Historical Murree

Historical Murree stay connected with historical Murree and discover the history that shaped Murree

یہ 1968ء کی ایک خوبصورت اور تاریخی تصویر ہے، جو مری کے جنرل بس اسٹینڈ کی اُن یادگار سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے جب مری ہل ...
15/08/2026

یہ 1968ء کی ایک خوبصورت اور تاریخی تصویر ہے، جو مری کے جنرل بس اسٹینڈ کی اُن یادگار سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے جب مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیاں نہ صرف مقامی مسافروں بلکہ مختلف اداروں اور تنظیموں کو بھی سفری سہولیات فراہم کیا کرتی تھیں۔ تصویر میں کمپنی کی دو گاڑیاں مری جنرل بس اسٹینڈ پر موجود دکھائی دیتی ہیں، جہاں سے اسکاؤٹس کی گاڑیاں بکنگ پر اپنا سفر شروع کر رہی ہیں۔
اُس دور میں مری ملک بھر سے آنے والے سیاحوں کے ساتھ ساتھ بوائے اسکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی ٹیموں کا بھی ایک اہم مرکز تھا۔ موسمِ گرما میں ملک کے مختلف حصوں سے اسکاؤٹ اور گرلز گائیڈ کی ٹیمیں مری کا رخ کرتیں، اور ان کے قیام، سفر اور سامان کی ترسیل میں مقامی ٹرانسپورٹ کا ایک اہم کردار ہوا کرتا تھا۔ مری کی پہاڑی سڑکوں پر اسکاؤٹس کا سامان لے جانے والی یہ گاڑیاں اُس زمانے کی ایک مانوس منظر کشی پیش کرتی تھیں۔
تصویر میں موجود گاڑیاں بھی اسی تاریخی سلسلے کی ایک خوبصورت یادگار ہیں۔ اسکاؤٹس کا سامان مری سے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن تک پہنچایا جاتا، جہاں سے یہ ٹیمیں اپنے اگلے سفر کے لیے ریل کا راستہ اختیار کرتی تھیں۔ یوں مری کی مقامی ٹرانسپورٹ، ریلوے اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان اسکاؤٹس کے درمیان ایک خوبصورت سفری رابطہ قائم تھا۔
اس تاریخ کا ایک اہم اور قابلِ ذکر حوالہ آج بھی چھرا گلی میں قائم مری اسکاؤٹ کیمپ کی صورت میں موجود ہے۔ آج بھی ہر سال موسمِ گرما میں ملک کے مختلف حصوں سے بوائے اسکاؤٹس اور گرلز گائیڈز کی ٹیمیں یہاں آتی ہیں۔ یہ کیمپ صرف ایک تربیتی مقام نہیں بلکہ مری کے اُس شاندار ماضی کی زندہ یادگار بھی ہے، جب اسکاؤٹنگ، سیاحت اور مقامی ٹرانسپورٹ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔
آج جب ہم 1968ء کی اس تصویر کو دیکھتے ہیں تو یہ محض ایک پرانی گاڑی یا بس اسٹینڈ کا منظر محسوس نہیں ہوتی، بلکہ اپنے اندر ایک پورا تاریخی باب سمیٹے ہوئے ہے۔ یہ تصویر ہمیں اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب مری کی سڑکوں پر چلنے والی ٹرانسپورٹ صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے لوگوں، اداروں اور نوجوانوں کو آپس میں ملانے کا ایک اہم وسیلہ بھی تھی۔
مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کی یہ گاڑیاں، مری جنرل بس اسٹینڈ، راولپنڈی ریلوے اسٹیشن اور چھرا گلی کا اسکاؤٹ کیمپ—
یہ سب مل کر مری کی اُس خوبصورت تاریخ کی کڑیاں ہیں جو آج بھی یادوں میں زندہ ہیں۔
یہ تصویر بھی اُن ہی گزرے ہوئے دنوں کی ایک قیمتی امانت ہے، جسے محفوظ رکھنا دراصل مری کی ٹرانسپورٹ، سیاحت اور اسکاؤٹنگ کی تاریخ کو محفوظ رکھنا ہے۔

