SDN Pakistan

SDN Pakistan SDN - A Digital Media Platform | News, Blogs, Opinions & Awareness

پاکستان کے پیٹرولیم نظام میں معاشی انصاف کی تلاش۔۔۔تحریر: محمد سرفراز خانپاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران...
21/05/2026

پاکستان کے پیٹرولیم نظام میں معاشی انصاف کی تلاش۔۔۔
تحریر: محمد سرفراز خان
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کے اس ہولناک طوفان نے جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنا دیا ہے، وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ غریب کی کمر توڑ رہا ہے۔ لیکن اس پورے بحران میں جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ اور حیران کن ہے، وہ ہمارا موجودہ "فیول پرائسنگ سسٹم" ہے۔ ایک عام شہری، جو دن رات محنت کر کے بمشکل 60 سے 70 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اور پیٹ کاٹ کر موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتا ہے یا متوسط طبقے کا وہ شخص جو 1 سے 2 لاکھ روپے کماتا ہے وہ بھی حکومت کو پیٹرول کی وہی قیمت ادا کر رہا ہے جو ایک کروڑ پتی شخص اپنی بڑی بڑی لینڈ کروزرز اور شاندار لگژری گاڑیوں کے لیے ادا کرتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ایک غریب موٹر سائیکل سوار اور کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرنے والے امیر شخص کا معاشی بوجھ برابر ہونا چاہیے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سراسر ناانصافی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی روایتی اور غریب کش پالیسیوں کو چھوڑ کر ایک جرات مندانہ اور غریب پرور فیصلہ کرے۔
ہمارے موجودہ نظام کو ریگریسیو پرائسنگ میں امیر اور غریب کی آمدنی کے فرق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے دونوں پر ایک جیسا بوجھ ڈال دیا جائے۔ اس نظام کو ایک سادہ معاشی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک شخص جس کی ماہانہ آمدنی 70 ہزار سے 2 لاکھ روپے ہے اگر وہ مہینے میں اپنی بائیک یا چھوٹی گاڑی کے لیے 50 سے 120 لیٹر پیٹرول خریدتا ہے تو اس کے تقریباً 18 سے 48 ہزار روپے صرف فیول پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ اس کی کل آمدنی کا تقریباً 24 سے 28 فیصد حصہ بنتا ہے۔ دوسری طرف، ایک امیر شخص جو ماہانہ 30 یا 40 لاکھ روپے کماتا ہے اور بڑی گاڑی چلاتا ہے اگر وہ مہینے میں 50 ہزار روپے کا بھی پیٹرول استعمال کرتا ہے تو یہ اس کی آمدنی کا محض 1.2 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا موجودہ نظام غریب سے اس کے بچوں کا نوالہ چھین رہا ہے جبکہ امیر کے لیے یہ خرچہ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ ناامید اور پسے ہوئے طبقے کے ساتھ یہ سلوک معاشی ناانصافی کی بدترین شکل ہے۔ ہم کس طرح ایک بائیک سوار اور ایک ڈبل کیبن یا لینڈ کروزر چلانے والے کو ایک ہی ترازو میں تول سکتے ہیں؟ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق ٹیکس وصول کرے۔
میری تجویز ہے کہ حکومت پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کے انجن کی طاقت کی بنیاد پر پیٹرول کی فروخت کا ایک واضح اور سخت نظام وضع کرے۔ اس انقلابی پالیسی کے تحت ملک کی تمام گاڑیوں کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ عوامی فیول ٹیئرمیں تمام موٹر سائیکلیں، رکشے، چنگ چی، لوڈر گاڑیاں اور مڈل کلاس کی چھوٹی اور درمیانی گاڑیاں، جیسے آلٹو، کلٹس، ویگن آر، سوئفٹ، سٹی اور کرولا، یا وہ تمام گاڑیاں جو 1800 سی سی سے کم ہیں، شامل ہوں۔ ان کے لیے نارمل پیٹرول کی سپلائی جاری رکھی جائے اور اس کی قیمت کو غریب اور مڈل کلاس کی پہنچ کے مطابق سستا کیا جائے۔ جبکہ شاہی فیول ٹیئر میں 1800 سی سی سے اوپر کی تمام بڑی لگژری گاڑیاں، فارچیونر، لینڈ کروزر، امپورٹڈ اسپورٹس کاریں اور اشرافیہ کی شاہانہ سواریوں پر نارمل پیٹرول ڈلوانے پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے۔ ان کے لیے صرف ہائی اوکٹین کا استعمال لازمی قرار دیا جائے اور اس کی قیمت عام پیٹرول سے کئی گنا زیادہ رکھی جائے۔ اس تجویز کے پیچھے جو فلسفہ ہے، وہ انتہائی سادہ اور فائدہ مند ہے۔ جو امیر لوگ کروڑوں روپے کی گاڑیاں رکھ سکتے ہیں وہ پیٹرول کی اصل اور زیادہ قیمت ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اگر انہیں پریمیم فیول مہنگے داموں خریدنا پڑے گا تو ان کی عیاشی پر ضرور فرق پڑے گا لیکن ان کے گھر کا چولہا ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ جبکہ مارکیٹ میں نارمل پیٹرول کی طلب کم ہونے سے غریب کو سستا تیل مل سکے گا۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو اپنی جیب سے یا آئی ایم ایف سے قرض لے کر پیٹرول سستا کرنے کی بالکل ضرورت نہیں، بلکہ کراس سبسڈی کا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہائی اوکٹین پر بھاری لگژری ٹیکس عائد کرے۔ امیروں سے حاصل ہونے والا یہ اضافی ٹیکس اور منافع براہِ راست نارمل پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یعنی امیر کی عیاشی پر ٹیکس لگے گا اور اس پیسے سے غریب کی سواری کا پیٹرول سستا ہوگا۔ یہ ایک ایسا خود کفیل ماڈل ہے جو کامیابی سے چل سکتا ہے۔ جب بھی اس قسم کی کوئی انقلابی تجویز سامنے آتی ہے تو ہماری بیوروکریسی اور روایتی معاشی ماہرین فوراً یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہ انتظامی طور پر ممکن نہیں یا اس سے پیٹرول کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہو جائے گی۔ میں ان کے اس روایتی عذر کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اگر ہم نادرا کا بائیومیٹرک نظام، ای گورننس اور آن لائن بینکنگ چلا سکتے ہیں تو فیول پمپس پر مؤثر مانیٹرنگ کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس نظام کو نافذ کرنے کے لیے حکومت ضروری قانون سازی کرے اور پیٹرول پمپس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر کے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے لیے سخت سزائیں اور بھاری جرمانے مقرر کیے جائیں۔ اگر کوئی پیٹرول پمپ مالک یا عملہ بڑی گاڑی میں سستا پیٹرول ڈالتا ہوا پکڑا جائے تو اس پمپ کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس پر بھاری مالی و قانونی جرمانہ عائد کیا جائے اور گاڑی مالکان کے خلاف سخت کاروائی ہو۔ شروع میں شاید یہ نظام کچھ مشکل محسوس ہو، لیکن جب ایک بار یہ نافذ ہو جائے گا تو لوگ اس کے عادی ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف فیول کا منصفانہ استعمال ممکن ہوگا بلکہ ملک میں سستے پیٹرول کی چوری بھی روکی جا سکے گی۔
معاشی انصاف کے بغیر ملک کا چلنا ناممکن ہے۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا عام شہری اب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ مہنگائی نے غریبوں سے ان کی خوشیاں، ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات پہلے ہی چھین لی ہیں۔ اب اگر ان سے ان کی واحد سواری کا پیٹرول بھی چھین لیا گیا تو پورا معاشی اور سماجی نظام جام ہو جائے گا۔ ایک موٹر سائیکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے، چاہے وہ کوئی ڈیلیوری بوائے ہو، اسکول ٹیچر ہو یا کوئی عام دفتری ملازم۔ ایسے لوگوں کو 2 ہزار روپے کی سبسڈی کے لولی پاپ سے مزید بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔
میں حکومتِ پاکستان اور ہمارے پالیسی سازوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ پرانی، فرسودہ اور اشرافیہ نواز پالیسیوں کو چھوڑ کر اس جرات مندانہ فیصلے کی طرف قدم بڑھائیں۔ جب تک ہم امیر اور غریب کے درمیان اس واضح فرق کو پرائسنگ سسٹم میں شامل نہیں کریں گے، تب تک ملک میں حقیقی معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔ غریب کو سستا پیٹرول دینا کوئی خیرات نہیں بلکہ اس کا آئینی اور معاشی حق ہے، اور امیر سے اس کی لگژری پر ٹیکس لینا ریاست کا فرض ہے۔ امید ہے کہ ہمارے حکامِ بالا اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور پاکستان کے غریب اور مڈل کلاس طبقے کو اس بدترین دور میں ایک حقیقی اور مستقل ریلیف فراہم کریں گے۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چند ہزار اشرافیہ کا بھلا چاہتی ہے یا اس ملک کے کروڑوں عوام کا۔

