Apna

Apna Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Apna, Newspaper, Multan.

**خاندانی اور کم ظرف لوگوں کا سلوک**کم ظرف اور بدنسل لوگ******اکثر لوگ ظاہری چمک دمک، میٹھے بول اور عارضی احسانات سے متا...
20/08/2026

**خاندانی اور کم ظرف لوگوں کا سلوک**

کم ظرف اور بدنسل لوگ******
اکثر لوگ ظاہری چمک دمک، میٹھے بول اور عارضی احسانات سے متاثر ہو کر غلط لوگوں پر اعتماد کر بیٹھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ظاہری احسانات اور بناوٹی ہمدردی اکثر سچائی کا بدل نہیں ہو سکتیں۔ اصل انسانی پہچان مصیبت، اختلاف اور کاروباری یا جذباتی معاملات کے وقت ہوتی ہے۔ اعلیٰ ظرف انسان تکلیف میں بھی اپنے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑتا، جبکہ کم ظرف انسان ذرا سا موقع ملتے ہی اپنی اصلیت دکھا دیتا ہے اور پیٹھ میں چھرا گھونپتا ہے۔
خاندانی اور کم ظرف لوگوں کا سلوک
خاندانی ہونا صرف کسی بڑے نام یا دولت کا محتاج نہیں ہوتا، بلکہ یہ تربیت، برداشت، اور حلال و حرام کی تمیز کا نام ہے۔
*اعلیٰ ظرف اور خاندانی لوگ: معاف کرنا جانتے ہیں، رازوں کی حفاظت کرتے ہیں، اور برے وقت میں ہمیشہ ڈھال بن کر ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا ساتھ انسان کو حوصلہ اور عزت دیتا ہے۔
*کم ظرف اور بدنسل لوگ:* ذرا سی ناراضگی پر سالوں پرانے تعلق کو بھول جاتے ہیں، راز فاش کرتے ہیں اور دکھ پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔*زندگی مختصر ہے اور اسے غلط لوگوں کی آزمائش میں ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ تعلقات قائم کرتے وقت انسان کے باطن، اس کے رویے اور اس کے اخلاقی ظرف کو پرکھنا بے حد ضروری ہے۔ ظاہری دکھاوے پر جلدی دل ہارنے کی بجائے صبر و دانشمندی سے کام لینا چاہیے۔*ہمیشہ ایسے لوگوں کا انتخاب کیجیے جو آپ کے مان اور عزتِ نفس کی حفاظت کر سکیں۔ اعلیٰ ظرف لوگوں کا ساتھ آپ کی شخصیت کو نکھارتا ہے، جبکہ کم ظرف کی صحبت صرف پچھتاوے اور دل ٹوٹنے کا باعث بنتی ہے۔ اصل رشتہ وہی ہے جو ظرف اور نیت کی سچائی پر قائم ہو۔

**۔​تخلیق کا ایک تلخ اور کڑواسچ**ہم ایک ایسی دنیا کے مسافر ہیں جہاں زبان سے خلوص کے دریا بہانا تو عام ہے، لیکن عمل کے می...
02/08/2026