🌲 کیا آپ اس جگہ کو پہچانتے ہیں؟ راولپنڈی سے مری کی طرف سفر کرتے ہوئے جب آپ پرانی RMK Road پر 17 میل ٹول پلازہ کے بعد آگے...
14/08/2026

🌲 کیا آپ اس جگہ کو پہچانتے ہیں؟

راولپنڈی سے مری کی طرف سفر کرتے ہوئے جب آپ پرانی RMK Road پر 17 میل ٹول پلازہ کے بعد آگے بڑھتے ہیں تو قدرت کے حسین مناظر، بلند پہاڑ، گہری وادیاں اور بل کھاتی سڑکیں آپ کا استقبال کرتی ہیں۔ اس تاریخی راستے کے کئی موڑ آج بھی اپنے منفرد مقامی ناموں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔
یہ خوبصورت تاریخی تصویر بھی اسی راستے کی ہے، جس میں بل کھاتے ہوئے موڑوں سے ایک بیڈفورڈ بس گزرتی دکھائی دے رہی ہے، جس کا نمبر ADA-1127 تھا۔ غالباً یہ تصویر 1994، 1995 یا 1996 کے آس پاس کی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ تصویر میں نظر آنے والی یہ خوبصورت جگہ کون سی ہے؟
کیا آپ اس مقام کا نام جانتے ہیں؟
👇 اپنا جواب کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
دیکھتے ہیں ہمارے کتنے دوست اس تاریخی مقام کو پہچان پاتے ہیں! ❤️

13/08/2026

پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانی بہن بھائیوں کو
جشن آزادی مبارک 🇵🇰

تجھے مرحوم لکھوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔۔۔ آج سے کچھ ماہ پہلے جب مرحوم گل نور استاد صاحب کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی ...
13/08/2026

تجھے مرحوم لکھوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔۔۔۔۔

آج سے کچھ ماہ پہلے جب مرحوم گل نور استاد صاحب کے بارے میں ایک پوسٹ لکھی تھی تو یہ گمان بھی نہ تھا کہ اتنی جلدی ان کی وفات کے بعد انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دوبارہ الفاظ لکھنے پڑیں گے۔
مرحوم گلنواز استاد جنہیں لالی استاد بھی کہا جاتا تھا ان کا تعلق مری کے علاقے کمپنی باغ بوہڑگراں سے تھا۔ آپ نے اپنی پوری زندگی محنت، دیانت داری اور رزقِ حلال کمانے میں گزاری۔ پیشہ ورانہ زندگی کا ایک بڑا حصہ مسافروں کو محفوظ، آرام دہ اور بہترین سفری سہولیات فراہم کرتے ہوئے گزرا۔
مری اور راولپنڈی کی ٹرانسپورٹ کی تاریخ میں گل نواز استاد کا نام ایک ماہر اور منجھے ہوئے ڈرائیور کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آپ نے 3385، 8476، 5962، 1455 جیسی مشہور گاڑیاں چلائیں اور راولپنڈی سے ایوبیہ، راولپنڈی سے گوہڑہ پھپھڑیل براستہ لوئر ٹوپہ سمیت کئی دیگر روٹس پر اپنی ماہرانہ اور پیشہ ورانہ ڈرائیونگ کے جوہر دکھائے۔
آپ نے جن جن علاقوں میں گاڑی چلائی، وہاں کے مسافروں اور دیگر لوگوں کے دلوں میں آپ کی ایک اچھی یاد موجود ہے۔ آپ کے اعلیٰ اخلاق، خوش مزاجی، شرافت، خلوص اور مسافروں کے ساتھ حسنِ سلوک نے آپ کو محض ایک ڈرائیور نہیں بلکہ ایک قابلِ احترام انسان بنا دیا تھا۔
گل نواز استاد صاحب نے ساری زندگی محنت اور رزقِ حلال پر یقین رکھا۔ اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم اور اچھی تربیت کے لیے جو جدوجہد انہوں نے کی، وہ ان کی محنت اور ذمہ داری کا روشن ثبوت ہے۔
آج وہ ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی چلائی ہوئی گاڑیاں، ان کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر اور ان کے اچھے اخلاق کی یادیں انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گی۔ کچھ لوگ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر اپنے کردار اور محبت کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔
ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہیں کہ مرحوم گلنواز استاد صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، قبر کو نور سے منور فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کی اولاد، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور تمام چاہنے والوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
گل نواز استاد صاحب! آپ کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی، مگر آپ کی اچھی یادیں ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔
اللہ پاک مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین
راقم تحریر: راجہ باسط نواز آف گھوڑاگلی