تماشائی بہت تھے۔۔۔ مگر مددگار کوئی نہ تھا۔راولاکوٹ کے مصروف چاندنی چوک میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک گاڑی کے جل جانے...
18/05/2026

تماشائی بہت تھے۔۔۔ مگر مددگار کوئی نہ تھا۔

راولاکوٹ کے مصروف چاندنی چوک میں پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک گاڑی کے جل جانے کا حادثہ نہیں، بلکہ ہمارے سماج کی اجتماعی بے حسی، معاشی ناہمواری اور انسانی المیے کی ایک نہایت دردناک علامت ہے۔ ایک غریب محنت کش ڈرائیور، جو صبح اپنے گھر سے رزقِ حلال کی امید، بچوں کی مسکراہٹوں اور بہتر مستقبل کے خوابوں کے ساتھ نکلا تھا، چند لمحوں میں اپنی پوری زندگی کو شعلوں کی نذر ہوتا دیکھتا رہ گیا۔ اس کی گاڑی صرف ایک سواری نہ تھی، بلکہ اس کے خاندان کی بقا، اس کے بچوں کی تعلیم، اس کے گھر کے چولہے کی حرارت اور اس کی خودداری کا واحد سہارا تھی۔
حادثات بظاہر اچانک رونما ہوتے ہیں، لیکن ان کے اثرات انسان کی پوری عمر پر محیط ہو جاتے ہیں۔ جب چاندنی چوک میں گاڑی کے ریڈی ایٹر نے شدتِ حرارت اختیار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تو وہاں موجود لوگوں نے ایک منظر دیکھا، مگر اس محنت کش نے اپنی پوری زندگی جلتی ہوئی دیکھی۔ آگ کے وہ شعلے محض لوہے اور ربڑ کو نہیں جلا رہے تھے، بلکہ اس کے خواب، اس کی محنت کے برسوں اور اس کی امیدوں کو بھی راکھ میں تبدیل کر رہے تھے۔
یہ امر نہایت افسوسناک ہے کہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک وہ شخص اپنی دنیا کو جلتا ہوا دیکھتا رہا، مگر کوئی مؤثر مدد اس تک نہ پہنچ سکی۔ لوگ جمع تھے، نگاہیں موجود تھیں، موبائل فون بھی متحرک تھے، لیکن انسانیت کہیں دکھائی نہ دی۔ یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ہم دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنے کے بجائے اسے ایک منظر، ایک خبر یا ایک ویڈیو میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ معاشرے کی اصل روح ہمدردی اور تعاون سے زندہ رہتی ہے، لیکن جب اجتماعی احساس مرنے لگے تو انسان اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو جاتا ہے۔
غریب آدمی کے خواب ہمیشہ محدود مگر نہایت قیمتی ہوتے ہیں۔ وہ محلات یا عیش و عشرت کی خواہش نہیں رکھتا؛ اس کی کل کائنات صرف اتنی ہوتی ہے کہ اس کے بچے بھوکے نہ سوئیں، بیمار ہوں تو دوا میسر آ جائے، اور شام کو وہ تھکا ہارا گھر لوٹے تو بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ سکے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سب سے کمزور طبقہ ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ ہے۔ ایک حادثہ اس کی برسوں کی محنت اور زندگی بھر کی جمع پونجی کو لمحوں میں خاکستر کر دیتا ہے۔
اس واقعے نے ایک اور تلخ حقیقت بھی آشکار کی ہے کہ ترقی صرف بلند عمارتوں، ڈگریوں اور سیاسی نعروں کا نام نہیں۔ کوئی شہر اس وقت تک مہذب نہیں کہلا سکتا جب تک وہاں ایک غریب انسان خود کو تنہا اور بے سہارا محسوس کرے۔ راولاکوٹ جیسے شہرمیں اگر ایک محنت کش اپنی زندگی کا واحد سہارا جلتا ہوا دیکھ کر صرف آہیں بھرنے پر مجبور ہو جائے، تو یہ پورے سماج اور نظام کے ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
وہ جلی ہوئی گاڑی دراصل ایک انسان کے مستقبل کی راکھ تھی اور اس سے اٹھنے والا سیاہ دھواں ہماری اجتماعی بے حسی کی علامت۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حادثات کو صرف واقعات نہ سمجھیں، بلکہ ان کے پس منظر میں موجود انسانی دکھ کو محسوس کریں۔ کیونکہ ایک زندہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں کسی ایک فرد کا غم، پورے معاشرے کا غم بن جائے۔
ایس ڈی این۔

راولاکوٹ (ایس ڈی این) راولاکوٹ کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں فیصلوں سے زیادہ تذبذب اور قیادت ...
13/04/2026

راولاکوٹ (ایس ڈی این) راولاکوٹ کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں فیصلوں سے زیادہ تذبذب اور قیادت سے زیادہ دھڑے بندی نمایاں ہے۔ بظاہر معاملہ ایک انتخابی ٹکٹ کا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک بڑی جماعت کے داخلی مزاج، اس کے نظم و ضبط اور اس کی سمت کے تعین کا امتحان بن چکا ہے۔

