farooq sulehri

farooq sulehri social media news

27/07/2026

Pind kartal

ڈنکی لگانے کے لیے جانے والے 12 نوجوان لاپتا، اغواکاروں کا اہل خانہ سے رقم کا مطالبہایجنٹ نےتین نوجوانوں کی  دل دہلادینےو...
16/07/2026

ڈنکی لگانے کے لیے جانے والے 12 نوجوان لاپتا، اغواکاروں کا اہل خانہ سے رقم کا مطالبہ
ایجنٹ نےتین نوجوانوں کی دل دہلادینےوالی فوٹیج ان کےخاندان کوبھیج دی،اہل خا
whatsaap
ڈنکی لگانے کے لیے جانے والے 12 نوجوان لاپتا، اغواکاروں کا اہل خانہ سے رقم کا مطالبہ
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

بیرون ملک غیرقانونی راستے سے جانے کی کوشش کرنے والے 12 پاکستانی نوجوان لاپتا ہو گئے، جن کے اہل خانہ نے اغوا اور تاوان کا دعویٰ کرتے ہوئے حکومت سے فوری مدد کی اپیل کر دی۔

اہل خانہ کے مطابق لاپتا ہونے والے 12 نوجوانوں میں سے 7 کا تعلق لاہور کے علاقے باٹاپور سے ہے، جبکہ تین کزن دلشاد، اسامہ اور وقاص بھی ان میں شامل ہیں۔

خاندانوں کا کہنا ہے کہ عامر نامی ایک ایجنٹ لاکھوں روپے وصول کرکے نوجوانوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔ ایران پہنچنے کے بعد نوجوانوں نے اہل خانہ سے رابطہ کیا، تاہم اس کے بعد ان سے تمام رابطہ منقطع ہوگیا۔

اہل خانہ کے مطابق بعد ازاں وقاص کے موبائل نمبر سے مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا، جبکہ ایجنٹ نے تین نوجوانوں کی دل دہلا دینے والی ویڈیوز بھی خاندانوں کو بھیجیں۔ ویڈیوز میں نوجوان انتہائی خراب حالت میں دکھائی دے رہے ہیں، ان کے گلے میں زنجیریں بندھی ہوئی ہیں اور وہ روتے ہوئے گھر والوں سے رقم بھیجنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں فی کس 10،10 لاکھ روپے طلب کیے گئے، جو ادا کر دیے گئے، تاہم اب ہر نوجوان کی رہائی کے لیے مزید 6 ہزار امریکی ڈالر مانگے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رقم نہ دینے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کے مطابق عامر نامی ایجنٹ بھی اسی علاقے کا رہائشی ہے اور اس نے نوجوانوں کو ڈنکی لگوا کر بیرون ملک بھیجنے کا جھانسہ دیا تھا۔

مغوی نوجوانوں کے اہل خانہ نے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں درخواست جمع کرا دی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نوجوانوں کی بازیابی اور ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔

() حکومت نے صوبہ پنجاب میں 16سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کر لیا۔ بچوں کو محفوظ اور مث...
16/07/2026

() حکومت نے صوبہ پنجاب میں 16سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کر لیا۔

بچوں کو محفوظ اور مثبت ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی کے لیے اہم قانون سازی کا فیصلہ کر لیا، پنجاب اسمبلی میں سولہ (16) سال سے کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کی قرارداد جمع ہوگئی ۔

قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی سے مؤثر ریگولیٹری اور نگرانی کا نظام وضع کرنے کی سفارش کی، 16 سال سےکم عمر بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل اور آن لائن تحفظ کے لیے پنجاب اسمبلی میں اہم قرارداد پیش کی گئی۔

چیئرپرسن سارہ احمد کے مطابق ہر بچے کو محفوظ بچپن اور محفوظ ڈیجیٹل مستقبل فراہم کیا جائے گا، بچوں کو سوشل میڈیا کے مضر اثرات، سائبر بُلنگ، آن لائن استحصال اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ بنانا ریاست کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے، قرارداد میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے استعمال سے متعلق مؤثر قانونی اقدامات اور عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

