07/03/2025
زندگی سے فرار کیوں؟ – ایک معاشرتی المیہ
تحریر : راؤ راشد سنی
چوپڑہٹہ میں خاتون کی اپنی تین سالہ بچی سمیت نہر میں چھلانگ لگانے کی کوشش محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جو ہمارے معاشرتی، خاندانی اور نفسیاتی بحران کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ بروقت امداد نے ایک بڑا سانحہ ہونے سے بچا لیا، لیکن کیا ہم نے اس واقعے سے کوئی سبق سیکھا؟ یا یہ بھی دیگر خبروں کی طرح وقت کے ساتھ ذہنوں سے محو ہو جائے گا؟
یہ پہلا واقعہ نہیں، اور نہ ہی یہ آخری ہوگا۔ ہر روز نہ جانے کتنے لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر خودکشی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور باقیوں کی کہانی صرف اخباروں اور خبروں تک محدود رہ جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر لوگ اتنے بے بس کیوں ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کو واحد حل سمجھتے ہیں؟
مایوسی کے بنیادی عوامل
1. گھریلو جھگڑے اور ذہنی اذیت
اس واقعے میں خاتون نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے خاوند سے ناراض نہیں تھی، بلکہ اپنی سگی بہن سے تنگ آ کر یہ انتہائی قدم اٹھانے جا رہی تھی۔ یہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ گھریلو رشتے، جو کبھی محبت اور اپنائیت کی علامت تھے، اب ذہنی دباؤ اور تکلیف کی سب سے بڑی وجہ بنتے جا رہے ہیں۔ آئے دن کے جھگڑے، الزامات اور سخت رویے بعض اوقات اتنے زہریلے ثابت ہوتے ہیں کہ لوگ جینے کی امید ہی کھو بیٹھتے ہیں۔
2. نفسیاتی مسائل کو سنجیدگی سے نہ لینا
پاکستان میں ذہنی صحت کے مسائل کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص پریشان ہو یا ذہنی دباؤ میں ہو تو اسے “حوصلہ رکھو” اور “نماز پڑھو” جیسے مشورے دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنے مسائل پر بات کر سکے اور مدد حاصل کر سکے۔
3. سماجی رویے اور بے حسی
آج کا معاشرہ عملی طور پر بے حس ہو چکا ہے۔ اگر کسی پر مشکل وقت آ جائے تو لوگ مدد کرنے کے بجائے اسے مزید موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں۔ یہی رویہ پریشان حال افراد کو مزید تنہائی میں دھکیل دیتا ہے، اور جب کوئی سہارا نہ ملے تو وہ خودکشی جیسے اقدامات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
4. معاشی دباؤ اور عدم تحفظ
بے روزگاری، غربت اور معاشی دباؤ بھی خودکشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب انسان کو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے تو وہ زندگی سے فرار کو ہی بہتر سمجھنے لگتا ہے۔
مسئلے کا حل کیا ہے؟
1. ذہنی صحت پر بات کی جائے
ہمیں لوگوں کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ ذہنی صحت اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔ ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کو بیماری کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور اس کا علاج ممکن بنانا ہوگا۔
2. گھریلو تعلقات میں بہتری
رشتوں میں برداشت، محبت اور ہمدردی کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر کوئی گھر کا فرد کسی پریشانی میں مبتلا ہے تو اسے مزید دبانے کے بجائے اس کا مسئلہ سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
3. کونسلنگ اور مدد فراہم کی جائے
حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ وہ مشاورتی مراکز (Counseling Centers) اور ہیلپ لائنز قائم کریں جہاں لوگ اپنی مشکلات کے حل کے لیے ماہرین نفسیات سے مدد لے سکیں۔
4. سماجی حمایت کا فروغ
ہم سب کو چاہیے کہ اپنے اردگرد ایسے لوگوں کا خیال رکھیں جو کسی پریشانی کا شکار ہیں۔ اگر کوئی شخص افسردہ یا مایوس نظر آ رہا ہو تو اس سے بات کریں، اس کی مدد کریں اور اسے یقین دلائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
5. میڈیا کا مثبت کردار
میڈیا کو چاہیے کہ وہ خودکشی کے واقعات کو محض سنسنی خیزی کے لیے استعمال نہ کرے، بلکہ اس مسئلے کے حل کے لیے آگاہی مہمات چلائے۔ عوام کو یہ سکھایا جائے کہ کسی شخص کو جذباتی یا ذہنی دباؤ کی حالت میں کیسے سپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک وقتی جذباتی فیصلہ ہوتا ہے، جو ہمیشہ پچھتاوے اور افسوس کا باعث بنتا ہے۔ چوپڑہٹہ کا واقعہ ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ اگر ہم نے آج اس مسئلے پر توجہ نہ دی تو کل یہی کہانی کسی اور علاقے میں دہرائی جائے گی۔
زندگی بہت قیمتی ہے، اور ہر مشکل کا حل موجود ہے۔ ہمیں ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جہاں لوگ اپنی پریشانیوں کا کھل کر اظہار کر سکیں اور انہیں زندگی کے بہتر راستے دکھائے جا سکیں۔ کیونکہ اگر ہم خاموش رہے تو نہ جانے کتنی مائیں، بہنیں اور بیٹیاں بے بسی کی حالت میں اپنی زندگیوں کا چراغ گل کر دیں گی، اور ہم ہمیشہ کی
طرح صرف “افسوس” کرتے رہ جائیں گے۔