15/08/2026
یہ 1968ء کی ایک خوبصورت اور تاریخی تصویر ہے، جو مری کے جنرل بس اسٹینڈ کی اُن یادگار سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے جب مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیاں نہ صرف مقامی مسافروں بلکہ مختلف اداروں اور تنظیموں کو بھی سفری سہولیات فراہم کیا کرتی تھیں۔ تصویر میں کمپنی کی دو گاڑیاں مری جنرل بس اسٹینڈ پر موجود دکھائی دیتی ہیں، جہاں سے اسکاؤٹس کی گاڑیاں بکنگ پر اپنا سفر شروع کر رہی ہیں۔
اُس دور میں مری ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ ساتھ بوائے اسکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی ٹیموں کا بھی ایک اہم مرکز تھا۔ موسمِ گرما میں ملک کے مختلف حصوں سے اسکاؤٹ اور گرلز گائیڈ کی ٹیمیں مری کا رخ کرتیں، اور ان کے قیام، سفر اور سامان کی ترسیل میں مقامی ٹرانسپورٹ کا ایک اہم کردار ہوا کرتا تھا۔ مری کی پہاڑی سڑکوں پر اسکاؤٹس کا سامان لے جانے والی یہ گاڑیاں اُس زمانے کی ایک مانوس منظر کشی پیش کرتی تھیں۔
تصویر میں موجود گاڑیاں بھی اسی تاریخی سلسلے کی ایک خوبصورت یادگار ہیں۔ اسکاؤٹس کا سامان مری سے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا جاتا، جہاں سے یہ ٹیمیں اپنے اگلے سفر کے لیے ریل کا راستہ اختیار کرتی تھیں۔ یوں مری کی مقامی ٹرانسپورٹ، ریلوے اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان اسکاؤٹس کے درمیان ایک خوبصورت سفری رابطہ قائم تھا۔
اس تاریخ کا ایک اہم اور قابلِ ذکر حوالہ آج بھی چھرا گلی میں قائم مری اسکاؤٹ کیمپ کی صورت میں موجود ہے۔ آج بھی ہر سال موسمِ گرما میں ملک کے مختلف حصوں سے بوائے اسکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی ٹیمیں یہاں آتی ہیں۔ یہ کیمپ صرف ایک تربیتی مقام نہیں بلکہ مری کے اُس شاندار ماضی کی زندہ یادگار بھی ہے، جب اسکاؤٹنگ، سیاحت اور مقامی ٹرانسپورٹ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
آج جب ہم 1968ء کی اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو یہ محض ایک پرانی گاڑی یا بس اسٹینڈ کا منظر محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اپنے اندر ایک پورا تاریخی باب سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ تصویر ہمیں اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب مری کی سڑکوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں، اداروں اور نوجوانوں کو آپس میں ملانے کا ایک اہم وسیلہ بھی تھی۔
مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کی یہ گاڑیاں، مری جنرل بس اسٹینڈ، راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اور چھرا گلی کا اسکاؤٹ کیمپ—
یہ سب مل کر مری کی اُس خوبصورت تاریخ کی کڑیاں ہیں جو آج بھی یادوں میں زندہ ہیں۔
یہ تصویر بھی اُن ہی گزرے ہوئے دنوں کی ایک قیمتی امانت ہے، جسے محفوظ رکھنا دراصل مری کی ٹرانسپورٹ، سیاحت اور اسکاؤٹنگ کی تاریخ کو محفوظ رکھنا ہے۔