ایک دن ایک شخصیت ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی سیاسی، سماجی اور کاروباری تاریخ میں کئی ایسی نامور شخصیات گزری ہیں جنہوں...
09/08/2026

ایک دن ایک شخصیت

ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کی سیاسی، سماجی اور کاروباری تاریخ میں کئی ایسی نامور شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی محنت، کردار اور خدمات کے ذریعے اپنے علاقے میں ایک نمایاں مقام پیدا کیا۔ انہی باوقار اور جانی پہچانی شخصیات میں یونین کونسل بیور سے تعلق رکھنے والے مرحوم راجہ زر تامس خان کا نام بھی انتہائی احترام سے لیا جاتا ہے۔
راجہ زر تامس خان مرحوم 1931ء میں یونین کونسل بیور میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک معروف ٹرانسپورٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت بھی تھے۔ اپنی محنت، معاملہ فہمی، مضبوط عوامی روابط اور خداداد صلاحیتوں کی بدولت آپ نے اپنے دور میں نہ صرف کاروباری میدان میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ سیاست اور سماجی خدمت کے حوالے سے بھی ایک معتبر نام بن کر سامنے آئے۔
یہ وہ دور تھا جب راولپنڈی سے لے کر کشمیر تک ٹرانسپورٹ کا شعبہ آج کی طرح وسیع اور جدید نہیں تھا اور اس پورے خطے میں صرف چند ہی ٹرانسپورٹرز ایسے تھے جن کا شمار نمایاں اور بااثر ٹرانسپورٹرز میں ہوتا تھا۔ راجہ زر تامس خان مرحوم کا شمار بھی انہی چند معتبر ٹرانسپورٹرز میں ہوتا تھا۔ آپ نے راولپنڈی کے گوالمنڈی سے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور حیدری بس سروس کے نام سے مسافر ٹرانسپورٹ کا سلسلہ قائم کیا، جبکہ حیدری ٹرانسپورٹ کے نام سے گڈز ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی جاری رکھا۔ یوں آپ کا تعلق نہ صرف مسافر بس سروس سے تھا بلکہ مال بردار ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی آپ نے اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔
حیدری بس سروس اور حیدری ٹرانسپورٹ اس دور کی ٹرانسپورٹ تاریخ کا ایک اہم حوالہ سمجھے جاتے تھے۔ محدود وسائل، دشوار گزار پہاڑی راستوں اور اس زمانے کی مشکل سفری صورتحال کے باوجود راجہ زر تامس خان مرحوم نے اپنے کاروبار کو محنت اور مستقل مزاجی سے آگے بڑھایا۔ ان کی قائم کردہ حیدری ٹرانسپورٹ کا یہ کاروباری سلسلہ آج بھی ان کی اولاد اور فرزندان کے ذریعے جاری و ساری ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ انہوں نے صرف ایک کاروبار قائم نہیں کیا بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور قابلِ فخر ورثہ بھی چھوڑا۔
راجہ زر تامس خان مرحوم کی سیاسی زندگی بھی ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو تھی۔ آپ کی ابتدائی سیاسی وابستگی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ رہی۔ بعد ازاں مرحوم خاقان عباسی صاحب کے سیاسی سفر کے دوران آپ ان کے قریبی رفقا میں شمار ہوئے اور ان کے ساتھ ایک مضبوط سیاسی و سماجی تعلق قائم رہا۔ یہ تعلق صرف ایک نسل تک محدود نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ ان کی اولاد نے بھی اس سیاسی وابستگی کو آگے بڑھایا اور آج بھی آپ کی اولاد شاہد خاقان عباسی صاحب کے ساتھ شانہ بہ شانہ اور دست و بازو بن کر سیاسی و عوامی میدان میں اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
راجہ زر تامس خان مرحوم یونین کونسل بیور کے چیئرمین بھی رہے۔ اس حیثیت سے انہوں نے علاقے کے لوگوں کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھا اور عوامی مسائل کے حل اور علاقے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کی شخصیت میں کاروباری بصیرت، سیاسی شعور، سماجی روابط اور عوامی خدمت کا حسین امتزاج موجود تھا، اسی لیے آپ کو اپنے علاقے میں ایک جانی پہچانی، بااثر اور معتبر شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا رہا۔
راجہ زر تامس خان مرحوم ان شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے دور میں محدود وسائل کے باوجود اپنی محنت اور صلاحیت سے ایک ایسا مقام بنایا جس کا اثر آنے والی نسلوں تک پہنچا۔ ان کی حیدری بس سروس، حیدری ٹرانسپورٹ، سیاسی و سماجی خدمات اور ان کی اولاد کے ذریعے آگے بڑھنے والا کاروباری ورثہ آج بھی ان کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔
1995ء میں راجہ زر تامس خان مرحوم نے اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔ ان کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اگرچہ ایک باوقار سیاسی، سماجی اور کاروباری شخصیت ہم سے جدا ہو گئی، لیکن ان کی خدمات، ان کی قائم کردہ ٹرانسپورٹ کی روایت اور ان کی اولاد کی کامیابیوں کی صورت میں ان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ ایسے لوگ صرف اپنے زمانے کے نہیں ہوتے بلکہ اپنی خدمات اور کردار کی وجہ سے اپنے علاقے کی تاریخ کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم راجہ زر تامس خان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور ان کی اولاد و خاندان کو ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے علاقے، معاشرے اور لوگوں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین۔