دنیا کے متعدد ممالک، جن میں آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکہ کی مختلف ریاستیں شامل ہیں، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال سے متعلق قوانین اور عمر کی پابندیاں متعارف کرا چکے ہیں، بین الاقوامی رجحانات کے پیشِ نظر پاکستان میں بھی کم عمر بچوں کے محفوظ ڈیجیٹل مستقبل کے لیے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔

سرکاری ملازمین کی بیواؤں اور کنواری بیٹیوں کے لیے تاحیات پنشن کی سہولت دوبارہ بحال کر دی گئی۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکوم...
14/07/2026

سرکاری ملازمین کی بیواؤں اور کنواری بیٹیوں کے لیے تاحیات پنشن کی سہولت دوبارہ بحال کر دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے سرکاری ملازمین کے لواحقین کے لیے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے بیواؤں اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کے لیے تاحیات پنشن کی سہولت دوبارہ بحال کر دی۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی منظوری کے بعد محکمہ خزانہ نے اس پالیسی کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

اس سے قبل حکومت نے ملازم کی وفات کے بعد بیوہ یا بیٹی کے لیے پنشن کی مدت کو صرف 10 سال تک محدود کر دیا تھا تاہم اب اس 10 سالہ شرط کو مکمل طور پر ختم کر کے مستحق بیواؤں اور کنواری بیٹیوں کے لیے تاحیات مالی معاونت کو یقینی بنایا گیا ہے۔

ترمیمی قوانین کے مطابق پنشن کی ادائیگی اصولوں کے تحت کی جائے گی ، جس میں کہا گیا کہ یوائیں اور غیر شادی شدہ بیٹیاں عمر بھر پنشن حاصل کرنے کی اہل ہوں گی۔ تاہم، اگر کوئی بیوہ دوسری شادی کر لیتی ہے، تو اس کی پنشن فوری طور پر روک دی جائے گی۔

اگر کسی متوفی سرکاری ملازم کی ایک سے زیادہ بیوائیں ہوں گی، تو حکام پنشن کی کل رقم تمام بیواؤں میں برابر تقسیم کریں گے۔

یہ انقلابی فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت ہونے والے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا، جس کا مقصد سرکاری ملازمین کے انتقال کے بعد ان کے اہلخانہ کو مستقل معاشی تحفظ فراہم کرنا ہے تاکہ وہ کسی بھی مالی بحران سے محفوظ رہ سکیں۔

06/06/2026
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے نفاذ کو یقینی بنانے ...
02/06/2026

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت تعلیمی اداروں میں سگریٹ نوشی پر پابندی کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے تمباکو نوشی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں اس بات کا اعادہ کیا کہ سرکاری دفاتر، ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی قابل سزا جرم ہے اور قانون پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سگریٹ نوشی اور ویپنگ کی حوصلہ شکنی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمباکو کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔

دریں اثناء جنرل کیڈر ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر مسعود شیخ نے ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 1.3 بلین تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے 80 فیصد کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں رہتے ہیں۔

تمباکو نوشی کا عالمی دن 31 مئی کو منایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر شیخ نے کہا کہ ای سگریٹ کا استعمال روایتی سگریٹ کے استعمال کو بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر تمباکو نوشی نہ کرنے والے نوجوانوں میں۔

ایک بیان کے مطابق، نئے اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عالمی سطح پر 13-15 سال کی عمر کے کم از کم 40 ملین بچے کم از کم ایک تمباکو کی مصنوعات کے موجودہ استعمال کی اطلاع دیتے ہیں۔ ان میں سے 20 ملین سگریٹ پیتے ہیں اور 10 ملین بغیر دھوئیں والے تمباکو۔

ڈاکٹر اسد عباس شاہ نے کہا کہ تمباکو کے استعمال کی تمام اقسام نقصان دہ ہیں، اور تمباکو کی نمائش کی کوئی محفوظ سطح نہیں ہے۔

ڈاکٹر جاوید ممتاز نے کہا کہ تمباکو کے استعمال کے معاشی اخراجات میں اس مشق سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کے اخراجات کے ساتھ ساتھ انسانی سرمائے کی وجہ سے ہونے والی بیماری اور اموات کی وجہ سے ضائع ہونے والے اخراجات شامل ہیں۔

01/06/2026

Farooq hussain

01/06/2026

دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں بے انتہا غربت تھی، 1960تک ان کے بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے، یہ بچے لاغر اور کم زور پیدا ہوتے تھے اور ان کی پرورش میں بھی کمی رہ جاتی تھی۔

