21/05/2026
پاکستان کے پیٹرولیم نظام میں معاشی انصاف کی تلاش۔۔۔
تحریر: محمد سرفراز خان
پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی کے اس ہولناک طوفان نے جہاں عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک خواب بنا دیا ہے، وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ غریب کی کمر توڑ رہا ہے۔ لیکن اس پورے بحران میں جو چیز سب سے زیادہ تکلیف دہ اور حیران کن ہے، وہ ہمارا موجودہ "فیول پرائسنگ سسٹم" ہے۔ ایک عام شہری، جو دن رات محنت کر کے بمشکل 60 سے 70 ہزار روپے ماہانہ کماتا ہے اور پیٹ کاٹ کر موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلواتا ہے یا متوسط طبقے کا وہ شخص جو 1 سے 2 لاکھ روپے کماتا ہے وہ بھی حکومت کو پیٹرول کی وہی قیمت ادا کر رہا ہے جو ایک کروڑ پتی شخص اپنی بڑی بڑی لینڈ کروزرز اور شاندار لگژری گاڑیوں کے لیے ادا کرتا ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ایک غریب موٹر سائیکل سوار اور کروڑوں کی گاڑی میں سفر کرنے والے امیر شخص کا معاشی بوجھ برابر ہونا چاہیے؟ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سراسر ناانصافی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اپنی روایتی اور غریب کش پالیسیوں کو چھوڑ کر ایک جرات مندانہ اور غریب پرور فیصلہ کرے۔
ہمارے موجودہ نظام کو ریگریسیو پرائسنگ میں امیر اور غریب کی آمدنی کے فرق کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے دونوں پر ایک جیسا بوجھ ڈال دیا جائے۔ اس نظام کو ایک سادہ معاشی مثال سے سمجھتے ہیں۔ ایک شخص جس کی ماہانہ آمدنی 70 ہزار سے 2 لاکھ روپے ہے اگر وہ مہینے میں اپنی بائیک یا چھوٹی گاڑی کے لیے 50 سے 120 لیٹر پیٹرول خریدتا ہے تو اس کے تقریباً 18 سے 48 ہزار روپے صرف فیول پر خرچ ہو جاتے ہیں۔ یہ اس کی کل آمدنی کا تقریباً 24 سے 28 فیصد حصہ بنتا ہے۔ دوسری طرف، ایک امیر شخص جو ماہانہ 30 یا 40 لاکھ روپے کماتا ہے اور بڑی گاڑی چلاتا ہے اگر وہ مہینے میں 50 ہزار روپے کا بھی پیٹرول استعمال کرتا ہے تو یہ اس کی آمدنی کا محض 1.2 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد و شمار صاف ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا موجودہ نظام غریب سے اس کے بچوں کا نوالہ چھین رہا ہے جبکہ امیر کے لیے یہ خرچہ کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتا۔ ناامید اور پسے ہوئے طبقے کے ساتھ یہ سلوک معاشی ناانصافی کی بدترین شکل ہے۔ ہم کس طرح ایک بائیک سوار اور ایک ڈبل کیبن یا لینڈ کروزر چلانے والے کو ایک ہی ترازو میں تول سکتے ہیں؟ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق ٹیکس وصول کرے۔
میری تجویز ہے کہ حکومت پیٹرول پمپس پر گاڑیوں کے انجن کی طاقت کی بنیاد پر پیٹرول کی فروخت کا ایک واضح اور سخت نظام وضع کرے۔ اس انقلابی پالیسی کے تحت ملک کی تمام گاڑیوں کو دو واضح حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔ عوامی فیول ٹیئرمیں تمام موٹر سائیکلیں، رکشے، چنگ چی، لوڈر گاڑیاں اور مڈل کلاس کی چھوٹی اور درمیانی گاڑیاں، جیسے آلٹو، کلٹس، ویگن آر، سوئفٹ، سٹی اور کرولا، یا وہ تمام گاڑیاں جو 1800 سی سی سے کم ہیں، شامل ہوں۔ ان کے لیے نارمل پیٹرول کی سپلائی جاری رکھی جائے اور اس کی قیمت کو غریب اور مڈل کلاس کی پہنچ کے مطابق سستا کیا جائے۔ جبکہ شاہی فیول ٹیئر میں 1800 سی سی سے اوپر کی تمام بڑی لگژری گاڑیاں، فارچیونر، لینڈ کروزر، امپورٹڈ اسپورٹس کاریں اور اشرافیہ کی شاہانہ سواریوں پر نارمل پیٹرول ڈلوانے پر مکمل قانونی پابندی عائد کی جائے۔ ان کے لیے صرف ہائی اوکٹین کا استعمال لازمی قرار دیا جائے اور اس کی قیمت عام پیٹرول سے کئی گنا زیادہ رکھی جائے۔ اس تجویز کے پیچھے جو فلسفہ ہے، وہ انتہائی سادہ اور فائدہ مند ہے۔ جو امیر لوگ کروڑوں روپے کی گاڑیاں رکھ سکتے ہیں وہ پیٹرول کی اصل اور زیادہ قیمت ادا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ اگر انہیں پریمیم فیول مہنگے داموں خریدنا پڑے گا تو ان کی عیاشی پر ضرور فرق پڑے گا لیکن ان کے گھر کا چولہا ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ جبکہ مارکیٹ میں نارمل پیٹرول کی طلب کم ہونے سے غریب کو سستا تیل مل سکے گا۔