**۔​تخلیق کا ایک تلخ اور کڑواسچ**
ہم ایک ایسی دنیا کے مسافر ہیں جہاں زبان سے خلوص کے دریا بہانا تو عام ہے، لیکن عمل کے میدان میں سچائی کی ایک بوند تلاش کرنا نایاب ہو چکا ہے۔ انسان اکثر محبت، ہمدردی اور وفاداری کے اتنے حسین دعوے کرتا ہے کہ ان پر گماں کا سایہ بھی محسوس نہیں ہوتا؛ مگر جیسے ہی وقت کی دھوپ کڑی ہوتی ہے اور آزمائش کی گھڑی آتی ہے، لفظوں کے یہ محلات ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں اور ہر شخص کا اصل روپ کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔​تخلیق کا یہ ایک تلخ سچ ہے کہ انسان بنیادی طور پر سب سے پہلے اپنی ذات کا اسیر اور وفادار ہے۔ زندگی کے بیشتر موڑ پر اپنے مفادات، اپنی خوشیوں اور اپنی آسائشوں کی پاسداری ہی اس کی پہلی ترجیح ہوتی ہے۔ جب تک کسی سے وابستگی اس کے اپنے وجود یا مفاد کو چوٹ نہ پہنچائے، تب تک اس کا خلوص قائم رہتا ہے۔ مگر جہاں اپنے اور دوسروں کے مفادات کا تصادم ہو، وہاں برسوں کے یکجا کیے ہوئے تمام دعوے اور وعدے پل بھر میں دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔​البصیرت کا تقاضا یہ نہیں کہ انسان دنیا کو یکسر برائی کا گہوارہ سمجھ بیٹھ بٹھائے—اچھے لوگ ہر دور میں موجود رہتے ہیں—لیکن سچائی یہی ہے کہ غالب اکثریت اپنی ذات کی حدود سے باہر نہیں نکل پاتی۔ باتیں تو سستے درہموں مل جاتی ہیں، مگر سچی وفاداری اور مخلصانہ ناطہ نبھانا ایک ایسی قیمتی متاع ہے جس کی قیمت چکانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔​اس لیے، دانشمندی اسی میں ہے کہ انسان لفظوں کے سحر اور باتوں کے ظاہر پر دل ہارنے کے بجائے عمل کی گہرائی کو پرکھنا سیکھے، اور اپنی توقعات کا بوجھ کچے رشتوں پر ڈالنے کے بجائے صرف اپنی ذات اور اپنے رب کی ذات پر انحصار کرے۔

*​وہ دروازے جو آہٹ پر کھلتے تھے*آہٹ سے خاموشی تک: جب رویے دروازے بند کر دیتے ہیں*​زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں ...
29/07/2026

*​وہ دروازے جو آہٹ پر کھلتے تھے*
آہٹ سے خاموشی تک: جب رویے دروازے بند کر دیتے ہیں

*​زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں رسمی باتوں یا اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کسی کا صرف ہونا یا اس کی آمد کی آہٹ ہی خوشی، اعتماد اور محبت کا پیغام لاتی ہے۔ یہ وہ دروازے ہوتے ہیں جو محض ایک آہٹ، ایک دستک یا ایک آواز پر بغیر کسی سوال کے کھل جایا کرتے تھے، کیونکہ ان کے پیچھے بے لوث محبت، گہرا احترام和 پائیدار اعتماد قائم ہوتا ہے۔​غلط حرکتوں اور رویوں کا اثر ​بدقسمتی سے، لوگ اکثر اس قربت اور سہولت کو ہمیشہ کے لیے قائم رہنے والی چیز سمجھ لیتے ہیں۔ پھر وہ اپنی غلط حرکتوں، تلخ رویوں، بے وفائی، اور متکبرانہ انداز سے سامنے والے کی عزتِ نفس اور اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ انسان کو لگتا ہے کہ شاید ہر غلطی معاف کر دی جائے گی، لیکن مسلسل اور سوچ سمجھ کر کی گئی غلطیاں آخر کار وہ رشتہ ہی ختم کردیتی ہیں۔​دروازوں کا ہمیشہ کے لیے بند ہو جانا
​جب عزت اور اعتماد کا شیشہ ٹوٹ جاتا ہے، تو وہ دروازے—جو کبھی آہٹ پر کھلتے تھے—ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔ پھر نہ وہ پرانی گرم جوشی باقی رہتی ہے اور نہ وہ مقام واپس ملتا ہے۔ لوگ دروازے خود بند نہیں کرواتے، بلکہ ان کا اپنا رویہ ان کے پیچھے وہ راستے ہمیشہ کے لیے مسدود کر دیتاوقت ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ مخلص لوگوں اور رشتوں کی قدر ان کے قائم رہتے ہوئے کی جائے۔ اگر ایک بار کسی کے دل کا دروازہ بند ہو جائے، تو پھر پچھتاوے کی کوئی آہٹ یا پکار بھی اسے دوبارہ نہیں کھول سکتی

17/07/2026
**نفرت نہیں، فطرت ہے میری**​زندگی کے سفر میں ہماری ملاقات بے شمار لوگوں سے ہوتی ہے۔ کچھ دل میں اتر جاتے ہیں اور کچھ دل س...
10/07/2026