لہٰذا ان کے قد چھوٹے، ہڈیاں کم زور، وزن کم اور رنگ پیلے تھے، جاپانی اس دور میں 24 گھنٹے میں صرف ایک کھانا کھاتے تھے، انھوں نے اس دور میں اندازہ کیا ہم اگر دن تین بجے کھانا کھائیں تو چوبیس گھنٹے گزار سکتے ہیں چناں چہ یہ دن تین بجے کھانا کھاتے تھے اور اگلی خوراک کی باری اگلے دن آتی تھی۔

اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی تھی پاکستان نے 1957میں چاولوں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا، جہاز پر جاپان کی امداد کے لیے پاکستان کا تحفہ لکھا ہوا تھا اور اس کی تصویریں باقاعدہ اخبارات میں شایع ہوئیں اور پورے جاپان نے ہاتھ جوڑ کر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جاپانیوں کو آج بھی پاکستان کا یہ احسان یاد ہے۔

میں نے عرفان صاحب سے عرض کیا، جاپان دنیا کے ان چار ملکوں میں شمار ہوتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع دن سے حیران کن رہے، ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت کو 15 اگست 1947 کو آزادی دینا چاہتے تھے۔

اس کی وجہ جاپان تھا، جاپان نے 1945میں 15 اگست کو امریکا کے سامنے سرینڈر کیا تھا، اتحادی فوجیں (امریکا، برطانیہ اور یورپی ملک) 15 اگست کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی 15 اگست 1947 کو جب پورا برطانیہ یوم فتح منا رہا ہوتو بھارت اور پاکستان کی پیدائش اس وقت ہوتاکہ ہر سال جب ان دونوں ملکوں کے لوگ آزادی کی تقریبات منائیں تو اس وقت جاپانی افسردہ ہوں اور یہ کھیل تاابد جاری رہے۔

یہ منصوبہ جب قائداعظم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً انکار کر دیا، قائد کا کہنا تھا "ہم اپنا یوم آزادی کسی دوسری قوم کے یوم شکست پر نہیں رکھیں گے"
جاپانی آج تک پاکستان کا یہ احسان نہیں بھولے، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد جاپان نے تاوان ادا کرنا شروع کیا (یہ آج بھی امریکا کو ہر سال 10 بلین ڈالر ادا کرتا ہے)، پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا، قائداعظم نے اس وقت اپنا یہ حصہ بھی جاپان کو معاف کر دیا تھا جب ہمارے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہیں تھی۔

جاپانی آج تک یہ احسان بھی نہیں بھولے اور پاکستان نے اپنے ابتدائی دنوں میں جاپان کو نقد امداد بھی دی اور جاپان کو آج تک یہ بھی یاد ہے چناں چہ کہنے کا مقصد یہ ہے ایک پاکستان ایسا بھی ہوتا تھا۔

ہماری دریا دلی صرف جاپان تک محدود نہیں تھی، ہم نے 1950 کی دہائی میں جرمنی کو پانچ کروڑ روپے قرض دیا تھا، پولینڈ کے متاثرین کو پناہ دی تھی، چین کا دنیا کے ساتھ رابطہ کرایا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی ائیرلائین تھی جس نے چین کی سرزمین کو چھوا تھا اور ماؤزے تنگ اور چو این لائی نے ائیرپورٹ آ کر ہماری فلائیٹ کا استقبال کیا تھا۔

ہم نے ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز بھی گفٹ کیا تھا، یہ جہاز آج بھی چین کے میوزیم میں پاکستان کے شکریے کے ساتھ کھڑا ہے، ہم نے اپنے ترک بھائیوں کی قیام پاکستان سے پہلے بھی مدد کی تھی اور قیام کے بعد بھی، ترکی کے زیادہ تر امرائ، فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ہم نے استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا تھا اور ترکی نے اس کے لیے ائیرپورٹ پر نیا رن وے بنایا تھا اور پوری کابینہ اس کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گئی تھی، ہم نے مراکو، تیونس اور الجزائر کی آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، پاکستان نے ان کی سیاسی قیادت کو پاسپورٹ بھی دیے اور اقوام متحدہ میں اپنے بینچ سے انھیں خطاب کا موقع بھی دیا۔