اس مقصد کے لیے حکومت کو اپنی جیب سے یا آئی ایم ایف سے قرض لے کر پیٹرول سستا کرنے کی بالکل ضرورت نہیں، بلکہ کراس سبسڈی کا ماڈل اپنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت ہائی اوکٹین پر بھاری لگژری ٹیکس عائد کرے۔ امیروں سے حاصل ہونے والا یہ اضافی ٹیکس اور منافع براہِ راست نارمل پیٹرول کی قیمت کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ یعنی امیر کی عیاشی پر ٹیکس لگے گا اور اس پیسے سے غریب کی سواری کا پیٹرول سستا ہوگا۔ یہ ایک ایسا خود کفیل ماڈل ہے جو کامیابی سے چل سکتا ہے۔ جب بھی اس قسم کی کوئی انقلابی تجویز سامنے آتی ہے تو ہماری بیوروکریسی اور روایتی معاشی ماہرین فوراً یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ یہ انتظامی طور پر ممکن نہیں یا اس سے پیٹرول کی بلیک مارکیٹنگ شروع ہو جائے گی۔ میں ان کے اس روایتی عذر کو یکسر مسترد کرتا ہوں۔ آج کا دور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ اگر ہم نادرا کا بائیومیٹرک نظام، ای گورننس اور آن لائن بینکنگ چلا سکتے ہیں تو فیول پمپس پر مؤثر مانیٹرنگ کیوں نہیں ہو سکتی؟ اس نظام کو نافذ کرنے کے لیے حکومت ضروری قانون سازی کرے اور پیٹرول پمپس پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر کے مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرے۔ خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے لیے سخت سزائیں اور بھاری جرمانے مقرر کیے جائیں۔ اگر کوئی پیٹرول پمپ مالک یا عملہ بڑی گاڑی میں سستا پیٹرول ڈالتا ہوا پکڑا جائے تو اس پمپ کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور اس پر بھاری مالی و قانونی جرمانہ عائد کیا جائے اور گاڑی مالکان کے خلاف سخت کاروائی ہو۔ شروع میں شاید یہ نظام کچھ مشکل محسوس ہو، لیکن جب ایک بار یہ نافذ ہو جائے گا تو لوگ اس کے عادی ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف فیول کا منصفانہ استعمال ممکن ہوگا بلکہ ملک میں سستے پیٹرول کی چوری بھی روکی جا سکے گی۔
معاشی انصاف کے بغیر ملک کا چلنا ناممکن ہے۔ ہمیں اس تلخ حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کا عام شہری اب مزید بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں رہا۔ مہنگائی نے غریبوں سے ان کی خوشیاں، ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات پہلے ہی چھین لی ہیں۔ اب اگر ان سے ان کی واحد سواری کا پیٹرول بھی چھین لیا گیا تو پورا معاشی اور سماجی نظام جام ہو جائے گا۔ ایک موٹر سائیکل صرف ایک سواری نہیں بلکہ ایک پورے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے، چاہے وہ کوئی ڈیلیوری بوائے ہو، اسکول ٹیچر ہو یا کوئی عام دفتری ملازم۔ ایسے لوگوں کو 2 ہزار روپے کی سبسڈی کے لولی پاپ سے مزید بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔
میں حکومتِ پاکستان اور ہمارے پالیسی سازوں سے گزارش کرتا ہوں کہ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ پرانی، فرسودہ اور اشرافیہ نواز پالیسیوں کو چھوڑ کر اس جرات مندانہ فیصلے کی طرف قدم بڑھائیں۔ جب تک ہم امیر اور غریب کے درمیان اس واضح فرق کو پرائسنگ سسٹم میں شامل نہیں کریں گے، تب تک ملک میں حقیقی معاشی استحکام نہیں آ سکتا۔ غریب کو سستا پیٹرول دینا کوئی خیرات نہیں بلکہ اس کا آئینی اور معاشی حق ہے، اور امیر سے اس کی لگژری پر ٹیکس لینا ریاست کا فرض ہے۔ امید ہے کہ ہمارے حکامِ بالا اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور پاکستان کے غریب اور مڈل کلاس طبقے کو اس بدترین دور میں ایک حقیقی اور مستقل ریلیف فراہم کریں گے۔ اب فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے کہ وہ چند ہزار اشرافیہ کا بھلا چاہتی ہے یا اس ملک کے کروڑوں عوام کا۔