12/06/2026
سجاد علی ولد محمد منیر، ساکن گڑھی، تحصیل لورہ، جو ایک یتیم نوجوان ہے اور اپنے خاندان کا واحد کفیل ہے، گزشتہ کئی سالوں سے مقامی پولیس لورہ کی مسلسل ہراسانی کا شکار ہے۔ سجاد علی کے مطابق پولیس اسٹیشن لورہ میں گزشتہ تین سال سے تعینات دو پولیس اہلکار، نجیب اللہ اور مجید، اسے مسلسل تنگ کرتے رہے ہیں، اس سے ناجائز طور پر رقم کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے ساتھ ناروا اور توہین آمیز سلوک روا رکھتے ہیں، اور اکثر اس کی ٹیکسی غیر قانونی طور پر کئی کئی دنوں کے لیے اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں جس سے اس کے روزگار اور معاشی حالات شدید متاثر ہوتے ہیں۔
مورخہ 06-06-2026 کو نجیب اللہ، مجید اور دیگر نامعلوم پولیس اہلکاروں نے سجاد علی کو غیر قانونی طور پر حراست میں لے کر تھانہ لورہ منتقل کر دیا۔ اس غیر قانونی حراست کے خلاف مورخہ 10-06-2026 کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 491 کے تحت رِٹ آف ہیبیس کارپس (Habeas Corpus Petition) دائر کی گئی، جس کے بعد سجاد علی کو رہا کر دیا گیا۔
تاہم رہائی کے وقت سجاد علی کے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی ٹوٹی ہوئی تھی، جو دورانِ حراست تشدد اور بدسلوکی کی نشاندہی کرتی ہے۔ سجاد علی کا مزید مؤقف ہے کہ رہائی کے بعد بھی مذکورہ پولیس اہلکار اسے اور اس کے اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اسے جھوٹے اور بے بنیاد فوجداری مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔
لہٰذا متعلقہ اعلیٰ حکام سے استدعا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مذکورہ الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور سجاد علی اور اس کے خاندان کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