مری راولپنڈی لورہ گھمبیر اور آزاد کشمیر کی ٹرانسپورٹ کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنی محنت، دیانت...
31/07/2026

مری راولپنڈی لورہ گھمبیر اور آزاد کشمیر کی ٹرانسپورٹ کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی بھی گزری ہیں جنہوں نے اپنی محنت، دیانت، بہترین اخلاق اور شاندار ڈرائیونگ سے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنائی۔ انہی باوقار ناموں میں ایک نام ترمٹھیاں سے تعلق رکھنے والے "یاسین استاد المعروف یاسین ماواں" کا بھی ہے۔
یاسین ماواں نے 1972ء میں بطور ڈرائیور اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ اس زمانے میں ڈرائیور ہونا صرف گاڑی چلانا نہیں بلکہ سینکڑوں مسافروں کے اعتماد، حفاظت اور آرام کی ذمہ داری بھی تھا، جسے انہوں نے پوری ایمانداری اور خلوص کے ساتھ نبھایا۔
انہوں نے راولپنڈی سے مری، اپر دیول ،موہڑہ شریف، لورہ، سرگودھا، مظفرآباد، باغ آزاد کشمیر اور دیگر کئی روٹس پر برسوں تک اپنی بہترین ڈرائیونگ سے لوگوں کی خدمت کی۔ ان کی ڈرائیونگ نہایت محفوظ، پُراعتماد اور باوقار سمجھی جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جو مسافر ایک بار یاسین ماواں کے ساتھ سفر کرتا، وہ دوبارہ بھی انہی کی گاڑی میں سفر کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔
اپنے طویل کیریئر کے دوران انہوں نے کئی معروف نشان گاڑیاں چلائیں، جن میں 3105، 799، 4485 اور 2250 سمیت دیگر گاڑیاں شامل تھیں۔ ان کی زیادہ تر سروس راولپنڈی، مری، مورا شریف اور لورہ کے روٹس پر رہی، جہاں آج بھی لوگ انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
روزگار کے سلسلے میں انہوں نے کچھ عرصہ سعودی عرب میں بھی گزارا، جہاں محنت اور دیانت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔ دیارِ غیر میں رہنے کے باوجود ان کی وابستگی اپنے وطن، اپنے لوگوں اور اپنے پیشے سے ہمیشہ قائم رہی۔
یاسین ماواں کی اصل پہچان صرف ان کی بہترین ڈرائیونگ نہیں تھی بلکہ ان کا اعلیٰ اخلاق بھی تھا۔ وہ ہر مسافر سے عزت، شفقت اور خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، امیر ہو یا غریب، ہر شخص انہیں محبت سے "ماواں" کہہ کر پکارتا تھا، اور آج بھی یہی محبت اور احترام ان کے نام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ مری روڈ سے پرانی نشان گاڑیاں تو رخصت ہو گئیں، مگر یاسین ماواں جیسے باکردار، بااخلاق اور ذمہ دار ڈرائیور آج بھی لوگوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔ ان کی شخصیت اس دور کی نمائندہ ہے جب خدمت، دیانت اور انسانیت کو سب سے بڑی دولت سمجھا جاتا تھا۔
اللہ تعالیٰ یاسین ماواں کو صحتِ کاملہ، درازیٔ عمر، خوشیوں بھری زندگی اور اپنی بے شمار رحمتوں سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کی زندگی میں آسانیاں، برکتیں اور خوشیاں عطا فرمائے۔ آمین۔

