18/08/2026
ٹیکنوکریٹ نشست کی دوڑ میں بیرسٹر افتخار کیا تجربہ اور منشور انہیں مضبوط امیدوار بناتے ہیں؟
آزاد کشمیر میں تین مراحل میں عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستوں پر انتخابات کا شیڈول الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں خواتین کی مخصوص نشستوں، علماء و مشائخ کی نشست سمیت ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے بھی سیاسی جماعتوں کے اندر جوڑ توڑ اور امیدواروں کی دوڑ جاری ہے۔
متناسب نمائندگی کے تحت ملنے والی ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے بیرسٹر افتخار گیلانی سمیت شاداب سکندر، چوہدری سعید اور محسن عزیز کے نام بھی زیرِ بحث ہیں، جبکہ سیاسی حلقوں میں ان امیدواروں کو اس نشست کے لیے مضبوط امیدواروں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حلقہ مظفرآباد سٹی ایل اے 29 سے مسلم لیگ ن کے امیدوار کی حیثیت سے عام انتخابات میں حصہ لینے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کی تقاریر اور بیانات میں پیش کیا جانے والا وژن بھی سیاسی حلقوں اور عوامی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق ریاست میں تعمیر و ترقی کے ساتھ نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے بہتر مواقع، مواصلاتی نظام کی بہتری، قانون میں اصلاحات، ماحول کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات اور ریاست میں ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی نظام میں اصلاحات کے حوالے سے ان کے سابقہ دورِ وزارتِ تعلیم کی کارکردگی بھی زیرِ بحث ہے۔ دوسری جانب شاداب سکندر، چوہدری سعید اور محسن عزیز بھی اپنے سیاسی تجربے، جماعتی وابستگی اور مختلف شعبوں میں صلاحیتوں کے باعث ٹیکنوکریٹ نشست کی دوڑ میں اہم نام سمجھے جا رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ٹیکنوکریٹ نشست کا تاج کس کے سر سجتا ہے؟ فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا، تاہم مخصوص نشستوں کے حصول کے لیے سیاسی جماعتوں کے اندر رہنماؤں اور امیدواروں کی بھاگ دوڑ جاری ہے۔
اصل امتحان صرف نشست حاصل کرنا نہیں بلکہ یہ بھی ہوگا کہ کامیاب امیدوار اپنے تجربے، قابلیت اور وژن کو استعمال کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی عملی تعمیر و ترقی میں کس حد تک مؤثر کردار ادا کر پاتا ہے۔