**نفرت نہیں، فطرت ہے میری**

​زندگی کے سفر میں ہماری ملاقات بے شمار لوگوں سے ہوتی ہے۔ کچھ دل میں اتر جاتے ہیں اور کچھ دل سے اتر جاتے ہیں۔ جب کوئی دل سے اتر جائے، تو لوگ اسے نفرت کا نام دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ نفرت نہیں، انسان کی وہ فطرت ہے جو اپنی خودداری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی۔
​ہم کسی سے بیزار ہو کر لڑتے جھگڑتے نہیں، نہ ہی انتقام کی آگ میں جلتے ہیں۔ بس خاموشی سے اپنی راہ الگ کر لیتے ہیں۔ یہ اصول پسندی کا وہ مقام ہے جہاں ایک بار فیصلہ کر لیا جائے، تو پھر پیچھے مڑ کر دیکھنے کی گنجائش نہیں بچتی۔ جسے ایک بار چھوڑ دیا، پھر اسے مڑ کر سلام کرنا یا اس کی جھوٹی خیریت پوچھنا اپنی انا اور اپنے فیصلے کی توہین لگتا ہے۔​"یہ بے رخی کسی غرور کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنے جذبات کے تحفظ کے لیے ہے۔ جہاں قدر نہ ہو، وہاں سے خاموشی سے نکل جانا ہی انسان کا سب سے خوبصورت بھرم ہوتا ہے۔"*​یہ رویہ دنیا کی نظر میں سخت ہو سکتا ہے، لیکن دل کے سکون کے لیے بہت ضروری ہے۔* یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے جذبات کھلونے نہیں ہیں جن سے کوئی بھی جب چاہے کھیل کر چلا جائے اور ہم پھر بھی ہاتھ باندھے کھڑے رہیں۔ جو گیا، وہ گیا؛ پھر اس کا ذکر کیسا اور اس سے رابطہ کیسا؟

*****اکیلے چلنے سے نہ ڈرو *---***اکیلا چلنا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط ارادے کی نشانی ہے۔ زندگی میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں ...
09/07/2026

*****اکیلے چلنے سے نہ ڈرو *---***
اکیلا چلنا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط ارادے کی نشانی ہے۔ زندگی میں اکثر ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان کے ساتھ کوئی نہیں ہوتا، مگر یہی وقت اس کے حوصلے، صبر اور عزم کا امتحان لیتا ہے۔ جو شخص اپنے مقصد پر یقین رکھتا ہے، وہ دوسروں کے سہارے کا انتظار نہیں کرتا بلکہ اپنے قدم خود بڑھاتا ہے۔سورج بھی ہر دن اکیلا طلوع ہوتا ہے، مگر اپنی روشنی سے پوری دنیا کو منور کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک پُرعزم انسان بھی اپنی محنت، اخلاص اور مستقل مزاجی سے کامیابی کی نئی مثال قائم کرتا ہے۔ اگر راستہ مشکل ہو، لوگ ساتھ چھوڑ دیں یا حالات سازگار نہ ہوں، تب بھی ہمت نہ ہاریں، کیونکہ کامیابی ہمیشہ انہی لوگوں کا مقدر بنتی ہے جو ثابت قدم رہتے ہیں۔-------"اکیلے چلنے سے نہ ڈرو، سورج ہر دن اکیلا نکلتا ہے پھر بھی جگمگاتا ہے۔" یہی پیغام ہمیں سکھاتا ہے کہ خود پر یقین رکھیں، اللہ پر بھروسہ کریں اور اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے مسلسل آگے بڑھتے رہیں

**چالاکیاں اگر چل جائیں تو خوش نہ ہوا کرو*چالاکی کی کامیابی عارضی ہوتی ہےاگر کسی کی چالاکی وقتی طور پر کامیاب ہو جائے تو...
02/07/2026