چین اور امریکا کا پہلا رابطہ اور ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے چین کے پہلے دورے کا انتظام بھی ہم نے کیا تھا، چین میں لوہے کا پہلا کارخانہ پیکو کی طرز پر لگا تھا اور چو این لائی اسے دیکھنے کے لیے اپنے ماہرین کے ساتھ 1960کی دہائی میں لاہور آئے تھے، ایران کی ترقی اور یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، شاہ ایران ہر دوسرے ماہ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتے تھے۔

فلسطین کے لیے پہلی عالمی آواز بھی ہم نے اٹھائی تھی، شام، اردن اور مصر کی سفارت کاری، آزادی اور بحالی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، سعودی عرب میں 1970 تک پاکستان سے زکوٰۃ جاتی تھی اور سعودی شہری خانہ کعبہ میں پاکستانیوں کے رزق میں اضافے کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

یو اے ای کی ترقی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، دنیا کی چوتھی بہترین ائیرلائین ایمریٹس کا کوڈ (ای۔ کے) ہے، اس کا "کے" کراچی ہے، یہ ائیر لائین کراچی سے اسٹارٹ ہوئی تھی، ہم نے انھیں جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی لہٰذا یہ آج بھی ای۔ کے (امارات کراچی) ہے، مالٹا کے بچوں کے سلیبس میں پی آئی اے کا پورا باب ہے۔

سنگا پور ائیرلائین اور پورٹ دونوں پاکستانیوں نے بنائیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں پڑھتے تھے، ملائیشیا کا آئین تک پاکستانی وکلاء نے لکھا تھا، جنوبی کوریا کی گروتھ میں محبوب الحق کے پانچ سالہ منصوبے کا اہم کردار تھا، بھارت 1990کی دہائی میں پاکستان سے بجلی خریدتا رہا اور من موہن سنگھ نے "شائننگ انڈیا" کا پورا منصوبہ پاکستان سے لیا تھا۔

دنیا کی تین بڑی انجینئرنگ فرمز نے1960ء کی دہائی میں کنسورشیم بنا کر منگلا ڈیم کی "بڈ" کی تھی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انجینئرنگ کلاس کے طالب علم جہاز بھر کر مطالعے اور مشاہدے کے لیے منگلا آتے تھے اور اس منصوبے کوحیرت سے دیکھتے تھے۔

مسلم دنیا کے 27 ملکوں کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں ٹرینڈ ہوئے اور بعدازاں اپنے اپنے ملکوں میں آرمی چیف بنے، یو اے ای کے فرمانروا زید بن سلطان النہیان 1970 کی دہائی تک پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو ان کا استقبال کمشنر راولپنڈی کرتا تھا، ہمارے وزیر بھی ائیرپورٹ نہیں جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر 1961میں جب ایوب خان امریکا کے دورے پر گئے تھے تو پوری امریکی کابینہ نے صدر جان ایف کینیڈی سمیت ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور صدر ایوب خان ائیرپورٹ سے وائٹ ہاؤس کھلی گاڑی میں گئے اور سڑک کی دونوں سائیڈز پر امریکی عوام پھول لے کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد اور ویل کم، ویل کم کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان نے ایک دور ایسا بھی دیکھا جب دنیا حیرت سے اس کی طرف دیکھتی تھی اور یہ جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں کو قرضے اور امداد دیتا تھا لیکن پھر اس ملک پر ایک ایسا دور آیا جس میں ہم ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے دروازے پر بھکاری بن کر بیٹھے ہیں اور دنیا ہمیں غرور اور نفرت سے دیکھ رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم ویزے کے بغیر پوری دنیا میں سفر کرتے تھے اور ایک وقت اب ہے جب ہمیں افغانستان کے ویزے کے لیے بھی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے کبھی سوچا؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہم نے بڑی محنت اور جدوجہد سے اس ملک کو برباد کیا ہے، ہم نے اس کی عزت اور وقار کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مٹی میں ملایا ہے مگر سوال پھر وہی ہے کیا ہمارے پاس واپسی کی کوئی گنجائش ہے۔