حالیہ دنوں میں دارالحکومت میں ہونے والی ایک نشست نے اس صورتِ حال کو مزید عیاں کر دیا۔ یہ اجتماع جس مقصد کے تحت ترتیب دیا گیا تھا، وہ تو پس منظر میں چلا گیا، اور جو منظر سامنے آیا وہ باہمی بدگمانی، محدود شرکت اور غیر واضح حکمتِ عملی کا تھا۔ اس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جماعت کے اندر فیصلہ سازی کا عمل اب اجتماعی دانش کے بجائے چند افراد کی محدود مشاورت تک سمٹ کر رہ گیا ہے، جو کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے نیک شگون نہیں۔

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس تمام تر صورتِ حال میں اصل سوال—یعنی عوامی نمائندگی اور انتخابی قوت—ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حلقے کے زمینی حقائق، کارکنان کی آراء اور مقامی قیادت کی ترجیحات کو نظر انداز کر کے اگر فیصلے مسلط کیے جائیں، تو وہ وقتی طور پر تو نافذ ہو سکتے ہیں، مگر پائیدار نہیں ہوتے۔ سیاست میں قوت کا سرچشمہ بالا سے نہیں بلکہ نیچے سے پھوٹتا ہے، اور جب اس سرچشمے کو نظر انداز کیا جائے تو جماعت محض ایک ڈھانچے میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں بعض نئی تجاویز بھی سامنے آئیں، جن میں ایسے نام زیرِ غور لائے گئے جو اس حلقے کی مقامی سیاست سے براہِ راست وابستہ نہیں۔ یہ رجحان اس امر کی علامت ہے کہ جماعت کے اندر اعتماد کا فقدان اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ بیرونی سہاروں کی تلاش شروع ہو گئی ہے۔ مگر تاریخ یہ بتاتی ہے کہ سیاسی میدان میں وہی امیدوار دیرپا اثر چھوڑتے ہیں جو اپنے علاقے کی نبض سے واقف ہوں، نہ کہ وہ جو محض جماعتی حکمتِ عملی کا حصہ بن کر سامنے آئیں۔

مزید برآں، قیادت کے باہمی روابط اور دیگر جماعتوں سے قربت کے تاثر نے بھی صورتِ حال کو الجھا دیا ہے۔ جب ایک رہنما بیک وقت مختلف سیاسی دروازوں پر دستک دیتا دکھائی دے، تو کارکنان کے لیے اپنی وابستگی کا تعین مشکل ہو جاتا ہے۔ وفاداری، جو کسی بھی جماعت کا سرمایہ ہوتی ہے، ایسے ماحول میں شخصیات کے گرد سمٹنے لگتی ہے نہ کہ نظریے کے ساتھ جڑی رہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کارکنان کے ایک طبقے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا جماعت واقعی ایک منظم سیاسی قوت کے طور پر آگے بڑھ رہی ہے، یا محض چند بااثر افراد کے فیصلوں کے تابع ہو چکی ہے؟ اس سوال کا جواب ابھی واضح نہیں، مگر اس کے اثرات ضرور نمایاں ہو رہے ہیں—کمزور شرکت، کھلے اعتراضات اور متوازی سیاسی سرگرمیوں کی صورت میں۔

اس تمام منظرنامے میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ نوجوان اور متحرک قیادت خود کو نظر انداز محسوس کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں وہ متبادل راستے اختیار کرنے پر آمادہ ہو رہی ہے۔ یہ رجحان اگر بڑھتا گیا تو جماعت کے اندر ایک نئی تقسیم جنم لے سکتی ہے، جو مستقبل میں مزید پیچیدگیاں پیدا کرے گی۔

یوں دیکھا جائے تو مسئلہ محض ایک حلقے یا ایک ٹکٹ کا نہیں، بلکہ ایک مکمل سیاسی طرزِ فکر کا ہے۔ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی اور فیصلہ سازی کو شفاف، جامع اور زمینی حقائق کے مطابق نہ بنایا گیا، تو یہ داخلی انتشار انتخابی میدان میں واضح کمزوری کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

سیاسی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ جماعتیں بیرونی مخالفین سے کم اور داخلی انتشار سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ جو جماعت اپنے اندر نظم، اعتماد اور واضح سمت برقرار رکھتی ہے، وہی کڑے سے کڑے حالات میں بھی اپنا وجود منوا لیتی ہے—اور جو اس امتحان میں ناکام ہو جائے، وہ آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو بیٹھتی ہے۔

مزید معلومات کے لئے نادرا کی آفیشل ویب سائٹ یا ایپ وزٹ کریں۔
12/04/2026

مزید معلومات کے لئے نادرا کی آفیشل ویب سائٹ یا ایپ وزٹ کریں۔

قوم کو گمراہ کرنے والا بیانیہ کب تک؟زمانہ سیاست میں بیانیہ محض الفاظ کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ یہ قوموں کے شعور کی تشکیل کا...
11/04/2026

