا کریں گے *وَ اَمَرُوۡا بِالۡمَعۡرُوۡفِ* اور نیکی کا حکم کریں گے *وَ نَہَوۡا عَنِ الۡمُنۡکَرِ* اور برائی سے روک دیں گے *وَ لِلّٰہِ* اور اللہ ہی کے لیے ہے *عَاقِبَۃُ* انجام *الۡاُمُوۡرِ* تمام معاملات کا۔

*سلیس ترجمہ*
یہ ایسے لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار دے دیں تو وہ نماز (کا نظام) قائم کریں گے، زکوۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں گے، نیک کاموں کا حکم کریں گے اور لوگوں کو برائی سے روک دیں گے، اور تمام معاملات کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

*تشریح*
گزشتہ آیات میں جن مظلوم مسلمانوں کو جہاد کی اجازت دی گئی اور ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا کہ اللہ ضرور ان کی مدد فرمائے گا، اس آیت میں ان کے متعلق پیشین گوئی کی گئی کہ اگر ہم انہیں ملک میں حکومت عطا کریں تو ان کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
1۔ سب سے پہلے یہ نماز کا نظام قائم کریں گے، خود بھی نماز پابندی سے پڑھیں گے اور لوگوں کو بھی نماز کا پابند کریں گے۔ چنانچہ جب مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوئی تو کسی منافق کو بھی جرات نہ ہوتی تھی کہ وہ مسجد میں نہ آئے۔
2۔ زکوٰۃ کا باقاعدہ نظام قائم کریں گے تاکہ ملک کے پسماندہ طبقے کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
3۔ ملک میں نیکی اور اچھے کاموں کو فروغ دیں گے اور اللہ کی نافرمانی اور جرائم سے ملک کو پاک کر دیں گے۔
چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، آپ کے اصحاب اور دوسرے نیک حکمرانوں کو جب حکومت ملی تو انہوں نے آیت میں بیان کردہ ان ہدایات کو مدنظر رکھا، جس کی بدولت ان کی حکومتوں میں امن وسکون اور خوشحالی رہی اور مسلمان پوری دنیا میں سر بلند رہے۔
آج بھی اللہ تعالیٰ جہاں مسلمانوں کو اقتدار بخشے ان پر بعینہ یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس لائحہ عمل کے مطابق چلیں۔ اگر وہ یہ فریضہ ادا نہ کریں تو اللہ کے نزدیک جس طرح ظالموں کافروں کا تسلط ناجائز ہے اسی طرح ان نام نہاد مسلمانوں کا تسلط بھی ناجائز ہے۔
افسوس کہ مسلمان حکمران اللہ کی طرف سے بتائے گئے حکومتی امور چلانے کے طریقہ کار کو چھوڑ کر کافروں کے طریقوں جمہوریت، سود، بےحیائی کے فروغ، نیکی سے دوری اور آخرت کو بھول کر دنیا پرست اور عیاش بن گئے اور اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ملک کو خوشحالی اور ترقی سے ہمکنار کریں گے۔
*وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الۡاُمُوۡرِ ﴿۴۱﴾* "اور تمام کاموں کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے" عمدہ نتیجہ نیک لوگوں کا ہوگا، ہر نیکی کا بدلہ اس کے پاس ہے۔ عارضی ناکامی اور مغلوبیت سے اہل حق کو ہراساں اور دل شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔

حرمین شریفین کے سنگِ مرمر کی ٹھنڈک کا راز اور سنگ مرمر کی ایمان افروز داستان جس سے انسان کا ایمان تازہ ہو جائے👇کیا آپ جا...
18/09/2026

