28/09/2022
جب میرے بابا امی کی شادی ہوئی تو بابا نے حق مہر کے طور پر امی کے لیے سورة آل عمران حفظ کی اور جب میری شادی ہو رہی تھی تو بابا نے میرے شوہر کو بھی یہی کہا کہ وہ میرے حق مہر میں قرآن کی کوئی سورة حفظ کرے اس کے بعد شادی کرنے کا کہا گیا.
مجھے اپنے حق مہر کے لیے قرآن کی کوئی سورة کا انتخاب کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے سورة النور کا انتخاب کیا.
مجھے لگ رہا تھا کہ یہ سورة حفظ کرنا بہت مشکل ہے ایک طرف شادی کی تیاریاں ہو رہی تھی تو دوسری طرف میرے شوہر سورة حفظ کر رہے تھے ہر وقت ان کے ہاتھ میں قرآن ہوتا اور وہ سورة یاد کر رہے ہوتے..
شادی سے کچھ دن پہلے میرے شوہر بابا کے پاس آئے سورة سنانے جو انہوں نے پوری حفظ کرلی تھی بابا بار بار غلطی نکالتے اور شروع سے شروع کرنے کا بولتے.
میرے شوہر نے آہستہ آواز میں تلاوت شروع کی,اتنا خوبصورت منظر میں کبھی نہیں بھول سکتی میں اور میری امی نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور میرے شوہر کی اگلی غلطی کے انتظار میں مسکرانے لگی. جس کے بعد انہیں پھر سے شروع کرنا پڑتا,پر میرے شوہر نے ایک بار میں پوری سورة سنا دی,ایک لفظ بھی نہیں بھولے.سورة سننے کے بعد میرے بابا نے انہیں گلے سے لگا لیا اور کہا کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کروں گا تم نے اس کا حق مہر ادا کردیا ہے ۔
انہوں نے مجھے کوئی مالی حق مہر نہیں دیا اور نہ ہی ہم نے کوئی قیمتی زیور خریدے.انہوں نے مجھے کہا ہم دونوں کے درمیان حلف و معاہدے کے طور پر اللہ کے الفاظ کافی ہیں.
اب میں سوچتی ہوں مستقبل میں میری بیٹی اپنے حق مہر کے لیے کون سی سورة کا انتخاب کرے گی??
اگر ایسا حق مہر اور جہیز شادیوں پہ دیا جانے لگے تو ہر غریب کی بیٹی کی شادی آسانی سے ہوں اور شادیاں کامیاب بھی ہوں کبھی کوئی گھر نہ اجڑے نہ ہی بہوئیں جہیز کے طعنوں سے تنگ آکر خود کشی کرے .،.