قوم کو گمراہ کرنے والا بیانیہ کب تک؟
زمانہ سیاست میں بیانیہ محض الفاظ کا کھیل نہیں ہوتا بلکہ یہ قوموں کے شعور کی تشکیل کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب الفاظ ذمہ داری سے عاری ہو جائیں تو وہ رہنمائی کے بجائے گمراہی کا سبب بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ایک عرصے سے ایسا ہی منظر دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں کچھ حلقے مسلسل مایوسی، تضحیک اور بے یقینی کو فروغ دے کر خود کو صاحب بصیرت ظاہر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

یہ طرز فکر نہ صرف قومی خود اعتمادی کو مجروح کرتا ہے بلکہ عوام کے ذہن میں ایک ایسا تصور بٹھاتا ہے جس میں ریاست بے وزن اور بے اثر دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ زمینی حقائق اکثر اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ ریاستیں محض نعروں یا بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، سفارتی حکمتِ عملی اور داخلی استحکام سے اپنی جگہ بناتی ہیں اور یہی وہ پہلو ہے جسے نظر انداز کر کے ایک مخصوص بیانیہ مسلسل پروان چڑھایا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جب حالات کسی مثبت سمت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ریاستی سطح پر کوئی سنجیدہ پیش رفت سامنے آتی ہے، تو وہی عناصر جو کل تک ناامیدی کے سوداگر تھے، آج تشویش اور اضطراب کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ گویا حقیقت کا ظہور ان کے قائم کردہ تصوراتی ڈھانچے کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
صحافت اور اظہارِ رائے کی آزادی اپنی جگہ مسلمہ اصول ہیں مگر ان کے ساتھ دیانت اور احتیاط لازم ہے۔ جب معلومات کی ترسیل قیاس آرائیوں، غیر مصدقہ ذرائع اور جذباتی تجزیوں پر مبنی ہو، تو وہ شعور نہیں بلکہ انتشار پیدا کرتی ہے۔ سنجیدہ معاشروں میں خبر اور رائے کے درمیان ایک واضح حد قائم کی جاتی ہےاور یہی حد اکثر ہمارے ہاں دھندلا دی جاتی ہے۔
سیاسی کارکنان کے لیے یہ لمحۂ توقف ہے۔ کسی بھی جماعت کی قوت اس کے کارکنان کے شعور، فہم اور تنقیدی صلاحیت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر کارکن محض سننے اور ماننے پر اکتفا کریں اور ہر بیان کو بلا تحقیق قبول کر لیں، تو وہ خود اپنی جماعت کے فکری زوال کا سبب بن جاتے ہیں۔ وفاداری کا تقاضا اندھی تقلید نہیں بلکہ درست سمت کی نشاندہی ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ جدید دور میں بیانیہ صرف نظریاتی نہیں رہا بلکہ اس کے ساتھ معاشی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں۔ توجہ، مقبولیت اور اثرورسوخ، یہ سب ایک منڈی کی صورت اختیار کر چکے ہیں جہاں بعض اوقات حقیقت سے زیادہ کشش رکھنے والی بات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں سچ اور تاثر کے درمیان فرق کرنا مزید ضروری ہو جاتا ہے۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہ جماعتیں جو وقت کے تقاضوں کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں، آہستہ آہستہ اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔ شخصیات خواہ کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہوں، اگر ان کا بیانیہ زمینی حقیقتوں سے کٹ جائے تو وہ محض علامت بن کر رہ جاتی ہیں۔ سیاسی قوت کا دارومدار مسلسل ارتقاء، داخلی احتساب اور حقیقت پسندی پر ہوتا ہےنہ کہ جامد خیالات اور غیر لچکدار مؤقف پر۔
پس دانش کا تقاضا یہی ہے کہ جذبات کی رو میں بہنے کے بجائے حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے، بیانیے کو عقل و شعور کی کسوٹی پر پرکھا جائے اور اس راستے کا انتخاب کیا جائے جو وقتی تسکین نہیں بلکہ طویل المدت استحکام کا ضامن ہو۔ کیونکہ سیاست میں بقا اُنہی کا مقدر بنتی ہے جو حقیقت کو تسلیم کر کے اس کے مطابق خود کو ڈھال لیتے ہیں۔
۔۔۔
محمد سرفراز خان

بلقان میں ایک ریاست کا زوال۔۔۔ یوگوسلاویہ کی تحلیل کی داستان(ایس ڈی این)بلقان کے پہاڑوں اور وادیوں میں کبھی ایک ایسی ریا...
18/03/2026