حرمین شریفین کے سنگِ مرمر کی ٹھنڈک کا راز اور سنگ مرمر کی ایمان افروز داستان جس سے انسان کا ایمان تازہ ہو جائے👇
کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کے صحن میں استعمال ہونے والا سنگِ مرمر شدید دھوپ کے باوجود قدرتی طور پر ٹھنڈا کیوں رہتا ہے؟
جونہی زائرین حرم کے مطاف میں قدم رکھتے ہیں، وہ سورج کی تپش کے باوجود فرش کی غیر معمولی ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں۔ اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوالات آتے ہیں:
کیا یہ سنگِ مرمر کی قدرتی خاصیت ہے؟
کیا اس کے پیچھے کوئی خاص ٹیکنالوجی ہے؟
کیا فرش کے نیچے کولنگ سسٹم یا ٹھنڈے پانی کی پائپ لائنز ہیں؟
آئیے جانتے ہیں اس راز کے پیچھے موجود عظیم معمار ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل کی ایمان افروز کہانی۔
معمارِ حرمین: ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل 15 ستمبر 1908ء کو مِت غمر، دقہلیہ (مصر) میں پیدا ہوئے۔ وہ غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل معمار تھے اور:
مسجد الحرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کی توسیع کے منصوبوں کے نگران و معمار رہے
حرمین شریفین کے صحنوں کی منصوبہ بندی اور تعمیر انہی کی نگرانی میں ہوئی
🪨 سنگِ مرمر کا راز — تھاسوس (Thassos)
ڈاکٹر اسماعیل چاہتے تھے کہ حرم کے صحن کو ایسے سنگِ مرمر سے پختہ کیا جائے جو:
شدید گرمی میں بھی ٹھنڈا رہے
زائرین کے لیے راحت کا سبب بنے
انہوں نے یونان کے جزیرہ تھاسوس سے حاصل ہونے والا خاص سنگِ مرمر منتخب کیا، جسے Greek Thassos Marble کہا جاتا ہے۔
اس سنگِ مرمر کی خصوصیات:
انتہائی سفید رنگ
منفرد کرسٹل ساخت
بلند Albedo Effect
(یعنی سورج کی روشنی اور حرارت کو بہت زیادہ مقدار میں واپس منعکس کرنا)
گرمی کو جلد جذب نہیں کرتا
اسی لیے دن کے شدید ترین اوقات میں بھی قدرتی طور پر ٹھنڈا رہتا ہے
مزید یہ کہ
سنگِ مرمر کے تختے 5 سینٹی میٹر موٹے لگائے گئے تاکہ حرارت سے مزاحمت بڑھے
اس مشہور افواہ میں کوئی صداقت نہیں کہ صحن کے نیچے ٹھنڈے پانی کی پائپ لائنز ہیں
یونان کا سفر اور حرم کا سنگِ مرمر
ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل یونان گئے اور وہاں موجود ایک چھوٹے سے پہاڑ سے
حرم کے لیے مطلوبہ سنگِ مرمر خریدا
یہ مقدار اس پہاڑ میں موجود کل سنگِ مرمر کا بالکل نصف تھی
یوں مسجد الحرام کا صحن مکمل ہوا۔
پندرہ سال بعد… ایک آزمائش
کچھ عرصے بعد سعودی حکومت نے ڈاکٹر اسماعیل سے درخواست کی کہ:
مسجدِ نبوی ﷺ میں بھی وہی سنگِ مرمر استعمال کیا جائے
ڈاکٹر اسماعیل بیان کرتے ہیں
“جب مجھے یہ ذمہ داری دی گئی تو میں سخت گھبرا گیا۔ یہ سنگِ مرمر دنیا میں صرف اسی ایک جگہ پایا جاتا تھا، اور میں اس کا نصف پہلے ہی خرید چکا تھا۔”
وہ دوبارہ یونان گئے اور کمپنی کے چیئرمین سے پوچھا:
کیا مزید سنگِ مرمر دستیاب ہے؟
جواب ملا
“باقی سارا سنگِ مرمر آپ کے پہلے معاہدے کے فوراً بعد فروخت ہو چکا تھا۔”
ڈاکٹر اسماعیل کہتے ہیں:
“میں ایسی اداسی میں مبتلا ہوا جو میں نے کبھی محسوس نہیں کی۔ کافی کا کپ تک پورا نہ کیا اور اگلے دن کی فلائٹ بک کروا لی۔”
حیرت انگیز موڑ
واپسی سے قبل انہوں نے سیکرٹری سے پوچھا:
“وہ سنگِ مرمر کس نے خریدا تھا؟”
سیکرٹری نے کہا:
“کافی وقت گزر چکا ہے، تلاش مشکل ہوگی۔”
ڈاکٹر اسماعیل نے عاجزی سے درخواست کی:
“میرے پاس یونان میں ایک دن ہے، براہِ کرم کوشش کریں۔ یہ میرا ہوٹل نمبر ہے۔”
اگلے دن، روانگی سے چند گھنٹے قبل فون آیا:
“ہم نے خریدار کا پتا تلاش کر لیا ہے۔”
جب ڈاکٹر اسماعیل نے پتا دیکھا تو:
ان کا دل زور سے دھڑکنے لگا
وہ خریدار ایک سعودی کمپنی تھی
اللہ کی تدبیر
وہ فوراً سعودی عرب پہنچے اور سیدھا اس کمپنی گئے۔ چیئرمین سے پوچھا:
“آپ نے یونان سے خریدا ہوا سفید سنگِ مرمر کہاں استعمال کیا؟”
جواب ملا:
“مجھے یاد نہیں۔”
گودام سے پوچھا گیا تو جواب آیا:
“سارا سنگِ مرمر اب تک گودام میں ویسے ہی رکھا ہے، استعمال نہیں ہوا۔”
ڈاکٹر اسماعیل کہتے ہیں:
“میں بچوں کی طرح رو پڑا۔”
جب کمپنی کے مالک نے وجہ پوچھی تو:
انہوں نے پوری کہانی سنائی
اور ایک خالی چیک میز پر رکھ کر کہا:
“جو رقم چاہیں لکھ دیں۔”
مالک نے اللہ کی قسم کھا کر کہا:
“جب مجھے معلوم ہوا کہ یہ سنگِ مرمر مسجدِ نبوی ﷺ کے لیے ہے، میں نے عہد کیا کہ اس کا ایک درہم بھی نہیں لوں گا۔
اللہ نے ہی مجھے یہ سنگِ مرمر گودام میں بھلا دیا تھا تاکہ یہ اسی مقصد کے لیے محفوظ رہے۔”
پاک ہے وہ اللہ
جس نے وہ پہاڑ پیدا کیا
اور اس سنگِ مرمر کو
اپنے گھر اور اپنے محبوب ﷺ کی مسجد کے لیے محفوظ رکھا۔
اللہ تعالیٰ:
عظیم معمار ڈاکٹر محمد کمال اسماعیل پر رحم فرمائے
اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے.آمین یا رب العالمین
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

*اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُحَمّدٍ اَفْضَلَ صَلَوٰتِكَ*

*صلی اللّٰه علیه و علیٰ آلهٖ وسلم*

*صلی اللّٰه علیه وسلم*

Address

Lahore Punjab
Multan

Telephone

+923047094867

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic Reflection posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Islamic Reflection:

Shortcuts

Share