جی ہاں ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ہم تاحال ایک قوم ہیں اور ہمارا جغرافیہ بھی بحال ہے لہٰذا ہم اگر آج بھی نیند سے جاگ اٹھیں، ہم اپنے حال پر رحم کریں تو ہم دس بیس برسوں میں دوبارہ اس لیول پر آ سکتے ہیں جس پر ہم دوسرے ملکوں کو امداد اور قرض دیں لیکن اس کے لیے ہمیں چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

وہ فیصلے کیا ہیں؟ ہمیں سب سے پہلے سیاسی انجینئرنگ بند کرنا ہوگی، ملک میں پانچ سال بعد الیکشن ہوں اور یہ فری اینڈ فیئر ہوں، اسٹیبلشمنٹ الیکشن مینج نہ کرے، کسی عہدیدار کو(سویلین ہو یا ملٹری) ایکسٹینشن نہ دی جائے، کوئی بھی سیاست دان دو یا حد تین سے زیادہ مدت تک وزیراعظم نہ رہ سکے، ملک کو بزنس فرینڈلی بنایا جائے۔

کوئی بھی شہری یا غیر ملکی ملک میں کمپنی کھول سکے اور کاروبار کر سکے اور حکومت اسے پانچ سال تک ٹیکس کی رعایت دے، ہم فوری طور پر آبادی کنٹرول کریں اور 30 سال کی عمر تک تمام لوگوں کو ہنر مند بھی بنائیں، ملک میں کوئی شخص بے ہنر اور بے روزگار نہ ہو، کام کو لازم قرار دے دیا جائے اور جو شخص کام نہ کرے۔

پولیس اسے گرفتار کرے اور اپنی نگرانی میں اسے کام پر چھوڑ کر آئے اور اس کی آدھی تنخواہ بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور آخری مشورہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ہی بار بیٹھ کر اگلے 20 سال کا قومی منصوبہ تیار کر لیں اور پھر کوئی شخص اسے چھیڑنے کی جسارت نہ کرے اور جو کرے اسے قرار واقعی سزا دی جائے، آپ یقین کردوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان میں بے انتہا غربت تھی، 1960تک ان کے بچے خوراک کی قلت کا شکار تھے، یہ بچے لاغر اور کم زور پیدا ہوتے تھے اور ان کی پرورش میں بھی کمی رہ جاتی تھی۔

لہٰذا ان کے قد چھوٹے، ہڈیاں کم زور، وزن کم اور رنگ پیلے تھے، جاپانی اس دور میں 24 گھنٹے میں صرف ایک کھانا کھاتے تھے، انھوں نے اس دور میں اندازہ کیا ہم اگر دن تین بجے کھانا کھائیں تو چوبیس گھنٹے گزار سکتے ہیں چناں چہ یہ دن تین بجے کھانا کھاتے تھے اور اگلی خوراک کی باری اگلے دن آتی تھی۔

اس وقت ان کی حالت یہ ہوتی تھی پاکستان نے 1957میں چاولوں سے بھرا ہوا ایک بحری جہاز ٹوکیو بھجوایا، جہاز پر جاپان کی امداد کے لیے پاکستان کا تحفہ لکھا ہوا تھا اور اس کی تصویریں باقاعدہ اخبارات میں شایع ہوئیں اور پورے جاپان نے ہاتھ جوڑ کر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا، جاپانیوں کو آج بھی پاکستان کا یہ احسان یاد ہے۔

میں نے عرفان صاحب سے عرض کیا، جاپان دنیا کے ان چار ملکوں میں شمار ہوتا ہے جن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات شروع دن سے حیران کن رہے، ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن پاکستان اور بھارت کو 15 اگست 1947 کو آزادی دینا چاہتے تھے۔

اس کی وجہ جاپان تھا، جاپان نے 1945میں 15 اگست کو امریکا کے سامنے سرینڈر کیا تھا، اتحادی فوجیں (امریکا، برطانیہ اور یورپی ملک) 15 اگست کو یوم فتح کے طور پر مناتے تھے۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش تھی 15 اگست 1947 کو جب پورا برطانیہ یوم فتح منا رہا ہوتو بھارت اور پاکستان کی پیدائش اس وقت ہوتاکہ ہر سال جب ان دونوں ملکوں کے لوگ آزادی کی تقریبات منائیں تو اس وقت جاپانی افسردہ ہوں اور یہ کھیل تاابد جاری رہے۔

