22/09/2026
*فہم قرآن *
*22 ستمبر، 2026ء*
*درس قرآن*
*سورۃ الحج آیت ،48,47*
........بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
*وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾*
*لفظی ترجمہ*
*وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ* اور وہ آپ سے جلدی طلب کرتے ہیں *بِالۡعَذَابِ* عذاب *وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ* اور ہرگز نہیں خلاف کرے گا اللہ *وَعۡدَہٗ* اپنے وعدے کی *وَ اِنَّ یَوۡمًا* اور بیشک ایک دن *عِنۡدَ رَبِّکَ* آپ کے رب کے نزدیک *کَاَلۡفِ سَنَۃٍ* ہزار سال کی طرح ہے *مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ* اس سے جو تم شمار کرتے ہو ۔
*سلیس ترجمہ*
اور یہ لوگ آپ سے عذاب جلدی طلب کر رہے ہیں اور اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی ہرگز نہ کرے گا، ہاں البتہ تمہارے رب کے نزدیک ایک دن تمہارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال کے برابر ہے۔
*تشریح*
نبی کریم ﷺ کو جھٹلانے اور مخالفت کرنے والے کہتے تھے کہ تم جس عذاب کی دھمکیاں دے رہے ہو، جلدی لے آؤ اور ہمارا کام تمام کر دو۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ یاد رکھو اللہ کا وعدہ سچا اور اٹل ہے، عذاب اور قیامت آ کر ہی رہیں گے۔ اللہ کے نیک بندے عزت والے ہوں گے اور اللہ کے دشمن ذلیل ہوں گے۔
*وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾*
"اللہ کے نزدیک ایک ایک دن تمہارے ہزار سال کے برابر ہے" یہ اللہ کے حلم اور بردباری کے لحاظ سے ہے، اسے علم ہے کہ وہ نافرمانوں کی گرفت پر ہر وقت قادر ہے، اس لیے جلدی کیا ہے۔ چاہے کتنی ہی مہلت مل جائے اور رسی دراز ہو جائے لیکن جب وہ چاہے گا سانس لینے کو بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا (ابن کثیر)
اللہ کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی زیادہ ہوتی ہے، تمہارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے۔ وہ اتنا حلیم و بردبار ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو سال کی ہو گی اور ایک گھنٹے کی مہلت دے تو چالیس سال سے بھی زیادہ ہوگی۔ اللہ کے ہاں اوقات اور دنوں کے شمار کے وہ محدود پیمانے نہیں جو تمہارے ہاں ہیں۔
امام رازی لکھتے ہیں کہ جو نافرمان لوگ جلد عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں اگر وہ جان لیتے کہ یومِ عذاب کیا چیز ہے تو کبھی یہ فرمائش نہ کرتے، عذاب کا ایک دن ہی انہیں ہزار سال کے برابر معلوم ہو گا۔
*سورۃ الحج آیت 48*
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
*وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾*
*لفظی ترجمہ*
*وَ کَاَیِّنۡ* اور کتنی *مِّنۡ قَرۡیَۃٍ* بستیوں میں سے *اَمۡلَیۡتُ* میں نے مہلت دی *لَہَا* ان کے لیے *وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ* اور وہ ظالم تھیں *ثُمَّ اَخَذۡتُہَا* پھر میں نے پکڑ لیا ان کو *وَ اِلَیَّ* اور میری طرف *الۡمَصِیۡرُ* لوٹنا ہے۔
*سلیس ترجمہ*
کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ میں لے لیا۔ اور آخر کار سب کو میرے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔
*تشریح*
یعنی کتنی ہی نافرمان اور ظالم بستیوں والوں کو پہلے ہم مہلت دیتے رہے (جن کی تعداد ہم ہی جانتے ہیں) لیکن انہوں نے ہماری مہلت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا، وہ برابر انبیاء کرام کی مخالفت اور ان کے دین کا مذاق اڑاتے رہے اور پھر مناسب وقت پر ہم نے انہیں گرفت میں لے لیا۔
اگر کوئی دنیا میں بچ گیا تو آخرت میں ضرور ہماری عدالت میں پیش ہوگا اور اپنے کیے کی سزا بھگتے گا۔