آج ہم اپنے قارئین کے ساتھ مری کی اُس تاریخی شاہراہ کا ذکر کر رہے ہیں جسے آج کل مری ایکسپریس وے بننے کے بعد عموماً مری کی...
27/07/2026

آج ہم اپنے قارئین کے ساتھ مری کی اُس تاریخی شاہراہ کا ذکر کر رہے ہیں جسے آج کل مری ایکسپریس وے بننے کے بعد عموماً مری کی جی ٹی روڈ کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک سڑک نہیں بلکہ برصغیر، مری، گلیات اور کشمیر کی صدیوں پر محیط تاریخ، تہذیب اور سفر کی ایک زندہ داستان ہے۔
قیامِ پاکستان سے بھی پہلے، برطانوی دورِ حکومت میں جب اس سڑک کی تعمیر ہوئی تو ابتدا میں یہاں بیل گاڑیاں چلتی تھیں جنہیں مقامی زبان میں "کرینچی" کہا جاتا تھا۔ یہ بیل گاڑیاں راولپنڈی سے کشمیر کی جانب سفر کرتیں اور راستے میں مختلف بازاروں اور پڑاؤ گاہوں پر رات گزارتی تھیں۔ مسافروں اور جانوروں کے آرام، کھانے پینے اور قیام کا باقاعدہ انتظام ہوتا، پھر اگلی صبح یہ قافلے اپنی منزل کی جانب روانہ ہو جاتے۔
وقت کے ساتھ سفر کے انداز بھی بدلتے گئے۔ بیل گاڑیوں کی جگہ موٹر گاڑیوں نے لے لی اور پھر ڈاج (Dodge) گاڑیوں نے اس شاہراہ پر سفر کا ایک نیا دور شروع کیا۔ راولپنڈی سے مری، گلیات، آزاد کشمیر اور سری نگر تک چلنے والی یہ گاڑیاں اس سڑک کی رونق بڑھا دیتی تھیں۔ راستے میں موجود بازار اور سرائے مسافروں کے لیے آرام گاہوں کا کردار ادا کرتے، جہاں وہ سفر کی تھکن اتارتے، کھانا کھاتے اور پھر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتے۔
یہ تاریخی شاہراہ صرف ایک سفری راستہ نہیں تھی بلکہ تجارت، سیاحت، ثقافت اور سماجی روابط کی ایک اہم کڑی بھی تھی۔ راولپنڈی سے مری، گلیات، گرد و نواح اور کشمیر تک جانے والے ہزاروں مسافروں کی یادیں آج بھی اس سڑک سے وابستہ ہیں۔ اگر جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو آج بھی اس شاہراہ کی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، کیونکہ یہ مری اور اس کے مضافاتی علاقوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے والی تاریخی شہ رگ ہے۔
زیرِ نظر تصویر بھی اسی سنہری دور کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ تصویر 1960ء یا 1970ء کی دہائی میں لی گئی، جس میں ایک بس مری روڈ پر رواں دواں نظر آ رہی ہے۔ یہ تصویر ماضی کے اُس خوبصورت دور کی جھلک پیش کرتی ہے جب سفر صرف منزل تک پہنچنے کا نام نہیں بلکہ یادوں، ملاقاتوں اور خوبصورت راستوں کا بھی حصہ ہوا کرتا تھا۔
کیا آپ اس تصویر میں موجود مقام کو پہچانتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کمنٹس میں ضرور بتائیں۔ شاید آپ کی یادداشت اس تاریخی تصویر کی درست شناخت میں ہماری مدد کر دے۔