یہ منصوبہ جب قائداعظم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فوراً انکار کر دیا، قائد کا کہنا تھا "ہم اپنا یوم آزادی کسی دوسری قوم کے یوم شکست پر نہیں رکھیں گے"
جاپانی آج تک پاکستان کا یہ احسان نہیں بھولے، دوسری جنگ عظیم میں شکست کے بعد جاپان نے تاوان ادا کرنا شروع کیا (یہ آج بھی امریکا کو ہر سال 10 بلین ڈالر ادا کرتا ہے)، پاکستان کا اس تاوان میں چھٹا حصہ تھا، قائداعظم نے اس وقت اپنا یہ حصہ بھی جاپان کو معاف کر دیا تھا جب ہمارے پاس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہیں تھی۔

جاپانی آج تک یہ احسان بھی نہیں بھولے اور پاکستان نے اپنے ابتدائی دنوں میں جاپان کو نقد امداد بھی دی اور جاپان کو آج تک یہ بھی یاد ہے چناں چہ کہنے کا مقصد یہ ہے ایک پاکستان ایسا بھی ہوتا تھا۔

ہماری دریا دلی صرف جاپان تک محدود نہیں تھی، ہم نے 1950 کی دہائی میں جرمنی کو پانچ کروڑ روپے قرض دیا تھا، پولینڈ کے متاثرین کو پناہ دی تھی، چین کا دنیا کے ساتھ رابطہ کرایا تھا، پی آئی اے دنیا کی پہلی ائیرلائین تھی جس نے چین کی سرزمین کو چھوا تھا اور ماؤزے تنگ اور چو این لائی نے ائیرپورٹ آ کر ہماری فلائیٹ کا استقبال کیا تھا۔

ہم نے ماؤزے تنگ کو ذاتی استعمال کے لیے جہاز بھی گفٹ کیا تھا، یہ جہاز آج بھی چین کے میوزیم میں پاکستان کے شکریے کے ساتھ کھڑا ہے، ہم نے اپنے ترک بھائیوں کی قیام پاکستان سے پہلے بھی مدد کی تھی اور قیام کے بعد بھی، ترکی کے زیادہ تر امرائ، فوجی افسروں اور سیاست دانوں کے بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔

ہم نے استنبول میں پہلا بوئنگ طیارہ اتارا تھا اور ترکی نے اس کے لیے ائیرپورٹ پر نیا رن وے بنایا تھا اور پوری کابینہ اس کے استقبال کے لیے ائیرپورٹ گئی تھی، ہم نے مراکو، تیونس اور الجزائر کی آزادی میں بھی مرکزی کردار ادا کیا، پاکستان نے ان کی سیاسی قیادت کو پاسپورٹ بھی دیے اور اقوام متحدہ میں اپنے بینچ سے انھیں خطاب کا موقع بھی دیا۔

چین اور امریکا کا پہلا رابطہ اور ہنری کسنجر اور صدر رچرڈ نکسن کے چین کے پہلے دورے کا انتظام بھی ہم نے کیا تھا، چین میں لوہے کا پہلا کارخانہ پیکو کی طرز پر لگا تھا اور چو این لائی اسے دیکھنے کے لیے اپنے ماہرین کے ساتھ 1960کی دہائی میں لاہور آئے تھے، ایران کی ترقی اور یورپ اور امریکا کے ساتھ تعلقات میں بھی پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا، شاہ ایران ہر دوسرے ماہ پاکستان کا دورہ کرتے تھے اور پاکستان کی ترقی کو حیرت سے دیکھتے تھے۔

فلسطین کے لیے پہلی عالمی آواز بھی ہم نے اٹھائی تھی، شام، اردن اور مصر کی سفارت کاری، آزادی اور بحالی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، سعودی عرب میں 1970 تک پاکستان سے زکوٰۃ جاتی تھی اور سعودی شہری خانہ کعبہ میں پاکستانیوں کے رزق میں اضافے کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

یو اے ای کی ترقی میں بھی پاکستان کا اہم کردار تھا، دنیا کی چوتھی بہترین ائیرلائین ایمریٹس کا کوڈ (ای۔ کے) ہے، اس کا "کے" کراچی ہے، یہ ائیر لائین کراچی سے اسٹارٹ ہوئی تھی، ہم نے انھیں جہاز بھی دیا تھا اور عملہ بھی لہٰذا یہ آج بھی ای۔ کے (امارات کراچی) ہے، مالٹا کے بچوں کے سلیبس میں پی آئی اے کا پورا باب ہے۔