بلقان میں ایک ریاست کا زوال۔۔۔ یوگوسلاویہ کی تحلیل کی داستان

(ایس ڈی این)بلقان کے پہاڑوں اور وادیوں میں کبھی ایک ایسی ریاست بھی آباد تھی جسے دنیا یوگوسلاویہ کے نام سے جانتی تھی—ایک ایسا وفاق جو مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتوں کو ایک پرچم تلے سموئے ہوئے تھا۔ مگر تاریخ کے دھارے میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جب اتحاد بکھر جاتا ہے اور نقشے ازسرِنو ترتیب پاتے ہیں۔
سن 1991 کی دہائی کا آغاز اس ریاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوا۔ سیاسی کشیدگی، معاشی ابتری اور ابھرتی ہوئی قوم پرستی نے اس مضبوط دکھائی دینے والے ڈھانچے میں دراڑیں ڈال دیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ دراڑیں شگاف بن گئیں، اور شگاف ایک ایسے زلزلے میں بدل گیا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔
سب سے پہلے سلووینیا نے آزادی کا اعلان کیا، اور پھر کروشیا نے اسی راہ کو اختیار کیا۔ جلد ہی بوسنیا اور ہرزیگووینا اور شمالی مقدونیہ بھی اس قافلے میں شامل ہو گئے۔ وقت کے ساتھ مونٹی نیگرو اور سربیا نے اپنی الگ شناخت قائم کی، جبکہ کوسوو نے بعد ازاں خودمختاری کا اعلان کیا۔
یہ محض سیاسی تقسیم نہ تھی، بلکہ ایک خونریز باب بھی تھا جسے دنیا یوگوسلاو جنگیں کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ان جنگوں نے نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کیا بلکہ نسلی، مذہبی اور ثقافتی خطوط کو مزید گہرا کر دیا۔
آج، جہاں کبھی ایک ملک تھا، وہاں کئی خودمختار ریاستیں موجود ہیں—ہر ایک اپنی الگ شناخت، سیاسی نظام اور قومی خواب کے ساتھ۔ یہ تبدیلی اس امر کی غماز ہے کہ تاریخ میں سرحدیں مستقل نہیں ہوتیں؛ وہ حالات کے جبر اور قوموں کی خواہشات کے تابع ہوتی ہیں۔
ایس ڈی این کی یہ رپورٹ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جغرافیہ محض نقشوں کا کھیل نہیں، بلکہ انسانی ارادوں، تصادمات اور امن کی مسلسل جستجو کا عکس ہے۔

مغربی دنیا کے موجودہ مسلمان میئرز!
05/11/2025

مغربی دنیا کے موجودہ مسلمان میئرز!

شملہ معاہدے کے حسب ذیل مضمرات نے تحریک آزادی کشمیر پر منفی اثرات مرتب کئے۔ [ 1 ] یہ معاہدہ کشمیر کے اصل وارثوں یعنی کشمی...
31/10/2025

شملہ معاہدے کے حسب ذیل مضمرات نے تحریک آزادی کشمیر پر منفی اثرات مرتب کئے۔

[ 1 ] یہ معاہدہ کشمیر کے اصل وارثوں یعنی کشمیریوں کو مسئلہ کشمیر کا فریق ہی نہیں سمجھتا ۔

[ 2 ] یہ معاہدہ کشمیریوں کے مسلمہ حق خودارادیت کو تسلیم نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کشمیر کو دو ملکوں کے مابین سرحدی جھگڑا سمجھتا ہے ۔

[ 3 ]یہ معاہدہ کشمیریوں کو عالمی رائے عامہ کی حمایت سے محروم کر دیتا ہے کیونکہ عالمی رائے عامہ ایک مظلوم اور محکوم قوم کے حق آزادی کی حمایت تو کرتی ہے لیکن اسے دو ملکوں کے مابین علاقائی تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اس لیے شملہ معاہدے کے بعد عالمی رائے عامہ نے چپ سادھ لی ۔

[ 4 ] اس معاہدے کے تحت دونوں ملکوں نے عہد کیا کے کنٹرول لائن کے دونوں طرف اٹھنے والی تحریکوں کو ختم کیا جائے گا ۔یہی وجہ ہے کے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں شملہ معاہدے کے بعد آزادی پسندوں کی پکڑ دھکڑ اور تعذیب و تشدد کا سلسلہ بیک وقت شروع کیا گیا ۔

[ 5 ] پاکستان نے بھارت سے آئندہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جس سے کشمیریوں کو سخت مایوسی ہوئی

[ 6 ] اس معاہدے کی دفعہ 4 شق 2 کےتحت سیزفائرلائن( عارضی جنگ بندی لائن ) کو کنٹرول لائن ( مستقل سرحد ) تسلیم کیا گیا یہ الفاظ کشمیر پر بھارتی قبضے کو درست اور جائز تسلیم کرتے ہیں