راولپنڈی، مری اور لورہ کے ٹرانسپورٹ کے شعبے کا ذکر ہو اور راجہ ریاض خان مرحوم آف چھرہ پانی، مری کا نام نہ آئے، تو یہ تار...
26/07/2026

راولپنڈی، مری اور لورہ کے ٹرانسپورٹ کے شعبے کا ذکر ہو اور راجہ ریاض خان مرحوم آف چھرہ پانی، مری کا نام نہ آئے، تو یہ تاریخ یقیناً ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ وہ ان باوقار شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی محنت، دیانت اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے شعبے میں اپنی پہچان بنائی بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔
راجہ ریاض خان مرحوم نہایت شریف النفس، خوش اخلاق، نرم گفتار اور وعدے کے پکے انسان تھے۔ ان کے لیے کاروبار صرف روزگار کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ اعتماد، خدمت اور عزت کا نام تھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر، ان کے ساتھی، ڈرائیور، کنڈکٹر اور دیگر ٹرانسپورٹر آج بھی انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے میدان میں انہوں نے مختلف اوقات میں متعدد معزز شخصیات کے ساتھ شراکت داری میں بھی کامیابی سے کام کیا۔ ان کی گاڑیاں راولپنڈی، مری اور لورہ کے راستوں پر اعتماد اور پابندیِ وقت کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ ان کا اندازِ کاروبار شائستگی، دیانت اور باہمی احترام کی ایک خوبصورت مثال تھا۔
راجہ ریاض خان مرحوم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو دوسروں کی عزت کرتے تھے اور اسی وجہ سے ہر طبقۂ فکر کے لوگ انہیں دل سے عزت دیتے تھے۔ ان کی سادگی، خلوص اور خوش اخلاقی نے انہیں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے ساتھ ساتھ ایک بہترین انسان بھی بنایا۔
آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی نیک نامی، ان کا کردار اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ان کے فرزند، راجہ نور بیگ مرحوم نے بھی اپنے خاندان کی عزت و وقار کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا، اور یہ خاندان آج بھی علاقے میں عزت اور نیک نامی سے پہچانا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ راجہ ریاض خان مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ایسی باکردار شخصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں، کیونکہ ان کی اصل پہچان ان کا کردار، ان کی خدمت اور لوگوں کے دلوں میں بسنے والی عزت ہوتی ہے۔

اس تصویر میں نظر آنے والی بس مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والی ان تاریخی گاڑیوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے کئ...
23/07/2026

اس تصویر میں نظر آنے والی بس مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کے زیرِ انتظام چلنے والی ان تاریخی گاڑیوں میں سے ایک ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک راولپنڈی، مری، کشمیر، لورا اور اسلام آباد کے درمیان ہزاروں مسافروں کو بہترین سفری سہولیات فراہم کیں۔
اس کمپنی کے مالکان راجہ غلام سرور اور راجہ محمد سرور مرحوم آف گھوڑا گلی تھے، جو اپنے دور کی ممتاز کاروباری اور سیاسی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی دیانت، خوش اخلاقی اور بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی نے عوام میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔
اس زمانے میں کمپنی کا مرکزی اڈہ راولپنڈی میں موجودہ امپیریل مارکیٹ کی جگہ واقع تھا، جہاں سے روزانہ گاڑیاں اپنے مقررہ اوقات پر روانہ ہوتی تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج بھی بہت سے ٹرانسپورٹرز کے پاس مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی کے انہی روٹس کے پرمٹ موجود ہیں اور انہی روٹس پر گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں۔
اس دور میں انفرادی شناخت کے ساتھ ٹرانسپورٹ چلانے کا رواج نہیں تھا بلکہ تمام گاڑیاں مخصوص کمپنیوں کے زیرِ انتظام چلتی تھیں۔ اس وقت علاقے میں صرف دو بڑی ٹرانسپورٹ کمپنیاں نمایاں تھیں۔ ایک مری ہل ٹرانسپورٹ کمپنی، جس کی گاڑیاں سبز رنگ کی ہوتی تھیں، جبکہ دوسری پنڈی مری ٹرانسپورٹ کمپنی تھی، جس کی گاڑیاں سرخ رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانی جاتی تھیں۔
یہ دونوں کمپنیاں وقت کی پابندی، اعتماد اور بہترین سفری سہولیات کی علامت سمجھی جاتی تھیں، اور آج بھی بزرگ ان کے سنہری دور کو محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ راجہ محمد سرور مرحوم اور راجہ غلام سرور مرحوم آف گھوڑا گلی کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔

انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں مری جانا محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک یادگار تجربہ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں جب لوگ راو...
22/07/2026

انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں مری جانا محض ایک سفر نہیں بلکہ ایک یادگار تجربہ ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں جب لوگ راولپنڈی سے مری کی جانب روانہ ہوتے تو بارہ کہو، سترہ میل اور بائیس میل کے خوبصورت مقامات سے گزرتے ہوئے پہاڑوں کی ٹھنڈی ہوا، سرسبز مناظر اور بل کھاتی سڑکیں ان کا استقبال کرتیں۔
راستے میں پہلا پڑاؤ اکثر تریٹ بازار سے آگے تکیہ محرم شاہ کے مقام پر صوفی شفیق صاحب کے ہوٹل پر ہوتا جہاں مسافر کچھ دیر سستانے کے بعد دوبارہ سفر شروع کرتے۔ اس کے بعد قافلے چھرہ پانی پہنچتے جہاں برف جیسے ٹھنڈے چشموں کا پانی ہر مسافر کی تھکن دور کر دیتا۔ پھر کمپنی باغ کے مقام پر رکنا بھی سفر کا ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں گرم گرم پکوڑوں، خوشبودار چائے اور ٹھنڈے پانی سے لطف اندوز ہو کر مسافر اپنی تازگی بحال کرتے اور پھر مری کی جانب روانہ ہو جاتے۔
اس دور میں سڑک پر رنگ برنگی بیڈفورڈ بسیں، فورڈ ویگنیں اور چند نجی کاریں اپنی دلکش شان کے ساتھ چلتی دکھائی دیتی تھیں۔ ڈرائیور حضرات بھی مخصوص مقامات پر گاڑی ضرور روکتے تاکہ مسافر چائے پی سکیں، ٹھنڈا پانی نوش کر سکیں، تھکن اتار سکیں، جبکہ گاڑیوں کے ریڈی ایٹرز میں بھی پانی بھرا جاتا تاکہ انجن ٹھنڈا ہو جائے اور باقی سفر آسانی سے طے کیا جا سکے۔
جہاں تک فاصلے کا تعلق ہے، انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی سڑکوں پر فاصلے عموماً میلوں میں درج ہوتے تھے، نہ کہ کلومیٹر میں۔ سڑک کنارے نصب سنگِ میل، جنہیں عام طور پر مائل اسٹون بھی کہا جاتا تھا، ان پر مثلاً 25 Miles یا 17 Miles درج ہوتا تھا۔ بعد ازاں 1970 کی دہائی کے اواخر میں پاکستان نے بتدریج میٹرک نظام اپنایا، جس کے بعد میل کی جگہ کلومیٹر کا استعمال عام ہو گیا۔
آج بھی جب اس دور کے بزرگ پرانی مری روڈ کے سفر کو یاد کرتے ہیں تو صرف مری کی منزل ہی نہیں بلکہ چڑاپانی کے ٹھنڈے چشمے، کلڈنہ کی خوشبودار چائے، جھیکا گلی کے لذیذ پکوڑے، گھنے دیودار کے جنگلات، پہاڑوں پر لہراتی دھند، رنگ برنگی بیڈفورڈ بسیں اور ان کے منفرد ہارن بھی ان کی یادوں میں تازہ ہو جاتے ہیں۔
یہی وہ حسین یادیں ہیں جنہوں نے پرانی مری روڈ کو محض ایک شاہراہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاحتی اور سفری تاریخ کا ایک سنہرا باب بنا دیا، جسے آج بھی محبت، عقیدت اور اپنائیت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

Address

Murree

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Historical Murree posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share