سنگا پور ائیرلائین اور پورٹ دونوں پاکستانیوں نے بنائیں، انڈونیشیا اور ملائیشیا کی اشرافیہ کے بچے پاکستان میں پڑھتے تھے، ملائیشیا کا آئین تک پاکستانی وکلاء نے لکھا تھا، جنوبی کوریا کی گروتھ میں محبوب الحق کے پانچ سالہ منصوبے کا اہم کردار تھا، بھارت 1990کی دہائی میں پاکستان سے بجلی خریدتا رہا اور من موہن سنگھ نے "شائننگ انڈیا" کا پورا منصوبہ پاکستان سے لیا تھا۔

دنیا کی تین بڑی انجینئرنگ فرمز نے1960ء کی دہائی میں کنسورشیم بنا کر منگلا ڈیم کی "بڈ" کی تھی اور ہارورڈ یونیورسٹی کی انجینئرنگ کلاس کے طالب علم جہاز بھر کر مطالعے اور مشاہدے کے لیے منگلا آتے تھے اور اس منصوبے کوحیرت سے دیکھتے تھے۔

مسلم دنیا کے 27 ملکوں کے فوجی افسر پاکستانی اکیڈمیوں میں ٹرینڈ ہوئے اور بعدازاں اپنے اپنے ملکوں میں آرمی چیف بنے، یو اے ای کے فرمانروا زید بن سلطان النہیان 1970 کی دہائی تک پاکستان کے دورے پر آتے تھے تو ان کا استقبال کمشنر راولپنڈی کرتا تھا، ہمارے وزیر بھی ائیرپورٹ نہیں جاتے تھے اور سب سے بڑھ کر 1961میں جب ایوب خان امریکا کے دورے پر گئے تھے تو پوری امریکی کابینہ نے صدر جان ایف کینیڈی سمیت ائیرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور صدر ایوب خان ائیرپورٹ سے وائٹ ہاؤس کھلی گاڑی میں گئے اور سڑک کی دونوں سائیڈز پر امریکی عوام پھول لے کر کھڑے تھے اور پاکستان زندہ باد اور ویل کم، ویل کم کے نعرے لگا رہے تھے۔

پاکستان نے ایک دور ایسا بھی دیکھا جب دنیا حیرت سے اس کی طرف دیکھتی تھی اور یہ جرمنی اور جاپان جیسے ملکوں کو قرضے اور امداد دیتا تھا لیکن پھر اس ملک پر ایک ایسا دور آیا جس میں ہم ایک ارب ڈالر کے لیے دنیا کے دروازے پر بھکاری بن کر بیٹھے ہیں اور دنیا ہمیں غرور اور نفرت سے دیکھ رہی ہے۔

ایک وقت تھا جب ہم ویزے کے بغیر پوری دنیا میں سفر کرتے تھے اور ایک وقت اب ہے جب ہمیں افغانستان کے ویزے کے لیے بھی قطاروں میں کھڑا ہونا پڑتا ہے، ایسا کیوں ہوا؟ ہم نے کبھی سوچا؟ ہمیں ماننا پڑے گا ہم نے بڑی محنت اور جدوجہد سے اس ملک کو برباد کیا ہے، ہم نے اس کی عزت اور وقار کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر مٹی میں ملایا ہے مگر سوال پھر وہی ہے کیا ہمارے پاس واپسی کی کوئی گنجائش ہے۔

جی ہاں ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا، ہم تاحال ایک قوم ہیں اور ہمارا جغرافیہ بھی بحال ہے لہٰذا ہم اگر آج بھی نیند سے جاگ اٹھیں، ہم اپنے حال پر رحم کریں تو ہم دس بیس برسوں میں دوبارہ اس لیول پر آ سکتے ہیں جس پر ہم دوسرے ملکوں کو امداد اور قرض دیں لیکن اس کے لیے ہمیں چند بڑے فیصلے کرنا ہوں گے۔