**چالاکیاں اگر چل جائیں تو خوش نہ ہوا کرو*

چالاکی کی کامیابی عارضی ہوتی ہےاگر کسی کی چالاکی وقتی طور پر کامیاب ہو جائے تو اس پر غرور نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہر کامیابی حقیقی کامیابی نہیں ہوتی۔ دھوکے اور فریب سے حاصل ہونے والی خوشی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔معصوم لوگوں کی آہ رائیگاں نہیں جاتیجو لوگ بے گناہ اور معصوم ہوتے ہیں، ان کے ساتھ ظلم کرنا یا انہیں دھوکا دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ ایسے لوگوں کی خاموش آہیں اور دعائیں اللہ تعالیٰ ضرور سنتا ہے۔اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہےاللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال سے خوب واقف ہے۔ اگر دنیا میں فوری انصاف نظر نہ آئے تو بھی یقین رکھیں کہ اللہ کے ہاں کوئی ظلم ضائع نہیں جاتا۔ وہ مناسب وقت پر ہر مظلوم کو انصاف عطا کرتا ہیں اس لیے اگر کبھی چالاکی یا فریب وقتی طور پر کامیاب بھی ہو جائے تو اس پر خوش ہونے کے بجائے سچائی، دیانت داری اور انصاف کا راستہ اختیار کریں، کیونکہ آخرکار کامیابی اسی کی ہوتی ہے جو اللہ کی رضا کے مطابق زندگی گزارتا ہے۔

26/06/2026

جیسی نسل، ویسی فصل: خاندانی اور کم ظرف کی پہچان

***تحریر پر کمنٹ ضرور کرے۔ ****
​بزرگ کا یہ قول انسانی رویوں اور ان کے خاندانی پس منظر کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ "خاندانی" ہونے کا تعلق کسی بڑے نام، دولت یا اونچے شجرہ نسب سے نہیں، بلکہ اعلیٰ ظرفی، تربیت اور کردار سے ہے۔ انسان کا عمل اس کی اصل نسل اور باطنی تربیت کا آئینہ دار ہوتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے بویا گیا بیج ہی فصل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔
​۲. خاندانی لوگوں کا شیوہ: آسانیاں بانٹنا
​خاندانی اور اعلیٰ ظرف لوگ معاشرے کا حسن ہوتے ہیں۔ ان کی چند نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:​خلوص اور ہمدردی: یہ لوگ دوسروں کی مجبوریاں کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کے مددگار بنتے ہیں۔
​مثبت رویہ: ان کی گفتگو اور عمل سے دوسروں کو سکون اور حوصلہ ملتا ہے۔
​عفو و درگزر: یہ خطاؤں کو معاف کرتے ہیں اور تلخیوں کو محبت میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔
​۳. کم ظرف (گھٹیا) لوگوں کا رویہ: پریشانیاں بکھیرنا
​اس کے برعکس، کم ظرف یا پست تربیت کے حامل لوگ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں:
​خود غرضی اور حسد: یہ دوسروں کی خوشی دیکھ کر خوش نہیں ہوتے بلکہ حسد کی آگ میں جلتے ہیں۔
​مشکلات کھڑی کرنا: ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں کے سیدھے راستوں میں بھی رکاوٹیں اور الجھنیں پیدا کریں۔ *-آپکے کمنٹ کا طلبگار منور علی رانا *

**​ظاہری عبادات اور باطنی اندھیرا**تاریخِ اسلام میں ایسے کئی موڑ آئے ہیں جہاں انسان کے ظاہر اور باطن کا امتحان ہوا۔ انہی...
23/06/2026

**​ظاہری عبادات اور باطنی اندھیرا**
تاریخِ اسلام میں ایسے کئی موڑ آئے ہیں جہاں
انسان کے ظاہر اور باطن کا امتحان ہوا۔ انہی میں سے ایک عبرت ناک کردار شمر ذوالجوشن کا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ شمر کوئی عام انسان نہیں تھا؛ وہ حافظِ قرآن بھی تھا، کثرت سے روزے رکھنے والا اور روایات کے مطابق اس نے 16 پیدل حج بھی کر رکھے تھے۔ لیکن جب حق اور باطل کے درمیان لکیر کھینچی گئی، تو اسی ظاہری عابد اور قاری نے تاریخ کا سب سے بڑا ظلم ڈھایا۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دین داری کا اصل معیار کیا ہے؟​شمر کا حافظِ قرآن ہونا یا 16 حج کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ عبادات کے ظاہری ڈھانچے سے پوری طرح واقف تھا اور اس پر سختی سے عمل بھی کرتا تھا۔ لیکن اس کا یہ علم اور اس کی یہ عبادات اس کے دل کو ملوکیت، لالچ اور سنگ دلی سے پاک نہ کر سکیں۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category