[ 7 ]اس معاہدے کی رو سے تحریک آزادی کے لیے پروپیگنڈہ بند کرنے کا فیصلہ ہوا چنانچہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ کےلیے تحریک آزادی کشمیر شہر ممنوعہ بن گی ریڈیو آزاد کشمیر بھی خاموش کر دیا گیا

[ 8 ] اس معاہدے کی رو سے پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا چنانچہ آج تک پاکستان نے اس معاہدے کی پابندی کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ غیر جانب دار تحریک اسلامی کانفرنس یا کسی بین الاقوامی میں خود پیش نہ کیا ۔

[ 9 ] شملہ معاہدہ کی آخری شق کہا گیا کہ جموں کشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کے لیے پاکستان اور بھارت مناسب وقت پر مذاکرات کریں گے اس سے مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے باہمی مذاکرات کی نذر ہوگیا۔

The Shimla Agreement
June 28, 1972 Indira Gandhi and Zulfiqar Ali Bhutto
Very expertly removed the Kashmir issue from the list of global issues and gave it the status of a border dispute between the two countries and bound Pakistan that
He will not raise this issue on a global forum.
The Kashmir issue was ruthlessly adorned with cold bloodedness for improving Pakistan-India relations.

The implications of the Shimla Treaty have had a negative impact on Azad Kashmir.

[1] The treaty does not consider Kashmiris to be the real heirs of Kashmir.

[2] The treaty does not recognize Kashmiris' Muslim right to self-determination, but rather considers Kashmir a border dispute between the two countries.

[3] This agreement deprives Kashmiris of the support of international opinion because international opinion favors the freedom of the oppressed and subjugated nation, but it has no interest in the territorial dispute between the two countries. After the deal, global public opinion was quiet.

[4] Under this agreement, the two countries will abolish the movements on both sides of the pact's control line. This is because of the Shamla agreement in Azad Kashmir and occupied Kashmir, the arrest and torture of the freedom fighters. Started simultaneously.

[5] Pakistan pledges non-combatant war with India, leaving Kashmiris in despair

[6] Under section 4 clause 2 of this agreement, the ceasefire (temporary ceasefire line) was recognized as the Line of Control (Permanent Border). These words signify the Indian occupation of Kashmir as valid and legitimate.

[7] According to this agreement, it was decided to stop propaganda for freedom of movement so that freedom of movement in Kashmir would be banned for media in Pakistan Radio Azad Kashmir was also silenced.

[8] As a result of this agreement, Pakistan decided not to raise the Kashmir issue on the international platform, so to date, Pakistan has objected to the agreement, taking the issue to Kashmir at a UN neutral movement or an international conference. Did not present itself.

[9] The last clause of the Shimla Agreement states that Pakistan and India will hold talks at the appropriate time to resolve the Jammu and Kashmir dispute, and this has led to Kashmir bilateral talks between the two countries.

سابق وزیراعظم تنویر الیاس کیش 64 کروڑ سیکرٹ فنڈ سے لے گئے جبکہ ایکسس و ریوائز بجٹ کے نام پر 700 کروڑ کی خُرد برد کی ہے ج...
19/10/2025

سابق وزیراعظم تنویر الیاس کیش 64 کروڑ سیکرٹ فنڈ سے لے گئے جبکہ ایکسس و ریوائز بجٹ کے نام پر 700 کروڑ کی خُرد برد کی ہے جس کا کوئی حساب نہیں مل رہا۔ اب اس کی انکوائری چل رہی ہے۔

وزیراعظم انور الحق

آزاد کشمیر میں مفاد پرست ٹولے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔۔۔ منفی پراپیگنڈے سے دال نہیں گلے گی، عوامی بیداری کا احترام کرنا ...
08/10/2025

آزاد کشمیر میں مفاد پرست ٹولے کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔۔۔ منفی پراپیگنڈے سے دال نہیں گلے گی، عوامی بیداری کا احترام کرنا ھوگا۔کراچی جیسے شہر میں بھی اکثر لوگ و احباب عوامی احتجاج کے حوالے سے پوچھتے ہیں اور منظم عوامی تحریک کے بارے میں ستائشی کلمات اور جذبات سن کر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔

تحریر: سردار لیاقت

آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال معمول پر آ گئی لیکن پورے خطے میں عوامی ایکشن کمیٹی کا تاریخی احتجاج گلی کوچوں بازاروں اور ہر گھر میں زیر بحث اور محو گفتگو ہے ہر کوئی اپنے انداز اور مختلف زاویوں سے تبصرے کر رہا ہے پروپیگنڈا مشینری کی بھی بھر مار ہے اب یہ ھو گا وہ ہو گا الغرض ہر جگہ عوامی ایکشن کمیٹی ہی موضوع ہے کراچی جیسے شہر میں بھی اکثر لوگ و احباب عوامی احتجاج کے حوالے سے پوچھتے ہیں اور منظم عوامی تحریک کے بارے میں ستائشی کلمات اور جذبات سن کر فخر محسوس ہونے لگتا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں وہ لوگ جنھیں عوامی شعور ہضم نہیں ھوا عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے تھے وہ کشمیریوں کے حوالے سے منفی پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں ان کی دکانداری بند ھو رہی ہے پاکستانی عوام میں کشمیریوں کی نفرت کا بیج بونے کا گھٹیا کردار ادا کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں اور اپنی وفاداری کا ڈرامہ رچا رہے ہیں ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے پاکستانی عوام نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا ریاست پاکستان کے خلاف کوئی کشمیری نہیں جا سکتا اور اس رشتے کی خوبصورتی یہ ہے کہ جب بھی کشمیر میں کوئی زلزلے جیسی ناگہانی آفات آئیں پاکستانی عوام اور اداروں نے کشمیری بھائیوں کی مدد کی حالیہ آزاد کشمیر سے اٹھنے والی گریٹر عوامی احتجاجی تحریک کو پر تشدد تحریک کی شکل اختیار کرنے سے پہلے ریاست پاکستان نے ہی اسے ٹھنڈا کیا عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طویل بامقصد کامیاب مذاکرات کیے گو اس دوران افسوسناک واقعات بھی رونما ھوئے جانیں بھی ضائع ھوئیں لیکن نان اسٹاپ تحریک کو بریک لگائی تاکہ مزید نقصانات نہ ھوں موجودہ عوامی تحریک کو بین الاقوامی سطح پر بھی زبردست پزیرائی ملی بی بی سی سمیت دوسرے نشریاتی اداروں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے منظم اور پرعزم احتجاج پر مثبت روشنی ڈالی غرضیکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی دنیا بھر میں تشہیر ھوئی اور محکوم و مظلوم اقوام میں حقوق کی جدوجہد کرنے کا جذبہ بیدار ھوا خصوصاََ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے لیے لازوال قربانیاں دینے والے کشمیریوں کو نیا حوصلہ ملا اس عوامی تحریک کی کامیابی صرف چند نکات تک محدود نہیں ہے اس کےتحریک آزادی کشمیر پر دور رس مثبت اثرات مرتب ھونگے آزاد کشمیر کے مفاد پرست ٹولے کو اپنی کرپشن کی عینک اتار کر اس احتجاجی کو اس پیرائے میں دیکھنا ھوگا منفی پروپیگنڈے،نفرت اور عصبیت کا ڈھونگ رچانے سے ان کی دال نہیں گلے گی عوامی حمایت کھونے کا برملا اظہار کرنا ھوگا عوامی ایکشن کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی ناکام حرکات و اقدامات سے گریز کرنا ھوگا مذاکرات کے دوران ٹولے کو دور رکھا گیا اس سے اپنی اہمیت کا اندازہ ھو چکا ہے شکوہ و شکایات اور احتجاج تو حکومت پاکستان کے نمائندہ وفد سے کرنا تھی ایکشن کمیٹی کے بعض مطالبات پر اعتراض ہو سکتا ہے لیکن عوام کے سمندر کے جذبات اور کمنٹمٹ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کشمیری مہاجرین کی قربانیوں کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا امید واثق ہے کہ اس کا کوئی بہتر حل ضرور نکلے گا کشمیری مہاجرین کے ووٹوں کے تقدس پامال کرنے والے ضرور اپنے منطقی انجام کو پہنچیں گے عوامی ایکشن کمیٹی کی سوشل میڈیا ٹیم ایسی کسی منفی سرگرمی کی تشہیر کرنے سے گریز کرے جو دوران احتجاج فورسز کے ساتھ مڈ بھیڑ یا تصادم کے دوران پیش آیا ھو احتجاج کے دوران ڈنڈے بھی مارے جاتے ہیں ردعمل بھی ھوتا ہے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں فورسز ریاست کے ادارے ہیں وہ احکامات کی تعمیل کرتے ہیں ایسا کوئی موقع نہ دیا جائے جس کا براہِ راست فائدہ دشمن قوتوں کو ھو تحریک کے تمرات سے مستفید ھوں اور باشعور اقوام کی طرح اپنی جدوجہد جاری رکھیں اپنے اندر اتحاد اور نظم کو مزید مستحکم کریں کشمیری عوام کے بھر پور اعتماد کا بھرم رکھیں ان کشمیری خواتین بچوں بزرگوں کی نیک خواہشات کا احترام کریں جو دوران احتجاج آپ کی کامیابی کے لئے دعائیں کرتے رہے اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

Address

Muzaffarabad

Telephone

+923222447808

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SDN Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SDN Pakistan:

Share