وہ فیصلے کیا ہیں؟ ہمیں سب سے پہلے سیاسی انجینئرنگ بند کرنا ہوگی، ملک میں پانچ سال بعد الیکشن ہوں اور یہ فری اینڈ فیئر ہوں، اسٹیبلشمنٹ الیکشن مینج نہ کرے، کسی عہدیدار کو(سویلین ہو یا ملٹری) ایکسٹینشن نہ دی جائے، کوئی بھی سیاست دان دو یا حد تین سے زیادہ مدت تک وزیراعظم نہ رہ سکے، ملک کو بزنس فرینڈلی بنایا جائے۔

کوئی بھی شہری یا غیر ملکی ملک میں کمپنی کھول سکے اور کاروبار کر سکے اور حکومت اسے پانچ سال تک ٹیکس کی رعایت دے، ہم فوری طور پر آبادی کنٹرول کریں اور 30 سال کی عمر تک تمام لوگوں کو ہنر مند بھی بنائیں، ملک میں کوئی شخص بے ہنر اور بے روزگار نہ ہو، کام کو لازم قرار دے دیا جائے اور جو شخص کام نہ کرے۔

پولیس اسے گرفتار کرے اور اپنی نگرانی میں اسے کام پر چھوڑ کر آئے اور اس کی آدھی تنخواہ بحق سرکار ضبط کر لی جائے اور آخری مشورہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز ایک ہی بار بیٹھ کر اگلے 20 سال کا قومی منصوبہ تیار کر لیں اور پھر کوئی شخص اسے چھیڑنے کی جسارت نہ کرے اور جو کرے اسے قرار واقعی سزا دی جائے، آپ یقین کریں ہم ان چند اقدامات سے ایک بار پھر عزت اورآبرو کی شاہراہ پرآ سکتے ہیں ورنہ ہم اسی طرح بھیک مانگ مانگ کر ختم ہو جائیں گے اور تاریخ کے اوراق میں ہمارا ذکر تک نہیں ہوگا۔۔۔یں ہم ان چند اقدامات سے ایک بار پھر عزت اورآبرو کی شاہراہ پرآ سکتے ہیں ورنہ ہم اسی طرح بھیک مانگ مانگ کر ختم ہو جائیں گے اور تاریخ کے اوراق میں ہمارا ذکر تک نہیں ہوگا
عبد

پنجاب حکومت نے مسافروں کو ایک ماہ تک مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد شہروں میں ایک ہزار بسیں تعینات کرنے کے لیے...
16/05/2026

پنجاب حکومت نے مسافروں کو ایک ماہ تک مفت سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد شہروں میں ایک ہزار بسیں تعینات کرنے کے لیے فنڈنگ ​​کی منظوری دے دی ہے۔

اس اقدام کا مقصد مسافروں پر مالی بوجھ کو کم کرنا ہے جب پٹرولیم کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ نے سفری اخراجات میں اضافے پر بڑے پیمانے پر تشویش کو جنم دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے اثرات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

حکام کے مطابق منصوبے کے لیے پرائیویٹ آپریٹرز سے بسیں کرایہ پر لینے کے لیے 1.8 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ فنڈز صوبائی محکمہ خزانہ کی جانب سے سات دن کی پیشگی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے، جبکہ اسکیم میں حصہ لینے والی نجی ٹرانسپورٹ کمپنیاں ہفتہ وار ادائیگیاں وصول کریں گی۔

حکام نے کہا کہ پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی عملدرآمد کی نگرانی کرے گی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی مالیاتی اور آپریشنل ریکارڈ برقرار رکھے گی۔ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹیز کو بھی براہ راست اختیارات دیے گئے ہیں کہ وہ بسیں کرایہ پر لیں جہاں ضروری ہو کہ بڑے شہری مراکز میں تیزی سے رول آؤٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔

عہدیداروں نے اشارہ کیا کہ اگر یہ ماڈل کارآمد ثابت ہوتا ہے تو مفت سفری سہولت کی مدت کو ایک ماہ کی مدت سے آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد کیا گیا ہے، جس نے پیٹرول کی قیمت میں 14.92 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے کا اضافہ کیا ہے، جس سے دونوں مصنوعات تقریباً 415 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہیں۔

Address

Muridke
39000

Telephone

+923004808984

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when farooq sulehri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to farooq sulehri:

Shortcuts

Share