31/05/2026
پانچ سال تک خوابِ غفلت میں سوئے رہتے ہیں،
عوام کے زخموں پر کبھی مرہم نہیں رکھتے ہیں۔
الیکشن کی ہوا چلے تو چہرے بدل بدل آتے ہیں،
جیسے بل سے سانپ اور چوہے باہر نکل آتے ہیں۔
کل تک جن گلیوں کا راستہ بھی بھول جاتے ہیں،
ووٹ مانگنے آئیں تو انہی دروں پر سر جھکاتے ہیں۔
نہ پانی، نہ سڑک، نہ روزگار کی فکر کرتے ہیں،
بس اپنی مراعات اور پروٹوکول پر مرتے ہیں۔
عوام کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹتے ہیں،
وعدوں کے محل بنا کر لمحوں میں توڑ دیتے ہیں۔
اے اہلِ وطن! اب شعور کی شمع جلانی ہوگی،
ووٹ کی طاقت سے ہر جھوٹی صورت پہچاننی ہوگی۔
جو پانچ سال غائب رہے، حساب اس سے مانگو،
خدمت کا کوئی ثبوت ہو تو پھر اسے ووٹ دو۔